نا ہنجار بیٹے: معلمہ ریاضی

0
  • 4
    Shares

معلمہ کے درجہ دہم کے اسلامیات کے محترم استاد صاحب ایک دن کہنے لگے کہ ’قائد محمد علی جناح صاحب‘ کو ’اعظم‘ کہنا غلط ہے۔ کیوںکہ ’اعظم‘ کا مطلب ’سب سے بڑا‘ ہوتا ہے۔ اور مسلمانوں کے لئے ’سب سے بڑے‘ صرف اور صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

ہماری تربیت ایسی تھی کہ باوجود ٹھوس دلائل رکھنے کے، ہم نے کبھی پرائمری تا یونیورسٹی اپنے کسی معلم یا معلمہ سے کسی سیاسی، مذہبی یا معاشرتی معاملے پہ اختلافِ رائے پہ بحث نہیں کی، مگر اب فیس بک پہ بھی ہمیں ’اعظم‘ کہنے کے معاملے پہ ایک بیانیہ نظر آیا توفیصلہ کیا کہ یہاں اپنا موقف پیش کیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ریاضی میں ایک اصطلاح ’یونیورسل سیٹ‘ کی استعمال کی جاتی ہے۔ جو ذیادہ تر اعداد کے سیٹ پہ مشتمل ہوتا ہے۔ اردو میں لغوی معنی میں اسکو ’کائناتی سیٹ‘ کہا جائے گا مگر اصطلاحاً یہ سیٹ سوال میں دیے گئے تمام سیٹ میں سب سے بڑے ہونے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کوئی طالبِ ریاضی آج تک یہ اعتراض کرتا نہیں پایا گیا کہ معمولی اعداد کے سیٹ کو کائنات جیسی بڑی شے سے کیوں ملایا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

جب پاکستانی قوم ’قائد بابا‘ کو ’قائدِ اعظم‘ کہتی ہے تو اسکا مطلب ظاہر ہے ساری دنیا کے انسانوں یا مسلمانوں سے انکو افضل ثابت کرنا نہیں ہوتا بلکہ فقط قیامِ پاکستان میں شامل تمام رہنمائوں کا سربراہ اور برِصغیر کے مسلمانوں کا رہبر و قائد بتانا مقصود ہوتا ہے۔

اگر ہم ’اعظم‘ کی وہ تشریح مان لیں جو ہمارے محترم معلمِ اسلامیات نے کی تو کوئی اپنی اولاد کا نام ’اعظم یا اکبر‘ نہیں رکھ سکتا کہ اسے ’بڑائی اور تکبر‘ کا استعارہ سمجھا جائے گا۔

پھر یقیناً ’اصغر‘ نام رکھنا بھی تذلیل کے معنی میں لیا جائے گا۔

مگر ایسا نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے مخصوص دائرہ میں ’اکبر‘ بھی ہو سکتا ہے اور ’اصغر‘ بھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بات سے قطعِ نظر کہ قائد بابا کو آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کیا نہیں۔۔

اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے انکے ہاتھوں ہمیں ’گھر‘ کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے

یہ رب کا فیصلہ تھا کہ قائد بابا کو کروڑوں انسانوں کا محسن بنایا۔

اللہ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے

آپ ان کے نام کے ساتھ ’قائد، اعظم، رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ لکھیں یا نا لکھیں، جو عزت رب نے انکے نام ایک اسلامی ملک بنوا کر، کر دی ہے اسے ختم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ ملک بھی وہ جو بیک وقت ساری باطل قوتوں یعنی ہندو، عیسائی، یہودی کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔

کچھ افراد کے مرحوم قائدین، قائد بابا پہ کفر کے فتوے لگاتے تھے تو وہ بھی قائد بابا کی مخالفت میں اس قدر ظلمت کا شکار ہوئے کہ اپنی نفرت اپنی نسلوں میں منتقل کر دی۔ نتیجتاً دورِ حاضر کے کچھ ’افلاطون‘ قائد بابا کو منہ ٹیڑھا کر کے ایسے ’مسٹر جناح‘ کہتے اور لکھتے ہیں جیسے انکے ساتھ بچپن میں گلی ڈنڈا کھیلا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم ایسے افراد کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے خالق سے اظہارِ نفرت یا انکا زکر اندازِ حقارت سے کرکے آپ پاکستان سے محبت کا جتنا دم بھر لیں، اسے فقط اداکاری ہی سمجھا جائے گا کیونکہ والد کے گھر میں رہ کر، انکی کمائی کھا کر ’جان‘ بنانے والی اولاد اگر زبان سے یہ نکالے کہ ’ابو! آپ نے میرے لئے کیا کیا ہے؟‘ تو ایسی اولاد پہ ’چار حرف‘!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: