کھیل کے دن اور جیل کی راتیں : عطا محمد تبسم

0

مضراب نے ساز ہستی کی لے کو تیز کردیا، حمید اختر ‘کی کال کوٹھری’ نے جیل کی یادیں تازہ کردیں۔ کتاب پڑھتے پڑھتے بیتے دن اور واقعات یاد آتے چلے گئے۔ گورنمنٹ کالج لطیف آباد کے طلبہ یونین کے انتخاب میں جمعیت نے کامیابی حاصل کی تھی، زاہد عسکری صدر اور میں نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔ بھٹو صاحب کا پرآشوب دور تھا، وہ طلبہ میں پی ایس ایف کو آگے دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے کالجوں میں اکثر تصادم کی کیفیت رہتی تھی۔ گورنمنٹ کالج لطیف آباد بھی ان میں سے ایک تھا، جہاں پی ایس ایف کے طلبہ اسلحے سے لیس کالج میں ڈیرہ ڈالے رہتے۔

ہم منتخب ہونے کے باوجود کالج میں داخلے سے محروم تھے کہ ایک دن پی ایس ایف کے ایک لڑکے، اظہار کے بھائی کا، چھ نمبر لطیف آباد میں سعد شبلی کی بہن کو چھیڑنے پر جھگڑا ہوگیا۔ سعد شبلی کو سبق سکھانے یہ اسلحے سے لیس ایک جیپ میں سوار ہوکر اس کے گھر پہنچے، جہاں سعد شبلی بندوق لے کر ان کا انتظار کر رہا تھا، معرکہ ہوا اور ایک گولی اظہار کا سینہ چیرتی ہوئی نکل گئی۔ شام کو میں نے اس کے گھر پر اس کی لاش دیکھی، تھری ناٹ تھری رائفل کی گولی نے کمر کو ادھیڑتے ہوئے جسم سے نکلتے ہوئے ایک بہت بڑا شگاف کردیا تھا، خون سیاہی مائل ہوکر جم گیا تھا۔ زندگی میں پہلی بار لاش دیکھی تھی۔ اس واردات نے ہمیں کالج میں پی ایس ایف کے چنگل سے نجات دلا دی۔

ان ہی دنوں نشتر کالج ملتان کے طلبہ کا ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں سے تصادم ہوگیا، نشتر کالج کے طلبہ زخمی ہوئے اور جمعیت نے پور ے ملک میں ختم نبوتﷺ کی تحریک کا آغاز کردیا، حیدرآباد جمعیت سے میں اور زاہد عسکری، کراچی یونیورسٹی سے طالب علم رہنما قیصر خان، عبدالرشید خان، اور چند دوسرے ساتھی، میرپورخاص، سامارو، جیمس آباد، کنری کے دورے پر نکلے، ہم مساجد میں نماز پڑھتے اور نماز کے بعد مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر تقریر شروع کردیتے اور قادیانی فتنہ کے بارے میں عوام کو آگاہ کرتے، کنری میں جب ہمارا قافلہ پہنچا تو وہاں بہت تناﺅ کا ماحول تھا، وہاں قادیانیوں کا بہت اثر رسوخ تھا، کوئی ہمیں مہمان بنانے پر تیار نہ تھا، شام کو ایک مسجد میں بہت بڑا جلسہ ہوا، رشید خان شعلہ بیان مقرر تھے، قیصر خان بھی مزیدار تقریر کرتے، جس میں مرزا پر وحی لانے والے فرشتے ٹچی ٹچی کے لطائف بیان کرتے۔ اس رات ہم ایک کھلے میدان میں چارپائیوں پر سوئے، جلسے کے بعد شہر کے لوگ چارپائیاں اور بستر لے آئے تھے، ایک احاطے میں ہم کھلے آسمان تلے سوئے۔ میں کنری سے اکیلا اس قافلے کو چھوڑ کر واپس حیدرآباد روانہ ہو گیا، لیکن اب میں پولیس اور خفیہ والوں کی نظر میں تھا، جو میرے ساتھ سفر کر رہے تھے، شائد یہی دن تھے، جب خفیہ پولیس میں میرا نام درج ہوا۔

اگلے ہفتے میں جمعیت کی مقامی سرگرمیاں جاری رہی۔ دفتر جمعیت 23 گول بلڈنگ ہمارا اوڑھنا بچھونا تھا۔ ایک رات شہر میں پوسٹر لگانے کا پروگرام طے ہوا، ساری پارٹیاں اپنی مہم پر روانہ ہوچکی تھی۔ میں دفتر کی سڑھیوں سے اتر رہا تھا، میرے ساتھی اقبال تھے، جو گورنمنٹ کالج کے رفیق تھے۔ اچانک دو تین پولیس والوں نے ہمیں گھیر لیا اور دفتر کی سیڑھیاں اترتے ہی حراست میں لے لیا۔ سٹی تھانہ میں لے جاکر ہمیں بیٹھا دیا گیا۔ میری عمر ان دنوں بیس سال رہی ہوگی۔ پولیس کے طور طریقوں سے ناواقف تھے، کبھی تھانہ کچہری سے کوئی واسطہ نہ تھا، یوں بھی کوئی جرم تو نہیں کیا تھا، اس لیے مطمئن رہے۔ بارہ ایک بجے کے بعد تھانہ میں سناٹا چھا گیا، ہمیں بتایا گیا کہ ایس ایچ او آئیں گے تو پوچھ گچھ کے بعد چھوڑ دیا جائے گا، کوئی پرچہ بھی درج نہ ہوا تھا۔ ساری رات ہم تھانے میں بیٹھے رہے، ایک پولیس والا تھا، صبح کی اذان ہوئی تو ہم نے پولیس والے سے پوچھا کہ ہمیں نماز پڑھنی ہے، ہم سامنے کی مسجد سے نماز پڑھ کر آتے ہیں۔ اس نے اجازت دے دی اور کہا ”آجانا’ ہم یہ وعدہ کرکے نماز کے لیے مسجد آگئے۔ نماز کے بعد ہمارے ساتھی اور ناظم عبدالوحید ناصر جو تمام رات ہمارے بارے میں پریشان رہے تھے مل گئے، حال احوال پوچھا پھر سب نے حلوہ پوری کا ناشتہ کیا، پھر ناظم صاحب نے پوچھا اب کیا کرنا ہے، ہم نے کہا کہ ہم نماز کی اجازت لے کر آئے ہیں، اس لیے ہمیں واپس تھانے جانا ہے۔ انھوں نے بھی کہا ہاں ٹھیک ہے، آپ جائیں ہم آپ لوگوں کی رہائی کا بندوبست کرتے ہیں۔

لیکن صبح دس بجے ایس ایچ او نے آکر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ ہمارے خلاف ایم پی او کے تحت پرچہ کاٹ دیا، بھٹو صاحب کے اس دور میں ایم پی او کے تحت درج مقدمات میں ضمانت بھی نہ ہوتی تھی۔ پھر ہمیں تھانے کے عقب میں بنی ایک کال کوٹھری میں بند کردیا گیا، جس کے ایک کونے میں ایک آدھی دیوار کی اوٹ میں ایک کھڈی بنی ہوئی تھی، جس کی بدبو سے دماغ پھٹا جارہا تھا۔دل میں سب سے زیادہ والدہ کی فکر تھی، کبھی دوستوں کا بھی خیال آجاتا کہ اس زمانے میں دوستیاں جان و دل سے زیادہ عزیز تھیں، اگلے دن ہمیں عدالت میں پیش کیا جانا تھا، زندگی میں پہلی مرتبہ ہتھکڑیاں دیکھیں، پولیس والے ہتھکڑیاں تیل میں بھگو کر رکھتے ہیں کہ زنگ سے محفوظ رہیں۔ لیکن ان تیل بھیگی ہتھکڑیوں سے ہمارے کپڑے محفوظ نہ رہ سکے۔ ہمیں ایک تانگے پر سوار کرکے کچہری میں لایا گیا، اور پھر عدالت سے ہمیں حیدرآباد سنٹرل جیل روانہ کردیا گیا۔ جیل اس سے پہلے دور ہی سے دیکھی تھی۔حیدرآباد کی سنٹرل جیل بہت مشہور ہے.

(جاری ہے)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: