گوگل پہ کیا تلاش نہیں کرنا چاہیے: کیرن میکڈینو ۔۔ مترجم محمد آصف

0
  • 69
    Shares

دانش تراجم

انفارمیشن ایج کو گوگل کا دور بھی کہا جاتا ہے اور لوگ ہر معاملے میں گوگل سے رہنمای حاصل کرنے کے عادی ہوے جاتے ہیں۔ ایسے میں مصنف ہمیں ان چیزوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو ہمیں گوگل پہ تلاش نہں کرنی چاہیں۔ (ایڈیٹر دانش)


اپنی بیماری کی علامات۔

آئیں سب سے پہلے ہم اپنی صحت کے مسائل پر بات کرتےہیں۔ یہاں بہت سی ویب سائٹز ہیں جو ان معاملات میں خاصی مہارت رکھتی ہیں مگر یقیناٰ ان میں سے شاید ہی کوئی پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کی طرف سے چلائی۔ جاتی ہو۔ اپنی بیماری متعلق علامات کے لیے انٹرنیٹ کی مدد آپ کے لیے بالکل کوئی فائدہ مند چیز نہیں۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس یہ آپ کو مزید پریشان اور گھبراہٹ میں مبتلا کردے گی۔ کسی بھی طبی مسئلے میں “ڈاکٹرگوگل” سے مشورہ نہ لیں۔ بلکہ کسی اچھے معالج سے وقت لیں اور اپنا مسئلہ اس کے سامنے رکھیں۔

مجرمانہ اقدامات کی معلومات کا شوق۔

یہ بہت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ہوسکتا ہے آپ خومخواہ یہ جاننا چاہ رہے ہوں کہ بم کیسے بنایا جاتا ہے؟ یا amphetamines (جو ہمارے اعصابی نظام کے متعلق ہمارے زہن کے کیمیکلز پر اثرانداز ہوتا ہے)۔ اس کو ڈھونڈتے رہیں۔ خیال رکھیں کہ حساس ادارے اور ڈرگز کے متعلق ادارے ہمیشہ اس طرح کی انٹرنیٹ کی سرگرمیوں پر نظررکتھے ہیں۔ اور آپ کے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز کے آئی پی ایڈریسز ان کی دسترس میں ہوتے ہیں۔ امید ہے آپ اپنی طرف سے خود کو کسی مشکل میں ڈالنا پسند نہیں کریں گے۔ نہیں کریں گے نا؟

کینسر یعنی سرطان۔

اس کیس میں بھی آپ جتنا کم جانتے ہوں گے اتنی ہی اپنی نیند کم خراب کریں گے۔ سرطان میں اس قسم کی بہت سی اقسام ہیں جن کی علامات اس طرح کی ہوتی ہیں کہ بالکل وہی علامات عام بیماریوں جیسی بھی ہوتی ہیں جو ہمارے لیے بالکل بھی نقصان دہ نہیں ہوتیں۔ بہت سے لوگ عام طور پر چکر، سرگھومنا یا پھر متلی محسوس کرتےہیں۔ ایسے میں آپ یقیناٰ اسے سرطان سمجھ رہے ہونگے اور پھر آپ ہونگے اور آپ کی گھبراہٹ۔

کھٹمل وغیرہ

آپ نے یہ چھوٹے چھوٹے عفریت نما کیڑے یا کھٹملوں کے متعلق ضرور سنا یا جانا ہوگا ، خاص کر جب آپ کسی ہوٹل میں جائیں۔ اورممکن ہے آپ میں سے کسی نے اس کو اپنے جسم پر بھی محسوس کیا ہو۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ان کھٹملوں سے پیدا ہونے والی ابتلاء کس طرح کی ہوسکتی ہے؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی رات کی نیند نہ اُڑے تو براہ کرم اس بارے میں جاننے کی کوشش بھی مت کیجیے۔

جلدی مسائل۔

ہماری جلد کے ساتھ بہت سی بیماریاں تعلق رکھتی ہیں۔ اور ان میں سے کچھ تو بہت ہی بُری قسم کی ہیں۔ کچھ وجوہات کی بنا پر آپ اگر چاہیں تو ایسی بیماریوں کی کچھ شکلین انٹرنیٹ پر دستیاب بھی ہیں جنہیں آپ دیکھ سکتےہیں۔ بحرحال آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ آپ ایسی تصویروں کو ڈھونڈنے یا دیکھنے سے اجتناب ہی برتیں ورنہ یہ آپ کو بہت پریشان کردیں گی (خصوصا اگرآپ ایک حساس طبیعت آدمی ہیں)۔ خاص کر مخصوص اعضاء کے متعلق جو وبائی امراض ہیں ان کو تو بالکل مت دیکھیے۔

سگریٹ پینے والوں کے پھیپڑے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ سگریٹ پیتےہیں۔ اور اکثر اوقات ہم اس کے اپنے پھیپھڑوں پر ہونے والے نقصانات پر بھی سوچتےرہتے ہیں۔ انٹرنیٹ ایسی تصاویر اور علامات سے بھر پڑا ہے جس میں ایک عام اور سگریٹ پینے والوں کے پھیپھڑوں کے متعلق بات کی گئی ہے۔ اگر آپ واقعی سگریٹ نوشی چھوڑنے کے حق میں ہیں تو ایسی تصاویر کو دیکھنے کے لیے گوگل کیجیے ورنہ بہتر ہے کہ اس سے دُور رہیں۔

خطرناک جانور۔

براہِ کرم ایسے جانوروں کی فہرست دیکھنے سے دُوررہیں جو بہت خطرناک ہوں۔ یا پھر اگر آپ واقعی کسی نئے فوبیا (کسی بھی ایسی چیز کا ڈر ہمارے اندر بیٹھ جانا کہ ہم اس ڈر کو ختم نہ کرپائیں) کا شکار ہونا چاہتے ہیں تو ایسے جانور ضرور دیکھ لیں۔ ان جانوروں میں سے کچھ تو آپ کے علاقے میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ فوبیا آپ کو کم ہمت کردے گا اور آپ کے لیے باہر نکلنا سفر کرنا بہت مشکل ہوجائیگا۔ اور آپ یقیناٰ ایسا کبھی نہیں چاہیں گے۔

آپ کا اسم شریف۔

آج انٹرنیٹ کے دور میں آپ کی پرائیویسی کسی بھی وقت کسی کے بھی ہاتھ لگ سکتی ہے اور آپ کے متعلق سوالات پیدا ہوسکتےہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے نام کے متعلق کچھ گوگل کرتےہیں اور ایسے میں کچھ ناپسندیدہ مواد ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ جیسے ہماری پرانی تصاویرجن میں آپ بالکل خوبصورت نہیں لگ رہے ہوتے۔ یا غیر تصدیق شدہ نامکمل۔ اور غیر متعلقہ معلومات۔ ہم کبھی کبھی ایسی معلومات کو بہت سنجیدہ لے لیتےہیں۔ اور ایسے میں اپنی ساری تصاویر اور معلومات ختم کردینا چاہتےہیں اور یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ بحرحال ایسا کرنے سے گریز کیجیے۔

دہشت گردی کے مناظر۔

انٹرنیٹ پر ایسا مواد بے تحاشہ مقدار میں موجود ہے جو دہشت گردوں نے اپنی نفسیاتی تسکین کیلیے پھیلایا ہوا ہے اسے دیکھ کر آپکا انسان کی فطرت سے اعتبار اٹھ سکتا ہے اسلیے اس سے گریز کیجیے۔

بچے کی پیدائش

ہم میں سے بہت سوں نے ایسے مناظر متحرک تصویروں (فلموں) میں دیکھیں ہوں گے جب کوئی عورت اونچی آواز میں چیخ رہی ہوتی ہے اور طبیب اسے خاموش یا چپ کروا رہے ہوتےہیں۔ بے شک یہ حرکی تصویر (مووی) میں ہو رہا ہوتا ہے مگر پھر بھی ہمیں بہت زیادہ زہنی دباو محسوس ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں بچے کی پیدائش کا مرحلہ اس سے سوگنا زیادہ تکلیف دہ اور زہنی دباو لیے ہوئے ہوتا ہے۔ عورتوں کو ایسے مراحل کا دیکھنا بہت تکلیف دہ جبکہ بچوں کے لیے تو اور بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔ لہذا ایسی چیزں جیسے بڑا آپریشن وغیرہ کو گوگل پر سرچ کرنے سے پرہیز کیجیے۔

بشکریہ : برایٹ سایڈ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: