امریکہ میں پاکستانی نسل: نہ اُدھر کے رہے نہ اِدھر کے — عینی خان

0
  • 117
    Shares

مصنفہ

امریکہ میں مقیم پاکستانی والدین کے وہ بچے اور نوجوان جو امریکہ میں پیدا ہوۓ یا بہت چھوٹی عمر میں امریکہ آکر آباد ہو گئے۔ ایسے نوجوان اپنے گھر کے اور باہر ماحول میں شدید تضاد پاتے ہیں جس کی وجہ سے اردگرد کے ماحول سے اجنبیت اور اپنے اندر گھٹن محسوس کرنے لگتے ہیں۔

سکول اور کالج میں دوسرے بچوں سے گھلنے ملنے میں دقت اور فیملی گیدرنگز میں خود کو مس فٹ محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ اسکول کی سرگرمیوں میں لباس اور ثقافت کے تضاد کے باعث پوری طرح شامل نہیں ہو پاتے۔ سلمبر پارٹی ہو ہیلووین یا پھر ویلنٹائن ڈے اپنے ہم جماعتوں اور دوستوں سے خود کو کاٹ کر رکھتے ہیں۔ مغربی معاشرے کی جن سرگرمیوں سے نوجوان لطف اندوز ہوتے ہیں وہ ان میں شامل نہیں ہوتے اور مشرقی معاشرے کی وہ سرگرمیاں جن سے پاکستان میں رہ کر شائد لطف اندوز ہونا ممکن ہوتا ان کے انہیں مواقع میسر نہیں ہوتے نہ ہی ایسا فیملی سسٹم، سوشل لائف اور ماحول ہوتا ہے کہ مشرقی بچوں اور نوجوانوں کی طرح فراغت کے اوقات میں اپنے مذہب اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر مناسب سرگرمیوں سے دل بہلا سکیں۔

بلوغت کے ابتدائی زمانے میں بچوں کے ساتھ کچھ خاص معاملات میں پاکستانی والدین کا رویہ عموماً غیر دوستانہ ہوتا ہے۔ بچوں کو اس عمرمیں رہنمائی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ بیٹی کو ماں اور بیٹے کو باپ سے بڑھ کر کوئی مخلصانہ رہنمائی فراہم نہیں کر سکتا۔ یہ بات مغربی معاشرے میں رائج نظر آتی ہے کہ وہاں خاندان کے علاوہ تعلیمی ادارے اور حکومتی ادارے بھی تربیتی مواقع فراہم کرتے ہیں، مگر مشرقی والدین جنسی معامات میں بچے کو پورے طرح معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اپنے ہم عمروں کو بے خوف و خطر مخالف جنس کے ساتھ بےتکلفانہ تعلقات بڑھاتے دیکھتے ہیں۔ ہائی سکول کالج اور جاب پر کپلز کو بانہوں میں بانہیں ڈالے گھومتے پھرتے دیکھتے ہیں۔ تو کہیں نہ کہیں دل میں احساسِ محرومی پیدا ہو جاتا ہے۔

اس سے sexual frustration جنم لیتا ہے۔ اگر نوجوان باغی نہ بھی ہوں تو اکثر اکیلے پن، ذہنی دباؤ اور اپنے ہی ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کو مسلسل دبانے اور رد کرنے کے باعث احساسِ ندامت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
غیر اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے عید شبِ برات اور دوسرے اسلامی اور پاکستانی قومی تہواروں پر چھٹی نہیں ہوتی۔ مسلمانوں اور پاکستانیوں کے اقلیت میں ہونے نیز مصروف طرز زندگی کے باعث وہاں اپنا اور غیر ہر تہوار بے رونق اور مصنوعی لگتا ہے۔

رمضان کے مہینے میں روحانی ماحول جہاں سحر و افطار کے وقت فضا میں اذان اور درود و سلام کی گونج ہو۔ سکول اور جاب پر ماہِ رمضان کے خصوصی اوقات، ماحول و احترام اور بازار میں عید کی رونق ہو، ان بچوں کو کچھ بھی میسر نہیں ہوتا۔
بچوں کے بگڑ جانے کے خوف یا بڑھاپا تنہائی میں گزرنے کے ڈر سے والدین بچوں کو لے کر دوبارہ پاکستان منتقل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے بچوں کو پاکستان سے متعلق سبز باغ دکھاۓ جاتے ہیں۔

بچے جب پاکستان آتے ہیں تو ماں باپ نے ان کے سامنے جو اسلامی ملک کا نقشہ کھینچا ہوتا ہے وہ اسے متضاد پاتے ہیں۔ ائیر پورٹ پر ہی لوگوں کو قطار توڑتے اور ایک دوسرے سے الُجھتا دیکھ کر سر گھوم جاتا ہے۔ وہی ماں باپ جو دن رات اپنے ملک کو یاد کر کے آہیں بھرتے تھے اب ائیر پورٹ پر پہنچتے ہی ملک اور ملک کے نظام کو کوسنے لگتے ہیں۔ ماں باپ کے منہ سے “کوئی حال نہیں اس ملک کے نظام کا “اور“ اسی لیے یہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا “ جیسے کلمات سن کر بچے حیران ہو جاتے ہیں۔

اسلام کے نام پر بناۓ گئے ملک کی جڑوں میں شروع سے ہی کہ جب یہ ایک ناتواں پودا تھا رشوت کرپشن اور بد عنوانی کی کھاد شامل کی گئی، خود غرض نااہل اور لالچی حکمرانوں نے ذاتی مفاد کی خاطر اس پودے پر منافقت، بدنیتی اور ناانصافی سے آبیاری کی۔ تعلیم اور انصاف کا حصول عام انسان کے لیے مشکل سے مشکل تر بنا دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں غربت جہالت اور طبقاتی فرق بڑھتا گیا۔

پاکستانی معاشرے کو جس منافقت کے طرز پر پروان چڑھایا گیا وہاں بزنس مین، دودھ والے، ڈرائیور اور دکاندار ے سے لے کر گھریلو خاتون، کام والی اور چوکیدار سب اپنی اپنی بساط اور دائرہِ اختیار کے مطابق اپنے حصے کی ہلکی پھلکی یا بڑی کرپشن کرتے ہیں۔

۔ بازار میں خریداری اور بارگیننگ سے لے کر فیملی پالیٹکس تک۔ امریکہ میں پلے بڑھے بچے اس نظام کو سمجھ نہیں پاتے اور ہر طرف سے مار کھاتے ہیں۔

آپ نے اکثر سنا ہو گا کے بیرون ملک سے آیا کوئی شخص پاکستان میں بزنس سیٹل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر پیسہ ڈبو بیٹھتا ہے۔ آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں کے تعلیم قابلیت اور سرماۓ کے ہونے کے باوجود وہ کونسی ایسی صلاحیتں ہیں جو پاکستانی معاشرے میں کامیاب ہونے کے لیے لازمی درکار ہوتی ہیں۔ اور کسی فارن ریٹرن کے پاس وہ سکلز نہ ہونے کےسبب کاروبار ناکام ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں رہنے اور بقا کے لیے ایک خاص طرح کی سٹریٹ سمارٹنس اور ہوشیاری چاہیے۔ پاکستانی معاشرے میں لوگوں سے معاملات اور لین دین میں ایک خاص قسم کی نفسیات کار فرما ہے جسے امریکہ میں پلے بڑھے بچے سمجھ نہیں سکتے۔ سٹریٹ فاروڈ بچوں کو رکھ رکھاؤ اور بناوٹ نہیں آتی۔ جہاں کام میں تو کیا گھروں میں بھی جھوٹ اور غلط بیانی کو دنیا داری کہا جاتا ہے جہاں سیدھے صاف گو اور سچ بولنے والے بچے کو شاباش دینے کی بجاۓ جاہل اور بےوقوف کہہ کر دوسرے بہن بھائیوں کے سامنے شرمندہ کیا جاتا ہے اور خاندان کے اندرونی معاملات سے دور رکھا جاتا ہے۔ گھر سے باہر کامیابی ملنا تو بعد کی بات ہے پہلے گھر میں ہی اس کےمثبت رویوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
وہاں تربیت کے بغیر تعلیم آپکو ڈگری تو دے سکتی ہے مگر جہالت دور نہیں کرسکتی۔

‏‎امریکہ سے آئے ان بچوں کے لیے یہ باتیں سمجھ سے باہر ہوتی ہیں کہ جب کوئ رشتے دار یا پڑوسن گھر آۓ تو محض اس کو دکھانے کے لیے ٹی وی کے سامنے سے اُٹھ کر بلاضرورت کچن کا رخ کیا جاۓ یا کتاب کھول کر پڑھنے کی اکٹنگ کرے۔ بلاوجہ غلط بیانی اور بناوٹ کو اپنایا جائے۔

‏‎محض دکھاوے کے لیے رشتے داروں کے سامنے روزہ نہ ہوتے ہوئے بھی جھوٹ کہا جائے کے روزہ ہے یا پھر کھلی ڈلی شرٹ پینٹ کی جگہ ٹائٹ فٹنگ والے کپڑوں کے اوپر اگر سکارف ہو تو آپ زیادہ معتبر نظر آئیں گی چاہے آنکھوں پر ہیوی میک اپ بھی ہو تو بھی محض سکارف آپکو سادہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ دلا دے گا۔

‏‎مرد حضرات عورتوں کے معاملے میں اتنےغیرت مند اور محتاط ہیں کہ ڈیٹنگ اور مرد عورت کے کھلے اور بےباک تعلق کو بہت بُرا سمجھتے ہیں مگر بحالت مجبوری اگر کوئی عورت برقع بھی پہن کر باہر نکلے تو اسے سر سے پاوں تک گھورتے ہیں۔ جہاں بات کرتے ہوۓ مرد اور عورت کے آئی کانٹیکٹ کو خود اعتمادی نہیں بلکہ بےباکی اور بدتمیزی سمجھا جاتا ہے وہاں کوشش پوری ہوتی ہے اجنبی عورت کے برقعے اور نقاب سے جھانکتی آنکھوں میں ایک بارجھانک کر ضرور دیکھا جائے۔ حساس اتنے کے بازار میں پاس سے گزرتی عورت کے کندھے سے کندھا ملانے یا ہاتھ کو ہاتھ سے چھونے کی پورے کوشش کریں گے چاہے ایک سیکنڈ کے ہزاروے حصے میں ہی کیوں نہ ہو مگر شرمیلے اتنے کے گھر کی چار دیواری میں بھی خاندان والوں کے بیچ بیوی کو بطور جیون ساتھی کے کسی قسم کا امتیازی سلوک نرمی یا محبت نہیں جتا سکیں گے۔

‏‎یہ بچے اور نوجوان امریکہ میں رہتے ہوئے ‏‎رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر ہر ایک سے ملتے ہیں۔ ‏‎دوسرے مذاہب کے لوگوں کے تہواروں میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں جب مسلمانوں کے درمیان اتنے فرقے بنے دیکھتے ہیں۔ جب ان کے سامنے عیسائوں کو چوڑا کہا جاتا ہے اور پھر چوڑوں کے برتن الگ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ مالی یا ڈرائور کو تھینک یو بولنے سے روکا جاتا ہے۔ ایک طرف بزرگوں کا احترام کرنے کو کہا جاتا ہے تو دوسری طرف غریب کام کرنے والے کو بزرگ ہونے کے باوجود محض غریب ہونے کی وجہ سے چھوٹی سی غلطی پر بےعزت کیا جاتا ہے۔ تب تب پاکستانی معاشرے کے دوہرے معیار پر یہ بچے کوفت محسوس کرتے ہیں۔

‏‎امریکہ کے طرز حیات کا اطلاق اگر پاکستان میں کرنے کی کوشش کریں گے اور باہر مال یا پارک میں سامنے سے آنے والے اجنبی مرد یا عورت کو دیکھ کر استقبالیہ مسکراہٹ دیں گے تو مشکوک سمجھے جائیں گے۔ اور اگر وہ انسان ٹھرکی قسم کا ہوا تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کے پھر اس اجنبی سے پیچھا چھڑوانے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑے۔
‏‎ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے لے کر، ‏‎بجلی کا بل، پاسپورٹ، حتی کے ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لیے بھی کوئی اپنی باری کا انتظار نہیں کرتا بلکہ ہر طرف رشوت سفارش اور واقفیت چلتی ہے۔

‏‎ترقی کے یکساں مواقع میسر نہیں۔
‏‎ حتیٰ کہ ملک کی مختلف اکائیوں میں نصاب بھی ایک جیسا نہیں۔
‏‎طبقاتی فرق اتنا زیادہ ہے کہ یوں لگتا ہے کہ جیسے ایک پاکستان میں دو پاکستان آباد ہیں ایک امیر کا پاکستان اور دوسرا غریب کا پاکستان۔ غریب اور ایماندار شخص کے لیے محنت کا کوئی صلہ نہیں۔
‏‎ایسا معاشرہ ہے جہاں چاپلوسی کرنے والے انسان کو سچ بولنے والے قابل انسان پر فوقیت دی جاتی ہے۔
‏‎اسی لئے یہ دقسمت بچے نہ تو پوری طرح مغربی معاشرے کا رنگ اپنا سکتے ہیں نہ ہی مشرقی معاشرے میں جگہ بنا سکتے ہیں۔
‏‎صحیح معنوں میں نہ اُدھر کے رہتے ہیں نہ ادھر کے۔
‏‎امید ہے کے اگر پاکستان میں قانون کی بالادستی اور ہر سطح پر ادراک ہو سکے۔
‏‎بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ایک جیسا نصاب ہو۔ جس میں ہر طرح کے صوبائی نسلی مذہبی فرقہ ورانہ اور طبقاتی فرق کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
‏‎نوکریاں اور ترقی کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ کسی بھی آفس کو جوائن کرنے یا کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کی مناسب ٹریننگ دی جائے۔ ‏Personal space and harassment کی تربیت اور آگاہی فراہم کی جائے اور اس سلسلے میں مناسب قانون بنائے جائیں۔ Child labour and minimum wage ‏‎کے قانون ترتیب دیے جائیں تاکہ کسی کا استحصال نہ ہو۔

‏‎اسلامی اقدار کہ جس میں کسی گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں۔ جس میں کسی کو دیکھ کر مسکرا دینا بھی نیکی ہے۔ جس میں جھوٹ اور بےایمانی کی کوئی جگہ نہیں۔ اس نظام کے نفاظ کے لیے سکولوں میں قرآن کی آیات بچوں کو محض رٹوانے کی بجائے قرآن اور اس کا ترجمعہ بھی پڑھایا اور سکھایا جائے تاکہ بچوں کو معلوم ہو کہ وہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ نیز سیرت النبوی کی مستند کتابوں کو پڑھایا جائے اور بچوں کو ان کی عمر اور آج کے دور کے مطابق اُن کے لیے آسان کر کےسمجھایا جائے۔ تا کہ آج کے دور میں پیروی ‏‎کرنا آسان ہو جاۓ۔

ان شاءاللہ آنے والا وقت ایسا ہو سکتا ہے کہ اول تو والدین بہتر مستقبل کے لیے پاکستان چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور اگر کسی وجہ سے بیرون ملک جا چکے ہیں تو واپس آ کر والدین سمیت بچوں اور نوجوانوں کو پاکستان میں سیٹل ہونے میں کوئی معاشی یا نفسیاتی مسئلہ پیش نہ آئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: