خیبر پختونخواہ : پی ٹی آئی امکانات — طاہر علی خان

0

کیا عمران خان کی تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت بنا پائے گی؟

عمران خان اور ان کے پیروکار تو یہاں پھر کلین سویپ کے خواب دیکھ رہے ہیں. ان کے خیال میں صوبائی حکومت کی “بہترین” کارکردگی کے طفیل کوئی دوسری پارٹی یا پارٹیوں کا اتحاد ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔خیبر پختونخوا کا ووٹر مگر پاکستان کا واحد ووٹر ہے جو آزادی سے اپنے رائے کا استعمال کرتا ہے, اکثر نئے لوگوں کو ہر بار موقع دیتا ہے اور ایک بار کے حکمران جماعت کو مسلسل پھر موقع دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

اسی ووٹر نے 2002 میں ایم ایم اے کو بھاری مینڈیٹ سے نوازا۔ بڑے بڑے سیاستدانوں کے مقابلے میں ایسے نووارد غریب مولویوں اور نوجوانوں کو پہلی بار اسمبلیوں میں بھیجا جن کے پاس اپنی سائیکل بھی نہیں تھی لیکن پھر 2007 میں مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کو  اس نے بری طرح شکست دی کیونکہ ایک نئ ملا اشرافیہ بننے پر وہ غصہ تھا۔

پھر عوامی نیشنل پارٹی کو اس نے بھاری مینڈیٹ دیا لیکن اگلی بار اسے بری طرح نظر انداز کرکے پی ٹی آئی کے نوجوان  اور عام سے امیدواروں کو تبدیلی کے نام پر بڑی تعداد میں کامیاب کیا۔خیبر پختونخوا کے ووٹر کی خصلت اور تاریخ کو دیکھیں تو پی ٹی آئی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں تاہم تحریک انصاف کے ٹائیگرز کہتے ہیں اس بار سابقہ حکمران جماعت کو بد ترین شکست کی مقامی روایت پی ٹی آئی کے لیے توڑ دی جائے گی۔

پی ٹی آئی کی کارکرگی آئندہ انتخابات میں کیا ہو گی اس کاانحصار چند عوامل پر ہے۔ مثلاً یہ کہ کیا عمران خان اکیلے انتخاب لڑیں گے یا کسی بڑی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر سکیں گے؟عمران خان اپنی انتخابی کامیابی کے حوالے سے فی الحال اتنے بڑے یقین سے سرشار دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں دوسروں سے اتحاد کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہو رہی۔انہوں نے اتحاد کیا بھی تو جمعیت علماء اسلام سمیع الحق گروپ سے جس کی کوئی عوامی حمایت نہیں۔ ان سے اتحاد کرکے دراصل وہ مولانا فضل الرحمٰن کو زچ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے مقابلے میں  دیوبندی مذہبی طبقے کی کچھ حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر یہ ایک کار لاحاصل ہی دکھائی دیتا ہے اس لیے کہ دیوبندی مکتبہ فکر کے مدارس کے اساتذہ اور طلباء کی اکثریت مولانا فضل ا لرحمٰن کے ساتھ ہے۔

انہیں جلد جماعت اسلامی سے  اتحاد کی بات کرنی ہوگی اس سے پہلے کہ مولانا فضل الرحمٰن اسے اچک لے اور نہ صرف ایم ایم اے کا حصہ بنا لے بلکہ ساتھ ہی صوبائی حکومت سے بھی استعفٰی دینے پر مجبور کردے۔ موخر الذکر صورت میں آخری سال کے لیے پی ٹی آئی حکومت کے  وہ سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے جنہیں تکمیل تک پنچانا پی ٹی آئی کی کامیابی کے لیے لازمی ہے۔

جماعت اسلامی اور تحریک انصاف صوبائی حکومت میں اتحادی ہیں۔  دونوں صاف و شفاف جمہوریت اور احتساب کے علمبردار ہیں، طالبان اور دہشت گردی پر ان کے موقف تقریباً یکساں ہیں، امریکہ، افغانستان اور ہندوستان وغیرہ پر بھی ان کی آراء میں کوئی فرق نہیں، اس لیے دونوں فطری اتحادی بنتے ہیں۔ اس پی ٹی آئی جماعت اتحاد کا فائدہ عمران خان کو بھی ہوگا کیونکہ ان کی مخالف ساری پارٹیاں شاید ان کے خلاف اتحاد بنا لیں۔ لیکن اس سے جماعت اسلامی کو بھی ایم ایم اے کا حصہ ہونے یا اکیلے انتخاب لڑنے کے مقابلے میں شاید زیادہ نشستیں مل سکیں گی۔

عمران خان صاحب یاد رکھیں! سیاست میں سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے دوسروں سے نبھانا بیٹھنا پڑتا ہے انا پرستی اور صرف خود پرستی اس میں زیادہ دیر نہیں چل سکتی. برداشت قربانی اور احترام دکھانا پڑتی ہے ورنہ بندہ تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھنا ہے کیا پی ٹی آئی حکومت کے آخری برس میں زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کام کیے جاتے ہیں، وعدے کے مطابق اصلی تبدیلی دکھائی جاتی ہے، بجلی کے زیادہ سے زیادہ چھوٹے منصوبے مکمل کیے جاتے ہیں، احتساب کے نظام کو مکمل طور پر فعال کرکے اپنےپراۓ سب کرپٹ افراد کے خلاف ایکشن لیا جاتا ہے، کارکنوں کی رائے کے مطابق پارٹی ٹکٹ جاری کیے جاتے ہیں، عام انتخابات تک اپنی حکومت کو بچا کر اپنی مرضی کی نگران حکومت لائی جاتی ہے، دوسری پارٹیوں سے بقیہ وقت میں اچھے تعلقات کے قیام کی کوشش کی جاتی ہے اور کسی بڑی پارٹی یا پارٹیوں کے گروپ سے اتحاد کے لیے کامیاب مذاکرات کیے جاتے ہیں یا نہیں۔

یہ سارے کام اگر کر لیے جاتے ہیں تو پی ٹی آئی اچھی کارکرگی دکھا سکتی ہے ورنہ حکومت کے دوران اگر بلدیاتی انتخابات میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت سے زیادہ نشستیں جیت لیں تھیں تو اگے عام انتخابات میں غیر جانبدار نگران حکومت میں پی ٹی آئی ان سے کیسے جیت پاۓ گی۔

احتساب کے نعرے لگانے والی جماعت نے  سابقہ حکومتوں پر کرپشن کے الزامات لگاۓ لیکن کسی کا احتساب نہ کیا۔ انکے ممبران اسمبلی نے ایک دوسرے پر اور وزیر اعلی پر الزامات لگاۓ کسی کا احتساب تو نہ ہوسکا۔

اپنی حکومتی کارکرگی کے بارے میں انکے دعوے اپنی جگہ مگر پی ٹی آئی نے دو سال سے زیادہ تو دھرنے اور جلسے جلوسوں میں ضائع کیے۔ انہوں نے کہا تھا ہم نوے دن میں تبدیلی دکھائیں گے لیکن یہ عرصہ طویل سے طویل تر ہوتا گیا۔ انہوں نے تین چار سال صوبے میں سڑکوں پلوں موٹرویز اور میٹرو بس سسٹم وغیرہ کو کوئی توجہ نہیں اور اب آخری سال کئ منصوبے شروع کر دئیے ہیں۔ انہوں نے صحت اور تعلیم میں کچھ اچھا کام کیا مگر پھر  لاکھوں اساتذہ کو ایک تعلیمی ایکٹ کی بے ہنگم طریقے سے سامنے لانے کے ذریعے ناراض بھی کر لیا۔

پولیس کو سیاسی دباٶ سے آزاد کرنے کی بات کہی جاتی ہے مگر ڈیرہ اسمٰعیل خان میں لڑکی کو  برہنہ گھمانے والےطاقتور افراد کے خلاف  کئی روز تک قانون حرکت میں نہ آ سکا بلکہ الٹا مظلوم خاندان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے جبکہ عمران صاحب کئ دنوں تک اس ظلم پر خاموش رہے ۔ صوبے میں احتساب کا نظام متعارف کیا گیا لیکن پھر معطل کر لیا گیا۔ انہوں نے مخالفین اور سابقہ حکومتوں پر کرپشن کے الزامات لگاۓ لیکن کسی کا احتساب نہ کیا۔ انکے ممبران صوبائی و قومی اسمبلی اور وزراء نے ایک دوسرے پر اور وزیر اعلی پر الزامات لگاۓ۔ کسی کا احتساب تو نہ ہوا لیکن الٹا پے درپے الزامات لگانے والوں کو ہی پارٹی سے نکالا گیا۔ عام لوگوں اور عام پارٹی کارکنان کے مقابلے میں اپنی پارٹی اور حکومت کے سرکردہ افراد کی ہر حالت میں حمایت کا طرزعمل یقیناً ہر جگہ خطرناک سیاسی تضمنات رکھتا ہے تاہم خیبر پختونخوا کا ووٹر تو  کمزور کے مقابلے میں کبھی بھی طاقتور کی حمایت کو برداشت نہیں کرتا اور اس پر اپنا غصہ دکھا کر ہی رہتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: