‘دانشور’ ہوتا ہے یا نہیں ہوتا (فیس بکی دانشوروں کی نذر) — خرم سہیل

2
  • 101
    Shares

پاکستان کے ایک کم معروف لیکن معیاری اور گوشہ نشین شاعر ’’محبوب خزاں‘‘ کا ایک شعر ان کی زندگی کا حاصل ہے، اس کو جتنا بھلائیے، وہ یاد آتا ہے، انہوں نے سہل ممتنع کی شاعری میں، زندگی کے ایک بڑے فلسفے کو بیان کر دیا۔ وہ شعر کچھ یوں ہے کہ۔۔۔

بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

اس شعر کی معنوی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے، ہم زندگی میں جو کچھ ہوتے ہیں، یا تو وہ ہوتے ہیں، یا پھر نہیں ہوتے، درمیانی کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔ اسی تناظر میں بات آگے بڑھائی جائے تو آپ شاعر، ادیب، عالم، صحافی، دانشور ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے، مگر دورِ حاضر میں نئی بھیڑ چال شروع ہوئی ہے، جوکہ سوشل میڈیا بالخصوص’’فیس بک‘‘ کے ثمرات ہیں۔ اس فورم پر موجود کوئی کچھ نہیں بھی ہوتا، پھر بھی سب کچھ ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے، جہالت کی نئی شکل وضع ہوئی ہے، یہاں کہنے والے اپنے کہے ہوئے پر مصُرہوتے ہیں، اپنے لکھے ہوئے پر اڑے ہوتے ہیں، اصلاح لینے کا مرحلہ تو درکنار، اعتراض قبول کرنا بھی ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں، ان کی رائے سب پر مقدم ہے، بحث کے ذریعے اصل بات کو گم کر دینا بھی ان کا فنِ اضافی ہے۔

سوشل میڈیا کی دنیا میں یہ رویہ سب سے زیادہ فیس بک پر دیکھنے کو ملتا ہے، اب ٹوئٹر پر بھی اس رجحان کے پنپنے میں تیزی آرہی ہے۔ پاکستان کے عوامی حلقوں میں سب سے زیادہ مقبول صنف سخن تو بہر حال ابھی تک فیس بک ہے، اس پر لطف، یہ ایسا میڈیم بھی ہے، جس کے نام میں تو کتاب کا تذکرہ ہے، لیکن سب سے زیادہ کتاب کی بے توقیری کا باعث بھی یہی ہونے لگا ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق، عوام کی اکثریت سنجیدہ تحریریں یا کتابیں، بغیر پڑھے لائکس کر دیتی ہے، یا دکھاوے کے طورپر کسی تحریر کو شیئرنگ کرکے اپناعلمی کام چلا لیا جاتا ہے۔

یہ وہ جنتا ہے، جن سے اگر چند دن بعد اسی پوسٹ یا تحریر کے متعلق دریافت کیا جائے، تو وہ بھول بھی چکے ہوتے ہیں، کیونکہ وہ بغیر پڑھے، اس غیر علمی سرگرمی کو باقاعدگی سے روزانہ کی بنیاد پرجاری رکھے ہوتے ہیں۔ کئی تو ایسے صاحب صلاحیت بھی ہوتے ہیں، پوسٹ کی عبارت کو بھی پورا نہیں پڑھتے، جتنی سطریں دکھائی دے رہی ہوتی ہیں، ان پر ایک نگاہ غلط ڈال کر دھڑلے سے تاثرات کے کالم میں، پھر سوال داغتے ہیں، جبکہ اس کا جواب پہلے سے پوسٹ کی ہوئی عبارت میں موجود ہوتا ہے، مگر وہ ’’See More‘‘ سے آگے کی سطریں کھول کر نہیں پڑھتے، ایسے قارئین کا مقصد صرف ظاہری علمی و دانشوارانہ امیج بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مداح سرائی اور لگائی بجھائی بھی اضافی ذمے داریاں ہیں، فیس بک پرجن کو بخوبی نبھایا جاتا ہے، البتہ مزاحیہ یا غیر سنجیدہ مواد نہ صرف دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے، بلکہ دلجمعی سے اِدھر اُدھر بھی ہوتا ہے۔

جس زمانے میں صرف پرنٹ میڈیا تھا، یعنی اخبارات اور جرائد شایع ہوا کرتے تھے، اس طرح برساتی دانشور بننا دشوار تھا، کسی کو دانشور بننے کا خبط ہوتا بھی تو اس کو خاصی ریاضت کرنا پڑتی تھی، مثال کے طورپرزبان کی درستی، منفرد بیانیہ، قواعدکے ضابطے، موضوع سے انصاف، تحقیق طلب زاویے اور دیگر پہلوئوں سے تحریر پر کام کرنا پڑتا تھا، اس کے بعد بھی ضمانت نہیں ہوتی تھی، وہ تحریر شایع ہوسکے گی کیونکہ جس اخباریا جریدے کو وہ بھیجی جا رہی ہوتی تھی، وہاں قابل مدیر اور ان کے دیگررفقا کی نظروں سے گزرنے کے بعد فیصلہ ہوتاتھا۔ اُس زمانے میں بھی شوقین دانشور تو موجود ہوتے تھے مگر اتنے کڑے مراحل سے گزرنے کے بعد یا تووہ واقعی دانشور بن جاتے، یا پھروہ اپنی راہ لے لیتے تھے۔

باقاعدگی سے لکھنے والے اپنے موضوع پر تحقیق کیا کرتے تھے، اس متعلقہ موضوع پر مزید کیا لکھا گیا، یا لکھا جا رہا ہے، اس فضا کو ذہن میں رکھتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ خود اس پر کیا کچھ لکھ چکے ہیں، اس کا بھی خیال رکھا جاتا تھا، تب کہیں جا کر کوئی صنف پارہ مکمل ہوتا تھا، اب بدقسمتی سے وہ زمانے چلا گیا۔ سوشل میڈیا نے سب کو ایک بے مہار میڈیم ’’فیس بک‘‘ دے دیا، اس کے مثبت فوائد اپنی جگہ، مگر نقصانات بے پناہ ہوئے ہیں۔ کتب بینی کی بات کرو، تو اکثریت کا کہنا ہوتا ہے، اب ٹکنالوجی کے دور میں کتابیں کون پڑھتا ہے، خودیہ بھول جاتے ہیں یا شاید ان کو خبر نہیں، جہاں سے ٹکنالوجی برآمد ہوئی ہے، وہاں اب بھی کتاب شایع ہونے کی تعداد لاکھوں اور اس کو خرید کر پڑھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

فیس بک پر اب دانشور بننے کا رجحان بہت زور پکڑنے لگا ہے۔ کتابوں کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن کتابیں پڑھتا کوئی نہیں، جومستقل پڑھنے والے ہیں، وہاس طرح کی باتیں کرتے نہیں، یاپھر کم کم کرتے ہیں، مگرعوام کی اکثریت ایسی ہے، جن کا گزارا اب صرف کتابوں کی باتیں کرنے پر ہے، چاہے وہ کتاب لکھنے کی بات ہو یا کتاب پڑھنے کی، شاید اس طرح وہ اپنے لاشعور کو اطمینان کی لوری سناتے رہتے ہیں۔ اب کوئی پڑھنا چاہتا ہے یا کچھ لکھنا چاہتا ہے کہ نہیں، یہ تو اس کی صوابدید ہے، ہم کسی پر دباو تو نہیں ڈال سکتے۔اس تحریر کے بعد بھی میں توقع کرتاہوں، فیس بک پر ایک بڑی تعداد مجھ سے اس تحریر کے لکھنے کی وجہ پوچھے گی، کیاواقعہ رونما ہوگیا، جس کے ردعمل میں، مجھے یہ تحریر لکھنا پڑی، تو پیشگی مطلع کرتا چلوں، یہ ایک روٹین کی تحریر ہے، نہ کہ کسی بات کا ردعمل۔

فیس بک پر اب ایک تازہ تازہ جھونکا ان جعلی دانشوروں کی بیٹھک میں یہ داخل ہوا ہے کہ ان کو بھی سنجیدگی سے دانشور سمجھا جائے، اس بات کو منوانے کے لیے وہ نت نئے ڈھونگ بھی کرتے ہیں، یعنی ایسے موضوعات جن پر گرما گرم بحث چل رہی ہے، اس پر اپنی قلم برداشتہ تحریر لکھ دیں گے (قلم برداشتہ کا مطلب دیکھنے کے لیے یہ خواتین وحضرات کسی لغت کی مدد لے لیں) کمنٹس کے کالم میں، خوب بحث ومباحثہ کرتے نظر آئیں گے، صرف یہی تک بس نہیں، بلکہ ان کی خواہش ہوگی، آپ ان کو مکمل دانشور سمجھ کر تبادلہ خیال کیا کریں، اگرآپ ایسا نہیں کریں گے تو وہ آپ سے روٹھ جائیں گے، یا آپ کو مغرور ہونے کاطعنہ دیں گے۔

فیس بک کے یہ دانشور نہیں جانتے، معلومات جمع کرکے لکھنے اور فطری و تخلیقی طور پر لکھنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، مثال کے طورپر، جس طرح یہ فیس بکی دانشور جب بیمار ہو جاتے ہوں گے، تو اس بیماری کے متعلقہ ڈاکٹرکے پاس ہی جاتے ہوں گے، یعنی اگر بینائی متاثر ہو رہی ہے تو آنکھ کا ڈاکٹر، سنائی ٹھیک سے نہیں دے رہا تو کان کا ڈاکٹر۔ اس وقت یہ کسی فرضی یا عارضی طبیب کے مکتب کا رخ کیوں نہیں کرتے؟ بالکل اسی طرح بغیر طویل بحثیں کیے بغیر، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جہالت کسی کی میراث نہیں ہے، اگر آپ بغیر دلائل کے صرف مباحث میں ہی گھرے رہنا چاہتے ہیں تو ضرور شوق فرمائیے، مگر یاد رکھیے، جو دانشور ہوتا ہے، اس کو خود بتانا نہیں پڑتا کہ وہ دانشور ہے اورجو اوٹ پٹانگ حرکتیں کرے، دکھاوے کی خاطر کتب بینی یاکتب نگاری کی ادائیں دکھائے، یا فضول مباحث میں پڑے، وہ دانشور نہیں ہوتا اوراس ساری بات کا حاصل بھی وہ شعر ہے جو میں اوپربیان کرچکا، ایک بار پھر حاضر خدمت ہے۔

 بات یہ ہے کہ آدمی شاعر
یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

اس شعر میں ایک نکتے کی وضاحت اور کر دوں، محبوب خزاں صاحب نے جس زمانے میں یہ شعر لکھا تھا، تو اس وقت شاعر تو ہوتا تھا یا نہیں، مگر آدمی ضرور ہوتا تھا، جیسا کہ ان کے شعر میں واضح طور پر درج ہے۔ ان کے زمانے میں فیس بک نہیں تھا، ورنہ وہ اس شعرکو فیس بک پر لکھتے تو اس کے نیچے بھی کئی فیس بکی دانشور جن کو شاعری کا ’’ش‘‘ بھی معلوم نہیں ہوتا، وہ ان سے الجھ رہے ہوتے، کیونکہ اب تو آدمی میسر آنا بھی خاصا مشکل ہوگیا ہے، فیس بک پر جعلی دانشور زیادہ اورعام آدمی کم ہیں۔ حقیقی دانشور ہونا مذاق نہیں، اس منصب پر فائز ہونے کے لیے راتیں قلم کی روشنائی میں انڈیلنی پڑتی ہیں۔ اپنے وقت کے ٹکڑے کر کے تخلیق کو کھلانے پڑتے ہیں۔ شب و روز محنت شاقہ سے زبان و بیان کو سیراب کرنا پڑتا ہے، تخلیق کا کرب سہنا پڑتا ہے، تب کہیں جاکر تخلیق قبول کرتی ہے اور حروف ثمرات میں تبدیل ہوتے ہیں۔ صرف فیس بک کی وال پر غلغلہ مچانے سے دانشوری ہاتھ نہیں آئے گی، بلکہ آپ کی شخصیت کا جو تھوڑا بہت بھرم ہے، وہ بھی چلا جائے گا، کیونکہ جہالت کا کوئی چہر ہ نہیں ہوتا، آپ اس کو چہرہ عطا کرتے ہیں۔

ماضی قریب تک بالخصوص شعرو ادب میں تنقید کا شعبہ بھی ہوا کرتا تھا، اس میں بڑے ثقہ لوگ ہوا کرتے تھے، جن کی ہر تنقید کا ماخذ دلیل ہوا کرتی تھی، اب تو عالم یہ ہے کہ کسی دوسرے پر تنقید کرتے ہوئے لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ جس موضوع یا شخص پر وہ تنقید کر رہے ہیں، خود اس میں وہ کتنا کام کرچکے ہیں، جس شخص کی مخالفت کر رہے ہیں، اس کے مقابلے میں ان کا اپنا تخلیقی سفر کتناہے یا ان کے کریڈٹ پر کتنا کام ہے، کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر بس دانشور بننے کے شوق میں برساتی مینڈکوں کی طرح ٹر ٹر کرنے والی یہ آوازیں گزرتے دنوں کے ساتھ بڑھنے لگیں، تو سوچاان کے بارے میں بھی کچھ بیان ہوجائے، کیونکہ جن کو شرم آتی نہیں، ان کو دلائی جاتی ہے اور آخری بات۔۔۔۔۔۔۔۔ دانشور یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: