زندگی میں تخلیقیت کی افادیت اور بچے : فارینہ الماس

0

میں شروع ہی سے انتہا کی کم گو تھی لیکن میری روح کے اندر بے چینی کا ایک تلاطم انگیز شور تھا۔ جس کا تقاضا قوت اظہار کا حق مانگنا تھا۔ رٹے رٹائے اسباق میں دلچسپی کم،اور نئے عنوانات و اسباب پر غور و فکر کا رحجان زیادہ تھا۔ دماغ میں نت نئے سوالات ابھرتے جن کی تشفی کے بنا چین نہ پڑتا۔ کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا بیحد شوق تھا لیکن ابا کو میرا نصاب کے علاوہ کوئی کتاب ہاتھ میں پکڑنا سخت ناپسند تھا۔ ان کا میرے بارے ایک ہی خواب تھا۔ ۔ ۔ مجھے ڈاکٹر بنانا۔ ۔

لیکن مجھے جانوروں یا انسانوں کی چیر پھاڑ میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ کبھی اپنے ہاتھ سے ایک مکھی تک مارنے کی ہمت نہ جتا پائی تھی تو بھلا یہ میڈیکل میرے اختیار کی بات تھی ہی کہاں۔ مجھے تو کھلے آسمان پر پرندوں کی دلکش مصوری یا بارش کے بعد قوس قزح کی پھوٹتی پھل جھڑی کا نظارہ دیر تلک کرتے رہنا بھلا لگتا تھا، میری دلچسپی سوندھی سوندھی مٹی کو گوندھ کر اس کی مورتیں بنانے یا لفظوں کو جوڑ کر ان کے دلکش شعری مجسمے تراشنے میں تھی۔ سکول ہی کے زمانے میں ایک بار مشہور شاعرہ ‘’ادا جعفری“ کی کتاب ہاتھ لگی جسے پڑھ کر روح پر ایک عجیب سا سحر طاری ہوگیا۔

”میں دشت زندگی میں کھلے سر نہیں رہی
اک حرف آرزو کی ردا مل گئی مجھے “

یہ تو یاد نہیں کہ ان کی شاعری کس وسیلے سے پڑھنے کو ملی۔ شاید اس زمانے میں اس شاعری کا مفہوم بھی کم کم ہی سمجھ میں آیا ہو۔ لیکن نجانے کیوں بڑا خوشگوار احساس ہوا تھا اس شاعری کو پڑھ کر۔ ۔ ۔

”بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا “

خصوصاً وطن کی محبت کو اجاگر کرتی، جنگ میں شہید ہونے والوں کی یاد میں یا سانحہ سقوط ڈھاکہ کے تناظر میں لکھی گئی نظمیں تھیں وہ مجھے بہت مضطرب کرنے لگیں۔ جی میں آیا کہ کیوں نہ کچھ لکھا جائے، بس پھر کاغذ قلم ہاتھ میں تھاما اور چند ہی دنوں میں حب الوطنی، ملک کی عظمت، مسائل زمانہ اور نجانے کن کن عنوانات پر ڈھیروں نظمیں لکھ ڈالیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک پوری ڈائری نظموں سے بھر گئی۔ کلاس میں کسی لڑکی نے شرارت سے میرے بیگ سے یہ ڈائری نکال کر اردو کی ٹیچر کے حوالے کر دی۔ خوف کے مارے میری سانسیں اوپر تلے ہونے لگیں۔ ڈر تھا کہ ابا کی طرح ٹیچر بھی پڑھائی کے علاوہ کے اس بے کار کے شوق پر مجھے خوب لتاڑیں گی لیکن وہ تو کتنی ہی لمحے بنا کچھ کہے بس مجھے دیکھتی ہی چلی گئیں۔ ۔ ۔ پھر آگے بڑھ کر میرے کندھے پر ستائشی تھپکی دی۔ اور ان کے ستائشی الفاظ میرے کانوں میں رس گھولنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورے سکول میں میری شاعری کی دھوم مچ گئی۔ ہر ٹیچر میری تخلیقی صلاحیت کی معترف ہوگئی۔ میں اسکول میں خاصی معتبر اور معروف ہوچکی تھی۔ کتنے ہی خوشگوار اور سرشاری کے دن تھے وہ۔ ۔ ۔

گھر میں بھی میری یہ تخلیقی کاوش ابا کے سامنے آگئی۔ مجھے گمان تھا کہ ابا بھی میری اس سرگرمی کو سراہیں گے لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔ ابا نے ڈائری کو ایک طرف رکھتے ہوئے بہت بجھے ہوئے انداز سے مجھے دیکھا اور کہا۔ شعر و شاعری کوئی اچھا شغف نہیں۔ ۔ ۔ ۔ “

شاید وہ شعرو شاعری کو عشق و محبت سے بڑھ کر کسی بھی جذبے کے اظہار کا زریعہ نہ سمجھتے تھے یا شاید ان کے دل میں کہیں یہ خدشہ سر اٹھائے ہوئے تھا کہ شاعری کرنے والی لڑکیاں اسٹیج پر مشاعرے بھی ضرور پڑھا کرتی ہیں اور مشاعرے پڑھنے والی لڑکیوں پر مرد ہمیشہ نظر غلط رکھتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم ان کے دل میں کیا تھا لیکن میرے دل میں ضرور کچھ چھناکے سے ٹوٹ چکا تھا۔ اب میرے اندر کی خوشی ہوا ہو چکی تھی۔ میں اسکول میں بھی بجھی بجھی رہنے لگی۔

میری اردو کی ٹیچر کو یہ بات کھٹکنے لگی تھی۔ وہ مجھ سے اس رویے کی وجہ دریافت کرنا چاہتی تھیں۔ پھر ایک دن انہوں نے میری نظموں کے سلسلے کی بابت پوچھا تو میں نے سارا ماجرا بیان کر ڈالا۔ ٹیچر نے مجھے اتنی کم سنی میں کسی قسم کی بغاوت کا کوئی مشورہ نہ دیا ہاں البتہ اس مسئلے کا ایک حل سجھا دیا۔

‘’دیکھو فاری تم ایک پیدائشی تخلیق کار ہو۔ خود سے تخلیق کو کبھی جدا نہ کرنا۔ لیکن تم نے ابھی اس طرف جانے والی راہ پر قدم رکھا ہے۔ ابھی تو اپنا ہنر آزمانے کے کئی مقام کئی منزلیں باقی ہیں۔ تمہارے لئے شاعری نہیں بلکہ تخلیق اہم ہے۔ اگر ابا کو تمہارا شعر کہنا پسند نہیں تو کیا ہوا تم نثر میں تھوڑا بہت کام کرتی رہو۔ بھئی کہانیاں لکھو، مضامین لکھو، یہ سب نثر کی اصناف ہیں۔ لیکن ہیں تو تخلیقی اظہار ہی۔ “ ٹیچر کی یہ بات میرے دل کو بہت بھائی اور میں نے ابا سے کچھ کہے سنے بغیر ہی افسانے لکھنا شروع کئے جو اخبارات میں بھی چھپنے لگے۔ ابا کو بھی رفتہ رفتہ میری ایسی سرگرمی پر کوئی اعتراض نہ رہا۔ مجھے بس ٹیچر کی یہ بات یاد رہی کہ اظہار کوئی بھی ہو، تخلیق کا سفر رکنا نہیں چاہئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج زندگی کے ہر مزاج کو سہنے، اس کی دھوپ چھاﺅں کے ہر موسم کو سہارنے اور اس میں ثابت قدم رہنے میں یہی ایک وصف ساتھ دیتا ہے۔ اس کے اچھے برے اظہار سے من کو شانتی اور طمانیت ملتی ہے۔ لکھنا ممکن نہ بھی ہو تو کم سے کم پڑھنے کا شغف بھی دل بستگی کو بہت ہے۔

بات یہ ہے کہ انسان کے لئے اس کے جذبات اور خیالات اس کے مادی وسائل سے بھی کہیں ذیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر دماغ خیالات کی جگالی نہ کرے تو وہ اپنی موت آپ مر سکتا ہے۔ غور و فکر اور سوجھ بوجھ کے عمل سے انسان پرانے علم اور اکتساب کو شعور کے دائروں میں سوچتا سمجھتا اور نئے زاویوں اور نتائج کو اخذ کرتا ہے۔ اگر نئی کاوشیں، نئی جہتیں، نئے اصول اور نئی دریافتوں کی راہیں نہ ڈھونڈی جائیں تو انسان کی فکر اور سوجھ بوجھ، خوف، غم، بے اطمینانی اور قنوطیت کی پرخار راہوں میں ہی الجھ کر رہ جائے۔ اطمینان قلب یا کا میابی کے عنوان پیچیدہ و بے کار ہو جائیں۔ انسان کے اندر ازل سے ہی اپنے من کے بھاﺅ بھید کریدنے اور خود پر اپنا آپ عیاں کرنے کی آرزو موجود رہی ہے۔ اسے ہی ”تخلیقیت“ کہا جاتا ہے جو ہر انسان کے دماغ کی کئی چھوٹی بڑی وریدوں، اور رگوں میں میں موجود ایک مخفی راز یا ہنر ہے۔ سائنسدان اور ماہرین اپنی اپنی استطاعت اور علم کے بل بوتے پر اس حصے کی تشریح وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔ کوئی اسے دماغ کے اگلے تو کوئی پچھلے حصے، کوئی داہنے تو کوئی باہنے حصے میں چھپی استعداد سے جوڑتا چلا آیا ہے۔ لیکن اس خاصیت کا تعلق انسان کی تمام تر دماغی صلاحیت سے ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جس کا تعلق انسان کی بصری و سمعی صلاحیتوں سمیت کئی اور طرح کے حواس سے بھی ہے۔ انسان کی سوچ کے تمام تر دھارے مل کر اسے جنم دیتے ہیں۔ یہی اس کی فکر کے رخ کو بھی متعین کرتے ہیں۔

اس کا علم اور معلومات اس صلاحیت کو صیقل کرنے میں مددگار ہوتا ہے، جو بعد ازاں کسی ایک ہنر کا نام اور مقام پا لیتی ہے۔ دماغ تخلیق کے تمام تر مراحل اور مدارج پر مبنی سرگرمی کو یکتا اور منظم کرتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دماغ کا مکمل استعمال اور اظہار ہی تخلیقیت پیدا کرتا ہے۔ افراد میں اشیاء اور مناظر کے متعلق تنقیدی نقطہءنظر پیدا ہوتا اور ان سے دلچسپی بڑھتی ہے۔ دماغ جب اپنا ان تھک سفر شروع کرتا ہے تو وہ پہلے سے موجود تصورات یا خیالات کو علم و مشاہدے کی فراہمی کا سبب تو بناتا ہے لیکن اگلے پڑاﺅ پر پہلے سے موجود اس سبھی مواد کو رد کرتے ہوئے یا فرسودہ مانتے ہوئے سوچ یا خیال کی نئی جہتیں دریافت کرنے کی جستجو شروع کر دیتا ہے۔ وہ سبھی مشاہدات، تجزیات و تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے امکانات اور نئے عنوانات پر غورو فکر کرتا ہے اس سبھی کاوش کے لئے وہ کسی نہ کسی تخلیقی ہنر کو اپنا ہتھیار بناتا ہے۔ اگر وہ اس سفر پر نہ چلے تو اس کی روح کی بے چینی اس کا جینا محال کر دے۔ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے۔ کیونکہ اس کے اندر موجود صلاحیت کسی نہ کسی طور اپنا اظہار چاہتی ہے۔ اسے اپنے تخلیقی وصف کو جاننے اور قابل استعمال بنانے کے لئے تجربات کی بھٹی سے گزرنا ہوتا ہے۔ یہ تجربات دلچسپ بھی ہو سکتے ہیں اور جانکاہ بھی، با ثمر بھی ہو سکتے ہیں اور بے ثمر بھی۔ اس ساری کاروائی میں اسے درکار ہوتی ہے داد اور تحسین۔ لوگوں کی نظر ستائش اور اپنے فن کے لئے حوصلہ افزائی۔ اسے اپنی حسیات کو بھی آزاد چھوڑنا ہوتا ہے تاکہ اپنے تخیل کو پوری آزادی سے جانچ سکے۔ اپنے خیالات کو پراسس کر سکے۔ اسی طور علوم و فنون کو ترقی ملتی ہے۔ سائنس اور تحقیق کو نئی راہیں ملتی ہیں۔ آرٹ اور کلچر معاشرے کا حسن اور وقار بنتا ہے۔ قوم کو اپنی زبان اورشخصی اظہار ملتا ہے۔ رویوں کو سلیقہ اور قرینہ نصیب ہوتا ہے۔

ہم بچوں کی تخلیقیت اس لئے روند دیتے ہیں کہ ہم انہیں فنکار نہیں بلکہ صنعتکار یا اعلیٰ افسران بنانا چاہتے ہیں۔ ہم انہیں باس یا آقا کا مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ اسی لئے ہم نے ایک منڈی سجا رکھی ہے۔

عظیم تخلیق کار پابلو پکاسو کا ماننا تھا کہ ‘’سبھی بچے پیدائشی تخلیق کار اور فنکار ہوتے ہیں“ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایک غیر تخلیقی معاشرہ اس کی راہ میں ایسی دشواریاں حائل کر دیتا ہے کہ سن بلوغت تک پہنچتے پہنچتے اس کی تخلیقیت اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ ہمارے معاشروں کی حد سے ذیادہ زر پرستی اور مادیت پرستی ایسے آسیب بن چکے ہیں جو ہوس پرستی کی شکل میں ڈھل کر انسان کی تخلیقی روح کو بے رحمی سے اپنے قدموں تلے روند دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کی تخلیقیت اس لئے روند دیتے ہیں کہ ہم انہیں فنکار نہیں بلکہ صنعتکار یا اعلیٰ افسران بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ان کے سروں پر اعلیٰ مقامی کا تاج یا کلاہ دیکھنا چاہتے ہیں وہ باس بنیں یا آقا ہمارا مطمعء نظر ان کا ایسا ہی مستقبل ہے۔ اسی لئے ہم نے ایک منڈی سجا رکھی ہے، ڈگریوں کا بازار لگا رکھا ہے۔ ہم چاہتے ہیں ڈگریوں کی اس مارکیٹ میں ہمارے بچوں کی اچھی بولی لگ سکے۔ ہمارے بچے ایک منافع بخش پراڈکٹ بن سکیں۔ وہ اپنے والدین کے لئے منافع بخش پراڈکٹ تو بن جاتے ہیں لیکن اپنی زندگی کے حسن اور سکون سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاتے ہیں۔

ہمارا تعلیمی نظام، تعلیمی ادارے اور اساتذہ بھی والدین کی ایسی ہی خواہشات کے حصول میں ان کے بھرپور مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ جو بچوں کو رٹا لگا کر رٹے ہوئے اسباق نگلنے اور اگلنے کے علاوہ کچھ سکھا نہیں پاتے۔ جس سے نوجوانوں کی ذہنی صلاحیت بھی کم ہو رہی ہے۔ ان کے لئے زندگی کا تمام تر مقصد اچھے گریڈ لینے تک محیط ہو چکا ہے اور ایسا نہ ہو پانے کے نتیجے میں ان میں بد دلی اور مایوسی کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں خود کشی کا رحجان بھی بڑھ رہا ہے۔

ہم ایک غیر تخلیقی معاشرے میں ڈھل رہے ہیں اور ایک غیر تخلیقی معاشرہ ایک بانجھ معاشرہ ہوتا ہے۔ سرد رویوں کا معاشرہ، جہاں جمالیاتی حسن ناپید ہوتا ہے۔ جب ہم چاہتے نہ چاہتے ہوئے،جانے انجانے میں اپنے اندر سے تخلیقیت کا حسن کھو دیتے ہیں تو ہماری روح گونگی، بہری ہو جاتی ہے، ہم جذبوں کی زباں سے بے بہرہ ہو جاتے ہیں۔ ایک تخلیقی انسان، حساس انسان ہوتا ہے جب اس کے شعور و لاشعور میں ڈھیروں حسی تجربات اور تجزیات منجمد ہونے لگیں تو بیزاری و بے کلی، اکتاہٹ و کراہت اور خفگی کا ایک جوالہ مکھی اس کے اندر پلنے لگتا ہے۔ جو کبھی نہ کبھی تو پھوٹتا ہی ہے اور اپنے لاوے میں سبھی کچھ بہا لے جاتا ہے۔

کانٹ تخلیقی فن کو مقصدیت کا عمل قرار دیتا ہے۔ وہ مقصدیت جو زندگی اور اس کائنات کو جواز اور خوبصورتی عطا کرتی ہے۔ یہ اظہار ذات اور انکشاف ذات کا عمل ہے جو انسان کو عرفان ذات تک کے سفر پر لے جاتا ہے۔ انسان کی بصیرت اور دیگر حسیات آنے والے وقتوں کو سجانے اور سنوارنے کی تراکیب ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ یہ نہ صرف معاشرے کی روحانی و مادی ضروریات خود بخود پوری کرنے لگتی ہے بلکہ انسان سے بے حسی،  بے خبری، انتشار ذات کے نتیجے میں ذات کے اجزاء بھی الگ ہونے لگتے ہیں۔ وہ ڈپریشن اور تناﺅ کے مضر اثرات سے باہر نکلتے ہیں۔ گو کہ معاشرے تخلیق کے سفر میں اقدار و ثقافت کے علاوہ معاشی طور بھی ترقی کرنے لگتے ہیں لیکن ایک ”سچے تخلیق کار “ کی ترجیحات مادیت سے کہیں ذیادہ روحانیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کام میں اکتاہٹ یا بے معنویت کا شکار نہیں ہوتا۔ اسے ذات کا اعتماد اور اعتراف نصیب ہوتا ہے۔ ایک معاشرے کا تخلیقی معاشرے میں ڈھلنا ازحد ضروری ہے تاکہ وہ خود کو درپیش ناقابل فہم نفسیاتی و جذباتی مسائل سے باہر نکال سکے۔ اور زندگی کی تابانی کو محسوس کر سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: