آشوبِ دانش: سرسید کا ’فیض‘ —- منیر احمد خلیلی

0
  • 20
    Shares

مشاہدے کی بات ہے کہ بازار میں جن اشیاء کو عام طور پر لوگ نظر اٹھا کر دیکھنا گوارا نہیں کرتے میلوں ٹھیلوں میں وہ ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں۔ میلے میں ’کوالٹی‘ کے بجائے ’کوانٹٹی‘ چلتی ہے۔ میلہ سستی اور زیادہ کی جگہ ہے۔ دام کم، کام زیادہ۔ اب توعلم و فکر اورادب و دانش کے ٹھیلے بھی میلے ہی میں لگے نظر آتے ہیں۔

ونیورسٹیاں صرف تعلیم و تدریس کی نہیں بلکہ تحقیقِ مسلسل، نظریات و افکارکی ان تھک چھان بین، جِلائے فکر اور فروغ ِ علم کی کاوشوں کا مرکز ہوتی ہیں۔ اب یہاں بھی دو روزہ، سہ روزہ ’عرس‘ کی روایت پر چل پڑی ہیں۔ سرسیّد احمد خان کے دوسو سالہ یومِ ولادت کے ’دانش میلے‘ اور فیض انٹرنیشنل فیسٹیول کی دھوم دھام تازہ معاملہ ہے۔ فیض احمد فیض کو ثابت کرنے والوں نے کیا کیا ثابت نہیں کیا۔ بائیں بازو کی لبرل سوچ تو خود کو ان کا اصل وارث سمجھتی ہے لیکن اب معاملہ گھوم کر دائیں آ گیا ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام کا پروردہ کارپوریٹ سیکٹر جو جدید میڈیا کی صورت میں جلوہ گر ہے وہ بھی فیض کے تذکروں سے اپنی دکان کی بِکری بڑھاتا ہے۔ فیض احمد فیض کا طرزِبود و باش اور رہن سہن اور اوڑھنے پہننے کا معیار کبھی ایسا نہیں رہا تھا کہ اسے ’فقرِ بوذرؓ‘ کی علامت سمجھا جائے۔ اگرچہ ان پر کچھ آزمائشیں آئیں لیکن وہ دنیا سے ایسی اچھی خوشحال زندگی گزار کر رخصت ہوئے تھے جس میں پرولتاریہ رنگِ انقلاب کی کوئی جھلک نہیں تھی۔ ان کی زندگی اگر شاہانہ نہیں تھی تو درویشانہ بھی نہیں تھی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان میں شرمیلا خُوئی اور شرافت مزاجی کا عنصر غالب تھا۔ ضبطِ نفس کی ایک ایسی کیفیت ان میں پختہ تھی جو انسان کو طیش، غم اور خوشی کے لمحوں میں بے قابو نہیں ہونے دیتی۔ خوش قسمت تھے کہ بورژوا اور پرولتاری دونوں گروہوں نے انہیں own کیا۔پروپیگنڈے نے ان کو حقیقت سے بہت بڑا شاعر اور جس انسانی درجے پر تھے اس سے کہیں بلند انسان کے طور پر پیش کیا۔ اب حقیقت میں بورژوائی حلقہ ہی ان کے مزارِ فن کا مجاور ہے اور وہی ان کے ’عرسوں‘ کا خاص اہتمام کرتا ہے۔ ان کی برسی اور ولادت کے دن فیسٹیول کے طور پر منائے جانے لگے ہیں اور فیسٹیول بھی انٹرنیشنل۔

فیض یہاں میرا موضوع نہیں ہے۔ میں کچھ خاص شخصیات یا واقعات کا تذکرہ کرنا چاہوں توخاص تاریخ سے کبھی آگے اور کبھی پیچھے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔ یہاں سرسیّد احمد خان میرا موضوع ہیں۔ ان کا دو صد سالہ یومِ پیدائش منایا گیا۔ لکھنے والوں نے بہت کچھ لکھا اور بولنے والوں نے بہت کچھ کہا۔ کسی نے بتایا کہ اصل ’مصوّرِ پاکستان‘ وہی ہیں۔ کوئی ان کے لیے ’سیاسی مدبّر‘ کا لقب لایا۔ کچھ نے ’مُصلح ‘قرار دیا اور کسی کو ان کے لیے ’مجدد‘ کی مسند اچھی لگی۔ اس چیز کابھی بجا طور پر ذکر ہوا کہ ملّتِ اسلامیہ ہند کے لیے جدید تعلیم کے دروازے کھولنے کی وجہ سے وہ محسنِ ملّت ہیں۔ اگرچہ سرسیّد اپنے شخصی حلیے سے مشرقی بلکہ ہندوستان کی مسلم تہذیب کی علامت تھے مگر استعماری تسلّط اور انگریز قوم کے تہذیبی و ثقافتی رنگ سے متأثر تھے اس لیے لبرل اور سیکولر لابی کی نظر میں انہیں اس پہلو سے گویا درجۂ امامت حاصل تھا۔ معاملہ مغرب زدہ لبرل اور سیکولر طبقے تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ وسطی سوچ جواجتماعی زندگی میں مغربی تہذیب اور اسلام کی آمیزش کی خواہش مند ہے تا کہ عاقبت بھی ہاتھ میں رہے اوروہ لذّاتِ دنیاجو تہذیب جدید کا ثمر ہیں ان سے بھی دامن خالی نہ رہے۔ اس سوچ کے مطابق بھی سرسیّد اقبالؒ پر مقدّم تھے۔ سرسیّد نے بلاشبہ علی گڑھ کالج اور دیگر تعلیمی ادارے قائم کرنے کا کارنامہ ضرور انجام دیا۔ ان اداروں سے بڑے نامور لوگ نکلے جنہوں نے آگے چل کر سیاست سمیت مختلف میدانوں میں قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ ان اداروںکے اثرات تھے۔ یہ ’روشن خیالی‘ کے نقیب بنے اورتہذیبی رویّوں پر بھی اثر انداز ہوئے۔ لیکن یہ کہنا کہ سرسیّد ماہرِ تعلیم تھے یہ مبالغہ ہے۔ قومی زبان اردو کے بارے میں ان کے خیالات قابلِ قدر تھے۔ کانگریس کے حوالے سے ان کی آراء بھی صائب تھیں۔

سرسیّدکے قلب و ذہن پر خود سپردگی کی جو کیفیت چھائی ہوئی تھی اس کی وجہ سے انہوں نے اپنے انداز و اطوار سے فرنگی تہذیب و ثقافت کے پھیلنے کی رفتار تیز کی۔

سرسیّد کے عہد میں اسلامیانِ ہند کی جو سیاسی، معاشی، اخلاقی، علمی و ثقافتی حالت تھی اس میں نفسیاتی اور عملی طور پرچار ہی راستے تھے۔ ایک خود اعتمادی و خود انحصاری، دوسرا خود سوزی، تیسرا خود کشی اور چوتھا خود سپردگی۔ خود اعتمادی سے مراد یہ ہے کہ ملّت اسلامیہ حالات کے طوفان کے آگے اپنے عزم و اعتماد کا بند باندھتی۔ حوصلے کی گرتی ہوئی دیواروں کو سنبھالا دیتی اور اپنی عزتِ نفس اور قومی وقار کے ساتھ نامساعدی کی آندھیوں کا مقابلہ کرتی۔ خود سوزی یہ تھی کہ بے بسی و درماندگی پر قانع ہو جاتی اور اپنے اندر اٹھتی انفعالیت اور احساسِ ہزیمت کی آگ میں جل جل کر جیتی اور رہی سہی صلاحیتوں اور قوتوں کواپنی ہی آگ میں بھسم کر دیتی۔ ایک تیسرا راستہ مزاحمت اور ہر حال میں مرنے مارنے کا تھا۔ لیکن سامنے کی حقیقت یہ تھی کہ1857کی مسلح مزاحمتی تحریک جسے ہم جنگِ آزادی اور انگریز غدر کہتے تھے کچل دی گئی تھی۔ فرنگی اپنی ساری خباثتوں اور تعصبات کے ساتھ ہندوستان پر قابض ہو گئے تھے۔ مغلیہ سلطنت کا آخری چراغ گل ہو گیا تھا۔ مسلمان کب تک ہتھیار نہ ڈالتے اور جہاد جاری رکھ سکتے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ کی ایک محض اجتہادی ہی نہیں بلکہ عملی مثال تاریخ میں ثبت ہے۔ وہ مقابلے کے لیے ضروری قوت اور اسباب کی عدم موجودگی میں ایسی مسلح جدوجہد کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اسی لیے محمد بن زکیہ ؒکے موقف کو درست سمجھنے کے باوجود امام صاحب نے عملی طور پر ان کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ یہاں انگریزوں کے مقابلے میں وہی صورت حال تھی۔ اس پالیسی کو اختیار کر کے پہلے جتنے پس چکے تھے اس سے زیادہ ان کے پسنے بلکہ مٹنے کا امکان تھا۔ چوتھا راستہ یہ تھا کہ استعماری استیلا اور فرنگی بالادستی کو تلخ حقیقت کا بہت کڑوا گھونٹ سمجھ کر قبول کر لیتے، وفادار رعایا ہونے ثبوت دیتے اوراپنی طرف سے یقین دلاتے کہ کوئی شورش برپا نہیں کریں گے۔ کامل اطاعت کا نمونہ بن کر رہیں گے۔ خود سری کے بجائے خود سپردگی کا یہ رویہ سرسیّد نے اپنایا اور صرف سیاسی غلبے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ مغربی تہذیب کی ’عظمت‘ کے آگے بھی سر جھکا دیا تھا۔

جب کوئی قوم غالب آتی ہے تو سیاسی، عسکری، اقتصادی تسلط پر ہی اکتفا نہیں کرتی بلکہ اپنی تہذیبی و ثقافتی اقدار کو بھی مفتوح قوموں میں پھیلانا چاہتی ہے۔ سیاسی، عسکری اور اقتصادی فتوحات و مقبوضات فوری نوعیت کے معاملات ہیں۔ تہذیبی و ثقافتی نفوذ بتدریج ہوتا ہے اور یہ اقدار دھیرے دھیرے محکوم قوموں کے مزاج میں داخل ہوتی اور دلوں میں رچتی بستی اور زبان، لباس، رہن سہن اور کھانے پینے کے طور طریقوں اور مجلسی اظہارات میں نمودار ہوتی ہیں۔

سرسیّدکے قلب و ذہن پر خود سپردگی کی جو کیفیت چھائی ہوئی تھی اس کی وجہ سے انہوں نے اپنے انداز و اطوار سے فرنگی تہذیب و ثقافت کے پھیلنے کی رفتار تیز کی۔ وہ اس معاملے میں بہت تک چلے گئے تھے۔ ان منفی پہلووں کے باوجود یہاں مدعا انہیں یکسر رد کرنا نہیں ہے۔

مصنف

آشوبِ دانش میں بھانت بھانت کی بولیاں اور طرح طرح کے خیالات سامنے آتے ہیں مگرمیں سمجھتا ہوں کہ سرسیّد کے لیے سب سے متوازن اور معقول خراجِ تحسین وہ ہے جس میں کہا گیا کہ وہ مخلص اور درد مند تھے۔ قوم کے زوال و ادبار کا انہیں رنج تھا۔ وہ مغلوبیت کے زخموں سے نڈھال اور سیاسی قیادت سے محروم، حالت یتیمی میں حیران و ہراساں کھڑی قوم کی اس تکلیف دہ صورت حال کو بدلنے میں مخلص تھے۔ انہوں نے درد مندی اور خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ پتوار تھام لیا۔ ان کی پہلی کوشش تھی کہ کشتی کو گرداب سے نکل آئے۔ گرداب کے چکروں نے انہیں یہ دیکھنے کی فرصت ہی نہیں دی کہ کشتی کا رخ مکہ اور مدینہ سے پھر کر لندن کی طرف ہو گیا ہے۔ بھنورکی شدت میں کمی آنے پر بجائے اس کے کہ بھنور سے نکلنے کے بعد وہ اس کی سمت بدلتے انہوں نے اسے لندن کے رخ پر ہی چلنے دیا۔ اس نقطۂ نظر والے سرسیّد کو بدنیت نہیں کہتے۔ ان کا اعتراض حکمتِ عملی پر ہے۔ اس خراج ِ ِ تحسین میں سرسیّد کا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے غلطی پر شائستہ گرفت ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: