امریکی ایوانوں میں سسکتی جنسی اور ذہنی غلامی: چوہدری بابر عباس خان

0
  • 84
    Shares

قرون اولی اور قرون وسطی تک  غلامی کا رواج اپنے عروج پر رہا تا آنکہ محسن انسانیت آقا صلی اللہ و علیہ وسلم نے اس قبح کو ختم کرنے کے لیئے غلاموں کو آزاد کرنے کے کار خیر کی ابتدا کی اور اسکی تعلیم بھی فرمائی۔ قرون وسطی سے دورجدید تک افریقہ سے یورپ کو سیاہ فام غلامی کی ترسیل جاری رہی، تاہم یہ اعزاز امریکی صدرابراہم لنکن کے حصے میں آیا جس نے اس تذلیل انسانیت کو کلیتہً ختم کرنے کے لیے قانوں سازی کی جس کے بعد امریکہ  میں جسمانی غلامی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ  پوری دنیا میں عملی طور پر نہ سہی اصولی طور پوری نوع انسانی کو مساوات اور برابری کا حقدار سمجھا گیا۔

مگر یہ کیا کہ؟ بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں حریت اور آزادیءفکر کی اس سرمین جسکے آئین کی پہلی شق میں درج ہے کہ:”غلامی اور نہ ہی جبری مشقت روا رکھی جائے گی ماسوائے اس سزا کے جو کسی فوجداری جرم اور قانونی طریقے سے دی گئیہو۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی آئینی حدود یا اس مقام پر جہاں یہ قانون نافذ العمل ہو گا”۔ اس امریکہ میں آج انسانوں کا ایک ایسا  گروہ سرگرم عمل ہے جو انسانوں کو نادیدہ غلامی میں جکڑ کر اس زمین کا خدا بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔اس تاریخ کو فراموش کر کے کہ جب اس زمین پر عنانیت کی کوشش کی گئی__ غرق کی گئی__

نیو ورلڈ آرڈر کے تحت غلاموں کی نْی کھیپ تیار کی جا رہی ہے جو ذہنی غلام ہیں۔ بہ ظاہر مکمل ٓازاد ہیں مگر ان کی سوچ مقفل اور عمل کی ڈور کسی نادیدہ کے ہاتھوں میں ہے۔

امریکہ کی حقیقی حکمران جماعت سی آئی اے نے بیسویں صدی کے نصف میں پوری نوع انسانی پرحکمرانی کرنے کا ایک ہولناک منصوبہ بنایا جسے دنیا “نیو ورلڈ آرڈر “کے نام سے جانتی ہے۔ اس منصوبے میں 1950 سے سی آئی اے  نے غلامی کی ایک ایسی اچھوتی مگر خطرناک قسم کے نفاذ کی منصوبہ بندی کررکھی ہے جس میں ایسے انسان تخلیق کیے گئے ہیں جو مکمل جسمانی نہیں ذہنی غلام ہیں۔ جن کے ہاتھ میں ہتھکڑی ہے نہ وہ پابجولاں ہیں اور نہ وہ کسی بیگار کیمپ کے مقید ہیں۔ بظاہر مکمل آزاد اور اپنے کٗل کے مختار ہیں۔ مگر حقیقت میں انکی سوچ مقفل، عمل پابند، منشاء ورضا ندارد اورنہ صرف انکی عقل کی ڈور کسی ناخدا کے ہاتھ میں ہے بلکہ وہ اپنے آقا کی جنبش آبرو پر جان تک دینے کو تیار ہیں۔

اس پرکونسی جسمانی،ذہنی اور جنسی بربریت روا نہیں رکھی گئی۔ لہو لہان بدن، تار تارعصمت، بسمل روح اور سسکتے جذبات مگر پر عزم اور طاقتوروں سے ٹکرا جانے والی اس ناتوان سوسن فورڈ کا درد اور طاقتور سیاہ چہروں کی ابلیسیت کی تفصیل اور اس سے زیادہ یہاں کچھ کہنا ممکن نہیں ہے کہ، ”شیطان نے اپنے حریف انسان سے اپنی توہین اور تذلیل کا اگر انتقام لیا ہے تو وہ سوسن فورڈ کی ذات ہے”۔کتاب  ( thanks  for  the  memories)   کی مصنفہ سوسن ایکہارٹ فورڈ، قلمی نام برائیس ٹیل، غلامی کی اسی بد ترین ذلت کی متاثرہ، جو ایک جنسی اور ہیومن کمپیوٹر فائل سسٹم غلام ہے (غلام برائے= امریکی صدور، گورنرز، سنیٹرز  اورغیر ملکی اعلی ترین شخصیات)، کی لرزا دینے والی المناک داستان ہے۔ جس میں کونسل پروگرامنگ کے زیر اثر مائنڈ کنٹرول غلاموں کی اس نوع کی تخلیق بد میں مصروف ہے۔ سوسن فورڈ کونسل کی سب پہلی، انتہائی قیمتی، مکمل اور کامیاب تخلیق ہے مگر ان خالقین سوء کے مقابل خالق احسن و برتر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

*کونسل کون ہے، اورضبطیء ذہنی اور پروگرامنگ کیا ہے؟

*کونسل*۔ نیوورلڈ آرڈر کی اصطلاح زبان زد عام ہے جو دراصل اب ایک کھلا راز، سیکرٹ سوسائیٹیز فری میسنری اور الومیناتی طاقتوں کا دنیا پر حکمرانی کا ایک پلید ایجنڈا ہے۔ اس ایجنڈے کے بانی و کفیل، امریکہ کی حقیقی حکمران جماعت سی آئی اے کے اندر  اخفاء میں موجود چنیدہ افراد کونسل کہلاتے ہیں۔ انیس سواسی میں کونسل نے نیو ورلڈآرڈر منصوبے کا باقاعدہ آغازکردیا گیا تھا، جس کے بنیادی ڈھانچے کی انیسں سو نوے تک تکمیل اور منصوبے کے مطابق سن دو ہزارسے اسکا باقاعدہ نفاذ کرا دیا جاچکا ہے۔ ملکوں کی نظریاتی اساس اور جغرافیائی حدوں میں تبدیلی کی کامیاب کوششوں کا ہم آج واضح مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ امریکی اورعالمی سیاست میں من چاہی مداخلت میں کونسل کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ بلکہ مصنفہ لکھتی ہیں کہ امریکی صدور کی اکثریت خود میسنری ہے۔ کس ملک میں کب سیاسی، کب مالی بحران اور کب بد امنی پیدا کرنی ہے؟ ایسے تمام مذموم عزائم  کونسل کے جداول میں موجود ہوتے ہیں۔ کونسل کا سب سے مذموم اور خطرناک منصوبہ asset class کی انسانی نسل کی تخلیق ہے جس سے دنیا کی قیادت کا کام لیا جانا ہے جسکی پہلی 1970 کی پری اسکول کی نسل آج تیاراورسرگرم عمل ہے۔ جن کی تربیت ان اطوار پرکی گئ ہے کہ وہ نیو ورلڈ آرڈر منصوبے کے دانستہ زبردست وکیل ثابت ہو رہے ہیں۔ مزید یہ کہ اس منصوبے کا دائرہ صرف امریکہ تک ہی محدود نہیں ہے۔  9 نومبر واقعہ کے بعد انتہائی سرعت سے بدلے گئے عالمی سیاسی اور معاشی حالات کا تسلسل گواہ ہے۔

مائینڈ کنٹرول اور پروگرامنگ

مائینڈ کنٹرول کی اصطلاح انسانی ذہن کو قابو کرنے کے لیے اپنائی گئی ہے جس کے لیے جسمانی تشدد، برقی جھٹکوں، نشہ آورادویات، بھوک پیاس، باطل اور خوفناک مذہبی رسومات کی ادائیگی، ہپناٹزم، دوہریا، نیند سے مکمل محرومی بد ترین اور ازیت ناک جنسی اور جسمانی تشدد جس میں چار ماہ کی بچی سے لیکر مقاصد کی تکمیل تک کی غیر معینہ عمر شامل ہے۔

پراجیکٹ منارک، پراجیکٹ ایم کے الٹرا اور پراجیکٹ بلیو برڈ اس حوالے سے سی آئی اے کے ابتدائ قابل ذکر پراجیکٹس ہیں جن میں پروجیکٹ ایم کے الٹرا اور منارک سب سے زیادہ فعال اور پراثرثابت ہوا ہے۔ اس قبیح تخم ریزی کے بعد جو آج بھی بھر پورطریقے سے بہترین نتائج کے ساتھ زیراستعمال ہے، سی آئی اے کا باطل دعوی ہے کہ یہ پراجکٹ ستر کی دہائی میں ختم کر دیئے گئے ہیں۔ منارکس ان ہی ذی غلاموں کو دیا جانے والا نام ہے جنکی اس پراجیکٹ میں چھ مختلف درجہ بندیاں کی گئی تھیں۔ جو ہمیں قضیے کو بہتر سمجھنے میں مدد بھی دے سکتی ہیں۔

*الفا*۔
الفا منارک زبردست قوت حافظہ کے مالک ہوتے اور انکی شخصیت دو واضح حصوں میں منقسم ہے، جو رائٹ اور لیفٹ برین کے زیر اثر روبہءعمل ہوتی ہے۔

*بیٹا*
یہ جنسی منارک ہیں جو اپنے آقا کے حکم پر کسی بھی ضابطہ و اخلاق سے پرے ہر سرگرمی انجام دینے پر کاربند ہیں۔

*ڈیلٹا*۔
قتل و غارت پر مامور ان منارکس کی پروگرامنگ ایک سولجر کے طور پر کی جاتی ہے، موساد اورڈیلٹا فورس جیسی دوسری خفیہ تنظیموں کے رکن ہوتے ہیں۔ بوقت ضرورت اپنی جان بطریق احسن لے لینا انکی پروگرامنگ کا حصہ ہوتی ہے۔

*تھیٹا*۔
فرقہءابلیس، یہ نفسیانی مریض نظر آتے ہیں۔ ٹیلی پیتھی کی اہلییت بدرجہء اتم پائی جاتی ہے۔ پروگرامنگ کے لیےجدیدترین آلات، ڈائریکٹ انرجی لیزر، مائیکرویوز اور الکٹرو میگنیٹک آلات استعمال ہوتے ہیں۔ کپمیوٹر اور سیٹلائیٹ سسٹم سے منسلک ہوتے ہیں۔

*اومیگا*۔
کوڈ گرین سے پکارے جاتے ہیں۔جب کوئی ذہنی غلام کسی سبب فرار کی راہ پر جانکلے تو اس پروگرامنگ کے باوصف فرار سے پہلے خودکشی کر لیتا ہے۔

*گاما*۔
مایئنڈ کنٹرول سسٹم کا یہ سفیٹی والو ہے جب کوئ غلام ضبطیء زہن کے زیر اثر اپنے شعور سے پرے اپنے امور کی انجام دہی کے بعد ڈی ایکٹو نہ ہو رہا ہو یہ پروگرامنگ اس کا خاتمہ بالخیر کر دیتی ہے۔

*پروگرامنگ* ۔

مائنڈ کنٹرول غلاموں کو  مندرجہ بالا کسی نہ کسی سخت ترین جسمانی، جذباتی، اعصابی یا جنسی ٹراما سے گزارا جاتا ہے۔ اس ٹراوما کے دوران انتہائی اذیت یا جذباتی شکست وریخت  کے لمحے پر عمل تنویم کے زریعے مخصوص پراگرامنگ کر دی جاتی ہے جو کسی گانے کے انترے یا کچھ نصیحت آموز جملے، اوزی کا ساحر، ڈزنی آئی لینڈ کا تھیم اورموسیقی، جسم کے کسی حصے کو چھونا، یاکسی جگہ کا نام وغیرہ ہوتے ہیں جو درحقیقت اس پروگرامنگ کی keys ہوتی ہیں جو ذہنی غلام کو اسکے امور کی انجام دہی سے پہلے ایکٹیویٹ اور پھر ڈی ایکٹیویٹ کر دیتی ہیں۔

اسکے علاوہ مائنڈ کنٹرول کے موضوع پر بہت سی ایسی فلمیں بھی تیار کی گئی ہیں جیسے ٹوٹل ریکال، برین سٹارم، لانگ کس، گڈ نائیٹ، کنسپائیریسی تھیوری، مائینڈ فیلڈ، 12 منکیز، اینیمی آف سٹیٹ وغیرہ چند مشہور فلمیں جو پروگرامنگ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔

سادہ لفظوں میں مائنڈ کنٹرول پروگرامنگ سخت ٹراٶما کی بنیاد پرذہن کو لاتعلق کر کے شعور سے پرے ایک ہی شخص میں بیک وقت کئی ایک شخصیات پیدا کرنے کا عمل ہے۔ جنکو ایک روبوٹ کی طرح جسمانی، ذہنی اور جنسی طور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جسے ملٹی پل پرسنالٹی ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ سوسن فورڈ کے اندر بھی دو سالہ بچی سے لیکر ایک رئیس زادی اور ایک ہیجانیت سے مغلوب خاتون کے علاوہ کئی ایک شخصیات تخلیق گئی تھیں۔

سوسن فورڈ ان نا خداوں کی تخلیق کردہ ذہنی غلام، جس کا خالق جسے اکیسویں صدی کی برائی کا استعارہ کہنے میں کوئی عارمحسوس نہیں ہوتا، سابقہ امریکی سیکریڑی سٹیٹ اور کونسل کا دماغ ہینری کیسنجر تھا اور اس کا ہینڈلر ہالی ووڈ کی معروف اور امریکی عوام میں ہر دلعزیز اور ایک نفیس شخصیت جانا جانے والا اداکار اور ہدایت کار باب ہوپ تھا۔ یاد رہے ہالی ووڈ، امریکی اور عالمی میڈیا کونسل کے زبردست ہتھیار ہیں۔

پروگرامنگ کے باوصف پہلے ایک کار حادثے میں اور پھر دوسال بعد اسی تاریخ کو ایک پروگرامڈ گھڑ سواری کے دوران درخت سے ٹکرا جانے پر سوسن اپنی شعوری زندگی میں لوٹ آتی ہے۔ جس پر پروگرامنگ کے زیر اثر مخصوص اوقات میں اسکی کوئی دسترس نہیں ہوا کرتی تھی۔ اس سفاک ہنرمندی کے باوصف ورطہءحیرت میں ڈالنے کے لیے کیا یہ کافی نہیں ہے کہ ایام شیر خوارگی سے لیکر پختہ عمری تک پروگرامنگ کے زیر اثر سوسن فورڈ لا محدود بار جنسی دردنگی کا نشانہ بنی، مگر کونسل ہی کے پروگرامڈ شوہر سے شادی کے موقع پر وہ اپنے حجلہءعروسی میں خود کو  ایک عنفوان شباب باکرہ دوشیزہ سمجھے ہوئے تھی۔۔۔! ایک دوسری جگہ جب اسے ویٹی کن سٹی میں پاپائے اعظم کے حضور پیش کیا گیا جہاں اس نے قدیم لاطینی زبان میں کتاب مقدس کی زبانی تلاوت کر کے سنائی تو پوپ اور اسکے حواری اسے کوئی ملکوتی مخلوق سمجھ کر اسکی تکریم میں سجدہ ریز ہو گئے۔ جبکہ بقول اسکے وہ لاطینی زبان کا ایک لفظ تک نہیں جانتی تھی۔

اور کیا لرزا دینے کے لئے یہ کافی نہیں کہ ایام شیر خوارگی اور طفلی میں انسانیت سوز اور بربریت سےپر ان جسمانی اور جنسی پر تشدد واقعات میں ممد و معاون کوئی اور نہیں سوسن فورڈ کے والدین اور بھائی جو خود بھی پروگرامنگ کے زیر اثرتھے، ہوتے تھے۔ تب جان لیجیے کہ کتنے ہی کنبے کے کنبے اور نسلوں کی نسلیں اس بد ترین غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ان واقعات کو جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے منصہء شہود پر لاتے ہوئے مصنفہ خود قارئین سے معافی کی درخوستگار اور عرض گزار ہے کہ  میرے ان دکھوں اور اذیتوں کو تفریح طبع کے لئے نہ پڑھیے  بلکہ اس لینڈ آف فریڈم پر انسانیت کی تذلیل اور اس کے ساتھ ہوتے اس وحشیانہ کھلواڑ کے خلاف آواز اٹھائیے اور اسکا ساتھ دیجئیے۔ جس کے بد ترین اثرات کا دائرہ صرف امریکی قوم ہی تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا ہے۔

دنیا کو امن اور انسانیت کا درس دینے والے امریکن صدور جان کینیڈی، لنڈن بی جانس، نکسن، جیرالڈ فورڈ، رونالڈ ریگن، جارج بش اور کلنٹن کی سوسن فورڈ ایام طفلی سے ہی باقاعدہ جنسی اور پروگرامڈ فوٹو گرافک میموری کی حامل ہیومن مائینڈ فائل سسٹم  غلام تھی۔ 

*رہبر جو رہزن نکلے۔*

تخلیق آدم کے ساتھ ہی رب نے نیکی اور بدی کو بھی تخلیق کر دیا مگر حکم نیکی کا ہی دیا ہے۔ نیو ورلڈ آرڈر کے بانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں نیکی اور بدی کا توازن قائم رکھنا ضروری مگر پلڑا پھر بھی ابلیسیت کا ہی بھاری اور پھر اس کے امام بھی کون؟ دنیا کو امن اور انسانیت کا درس دینے والے رہبر! جان ایف کینیڈی، لنڈن بی جانس، نکسن، جیرالڈ فورڈ، رونالڈ ریگن، جارج بش اور کلنٹن کی سوسن فورڈ ایام طفلی سے ہی باقاعدہ جنسی اور پروگرامڈ فوٹو گرافک میموری کی حامل ہیومن مائینڈ فائل سسٹم غلام تھی۔ کہ ایسے جنسی غلام کسی قسم کا سیکیورٹی رسک نہیں ہوتے اور امریکی صدور کی خدمت پر مامور چلتے پھرتے انسانی کمپیوٹر ہوتے ہیں جو اہم ملکی میٹنگز اور غیر ملکی دوروں پر بھی ساتھ رکھے جاتے ہیں۔

بحالیء یاداشت کے بعد ایک انٹرویو میں سوسن فورڈ سے پوچھا گیا، ان تاریک ایام میں سب سے گہرا گھاؤ کونسا کھایا؟ جواب دیا کہ “میرے لیے سب سے زیادہ اذیت ناک لمحہ اور قابل نفرت شخصیت صدر جارج بش ہے جس نے میری تین سالہ بیٹی “کیلی” یہ بھی زیر تربیت مائینڈ کنرول غلام تھی، کو ظلم کا نشانہ بنایا۔ جسکو وائیٹ میں،  بش بے بی کا نام دیا گیا۔” صدر جیرالڈ فولڈ بارے سوسن فورڈ کا کہنا ہے اس جیسا بد ترین کردار کا حامل شخص میں نے وائیٹ ہاوس میں نہیں دیکھا۔ سب سے ذیادہ میں صدر امریکہ رونالڈ ریگن کی خدمت میں رہی اور یہ کونسل کا سب زیادہ طاقت ور صدرتھا۔ جبکہ صدر کلنٹن اور خاتون اول ہیلری کلنٹن کے لئے میری الگ الگ ذمہ داریاں تھیں۔ تاہم وائیٹ ہاوس کی اس جنسی اور ہیومن کمپیوٹر فائل غلام کا کہنا ہے کہ  ایک واحد راسخ العقیدہ کرسچیئن، صدر جم ای کارٹر کامجھے سامنا ہوا ہے جس نے اگر کبھی برائی کی بھی ہو گی تو فقط خیال میں ہی کی ہو گی۔ اور یہ ہمیشہ کونسل کے متوازی کام کرنے والا کونسل کے لئے ایک مشکل صدر تھا۔ موجودہ صدر امریکہ کے ذکر سے اپکی طبعیت مکدر کرنا ہر گز مقصود نہیں۔

وہ کون لوگ تھے؟ جن کی محنت و مشقت اور قوت بازو کے جبری استعمال نے احرام مصر کو ہیبت عطا کی، بابل کے معلق باغات کو وجود بخشا، صدیوں سے اپنی شان و شوکت سے قائم ایرانی محلوں کو پائیداری عطا کی، تاج محل کو حسن و جمال بخشنے والے، روم و یونان کے ایوان ہائے کو رفعت دینے والے اور میدانوں اور پہاڑوں میں عظیم دیوار چین کو یکساں وجود عطا کرنے والے، یہ وہ ابدی اور لازوال شہکاروں کے معمار غلام نسل کے بے نام و نشان افرد تھے جنکی ننگی پیٹھوں پر دنیا کی عظیم ترین تہذیوں کو استوار کیا گیا۔ جنہیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ان ہی کی محنت و مشقت کے بل بوتے پر ان کے آقا اس زمین پر ان ہی کے خدا بن بیٹھے تھے۔ کاش کہ آج کی اس آزاد اور روشن دنیا میں اس تاریکی کا سورج طلوع ہو پاتا۔۔!

سوسن کی بحالی یاداشت کے بعد چار ماہ کی عمر میں اپنے مائنڈ کنٹرول باپ کے ہاتھ ہونے والا پہلا  ظلم تک یاد آ جانا قارئین کرام یقینا ذہن نہیں تسلیم کرتا کہ، ظلم و بربریت سے عبارت اذیت ناک لیل و نہار کے بعد مختصر القامت سوسن فورڈ کیسے زندہ ہے؟ ایک واجبی سی شکل و صورت والی لڑکی کیونکر امریکی صدور اور شہزادہ چارلس تک کی خادمہ ہو سکتی ہے؟ ایک ناتواں صنف نازک کیسے یہ مصائب و الام کے دٶر برداشت کر سکتی ہے؟ ہنری کیسنجر جو اسکا خالق اور بربادی کا اصل مجرم تھا اس کے کردار کو ہدف بنانے میں بخل سے کام کیوں لیتی ہے؟ اتنے طاقتور لوگوں سے ٹکرانا ہی نا ممکن اور اگر وہ نبرد آزما ہے بھی تو اب تک زندہ کیسے ہے؟ موضوع کی مناسبت سے یہ مضمون یقیناً تشنہ سوالوں  اور بہت سے ابہام و تجسس سے پر ہو گا۔ مگر آپ کے ذہن میں اٹھتے ہر سوال کا سوسن ایکہارٹ فورڈ (برائیس ٹیلر ) اپنی پہلی کتاب “سٹار شائن” اور پھر دوسری اور مزکورہ کتاب ”تھینکس فار دی میموریز“ میں شافی جوابات دیتی ہے۔

ادیب انسانی زندگی اور معاشرے  کی تلخیوں کو افسانوں میں بیان کرتا ہے۔ مگر جب تلخ ترین حقیقتیں، جو جڑی بھی پوری نوع انسانی سے ہوں، ان کے طشت ازبام ہو جانے پر بھی ابلیسیت کی اس ناؤ کے  ناخدا ”فالس میموری سینڈ روم فاٶنڈیشن“ جیسی آرگنایزیشنز کے زریعے اس سارے قضیے کو ہسپتالوں، عدالتوں اور مراکز بحالی یاداشت کو یہ کہہ کر کے کہ یہ وہم، خواب اور امرض نفسیہ کے مریض ہیں، داخل دفتر کرنے کا بندوبست بھی رکھتے ہوں۔ توآج ایک عددی زندگی کے ایک مخصوص مدار میں گھومتے، کارپوریٹ میڈیا اور purposed literature  سے ہانکے جانے والے  عام انسان کے لیے تو یہ نقاب پوش خادم انسانیت ایک روشنی ہیں اور نیو ورلڈ آرڈر دنیا میں امن و خوشحالی کا ضامن و آمین ہے۔  مگر بیدار اور با شعورلوگوں کے لیے تو یہ داستانیں اورغلامی کی یہ قبیح  قسم  ایک تلخ، زندہ، سوچ پر بھاری مگر ضرور حقیقی افسانے کہلائیں گے۔

وطن عزیز بھی اس شکنجے میں بری طرح جکڑا ہوا ہے اور ایک اہم ہدف بھی ہے۔ معاشروں کی بااثرکلاس ہی ان ہاتھوں کا شکار اور آلہء کار ہوتی ہیں۔ جس کی ایک زندہ مثال پر ہی اکتفا کرتے ہوے طاقتور مشرف کے نمبر تین جنرل شاہد عزیز خان اپنی کتاب میں سی آئی اے کی ان پر کی جانے والی کوشش کا ذکر کرتے ہیں۔ صادق کامل پاکستان میں میسانک ڈسٹرکٹ لاج کی اعلی اور مقرب شخصیت ہیں۔ سوسن فورڈ غلامی کی اس بد ترین نوع میں گھرے معصوم لوگوں کے لیے کام کررہی ہے۔جو ہم سے ان متاثرین کی مدد کے لیے کم ترین درجے پر دعا اور انکا درد ہی محسوس کر لینے کی ملتجی ہے۔قطع نظر اسکا  دین کیا ہے ،اسکا مظہر الایمان علی اللہ عزوجل اپنی مثال آپ ہے اور یہ ہی اسکی طاقت اور تحریک ہے۔

اس دعا کے ساتھ اللہ ظالم کو اسکے انجام تک پہنچائے اور مظلوم کی استعانت  فرمائے۔

قارئین کرام  اگر کتاب کا مطالعہ گراں گزرے تو کنٹرول مائنڈ کے نام سے جناب محمد قیوم اعوان کا اردو ترجمہ ایک بہترین انسانی خدمت ہے۔ٓ وگرنہ کم از کم یو ٹیوب چینل پر “مائنڈ کنٹرول ڈاکومینڑیز”ضرور ملاحظہ فرمائیے۔ اللہ نوع انسانی اور وطن عزیز کو اس شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں ایک راسخ العقیدہ اہلِ بصیرت قیادت عطا فرمائے۔

 

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: