تبلیغی جماعت کا اندرونی بحران اور اکابر کا لائحہ عمل : محمد اسرار مدنی

0
  • 227
    Shares

تبلیغی جماعت برصغیر پاک وہند کی سب سے بڑی اصلاحی اور دعوتی تحریک ہے، جس میں ہر رنگ،نسل، اور طبقے کے لوگوں کیلئے Space رکھا گیا،اس تحریک کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی مرحوم اگرچہ دیوبندی فکر کےحامل بزرگ تھے مگر مجموعی طور پر اسےفرقہ واریت کی آلاشوں سے دور رکھا گیا، البتہ مسلم معاشروں میں مسلکی شناخت کی تحریکات کے زور پکڑنے کے بعد یہ تحریک بھی ‘دیوبندی’ کہلانے لگی، گزشتہ عرصے میں جماعت کوکئی آزمائشوں سے گزرنا پڑا، تیسری نسل کی الیاسی روایت سے سطحی وابستگی، جماعت کی عالمگیر شہرت، اشرافیہ کی شمولیت، حب جاہ و حب مال وہ بنیادی عوامل تھے جس کی وجہ سے بعض ممالک میں جماعت کو اندرونی انتشار کا سامنا پڑا، خصوصا ہندوستان میں دونوں فریقوں کے درمیان ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔

مگر ان تمام بحرانوں سے نکلنے اور اجتماعیت کی راہ ہموار کرنے کیلئے جماعت کے پرانے بزرگوں کا غیرمعمولی کردار رہا، میرے والد مرحوم بھی جماعت سے تقریبا نصف صدی وابستہ رہے، لہذا اکابرین تبلیغ سے تعلق، جماعتی نظم و نسق سے آگہی ابتداء شعور سے تھی، پچھلے دنوں کتابوں کی الماری میں ایک فائل پر نظر پڑی، اٹھائی تو مولانا سعید احمد خان کا مکتوب تھا، انہوں نے حضرت والد اور دیگر بزرگوں کے نام اپریل ۱۹۸۶میں لکھا تھا.

مولاناسعید احمد خان بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی کے دست راست اور رفیق سفر رہے، مخدومی المکرم حاجی عبدالوہاب صاحب کی طرح انہوں نے بھی اپنی زندگی دعوت و تبلیغ کی لئے وقف کی، مولانا سعید احمد خان صاحب اس دعوتی تحریک کے مزاج و مذاق سےبخوبی واقف تھے، ان کی درجنوں واقعات اور بیسیوں شہادتیں موجود ہیں کہ انہوں نے تمام مسالک اور مسلمانوں کیلئے اس دعوت کی دروازے کھول رکھے،مدینہ منورہ میں ان کی عملی زندگی اسی تحریک میں گزری، روزانہ کی بنیاد پر تمام مکاتب فکر کے علما، مشائخ کو دعوت طعام پر بلانا، تہجد کے وقت چاے وغیرہ کا انتظام کرنامستقل طورپران کےمعمولات کا حصہ رہا، خود میرے والد بھی ان کے ساتھ اس مہم میں برابر شریک رہے،

آمدم برسر مطلب: مولانا سعید احمد خان کا مکتوب امت مسلمہ کے تمام اصلاحی اور دعوتی تحریکوں کی لئے مشعل راہ ہے، انہوں نے دعوت دین کے اصول و ضوابط اور منہج کو جس انداز میں کیا ہے ان پر عمل پیرا ہوکر تبلیغی جماعت، اصلاحی تحریکات سمیت ہم سب اپنے نجی اور اجتماعی بحرانوں سے نکل سکتے ہیں، اور اپنی اصلاح کیساتھ دعوت و تبلیغ کا فریضہ بھی انجام دے سکتے ہیں۔دعوت جیسے عظیم سلسلے سے وابستہ خواتین و حضرات کیلئے اس میں سامان عبرت ہے۔ مکتوب ملاحظہ فرمایئں۔

مکرمی ومحترمی۔۔۔۔۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

یہ عمل عظیم اور بہت نازک اصولوں پر قائم ہے،وہ آسان ہے ان لوگوں کے لئے جواپنی نفس کی اصلاح چاہتے ہیں، اور بہت دشوار ہےان لوگوں کے لئے جو فقط دوسروں کی اصلاح چاہتے ہیں،

1:کبھی اہل شوری میں کسی سے خفا نہ ہونا چاہیے،طبعیت کے خلاف کیسا ہی مشورہ ہو۔

2: ہمارے لئے جہاں بھی جانے کافیصلہ ہوجائے اور کردے انکا رنہ کرنا لیکن اپنے حالات امیر اور مشورہ والوں کے سا تھ بیان کردینا۔

3: بیوی پرخفا نہ ہونا اورنہ ماں باپ سے اور نہ بھائیوں سے بلکہ ہمیشہ صبر وتحمل سے کام لینا۔

4: اپنی محنت اور جدوجہد کو ہمیشہ کم سمجھنا۔ کبھی زیادہ نہ سمجھنا اور خیال تک نہ ٓائے کہ میں نے بھی کچھ مال و جان لگایا ہے۔

5: اہل علم و اہل ذکر سے محبت کرنا، خواہ تبلیغ میں لگے یا نہ لگے،خواہ وہ موافقت کرے یا مخالفت کرے، ان کی خدمت میں تواضع سے پیش ٓانا اوران کی خدمت میں دعا کے لئے حاضر ہوتے رہنا۔

6:کبھی تبلیغ کا علم یاذکر سے مقابلہ نہ کرنا بلکہ تینوں کو ضروری سمجھنا لیکن علم اور ذکر کو پوری امت پھیلانے کے لئے دعوت کے سوا کوئی عمل نہیں اس لئے اللہ تعالی نے انبیا علیھم السلام کو داعی بنا کر بھیجا۔

7:اللہ تعالی سے ٓاہ وزاری کے ساتھ دعا مانگنے کی مشق کرناکسی کو حقیر نہ سمجھنا خواہ کتنا ہی ان پڑھ اورامی ہو اور فقیر ہو ،امیروں کو کبھی غریبوں پر ترجیح نہ دینا بلکہ غریبوں کے ساتھ بشاشت کے ساتھ ملتے رہنا۔

8:مسلمانوں کے کسی طبقے اور کسی مسلک کے کسی فرد کو دعوت سے گریز نہ کرنا اور نہ سمجھنا کہ اگرایک ٓادمی مخالفت کرے توا س سے کیا ہوتا ہے بلکہ ایک کی مخالفت کو بڑی چیز سمجھنا ،دیا سلائی کی ماچس کی ایک سلائی بھی پوری دنیاکو جلاسکتی ہے، اس لئے ایک انسان بھی دنیا میں فتنہ برپا کرسکتا ہے۔

9: اپنے کام کرنے والوں سے ہمیشہ جڑے رہنا اوران کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا۔ غیروں کا جوڑنا جتنا ضروری ہے اپنوں کا اس سے زیادہ جوڑنا ضروری ہے۔

10: حالات کے اعتبار سے کام کرنے کے طریقے کم و بیش ہوتے ہیں اس کی وجہ سے ایک جگہ پرکام کرنے والے دوسرے جگہ کے کام کرنے والوں پر اعتراض نہ کریں اسے نہ اپنی اصلاح ہوگی اور نہ دوسروں کی بلکہ اپنے اندر اعتراض کا جذبہ بڑھاتے بڑھاتے عداوت اورانتقام کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ پھراس کے بعد تکبر و نحوت کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔

11:ایک جگہ کے رہنے والے دوست کسی دوسرے شہر میں جائیں تووہاں کے پرانوں کو ساتھ لے کر مشورہ کرکے کام شروع کرے۔

12:اگر دوسری جگہ کے رہنے والوں میں سے اختلاف ہو او راختلاف ٓاپس کے مشورے دور نہ ہو سکے توا صل بزرگوں کی طرف رجوع کریں لیکن آپس میں محبت سے ملے جلے رہیں ایک دوسرے سے ناراض نہ ہو ایک دوسرے کے خلاف کہیں بیان نہ کریں۔

13:بہترین شخص وہ ہے جو اپنے ساتھ ایک کو حکمت عملی اور حسن خلق کے ساتھ جوڑے رکھے۔

14:دوسری درجہ میں وہ ہے جو ہر ایک کے ساتھ جڑ جائے یہ دونوں باتیں وہ کرسکتا ہے جس میں تواضع ہو۔

15: ہمارے کام میں لچک ہے جس کی وجہ سے ہر ایک کو جوڑ سکتے ہیں شیطان کام کے پرانوں میں سب سے زیادہ عداوت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اصول کے راستے سے پیدا کرے گا اصول کے نام سے ایک دوسرے کے خلاف ہوجائیں گے، حالانکہ سب سے بڑا اصول آپس کا جوڑ ہے، اگر یہ نہیں تو کوئی اصول نہیں چل سکتا۔

16:سب سے بڑی بےاصولی ٓاپس کا تفرق ہے جو اپنے نفس کی اصلاح سے غافل نہ ہو اور شیطان ونفس کے مکروفریب میں نہ آئے اوردنیا سے دھوکہ نہ کھائے۔

17:اچھے اخلاق والا وہ ہے جو ہر ایک کو نفع پہنچائے دوست ہو یا دشمن موافق ہویا مخالف،امیر ہو یا غریب ہو اور عقل مند وہ ہے جو حال کے حکم کو پہچانے اور موقعہ شناس ہو مردم شناس ہو،اللہ تعالی کی مرضی کا صحیح طالب ہو،ہم سب کچے ہیں، پختہ وہ ہے جو کام میں موت تک جمے رہے خواہ کوئی اس کے قدر کریں یا نہ کریں،اس سے حسن ظن رکھے یا بدظنی، خواہ کام کے ذمہ دار بزرگ بھی اس سے بن ظن ہو جائے مگر وہ کسی سے بد ظن نہ ہوجائے خواہ وہ سب اس کو چھوڑ دے مگر یہ کسی کو نہ چھوڑے اور یوں کہے ہم نہیں چھوڑیں گے کسی کو خواہ وہ سب اس کو چھوڑ دیں۔

یہ سارےصفات انبیا کے ہیں، اس لئے اس کام کو بزرگوں کی نسبت سے نہ کریں اور قرٓن و حدیث کے نصوص میں سے غوروفکر سے کرتے رہے کہ یہ کام کتنا اہم اور کتنا ضروری ہے، اور اللہ تعالی سے دعاؤں کے ذریعے اس کام کو اپنے اوپر کھلواؤ بس اللہ تعالی جس پر کھول دے وہی پرانا ہوجاتا ہے اوروہی پختہ ہوجاتا ہے خواہ وہ تقریر کرنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو خواہ وہ امی ہو یا عالم۔۔۔

والسلام
ازطالب دعا مولانا سعیداحمد خان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: