اظہار الحق صاحب کیوں ناراض ہیں؟ کبیر علی

0
  • 51
    Shares

اظہار الحق صاحب ان دو تین کالم نگاروں میں سے ایک ہیں جن کے ہاں (دوسروں کی بہ نسبت) عمدہ و شستہ زبان پڑھنے کو ملتی ہے۔ ان کی کالم نگاری تو غالبا زیادہ پرانی بات نہیں تاہم بہ طور شاعر اسی کی دہائی میں بھی وہ اپنی پہچان رکھتے تھے۔ میں اگرچہ کالم نگاروں کی سطحیت اور تکرار سے بیزار ہو کر کالم پڑھنے قریب قریب ترک کر چکا ہوں تاہم اگر اب بھی کسی روز دو تین کالم پڑھوں تو ان میں اظہار صاحب کا کالم بھی شامل ہوتا ہے۔

چند روز قبل ایک سرکاری جامعہ میں “سرسید سیمینار” پہ معروف دانشور احمد جاوید صاحب نے کلیدی خطبہ دیا جس میں تہذیبی تناظر میں سرسید پہ ایک خاص انداز سے تنقید کی گئی۔ تنقید کا یہ ایک پورا پیکج ہے جو نیا ہرگز نہیں ہے بلکہ محمد حسن عسکری سے چلا آ رہا ہے جسے سلیم احمد و جمال پانی پتی نے بھی اپنایا اور پھر اس سلسلے میں بعد میں بیعت ہونے والوں نے بھی اسے سینے سے لگایا، میری مراد سراج منیر اور احمد جاوید سے ہے۔ ان حضرات کے ہاں سرسید کے ساتھ بہ یک وقت محبت و نفرت (لو۔ہیٹ) کا رشتہ پایا جاتا ہے۔ گویا کلیدی خطبے میں احمد جاوید صاحب نے جو نقطہء نظر پیش کیا وہ ہر اس شخص کو پہلے ہی سے اچھی طرح معلوم تھا جو مذکورہ بالا اہلِ روایت کے کام سے ذرا بھی شناسائی رکھتا ہو۔ تاہم قارئین کو اس وقت حیرانی کا سامنا کرنا پڑا جب اظہار الحق صاحب نے ایک شدید تنقیصی کالم لکھا۔ مجھ ایسے قاری کو (جائز طور پہ) یہ توقع تھی کہ وہ سرسید کے افکار کی وہ تفہیم پیش کرنے کی کوشش کریں گے جو ان کی دانست میں “درست تفہیم” ہے اور احمد جاوید صاحب کی تنقید کا مدلل رد کریں گے مگر انھوں نے نہایت عجیب و غریب طریقے سے احمد جاوید صاحب کی شخصیت کو نشانہ بنایا۔جو سلیس زبان میں مختصرا کچھ یوں ہے:

“احمد جاوید ملائی و پیری کا ایک مہلک امتزاج ہیں جو پیری مریدی کے راستے ادب کو فتح کرنے نکلے ہیں اور اپنے گرد تقدس کی فضا باندھ کر گونگے بہرے لوگوں کو اپنے گرد اکٹھا کیے ہوئے ہیں تاکہ استاذ العلماء کا خود ساختہ منصب حاصل کر سکیں۔۔۔۔ان کی چبا چبا کر لفظوں کی ادائیگی میں نسائیت جھلکتی ہے۔ باتیں نری جھاگ ہیں، اگر مرشدیت کی دھاری دار چادر اتار کر باہر نکلیں تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو اور ان کی علمیت کا بھانڈا پھوٹ جائے۔ احمد جاوید صاحب کو سرسید پہ خطاب کے لیے بلانا ایسا ہی ہے جیسے دو قومی نظریے پہ گفتگو کے لیے گاندھی جی کو بلایا جائے” وغیرہ وغیرہ۔

اظہار صاحب کے ایک دیرینہ قاری کے طور پہ میرے لیے یہ کالم افسوسناک تو تھا مگر غیر متوقع نہیں تھا۔ وجہ بھی آپ کو بتائے دیتا ہوں۔ اظہار صاحب فیس بک پہ بھی موجود ہیں۔ عام طور پہ وہ اپنی وال تک محدود رہتے ہیں تاہم کبھی کبھار کسی دوسرے شخص کی وال پہ بھی کوئی تبصرہ کر دیتے ہیں۔ تین ماہ قبل ایک دوست نے اپنی وال پہ احمد جاوید صاحب کے انداز کی ایک نقل پیش کی تو اظہار صاحب نے ایک پیراگراف پہ مشتمل تبصرہ کیا جس میں جاوید صاحب کے حوالےسے “نام نہاد اہلِ مذہب” اور “مخصوص وضع قطع” کی پھبتی کسنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیا کہ اگر جاوید صاحب کو فون کیا جائے تو فون ان کے بجائے ان کا کوئی مرید اٹھاتا ہے گویا “مرشد” عام انسانوں سے گفتگو بھی پسند نہیں کرتے۔ ابھی یہ تحریر لکھتے وقت اظہار صاحب کا تبصرہ دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کی تاہم اب وہ تبصرہ موجود نہیں۔ غالبا کسی مصلحت کے تحت انھوں نے اسے حذف کر دیا ہو گا البتہ اس پوسٹ پر ایک صاحب کا جوابی تبصرہ اب بھی موجود ہے جس میں اظہار صاحب کے تبصرے کو غیر معروضی، غیر مدلل اور ذاتی پسند و ناپسند کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے “ہوائی فائرنگ” قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اظہار صاحب کی کسی تحریر میں ایسی نفرت میں نے نہ دیکھی تھی لہذا سوچتا رہا کہ کیا وہ اس نفرت کو کسی روز اپنے کالم میں بھی جگہ دیں گے؟ انھوں نے میرے ذہن میں موجود اس سوال کا جواب دو ہی تین مہینوں میں دے دیا۔

اظہار الحق صاحب کا مذکورہ کالم اس لنک پہ ملاحظہ کریں

میرے لیے یہ امر زیادہ الجھن کا باعث ہے کہ دبستانِ روایت کے دیگر نمائندوں کی مداحی کے باوجود ایسا کیا معاملہ پیش آگیا کہ اظہار صاحب کو ایسا نفرت سے بھرا کالم لکھنا پڑا۔ مثال کے طور پہ چند مہینے پرانے ایک کالم میں اظہار صاحب رقم طراز ہیں۔

“جناب سجاد میر نے عسکری صاحب کا ذکر کیا تو اس زمانے کا کراچی یا د آ گیا جب کراچی، کراچی تھا اور ابھی بیروت نہیں بنا تھا۔ عسکری صاحب کو نہیں دیکھا وہ اردو کی عہد ساز شخصیت تھے۔۔۔۔(اسی طرح) ایامِ نوجوانی میں سلیم احمد کے گھر کئی بار حاضری دینے کا موقع ملا۔ غلطی یہ ہوئی کہ ان حاضریوں کی (ملاقاتوں کی) روداد نہ لکھی۔ شعر سناتے تو ساتھ ساتھ بائیں ران پہ ہاتھ مارتے جاتے۔۔۔” (روزنامہ 92، 10 جولائی 2017)

سلیم احمد کو اپنا مرشد قرار دینے والے دوسرے نامور شخص اور احمد جاوید کے قریبا ہم عمر سراج منیر مرحوم کے مضامین میں اظہار صاحب کی شاعری پہ ایک سے زائد مواقع پہ بات کی گئی ہے اور خود اظہار صاحب بھی سراج منیر کے مداح ہیں۔ گویا دبستانِ روایت کے باقی بڑے لوگوں یعنی عسکری، سلیم احمد، سجاد میر اور سراج منیر سے اظہار صاحب کو کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ احمد جاوید صاحب کا تصورِ روایت اور فہمِ سرسید بھی ان شخصیات سے چنداں مختلف نہیں تو پھر احمد جاوید صاحب ہی کی تنقیص کیوں؟ اگر جاوید صاحب کے حلیے سے مسئلہ ہے تو غالبا حضرت سرسید کی داڑھی احمد جاوید صاحب کی داڑھی سے زیادہ طول و عرض پر پھیلی ہوئی تھی، نیز دونوں کے لباس میں بھی کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ غور کرنے پر ایک ہی شبہ ہوتا ہےکہ اظہار صاحب کا احمد جاوید صاحب کے ساتھ کوئی ذاتی مسئلہ یا معاملہ رہا ہوگا۔ اب یہ تو اظہار صاحب ہی جانیں کہ اس نفرت کا کی اصل وجہ کیا ہے۔ تاہم میں یقین دلاتا ہوں کہ احمد جاوید صاحب کے مداح کے طور پہ تو یہ نفرت آمیز کالم تکلیف دہ ہے ہی مگر اظہار صاحب کے قاری کے طور پہ بھی ناقابلِ قبول حد تک افسوسناک ہے۔

اگر اظہار صاحب اس بات سے انکار کریں کہ انھیں احمد جاوید صاحب سے کوئی ذاتی ناراضی یا کبیدگی ہے اور اس بات پہ مصر ہوں کہ وہ دراصل اس تصورِ روایت اور فہمِ سرسید سے اختلاف رکھتے ہیں اور یہ اختلاف ہی اس کالم کے لکھنے کا محرک بنا تو ان سے گزارش ہے کہ اس علمی اختلاف کا جواب بھی علمی انداز سے دیں جس میں بات پھر عسکری تک ہی نہ رہے گی بلکہ رینے گینوں، فرتھجوف شواں، مارٹن لنگز، حسن عبد الحکیم تک جا پہنچے گی۔ ایک سینئر دوست سے اس حوالے سے بات ہوئی تو انھوں نے کچھ موضوعات بہ طورِ مثال تجویز کیے جو سرسید کے حوالے سے سنجیدہ تنقید پیدا کر سکتے ہیں۔ مثلا:

  1. سرسید کی مذہبی فکر کا تقابل اصلاحِ یہودیت اور پروٹسٹنٹ ازم کی تحریکوں کے ساتھ کیا جائے۔
  2. سرسید کی مذہبی فکر کو برصغیر کے علماء کے ساتھ رکھ کے دیکھا جائے۔ مثال کے طورپہ احمد رضاخاں بریلوی نے نیچریت پہ مضامین لکھے ہیں۔(ان مضامین کو مولوی کی بڑ نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ اس مولوی نے لکھے ہیں کہ جس نے نیوٹن کے جیومٹیریکل دلائل پر جیومیٹری ہی کی زبان میں اعتراضات کیے ہیں نیز اسی مولوی نے لوگرتھم پہ ابتدائی رسائل بھی لکھے ہیں)۔
  3. سر سید نے اگر علی گڑھ کالج کھولا تو دیگر مسلمانوں نے بنگال سے لے کر کراچی تک سکول و کالج کھولے مثلا اسلامیہ کالج پشاور، سندھ مدرستہ الاسلام،جامعہ ملیہ وغیرہ۔ ان سب اداروں کے اہداف علی گڑھ کے اہداف سے یقینا مختلف تھے۔ ان سب کا تقابلی مطالعہ ہونا چاہیے۔

اسی طرح کچھ اور سوالات پہ بھی گفتگو ہونی چاہیے مثلا:

اس مکمل جبری صورتحال میں سرسید نے جو کچھ کیا، اس کے علاوہ وہ کیا کر سکتے تھے؟ کیا اس کامل بے بسی کی حالت میں سرسید کی بنائی گئی پالیسی ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے یا اسے تبدیل کرنے پہ غور کیا جانا چاہیے؟ مابعد جنگِ آزادی (1857 ) کی صورتحال اور آج مابعد نائن الیون کی ہماری صورتحال میں جوہری طور پہ کیا فرق ہے؟ کیا آج ہم کچھ بہتر امکانات رکھتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

پس اظہار الحق صاحب سے گزارش ہے کہ اگر انھیں احمد جاوید صاحب سے کوئی ذاتی ناراضگی ہے تو اسے ذاتی زندگی تک محدود رکھیں تاکہ ان کے مداح بدمزگی و بیزاری سے محفوظ رہیں۔ البتہ وہ کسی بھی سنجیدہ رخ سے سرسید کے افکار یا دبستانِ روایت کی تفہیمِ سرسید پہ ضرور لکھیں۔ یقینی طور پہ کالم کی تنگنائے اس علمی بحث کی متحمل نہ ہو سکے گی بلکہ اس کام کے لیے اظہار صاحب کو طویل مضامین لکھنے یا پھر باقاعدہ کتاب تصنیف کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ البتہ اس بحث کو چھیڑنے اور پایہء تکمیل تک پہنچانے کی اہلیت کا فیصلہ خود اظہار صاحب ہی کو اپنی علمی دیانت کی روشنی میں کرنا ہو گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: