نواز شریف کس نظرئیے کا نام ہے؟ حسن تیمور جکھڑ

0

ہمارے ملک میں کئی نظریات چل رہے ہیں جیسے نظریہ پاکستان،نظریہ ضرورت، نظریہ اسلام، نظریہ ختم نبوت۔۔۔۔ ان سب میں سب سے منفرد نظریہ نظریہ سیاستدان ہے۔۔۔ یہ ایسا انوکھا نظریہ ہے جس کے تحت میٹھا میٹھا ہپ ہپ،،کڑوا کڑوا تھو تھو ہے۔۔۔ یعنی حقوق لینے کےلیے آگے آگے،،فرائض کےلیے پیچھے۔۔۔۔۔ سیاستدانوں کی اکثریت کا نظریہ یہی ہے کہ سب سے پہلے پاکستان، مگر صرف اپنی حکومت کےلیے۔۔۔ باقی رہنے،کھانے،پینے اور سونے کےلیے تو دوسرے ممالک موجود ہیں ہی۔۔۔

اپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ باقی تمام نظریات کی بہ نسبت یہ نظریہ پھلا پھولا بھی ہے اور اس پہ مکمل طور پہ عمل بھی کیاگیاہے۔۔۔

اس نظریہ پہ عمل قیام پاکستان کے بعد سے ہی شروع ہوگیا، لیکن اس میں شدت نوئے کی دہائی میں آئی کہ ہمیں حکمرانی کےلیے خصوصی طورپہ ایک غیرملکی کو پاکستانی بناکر لانا پڑا۔۔۔۔ یہ اس نظریہ کےایک پہلو کاعروج تھاکہ معین الدین قریشی کو وزیراعظم بنایاگیا۔۔۔۔ اس کےبعد شائد ہی کوئی ایسا حکمران،وڈیرا،یا لٹیراہو جس نے غیر ملکی شہریت، اکاونٹس یا اثاثے نہ بنائے ہوں۔۔۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ایسا کرنے والے تقریبا سبھی میں ایک بات مشترک رہی کہ انہوں نے ہمیشہ “حب الوطنی” کا ٹیگ استعمال کیا… اب اللہ جانے ان کی یہ “حُب” کس “وطن” کےلیے تھی۔۔۔

ارتقا کےمراحل طے کرتے ہوئے اب اس نظریئےمیں جدت آئی ہے اور اب اسے باقاعدہ نام دیدیا گیا ہے۔۔ یہ نام اس نظریے کی پاسبانی کرنے والے خاندان کی جانب سے سامنے آیا ہے۔۔ ہر عید باہر منانے، علاج کے لیے لندن جانے، اثاثے پانامہ مین رکھنے مگر فیکٹریاں پاکستان مین چلانے والے، اپنی فیکٹریوں میں بھارتیوں کو چھپانے والے محب الوطن ان “شرفا ” نے اب خود کو ایک نظریہ کہنا شروع کردیا ہے۔۔۔ یہ نظریہ جو اک عرصہ سے اوپن سیکرٹ کی طرح معاشرے میں پنپ رہا تھا آج ایک باقاعدہ شکل لیکر معاشرے کے سامنے آگیاہے۔۔۔

مارکیٹینگ کے اصول کے تحت اس نظریہ کی شکل کی پیکنگ بہت خوبصورت کی گئی ہے تاہم اس کے اندر کا مواد ایک غلاظت سے بھرا ہے۔۔۔۔
بظاہر معصوم دکھنے والا نظریہ کسی ڈریکولا سے کم نہی جو قوم کا خون پیتا ہے۔۔۔۔
یہ نظریہ غریبوں کا نہی “نوازے” ہوون کا نظریہ ہے۔۔
اس لیے اس پہ لبیک کہنے والے بھی وہی ہیں جنہیں شاید نظرئیے کی الف یا ب کا بھی پتہ نہ ہو۔
سب سے پہلے تو اس پر بات کرتے ہیں کہ نظریاتی ہوتا کون ہے اور کسی نظرئیے کے لئے کی جانے والی جدوجہد دراصل ہوتی کیا ہے؟

نظریہ ایک اچھے لیڈر کے وژن اور خواب کے حصول کے لئے کی جانے والی وہ جدوجہد ہوتی ہے جو وہ اپنے ملک و ملت کو مسائل سے نجات دینے اور انہیں ترقی دینے کی غرض سے اس ایک وژن کے تحت لانے کے لئے کرتا ہے۔

نوے کی دہائی سے پنجاب پہ حکومت کرنے والا یہ خاندان جس کا جنم ہی اسٹیبلشمنٹ کی گود میں ہوا اور جنہیں حکومت کرنے کے لئے بھی بنی بنائی پچ فراہم کی گئی، چاہیں بھی تو نظریاتی ہونے کا دعوی نہیں کرسکتے۔ نظریاتی ہونے کی لئے اس جماعت نے اگر کوئی وژن بنا کر اس کے حصول کے لئے دس فیصد بھی مخلصانہ کوشش کی ہوتی تو آج اس ملک کے لوگوں کی زندگی میں کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آچکی ہوتی۔

لیکن پچھلی تین دہائیوں میں ان کا وژن صرف اور صرف وہ دیو ہیکل پروجیکٹس رہے ہیں۔ جو آنکھوں سے نظر آسکیں۔ چاہے وہ موٹر ویز ہوں، جنگلا بسیں، اورنج ٹرین جیسے سفید ہاتھی یا یا دانش اسکول اور سستی روٹی کے ناکام منصوبے جنہیں آنکھوں سے تو دیکھا جاسکتا ہے لیکن جب بھی کوئی زی شعور انسان ان منصوبوں کے اثرات انسانی معاشرے پر تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے تو سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔
جن کی اپنی زاتی محلات، جائدادیں، اولاد اور سرمایہ دوسرے ممالک میں ہو وہ اس ملک میں کس نظرئیے کے تحت کس کی خدمت کرسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
حقیقت تو یہی ہے کہ اشرافیہ اور حکمرانوں کا نظریہ صرف نظریہ زاتی مفادات اور ان کا تحفظ ہے۔ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار سترہ تک ملک کی دونوں بڑی جماعتیں “نظریۂ مک مکا” پہ بڑی خوبی سے عمل کرتی رہیں ہیں البتہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے دکھاوے کے لئے زبانی گولہ باری کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے اور اس طرح “نظریۂ مشترکہ مفادات” کا تحفظ بھی بخیرو خوبی کیا جاتا رہا ہے۔

اس سارے پس منظر میں جب قوم کی خوش قسمتی سے پاناما کا معاملے میں سب کچھ کھل کر سامنے آہی گیا ہے تو اب سابق وزیر اعظم المعروف “مجھے کیوں نکالا” کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ اپنی زنبیل سے کوئی نیا ہتھیار بر آمد کریں جو ان کو اقتدار کی سیڑھی تک دوبارہ سے پہنچا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی “عالم و فاضل و دانشور” کے کہنے پر نظریۂ ضرورت کے تحت “نظریاتی” ہونے کا نعرہ لگایا جارہا ہے۔

ن لیگ کے عام ووٹرز بھی یقینا سوچ میں ہونگے کہ یہ نظریاتی ہونا کیا بلا ہے کہ ان کے لیڈر کو تیس سال بعد اس کی ضرورت آپڑی ہے۔ تیس سال اس ملک کو لوٹ مار کر کمزور ترین معاشی پوزیشن پر لانے والے اگر اب نظریاتی ہونے کا نقاب اوڑھنا چاہیں تو کس بنیاد پر ؟ جہاں عوام کہ جان مال اور عزت کا تحفظ نہ ہو۔ جہاں جاتی امراء کے محلوں کے باہر سڑک پر بچے جنم لیتے ہوں۔ جہاں غربت کے ہاتھوں انسان بچے فروخت کرنے یا ان کو زہر دینے پر مجبور ہوجائے وہاں اگر یہ لوگ نظریاتی ہونے کا نعرہ لگائیں تو صرف غالب کا اک شعر ہی یاد آتا ہے کہ

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: