سِرِّ حیات : ہمایوں مجاہد تارڑ

0
  • 47
    Shares

مانا کہ ہر انسان کو نصیب کا ملتا ہے اور نصیب سے ہی ملتا ہے مگر حیوانِ ناطق کو مطمئن کرنے کے کچھ ظاہری اسباب بھی ہوتے ہیں کہ حرکت میں ہی برکت ہوتی ہے جناب ۔ اگر دنیا ذہانت سے ہی فتح ہوتی تو محنت کش دست کش ہی رہ جاتے۔ ہمایوں مجاہد کی تحریر

اُس شام آفتاب پوری طرح غروب ہو چکا تھا، جب واک کرنے کے ارادے سے باہر نکلے ہم سڑک کنارے تقریباً مکمّل اندھیرے میں کھڑے تھے۔ اس اثنا میں سیاہی کا پردہ چاک کرتی سیاہ رنگ کی ایک چھوٹی سی ٹیکسی پاس سے گذری تو میرا ماتھا ٹھنکا۔ اُسے دور تک جاتا دیکھتا رہا۔ یہ چمک، یہ لَسٹر! حیرت زدہ ہو کر میں نے پاس کھڑی مسز کی طرف دیکھا۔ “کیا ہوا؟” وہ سٹپٹا گئی، کہ بظاہر تو واقعی کچھ نہ ہوا تھا۔ “دیکھو اتنے اندھیرے میں بھی سیاہ رنگ کی ٹیکسی لشکارے مارتے گزری ہے۔ ”

“تو؟”

“تو یہ کہ سیاہی میں سیاہی خود کو کیونکر نمایاں کر سکتی ہے؟”

“ہاں!۔ ۔ ۔ ۔ گاڑی خوب چمکا رکھی ہے اُس شوقین مزاج نے۔ دیکھیں، ورنہ گاڑی ہے پرانے ماڈل کی۔ بس بعض لوگ بڑے خبطی ہوتے ہیں۔ ”

جی ہاں، راقم نے ایسے ٹیکسی ڈرائیورز دیکھ رکھے ہیں جو اپنا انتظاری وقت فارغ بیٹھ کر پان، بیڑی، سگریٹ وغیرہ سے شغل کرتے میں بس ‘پاس’ نہیں کرتے، بلکہ کپڑا ہاتھ میں لیے اپنےفالتو وقت کو پالتو وقت بناتے گاڑی کا ‘رُواں رُواں’ جنونی انداز میں رگڑ رگڑ چمکارنے میں ‘صرف’ کرتے ہیں۔ اور ایسا کرتے میں سخت مستقل مزاج ہوتے ہیں۔ وضع قطع و لباس میں بھی خوب رکھ رکھاؤ کے قائل۔ کبھی ٹیکسی سے سفر کرنا پڑ جائے تو سامنے کھڑی بیسیوں گاڑیوں میں سے دل لپک کر اُنہی کی جانب کھنچتا ہے— ایسے ننّھے بچے کیطرح جسے یکایک غبارے نظر آ جائیں۔

ولادت تا موت شہد کی مکھی خدمتِ شہد سازی میں بتا دیتی ہے۔ بہاروں کے قافلے اپنے مقرّر وقت پر طلوع و غروب کرتے ہیں۔ صدیاں بیتیں، آفتاب و ماہتاب نے مگر سرِ مُو ایسی جنبش نہ کی جو شاہراہِ مدار میں ذرا سی گرد ہی اڑائے۔ سمندروں کا جلال، کوہساروں کی ہیبت ، صحراؤں کی پہنائی، ندّیوں کا مترنّم شور۔ ۔ ۔ یہ سب کتنا حرارت افروز ہے۔ یہ سب جلال و کمال کہاں سے آیا؟ صرف تسلیم و عبودیت سے۔ پابندیِ اوقات سے۔ مداومتِ عمل سے۔ یہی سرّ زندگانی ہے۔ بس جس کے نصیب میں جتنا آجائے۔ آ جائے اور دل نظر میں کسی طور سما جائے۔

یعنی آپ اگر کسی ایک اصول کے تابعدار ہو تو آپ محترم ہو، معزّز ہو، آبدار ہو، شاندار ہو!

یقین جانیں، یہ بڑے راز کی بات ہے۔ کارزارِ حیات کی گہما گہمی میں الجھ کر، اور اُلجھے رہنے والوں پر منکشف ہوا ایک ایسا رِمز جسے حرزِ جاں بنایا جائے تو بڑی بات ہے — کہ آپ کے دل و دماغ میں جو نغمہ گونج اُٹھتا ہے، جو ساز چھڑ جاتا ہے، جو بات ‘معلوم’ پڑ جاتی، رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے جس کی حقانیت کے آپ خود گواہ ہو تے ہو کہ کیا ہونا چاہیئے، کیسا ہونا چاہیئے، کیوں ہونا چاہیئے، اُسے ذرا جما کر زمین پر اتارنے کو، عملاً اُسے ممکن بنا ڈالنے، اُسے کوئی وجود بخشنے کو تھوڑا persist کرنا پڑتا ہے۔

اصرار کرنا ضروری ہے!

یعنی جمنا، باز نہ آنا، اور ڈھیٹ پروف قسم کا مستقل مزاج بن کر کچھ عرصہ بڑی لگن سے کام کرنا ضروری ہے (پھر کشادگی سی ہو جاتی، کافی سپورٹ میسّر آ جاتی ہے۔ یہ فارمولا ہر کلمہ گو، غیر کلمہ گو کے لیے یکساں ہے۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں۔ )

اور اِس پراسیس میں پیش آتی ہر رکاوٹ کو اپنے لیے تربیت خیال کرنا، اسے اپنے لیے مزید اُٹھان، اونچی اُڑان کا ذریعہ خیال کرنا، اور اس ‘خیال’ سے بہ زور چمٹے رہنا بالآخر اُس ایبسٹریکٹ یا تخیّل کو کسی روزمجسّم کر ڈالتا ہے۔ ایپل فون کے موجد Steve Jobs کی وہ سٹیٹمنٹ خود اُسی پر پورا اترتی دکھائی دیتی ہے۔ جناب کی خود اپنی زندگی اس پر پوری طرح گواہ ہے۔ کہا:

”بعض خبط دماغ لوگ سمجھتے ہیں وہ دنیا بدل ڈالیں گے۔ ہاں، وہ ٹھیک سمجھتے ہیں۔ وہی ایسا کر سکتے ہیں۔ وہی ایسا کِیا کرتے ہیں۔”

یہ خبطی پن کیا ہے؟ اصرار یا persistence ہے، جسے ہم اپنی زبان میں مداومتِ عمل ، تسلسل یا مستقل مزاجی کہا کرتے ہیں۔ Calvin Coolidge نے تو حد کر دی اس کی اہمیت جتانے میں۔ شاندار سٹیٹمنٹ ہے کوئی سمجھے تو۔ کہا:

Nothing in this world can take the place of persistence. Talent will not. Nothing is more common than unsuccessful men with talent. Genius will not. Unrewarded genius is almost a proverb. Education will not. The world is full of educated derelicts. Persistence and determination alone are omnipotent.

یعنی ”دنیا میں کوئی بھی دوسری شے مستقل مزاجی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ صلاحیت نہیں — کہ زندگی میں باصلاحیت ناکامیاب لوگوں سے زیادہ عام شے اور کوئی نہیں۔ ذہانت و فطانت بھی نہیں — کہ بے ثمر، بے فائدہ ذہانت تقریباً ایک کہاوت کا درجہ رکھتی ہے۔ تعلیم بھی نہیں — کہ دنیا تعلیم یافتہ پریشان حال لاوارثوں سے بھی لدی پڑی ہے۔ تو گویا عزم اور ثابت قدمی ہی مختارِ کُل ہیں۔ ”

عزم و یقیں اور ثابت قدمی — اور پھر:

جس سمت میں چاہے صفتِ سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: