اردو کے چند معروف اشعار کا تقابلی و تنقیدی جائزہ: عارف گل

2
  • 59
    Shares

کسی شعر کی بنیادی خوبی اس کا وزن اور بحر ہیں۔ اس کے بعد تخیل اور مضمون سے شعر کی عمدگی کی پہچان ہوتی ہے۔ اور پھر تشبیہہ اور استعارہ کا درست استعمال شعر میں وہ خوبی پیدا کرتے ہیں جس سے سامع بے ساختگی میں واہ، کیا بات یے یا مکرر کہہ اُٹھتا ہے۔ جب دو مختلف شاعروں کے اشعار میں تخیل اور مضمون ایک ہو تو ناقدین اسے سرقہ قرار دیتے ہیں۔ مزید اگر تشبیہہ اور استعارہ بھی ایک جیسا ھو تو وہ ثابت شدہ سرقہ کہلاۓ گا۔

چونکہ شاعری میں معدودے چند مثالیں ہی ملیں گی جہاں ایک شاعر کا پورا کلام سرقہ سے پاک ھو ورنہ اکثر شعراء کے اشعار میں سرقہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ سرقہ کی حمایت میں ناروا قسم کی تو جیہیں پیش کی جاتی رہی ہیں جیسے یہ کہنا کہ چونکہ ہر شاعر سرقہ سے متہم ہے تو اسے سرقہ نہیں بلکہ توارد، اخذ، تقلید، مطابقت یا متحدالخیا لی سمجھنا چاہیے۔ بہرحال سرقہ کی جیسے بھی خوبصورت لفظوں سے توجیہہ کی جاۓ سرقہ، سرقہ ہی ہے۔

یہ سب تو اس زمانے کی باتیں ہیں جب ماہرین فن موجود تھے۔ جن کی نظر شاعری کے پورے ذخیرے پر تھی۔ جنہیں قدیم و جدید شعراء کا کلام ازبر تھا۔ اب نہ وہ ناقد رہے اور نہ ہی ماہرینِ فن اور پھر انٹرنیٹ کا دور ہو تو اللہ ہی حافظ۔۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ملا کر صاحبِ تصنیف شاعر بن جاؤ۔ اب کھمبیوں کی طرح شاعر نہیں اُگیں گے تو اور کیا ہوگا؟ سونے پر سُہاگہ شعر کے بنیادی رکن ے یعنی وزن اور بحر بھی اکثر حالتوں میں غائب ہیں۔

سرقے کے موضوع پر تو پھرکبھی تفصیلی بات ہو گی آج صرف چند اشعار کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔ چند دن پہلے میرے ایک دوست نے مجھے درج ذیل شعر ایس ایم ایس کیا۔

عشق فیضی ہمیں مقتل میں پکارے تو سہی
پا بہ زنجیر سہی آئیں گے چھم چھم کر تے

چھم چھم کی ترکیب نے شعر میں موسیقی تو پیدا کردی ہے مگر احمد فراز کا درج ذیل شعر پڑھنے سے معاملہ کچھ اور ہو جاتا ہے۔

جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پا بجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

ذرا ٹھہریں اور مزید پیچھے جائیں اور میر تقی میر کا یہ شعر پڑھیں

معرکہ گرم تو ٹک ہو لینے دو خون ریزی کا
پہلے تلوار کے نیچے ھمیں آ بیٹھیں گے

اسے توارد، اخذ، اور تقلید یا سرقہ جو بھی کہیں آپ کے ذوقِ شعر پرمنحصر ہے۔

اردو شاعری میں چراغِ سحر اور چراغِ سحری کی اصطلاح ہہت سے شعراء نے شعر میں برتی ہے۔ جس سے مراد صبح کے وقت چراغ بجھانا ہے۔ کیونکہ جب دن کی روشنی نکلنے لگتی ہے تو چراغ بجھا دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور اقبال کا شعر ہے

کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں

اس کے مقابل ظہیر کاشمیری کا شعر پڑھئے

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے

اقبال اور ظہیرکاشمیری دونوں نے صبح کے چراغ کو شعر میں باندھا ہے۔ مگر فرق دیکھیں جہاں اقبال کا شعر انتہائی مایوسی کا غماز ہے وہاں ظہیر کاشمیری نے اس ترکیب کو امید میں بدل کر شعر کو لازوال بنا دیا ہے۔

فیض صاحب کا مشہور شعر ہے۔

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوۓ یار سے نکلے تو سوۓ دار چلے

جبکہ بہادر شاہ ظفر کا اسی مضمون کا شعر ہے۔

ایک ہی منزل تھی ہم عشق کے دیوانوں کی
قدو گیسو سے چلے دارورسن تک پہنچے

فیض صاحب لاکھ بہادر شاہ ظفر کو سرے سے شاعر ہی نا مانیں۔ مگر بہادر شاہ ظفر کا شعر معنی آفرینی میں فیض صاحب کے شعر سے بلند تر ہے۔ اور یہ تخیل کی بلندی “راہ میں کسی مقام کا نا جچنا” اور “صرف ایک ہی منزل تھی” کے فرق میں واضح ہے اور نکتہ شناس باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔

اب ذرا غالب کا ایک خوبصورت شعر پڑھئے

قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہمسفر غالب
وہ بت جو خدا کو بھی نہ سونپا جاۓ ہے مجھ سے

جب کے اسی مضمون کا میر تقی میر کا ایک غیر معروف شعر ہے

عاشق وہ ھیں جو اپنے دمِ رفتن
کرتے نہیں یار کو بھی اللہ کے حوالے

اب دونوں اشعار میں تخیل کا فرق صاحبانِ ذوق ھی سمجھ سکتے ہیں۔ اگرچہ غالب کے الفاظ کی بُنت انتہائی عمدہ ہے وھاں وقتِ رخصت یار کو اللہ حافظ بی نہیں کہنا ایک دوسری کیفیت کا اظہار ہے۔

ایک زبان زدِ عام شعر ہے جو ستر اسی سال سے میر تقی میر کے نام سے منسوب چلا آرہا ہے، اور بڑے صاحبانِ علم بھی اسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ حقیقت میں یہ شعر میر کا نہیں بلکہ مہاراج بہادر برق کا ہے۔ شعریوں ہے

وہ آۓ بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

یہ شعر اسی طرح درست ہے۔ اورشعر میں میر نہیں بلکہ برق ہی ہے۔ اس شعر کا دوسرا مصرعہ تو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

اس شعر کا مشہور معنٰی تو یہی ہے کہ محبوب کےمحفل میں آنے کے بعد چراغوں کی روشنی ماند پڑ گئی۔ جیسا کہ میر تقی میر مشہور شعر ہے

رات محفل میں ترے حُسن کے شعلے کے حضور
شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا

مگر برق کے شعر میں بہت بڑی خامی ہے جسے عام تو عام بڑے بڑے صاحبِ ہنر لوگوں نے بھی نظر انداز کیا ہے۔ شاعری میں ایک چیز ہوتی ہے “ذم ” یعنی ایک شعر کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک مشہوراور دوسرا مخفی۔ مخفی پہلو ایسا ہو جو تعریف کی بجاۓ تنقیص کے معنی دے اسے “ذم” کہتے ہیں۔ یہ کسی بھی شعر کی بہت بڑی خامی ہوتی ہے۔ برق کے شعر میں یہی خامی پوشیدہ ہے۔ اب مذکورہ بالا شعر پہ اس پہلو سے غور کریں۔ کسی شخص کے محفل میں آنے سے چراغوں میں روشنی کا نہ رہنا، چراغوں کا بجھ جانا بھی تو کہا جا سکتا ہے۔ اور کسی کے آنے سے چراغ کا بجھنا یا روشنی کا چلے جانا نحوست کی علامت بھی تو ہے۔ اور یہی برق کے شعر کی خامی ہے۔

اسی طرح کا ایک اور شعر ہے جو بہت پڑھا جانے والا اور بہت پسند کیا جانے والا ہے

شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں
دل ہی کافی ہے تیری یاد میں جلنے کے لیے

شاعر کے سامنے یقینا” میر تقی میر کا درج ذیل مشہور شعر ہوگا

شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہے گویا چراغ مفلس کا

اب مذکورہ شعر کے پہلے مصرے پہ غور کریں “شام ہوتے ہی چراغوں کو بجھا دیتا ہوں” کوئی پوچھے بھائی! کیا شام ہونے سے پہلے کہیں چراغ جل رہے ہوتے ہیں جنہیں بجھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ شام ہوتے ہی چراغ جلاۓ جاتے ہیں۔ جب شام سے پہلے چراغ جل ہی نہیں رہے ہوتے تو بجھانا چہ معنی؟ یہی اس شعر کی بہت بڑی خامی ہے۔ مگر کیا کریں جب ذوقِ شعر ہی لوگوں میں مفقود ہو تو ایسی خامیاں لوگوں کو کیسے نظر آئیں گی۔

بہرحال جو بھی ہو میری ان گزارشات کا مقصد صرف یہی ہے کہ ہماری نوجوان نسل شاعری کا ذوق و شوق تو بہت رکھتی ہے، اسے چاہئے کہ اپنے اندر شعر سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرے اور اچھے اور برے شعر میں تمیز کرنے کا معیار بھی پیدا کرے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. ماشااللہ کمال تحقیق اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جزاک اللہ سچ بیان کرنے پہ ۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: