مینیج کیجیے: عتیق بیگ

0
  • 25
    Shares

پی ٹی سی ایل آفس میں کچھ دوست جاب کر رھے ھیں۔ اس وجہ سے اگر کبھی کوئی ڈی ایس ایل یا کنکشن میں مسئلہ درپیش ہو تو میں کبھی بھی کمپلین درج نہیں کرواتا۔ سیدھا دوستوں کو فون کر کے عرض کر لیتا ہوں، دوستوں کی ذرہ نوازی ھے کہ وہ بھی مان رکھتے ہیں۔ آخری دفعہ جب ڈی ایس ایل کنکشن میں مسئلہ درپیش ہوا تب بھی ایسا ہی کیا اور دوست چیک کرنے کے لئے گھر آپہنچا۔

دوست سے ڈی ایس ایل کی ہر روز کم ہوتی ہوئی رفتار پر شکوہ کیا تو اس نے کہا کہ حضور ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اب آپ خود ہی دیکھیے۔ آج سے تقریبا 25 سال قبل آپ کے محلے میں ڈی پیز لگائی گئیں تھیں۔ انہیں کئی سال پہلے تبدیل ہو جانا چاہیے تھا۔ زمینی تار کو بچھائے ہوئے بہت لمبا عرصہ بیت گیا ھے، اس تار پر کبھی صرف کنکشن ہی چلتا تھا۔ اب انٹرنیٹ بھی چلتا ہے۔ لوڈ بے تحاشا بڑھ گیا ھے۔ مارکیٹ میں اس وقت بہت اچھی کیبل آ چکی ہیں۔ نئی کیبل پڑے گی تو رفتار اور سروس دونوں کافی بہتر ہو جائیں گیں۔ لیکن محکمہ صرف اور صرف اس وقت پیسے اکٹھے کرنے کے موڈ میں ہے، لگانے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں ہے۔ عملہ بہت حد تک کم کر دیا گیا ہے، ایک بندہ تین آدمیوں کا کام کر رھا ھے وہ بھی ایک ہی بندے کی تنخواہ پر۔ ہم محکمہ کو سفارشات بجھواتے ہیں تو جواب میں کام کرنے کی بجائے ہمیں کہا جاتا ھے کہ “مینیج کیجیے”

ایسے حالات میں ہم بھی ڈنگ ٹپاو کام ہی کر سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے کسی کا کنکشن ٹھیک ہو جاتا ہے تو کسی کا خراب ہو جاتا ھے۔ جس کا کام خراب ہو جاتا ھے وہ بھی ہمیں گالیاں دیتا ہے۔ اور جس کا کام عارضی طور پر ٹھیک ہوتا ھے وہ بھی ہمیں صلوتیں سناتا ھے۔ لیکن محکمے کی ایک ہی رٹ ہے کہ جی “مینیج کیجیے”

بالکل یہی صورت حال محکمہ پولیس کا بھی ہے۔ عملے کی بے تحاشا کمی ہے۔ “فنڈز” بڑے آفیسز سے نیچے تھانے تک پہنچتے ہی نہیں۔ افسروں کی فرمایشیں الگ، سیاسی دباو الگ، ٹاوٹ اور صحافی بھی خوش رکھنے ہیں۔ اوپر سے گورے کا بنایا ہوا ملزم کو رعایت دینے والا قانون اور ججوں کی تعبیرات قانون۔ عام سپاہی بچارہ 18 گھنٹے تک ڈیوٹی کرتا ہے، باقی 6 گھنٹوں میں نیند بھی پوری کرنی ھے۔ گھر والوں کو بھی وقت دینا ہوتاھے۔ تھکا ہارا جب یہ سپاہی کسی ناکے پر کھڑا ہو گا تو آپ کا کیا خیال ہے وہ عوام کو ایسی ڈپریشن والی حالت میں “عزت بخشے” گا یا اپنا سارا غصہ آپ پر نکالے گا؟

آپ ایک دن تھانے کے محرر کے ساتھ وقت گزار کر دیکھیے۔ آپ کو بخوبی اندازہ ہو گا کے منشی کس طرح پورے تھانے کو “مینیج” کر رھا ھے۔ عارف والا شہر کی آبادی 5 لاکھ کے قریب ہے۔ جبکہ تھانہ سٹی میں عملے کی تعداد بمشکل 50 بھی نہیں ہے۔ آپ خود ہی بتلائیں فقط 50 آدمی 5 لاکھ آبادی والے علاقے کو کس طرح ” مینیج ” کر سکتے ہیں۔

عجیب مسئلہ ہے بلکہ باعث حیرانی ہے۔ ایک طرف مختلف سرکاری محکموں میں عملے کی بے تحاشا کمی ہے اور دوسری طرف معاشرے میں ہزاروں نہیں لاکھوں ڈگری ہولڈرز جوان نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹخا رہے ہیں۔ آپ ان نوجوانوں کو نوکریاں دے کر نا صرف ان نوجوانوں کو مصروف عمل کر سکتے ہیں اور جرایم کی طرف راغب ہونے سے روک سکتے ہیں۔ بلکہ عملے کی کمی کی وجہ سے جو مشکلات محکموں کو درپیش ہیں وہ بھی دور ہو جائیں گیں۔ معاشرے میں یہ واضح تقسیم فقط اس لئے نظر آ رہی ہے کہ ہمارے کرتا دھرتا اچھا “مینیج” بھی نہیں کر سکتے۔

اور ایک ہم ہیں کہ اپنی ہر مشکل کا حل انہیں حکمرانوں سے مانگتے ہیں۔ جو لیڈر ہونا تو دور کی بات اچھے “مینیجر” بھی نہیں۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: