سراج منیرکا تصور تہذیب (حصہ اول): عزیز ابن الحسن

1
  • 162
    Shares

عزیز ابن الحسن

جدید اردو شاعری میں صحیح یا غلط طور پر جس طرح میرا جی، راشد اور فیض کی ایک مثلث بن گئی ہے اور جدید شاعری پر کلام کرنے والا کوئی نقاد یا محقق جس طرح اس تکون کا ذکر کیے بغیر آگے نہیں بڑھتا، بالکل اسی طرح کا معاملہ محمد حسن عسکری، سلیم احمد اور سراج منیر کی تکون کا ہوتا جا رہا ہے۔ اس تکون کا کون سا زاویہ بڑا ہے اور کون سا چھوٹا ہے؟ کس زاویے سے اشیا کا کون سا رخ کتنا واضح اور کتنا گہرا نظر آتا ہے؟ اس بارے میں یقیناً ترجیح و امتیاز قائم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ ہمارے ادب کی نئی فکریات کے ان عناصر سہ گانہ کے درمیان تلازمات کی ایک واضح اور مضبوط تار ضرور موجود ہے جسے چھیڑنے سے مختلف سروں میں ایک ہی نغمہ سنائی دیتا ہے۔ اور وہ نغمہ ہے ‘‘کھوئی ہوئی اسلامی تہذیب کی شناخت اور بازیافت’’۔۔۔ عسکری کے ہاں یہ لے بہت دھیمی ہے مگر ان کے مضامین کے بین السطور موجود ہے۔ سلیم احمد نے اپنے مضامین میں اس مسئلے پر واضح انداز میں لکھا ہے اور سراج منیر نے تو تہذیب کے معاملے کو محض علمی دلچسپی کے مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ اپنا وجودی مسئلہ بنا کر دیکھا اور سمجھا ہے۔ زندگی کے آخری ایام میں تو انکی فکر و عمل کےتمام سیارے اسی سورج کے گرد گردش کرتے تھے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ:

‘‘زندگی کی تمام سرگرمیوں کی معنویت، طواف کی طرح صرف اس امر سے متعین ہوتی ہے کہ اس کا مرکز کیا ہے’’۔ (۱)

سراج صاحب کے ہاں یہ مرکز تہذیب تھا۔ یوں تو ہمارے ہاں اردو میں تہذیب، ثقافت اور کلچر وغیرہ کا بہت غوغا ہے اور ان مسائل پر چند ایک کتابیں بھی آئی ہیں، جن میں ڈاکٹر جمیل جالبی کی کتاب “پاکستانی کلچر،” سید عبداللہ کی “کلچر کا مسئلہ” اور سبط حسن کی کتاب “پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء” وغیرہ معروف ہیں۔ اسکے علاوہ مختلف مقالات و مضامین کا تو ایک انبار ہے۔ مگراس موضوع پر جس انداز سے سراج صاحب نے قلم اٹھایا ہے وہ ان کی شخصیت ہی کی طرح اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز تو شعر و ادب اور ادبی مسائل سے کیا تھا مگر جلد ہی انہوں نے ‘‘ادب میں ایمانیات’’(۲) کا در وا کر کے اس عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جو بعد کو انکی تمام سرگرمیوں کا محور بنی اور جس کا ہیکل سلیمانی ان کے عدیم المثال کتاب “ملت اسلامیہ۔۔۔ تہذیب و تقدیر” میں جا کر پایہء تکمیل کو پہنچا۔

تہذیب اور اس کے متعلقہ مباحث ہمارے ہاں انگریزوں کی آمد کے بعد، سرسید احمد خان کے دور سے شروع ہوتے ہیں۔ اور بقول سلیم احمد؛

‘‘پھر جوں جوں علی گڑھ کی تعلیم اور ریل کی پٹریاں دور دور پھیلتی گئیں یہ لفظ عام ہوتا گیا۔ اب تو عالم یہ ہے کہ جیسے دیکھئے آنکھیں لال کیے جھوم جھوم کر تہذیب تہذیب کہتا نظر آئے گا۔ تہذیب نہ کہے گا تو ثقافت کہے گا۔ ثقافت نہ کہے گا تو کلچر کہے گا’’۔ (۳)

سرسید کے بعد کچھ اور لفظ بھی ہمارے ہاں داخل فیشن ہوئے۔ مثلاً فطرت، ترقی، عقل اورمادیت وغیرہ۔ سلیم احمد کا کہنا ہے کہ ان تصورات کا سب سے زیادہ دورہ انہی لوگوں کو پڑتا ہے جو خود اپنی روایت سے کٹ گئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی تہذیب کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونے شروع ہوئے کہ:

‘‘اسلام نے ادب اور فضائل اخلاق کا تصور جاہلیت سے، فقہ یہودیت سے، کلام و فلسفہ یونان سے، قانون رومیوں سے، فن تعمیر بازنطینیوں سے اور تصوف عیسائیت سے لیکر اپنا نظام ترتیب دیا ہے۔(۴)

جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تہذیب بجائے خود کچھ نہیں، اس نے محض دوسری تہذیبوں سے اخذ و استفادہ کر کے بھان متی کا کنبہ جوڑا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نقطہ نظرء یہ پیدا ہوا کہ تہذیب کی تشکیل میں عالم مادیات و ارضیات سے بلند تر کسی اصول کا کوئی کردار نہیں ہوتا، یہ محض ارضی عناصر سے تشکیل پاتی ہے۔ اس نقطہء نظر کی نمائندگی سید سبط حسن کی کتاب “پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء” اور ڈاکٹر وزیر آغا کی تحریروں میں ہوتی ہے۔(۵) اس نقطہءنظر کو پاکستانی تہذیب کے اہم شواہد میں ہڑپہ، موہنجوداڑو اور ٹیکسلا وغیرہ تو نظر آتے ہیں مگر اسے قرطبہ، طیطلہ، بغداد، ایران اور دہلی وغیرہ کا اس میں کوئی حصہ معلوم نہیں ہوتا۔ ان کے علاوہ ایک تیسرا طبقہ بھی موجود ہے جو بزعم خود اپنے آپ کو ‘‘خالص اسلام’’ سےمنسوب کرتا ہے۔ اس کے نزدیک تہذیب کے تمام مظاہر اصل مذہب کے اعتبار سے گمراہی ہیں۔ اس طبقے پر عسکری صاحب کا وہ جملہ صادق آتا ہے کہ “ان لوگوں کا خالص اسلام سوائے ان کے ذہنوں کے اور کہیں وجود نہیں رکھتا۔”

ان مکاتب فکر کے علاوہ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہ تہذیب کا فاعلی اور موثر عنصر کسی غیر مادی تصویر حقیقت اور ما بعد الطبعیات کو قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ لوگ سوائے عسکری، پروفیسر کرار حسین، سلیم احمد اور سجاد باقر رضوی کے بہت دور تک سیدھے رخ پر چلتے چلتے ایسی بھول بھلیوں میں بھٹک جاتے ہیں کہ بعض اوقات گمراہ کن صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے میں خصوصیت کے ساتھ عہد حاضر کے دو دانشوروں کا ذکر کروں گا۔ ایک جمیل جالبی صاحب اور دوسرے ڈاکٹر سید عبد اللہ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں بالترتیب وہ بزرگ ہیں جنہوں نے باقاعدہ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے پہلی مرتبہ دو مستقل کتابیں تصنیف فرمائیں۔ اس لحاظ سے تقدم کی فضیلت انہی کے سر ہے مگر انکی کاوشیں بالکل ابتدائی نوعیت کی ہیں۔ خاص طور پر جب ہمیں انہیں ملت اسلامیہ کے حوالے سے پرکھتے ہیں تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ تہذیب اور اس کے اصول و مبادی کے جن پہلوؤں پر سراج صاحب کی نظر گئی ہے وہ ان بزرگوں کے پیشِ نظر نہیں ہے۔ اس ضمن میں ایک تیسرا نام ڈاکٹر داؤد رہبر کا بھی لیا جاسکتا ہے جنہوں نے کلچر کے روحانی عناصر کے عنوان سے کتاب لکھی ہے۔ مصنف کا بنیادی مطمح نظر تو کلچر کے روحانی و مابعد الطبیعیاتی عناصر کا سراغ لگانا ہے مگر بسا اوقات ان مباحث میں یہ صورت بن جاتی ہے کہ کلچر مابعد الطبیعیاتی تصوّرات سے اثرپذیر ہونے کے بجائے کلچر مابعدالطبیعیاتی و روحانی عناصر کلچر کا منبع و ماخذ معدومعلوم ہونے لگتا ہے۔

لفظ کلچر کے اردو متبادل کے طور پر ہمارے ہاں عموماً تہذیب و ثقافت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی اور سید عبداللہ دونوں نے حسب توفیق اپنے اپنے طور پر کلچر کے معنی اور اس کے اردو مترادف متعین کرنے کی کوشش کی ہے مگر آخر میں سید عبد اللہ کو کہتے ہی بنی کہ:

‘‘حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا ساری بحث کے باوجود نہ تو ان دونوں اصطلاحوں (سویلائزیشن اور کلچر) کی قطعی تعریف سامنے آئی ہے اور نہ ان کے درمیان امتیاز قائم ہو سکا ہے’’۔(۶)

دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہ معنی نہ ہوا

تو یہی بات کلچر اور سویلائزیشن کے بارے میں بھی درست ہے۔ مگر جس طرح لفظ وفا شرمندہء معنی نہ ہونے کے باوجود اب تک متروک نہیں ہوا اور اہل جنوں اپنی سی کئے جاتے ہیں اسی طرح لگتا ہے کہ یہ الفاظ و تصورات بھی متروک نہ ہوں گے۔ ان کے کچھ نہ کچھ مفاہیم ہیں ضرور اور لوگ ان سے غیرشعوری طور پر اور غیر واضح انداز میں آگاہ بھی ہیں۔

اس ابتدائیے کے بعد اب ہم آتے ہیں سراج منیر کے تصور تہذیب کی طرف۔ لیکن پہلے ایک چھوٹی سی وضاحت پیش خدمت ہے کہ تہذیب کے مسئلے سے اتنی زیادہ دلچسپی کے باوجود یہ مسئلہ ان کے لیے مقصود بالذات نہیں ہے۔ بلکہ اس حوالے سے ان کا تمامتر تعرض اور اعتناد دو وجوہات کی بنا پر ہے۔ ایک تو یہ کہ ان کے نزدیک تمام حقیقی تہذیبیں کسی بالا تر اصول یعنی تصور حقیقت کا انسانی میڈیم میں اظہار ہوتی ہیں۔ دوسرے اس لیے کہ ۲۰ ویں صدی کو چونکہ سماجیات تہذیب کا عہد کہا جاتا ہے اور دنیا کے تمام دوسرے معاشروں کی طرح اسلامی معاشرے کو بھی تہذیب کے پیمانوں پر پرکھا گیا ہے۔ اس لیے سراج صاحب نے اسلام اور ملت اسلامیہ جو کہ ان کی دلچسپی کا اصل میدان ہے، کی بازدید Reevaluate کے لیے تہذیب کو بالعموم اور اسلامی تہذیب کو بالخصوص اپنا وسیلہء اظہار بنایا ہے۔

سراج صاحب نے اس مسئلے کو جس طرح دیکھا اور حل کیا ہے وہ ایک منفرد، یکتا اور انتہائی بلند سطح ہے۔ اس مختصر سے مضمون میں ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں تہذیب و کلچر کے حوالے سے اب تک کے مباحث اور سراج صاحب کے نقطۂ نظر کا تقابلی جائزہ پیش کر سکیں۔ ہم صرف اتنا کریں گے ان کے نکات کا ایک سرسری سا خاکہ پیش کر دیں جو اس بحث کے حوالے سے صرف انہی کی ذہنی اپج اور خلاقیت کا نتیجہ ہیں۔

اس بارے میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ تہذیب ہوتی کیا شے ہے اور اس کے وجود میں آنے کی میکانیات کیا ہے؟ اس سلسلے میں ایک تو اصولی بات وہ ہے جو میں اوپر نقل کر آیا ہوں اور اب سراج صاحب کے الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔

‘‘اس مظہر (تہذیب) کی اتنی متنوع اورمختلف تعبیریں کی گئی ہیں کہ اس اصطلاح کا اطلاق بہت مبہم ہوکررہ گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ لوگوں نے محض اس اصطلاح کی تعریف متعین کرنے کی کوشش میں کتابوں کی کتابیں لکھ ڈالی ہیں مگر یہ ابہام رفع نہیں ہوتا’’۔(۷)

اس ابہام کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ:

‘‘یہ اصطلاح ایک ایسے وسیع نظام پرمنطبق ہوتی ہے جو پورے انسانی عمل اور تاریخ میں اس سے پیدا ہونے والے نتائج کو حاوی ہے۔ اس کے دائرے میں مذہب، فنون لطیفہ، معاشرت، تاریخ، فلسفہ اور بشریات تک سب کسی نہ کسی درجے میں شامل ہیں۔ جب میدان مطالعہ اس قدر وسیع ہو تو تدریج یا مرکزیت کے کسی تصور کی غیر موجودگی سے اس طرح کا ابہام ہونا لازمی ہے’’۔(۸)

ان کے خیال میں یہی ابہام تہذیب کی کوئی آفاقی اور متفق علیہ تعریف متعین کرنے میں رکاوٹ ہے۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ تہذیب کی تعریفیں متعین کرنے کی کوششیں کی گئیں ہیں اور یہ کوششیں صرف مغربی تہذیب کے نقطہء نظر سے کی گئی ہیں اور انہی پر اسلامی تہذیب کو پرکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسلامی تہذیب کے تصور کو نقصان پہنچا ہے۔ جدید ذہن کی اسی معذوری کو سامنے رکھ کر سراج صاحب نے سب سے پہلے خود تہذیب کی نوعیت اور اس کے وجود میں آنے کا طریقِ کار بیان کیا ہے۔ لیکن انہوں نے تہذیب کی یہ تعریف اتنی اصولی اور فلسفیانہ سطح پر کی ہے کہ یہ بجائے خود تسہیل و تفصیل کا تقاضا کرتی ہے۔ اس لیے میں ان کے مفہوم کو کچھ اپنے اور کچھ ان کے ملے جلے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اس بحث کا آغاز وہ تصور انسان سے کرتے ہیں لکھتے ہیں:

‘‘خدا نے انسان کو تخلیق کیا، اس کی فطرت کو اپنی فطرت پر بنایا، اس کی فطرت میں موجود خیر کی تجدید کے لیے بفاصلہ زمان و مکان حاملین وحی بھیجے اور اس کی عقل میں یہ صلاحیت رکھی کہ وہ وحی کی روشنی میں حق کو پہچان سکے۔ لیکن معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ اس لیے کہ انسان بحیثیت وجود صرف عقل نہیں، وہ ارادہ عمل اور جذبہ بھی ہے’’۔ (۹)

اب یہاں سے وہ تہذیب کی نوعیت پر بحث کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عقل کو حق سے جس طرح کا ربط ہو گا وہ ارادے کے ذریعے تحریک پا کر جذبات کو سمیٹتا ہوا ایک خاص عملی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اب

‘‘چونکہ تہذیب فطرت کے سیاق و سباق میں اعمال انسانیہ کے نتائج کے ذریعے وجود میں آتی ہے، اس لیے جب انسان تصور یا ارادے کو۔۔۔ ایک خاص عملی شکل دیتا ہے تو تہذیب پیدا ہوتی ہے۔ اپنی حتمی حیثیت میں تہذیب در اصل تصورِ حقیقت کو (انسانی وجود کے اندر سے گزار کر) معروض میں منتقل کرنے کا نام ہے۔ تصورِ حقیقت درجۂ عقل سے سفر کرتا ہوا جب درجہ عمل تک آتا ہے تو چونکہ انسانی وجود کی تمام سطحوں کو سمیٹتا ہوا آتا ہے اس لیے اس میں کچھ تصرف اور تبدیلی آ جاتی ہے۔ اسی تصرف و تبدیلی سے تہذیب تشکیل پاتی ہے’’۔(۱۰)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں


حواشی

(۱) سراج منیر، ملت اسلامیہ۔ تہذیب وتقدیر،لاہور، ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۸۷ء، صفحہ ۵۔

(۲) سراج منیر کا اولین مضمون جس کے شائع ہونےپر ڈاکٹرسیدعبداللہ نے انہیں مبارکباد کا خط لکھاتھا۔ دیکھئے فلیپ، ملت اسلامیہ۔

(۳) سلیم احمد، تہذیب کاجن مشمولہ نئی شاعری نامقبول شاعری، کراچی، شائع کردہ نفیس اکیڈمی، صفحہ۱۶۰۔

(۴) سراج منیر، ملت اسلامیہ۔ تہذیب و تقدیر، صفحہ۶۹۔

(۵) اس نقطہ نظر پر بھرپورتنقید کے لیے سلیم احمد کا مضمون ‘‘ارضی تہذیب کا انجام’’ مشمولہ نئی شاعری نامقبول شاعری۔

(۶) ڈاکٹرسیدعبداللہ، کلچر کا مسئلہ، لاہور، شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۷۷ء، صفحہ۳۱

(۷) سراج منیر، ملت اسلامیہ۔ تہذیب وتقدیر،صفحہ۶۵

(۸) سراج منیر، ملت اسلامیہ۔ تہذیب وتقدیر،صفحہ۶۵

(۹) سراج منیر، ملت اسلامیہ،صفحہ۷۶

(۱۰) یہ مفہوم سراج منیرکی درج بالاکتاب صفحہ۷۶۔ ۷۷سےاخذکیاگیاہے۔ البتہ اس میں کچھ الفاظ راقم کے بھی ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: