خدمت خلق: محمد خاں قلندر

0
  • 81
    Shares

ہمارا شمار ویسے تو دنیا کے خدمت خلق اور مفاد عامہ کے لئے کام کرنے والے رفاعی اداروں کو سب سے زیادہ چندہ اور عطیات دینے والے ممالک میں سر فہرست ہوتا ہے اور ہمارے سبھی فوجی اور سویلین حکمرانوں میں عوام کی خدمت کا جذبہ کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوتا ہے لیکن معاشیات کے سب کلیئے، حساب کے جمع تفریق ضرب تقسیم کے سب قاعدے، ریاضی کی ہر ترکیب اور الجبرے کی ساری مساوات استعمال کرنے کے باوجود اس سوال کا نہ جواب ملتا ہے نہ یہ عقدہ حل ہوتا ہے کہ اتنی “فلن تھراپی“ کے ہوتے ہمارے ملک میں غربت ختم ہونے یا کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔

گزشتہ ستر سالوں میں غریب لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے اربوں نہیں کھربوں روپے خدمت خلق کی تنظیموں کو متمول اور امیر طبقے کے لوگوں نے دیئے، قربانی کی کھالوں کی مالیت ہی ہر سال اربوں روپے بنتی ہے لیکن خط غربت سے نیچے رہنے والوں کی تعداد نہ کم ہوئ ہے اور نہ ہی غربت میں کمی ہو رہی ہے۔

حالانکہ ہمارے سارے حکمران عوام کی خوشحالی کے لئے ملک کی ترقی کی کوششوں میں دن رات ایک کئے رہتے ہیں میاں نواز شریف صاحب کو دیکھیئے ! جب تک وزیر اعظم تھے تو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کبھی ٹک کر نہیں بیٹھے، بیچارے ایک ملک کا دورہ کرنے کی تھکن نہیں اتار پاتے تھے کہ کسی اور ملک کا دورہ درپیش ہوتا۔ چند روز ملک میں موجود ہوتے تو روزانہ کسی نہ کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کرتے، اور جب سے قوم کی خدمت کرنے کے سرکاری ذرائع سے معزول ہونے کی وجہ سے محروم ہوئے ہیں ان میں عوام کی خدمت کا جذبہ اور موجزن ہو گیا، لوگوں کی بھلائ کے کام کی تڑپ انہیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتی، لندن میں بیگم کی تیمارداری چھوڑ کے بار بار حُب غرُبا میں بھاگے چلے آتے ہیں، لیکن غربت ویسی کی ویسی ہے۔میاں برادران سے پہلے شہنشاہ مفاہمت آصف زرداری کی زیر قیادت جناب مخدوم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے بھی غریبی مکاؤ مہم پر جان توڑ کوشش کی، جلدی میں بجلی کی کمی پوری کر کے غریبوں کو سکون دینے کے لئے وہ کرایہ کے بجلی گھر تک لے آئے.

ان کے ہی چھوٹے بھائ میاں شہباز شریف کی تو مثال ہی نہیں ملتی جس طرح گزشتہ کتنے سالوں سے وہ پاکستان کی اور خاص طور پر پنجاب کی غریب عوام کو یعنی انکی غربت کو مٹانے کے لئے روزانہ اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں، پورا صوبہ انہوں نے اکیلے سنبھال رکھا ہے، لاہور شہر تو ان کے دل میں بستا ہے، پہلے بنی ہوئ سڑکیں دوبارہ بنوائیں، پھر ان کو میٹرو کے لئے پھر بنایا۔ میٹرو کے بعد ایک مرتبہ اور انہیں بنانا پڑا، اورنج ٹرین سمیت اتنے تعمیراتی کام اور سب ریکارڈ سپیڈ پے کرانے بس میاں شہباز کا ہی کام ہے۔

مسئلہ وہی ہے کہ اربوں کھربوں کے اخراجات کے بعد بھی پنجاب میں غربت جوں کی توں ہے بلکہ دیہات میں اتنی بڑھ گئ ہے کہ شہروں کو نقل مکانی میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔

میاں برادران سے پہلے شہنشاہ مفاہمت آصف زرداری کی زیر قیادت جناب مخدوم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے بھی غریبی مکاؤ مہم پر جان توڑ کوشش کی، جلدی میں بجلی کی کمی پوری کر کے غریبوں کو سکون دینے کے لئے وہ کرایہ کے بجلی گھر تک لے آئے، اِنکم سپورٹ فنڈ سے لوگوں کو پیسے دیئے، روزگار کے لئے کتنے منصوبے انہوں نے شروع کئے، سابقہ روایات کے مطابق غریب لوگوں کو پی آئ اے، سٹیل ملز، قومی بنک، اور دیگر اداروں میں کھلے دل سے نوکریاں بھی دیں، لیکن خط غربت کو نیچے کھینچنے میں وہ بھی ناکام ہی رہے، اس دور میں بھی غریب کا غریب تر ہونے کا سفر جاری رہا، مفاہمت کا عمل بھی کام نہ آ سکا۔

اس سے قبل جنرل پرویز مشرف کے جدید جدیدیت کے دور میں بھی جان توڑ کوشش کی گئ کہ ملک ہر قسم کی ترقی اور روشنی سے آشکارہ ہو جائے، جنرل صاحب نے تو ملک سے غربت کے ساتھ جہالت کو بھی ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔

جتنے جتن انہوں نے کئے سب کو ضبط تحریر میں لانا ممکن ہی نہیں، جنرل صاحب کھلے ذہن وسیع قلب اور بڑے دماغ کے انسان ہیں، انہوں نے ملک میں غریبوں کی عسرت کو محسوس کیا، حالانکہ وہ حادثاتی طور پر بر سر قتدار آئے تھے لیکن عوام کی بہتری کے لئے وردی سمیت خدمت میں جتُے رہے، ملکی ترقی کے لئے وسائل کا حصول ممکن بنانے کے لئے امریکہ کا ساتھ دیا، بیکار پڑے ہوائ اڈے، سنسان سڑکیں اور راہداری کی سہولتیں کرایے پر اٹھا دیں، اتحادی فوجوں کے لئے آنے والی اعلی ترین اشیا خوردونوش میں سے کافی مقدار ہمارے ملک کے بھوکے اور ترسے ہوئے عوام کو بھی ملنے لگیں۔ جنرل صاحب نے اپنے پیشروؤں کے ہر اچھے کام کی حفاظت کی، جنرل ایوب کے دور کی ترقی کے ثمرات یعنی ملک میں صارفین پیدا کرنے کے لئے شوکت عزیز جیسے ایکسپرٹ کو پہلے وزیر خزانہ پھر وزیراعظم بنایا جس نے کار، مکان سے لے کر ٹی وی فریج تک کے لئے قرضہ فراہم کرنے کی سہولت پیدا کی، بھٹو صاحب کے سوشلزم کے پروگرام سے روٹی کپڑا اور مکان مہیا کرنے کے لئے کراچی کو ایم کیو ایم کے سپرد کیا جس نے شہر میں دولت کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کے لئے لوگوں کو فالتو دولت سے چھٹکارہ دلانے کا مربوط نظام قائم کیا، سرکاری زمین جو بیکار پڑی تھی اس پے غریبوں کے لئے کالونیاں تعمیر کیں روزگار کے لئے سیکیورٹی گارڈز بھرتی کرنے کا کلچر دیا۔ پنجاب میں ترقی اور تعمیر کے لئے نواز شریف کے ہی سابقہ معتمدین کے تعاون سے ترقی کی راہیں ہموار کیں۔

جنرل ضیا کی شورایت سے نافظ کردہ شریعت، مدارس، اور مزہبی جماعتوں کے غربا کی مدد کے لئے ایم ایم اے بنوا کے دو صوبوں کی حکومت ان کو دی۔ جنرل صاحب اب بھی قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار اور تیار ہیں۔

پچھلے الیکشن سے پہلے دنیا میں خدمت خلق کے روشن ستارے عمران خان سیاست کے افق پر بھی چمکنے لگے، خان صاحب نے ضرب المثل، کرکٹ بائ چانس، کے سبب ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستان کی ٹیم کا کپتان ہونے کے اعزاز کو بہت احسن طریقے سے استعمال کرتے بہت بڑا رفاعی ادارہ شوکت خانم کینسر ہسپتال بنا دیا۔ کرکٹر تو وہ دنیا میں مشہور تھے اب خدمت خلق کے بھی ہیرو بن گئے، انہوں نے بھی ملک سے غربت ختم کرنے کے لئے سیاست کے ذریعے اقتدار میں آنے کی ٹھانی۔ الیکشن کے نتیجے میں ان کی پارٹی کو کے پی کے کی حکومت مل گئ، مرکز میں دو سال انتخاب میں دھاندلی کا کیس لڑتے رہے، جس میں کوئ خاص حاصل نہ ہوا تو انہوں نے اس ساری مہم جوئ کو عوام کی تعلیم و تربیت کی خدمت قرار دے دیا۔ اب قدرت نے ان کے ہاتھ پانامہ کا مقدمہ دے دیا۔ جس کی پہلی اننگ میں نواز شریف عوام کی خدمت کرنے کی ذمہ داری سے نااہل ہوا اب وہ دوسرے طریقے سے عوام کی ترقی کے لئے خدمت میں مصروف ہے۔ خان صاحب ساتھ ساتھ جلسے کر کے عوام کو شعور مند بنانے کی خدمت میں مصروف ہیں۔ لیکن ان سب بزرجمہروں کی خدمت خلق کی محنت کا کوئ ثمر نظر نہیں آتا۔ کیوں ؟

بنیادی وجہ یہ ہے کہ سارے حکمران ملک کے وسائل اور عوام کے مسائل سے مکمل بے بہرہ ہیں، ان کے نزدیک عوام کی خدمت کے لئے سرکاری وسائل پر اختیار ضروری ہے اور اس کے لئے برسر اقتدار ہونا لازمی ہے، گراس روٹ پے زندگی کے حقائق سے لاعلم، اقتدار ملنے کو اپنی اہلیت کا مرہون سمجھنے والے اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ جو وہ سوچتے ہیں اسی میں عوام کی بھلائ ہے، اور یہ سوچ نظر آنے والی تعمیرات سے آگے نہی جا سکتی، ایوب خان نے پنجاب کے دریا بھارت کے حوالے کئے اسے ادراک نہیں تھا کہ آنے والی نسلوں کا کتنا بڑا ناقابل تلافی نقصان کیا گیا، وہ منگلا اور تربیلا کے ڈیم بنوا کے خوش تھا کہ محدود عرصے تک بجلی اور پانی کے بندوبست کے ساتھ یہ ڈیم اسکی یادگاریں ہیں، پاکستان تو زندہ حقیقت ہے لاہور میں یادگار پاکستان اور سمٹ مینار اسی مائینڈ سیٹ کے مظہر ہیں، میاں برادران کے سڑکیاتی ترقی بھی یہی سوچ ہے۔

ویسے وہ تو رائے ونڈ اور مری کے محلات کو، زرداری صاحب کراچی کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد کے بلاول ہاؤس کو بھی خدمت خلق کے لئے تعمیر کردہ قرار دے سکتے ہیں، خلق خدا کی بنیادی خدمت اس کی عزت نفس کی حفاظت کے ساتھ اس کے بنیادی حقوق کی بن مانگے فراہمی ہے، اس بات کی حکمرانوں کو سمجھ نہ ہے نہ آ سکتی ہے، اس لئے کہ وہ ذاتی مفاد اور نمود و نمائش سے آگے سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں، ان کے مشیر ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مراعات کے لئے خوشامد سے ان کی بچھی کھچی مت بھی مار دیتے ہیں۔ خدمت خلق کوئ بخشیش نہیں عوام کاحق ہے اور ریاست کا فرض۔ فرض کی ادائیگی احسان نہیں واجب ہوتی ہے یہ رفاعی اداروں کا کام نہیں کہ لوگوں کی بنیادی ضرورتیں وہ پوری کریں، نہ وہ کر سکتے ہیں یہ تو سسٹم کا کام ہے کامیاب طرزحکومت سسٹم بنانا اسے ہموار اورمسلسل خودکار طریقے سے چلتے رہنے کے قابل بنانا ہے، لیکن ایسے کام سے الیکشن جو نہیں جیتے جاتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: