فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت: خالد بلغاری ـ قسط 3

0
  • 31
    Shares

نئے قاری کے لئے اس موضوع پہ شایع ہونے والا پہلا حصہ دیکھ لینا مفید ہوگا۔ مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجئے، اور دوسرا حصہ یہاں۔


تحریر کے اس آخری حصے میں اب یہ دیکھنا ہے کہ یقین کو عقل کی اصل بنیاد ثابت کرنے کا اور سوالات کے لامتناہی تسلسل سے جنم لینے والی فلسفیانہ لایعنیت کا آپس میں کیا تعلق بنتا ہے۔

سوالات کے نہ ختم ہونے والے چکر سے جنم لینے والی بیزاری جو وجودی لایعنیت بن جاتی ہے، کے آگے اس بات کو ثابت کرنے سے کیا حاصل ہوگا کہ سوالات کا یہ معروف تسلسل لامتناہی نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ (قبل تجربی اصولوں کی حتمی حیثیت) پر رک جاتا ہے، جہاں پر اس میں “یقین” کا عنصر شامل کرنا ناگذیر ہوجاتا ہے۔

اس فلسفیانہ ذہن کو یہ باور کروانے سے کیا ملے گا کہ عقل کی پہلی حرکت ان قبل تجربی اصولوں پر غیر مشروط اور مکمل یقین کرنا ہے۔ اس یقین کے بغیر عقل بالکل بے کار بلکہ نابود ہے۔ یہ بات لایعنیت کے شکار ذہن پر ثابت کرنے سے ہم کن نتائج کی امید کررہے ہیں؟

یہ بات مصنف واضح کرچکا ہے کہ سوالات کے معروف تسلسل کا جس جگہ خاتمہ ہوتا ہے وہ قبل تجربی اصول ہیں، جن پر غیر مشروط یقین عقل کیلئے ناگذیر ہے اور عقل اپنا کوئی کام اس یقین کے بغیر نہیں کرسکتی۔
اس نتیجے پر پہنچنے والا آدمی اپنی عقل کو، جو اسے یہی سکھاتی رہتی ہے کہ ابھی ثبوت کافی نہیں اور ابھی دلیل کمزور ہے، یہ بتاتا ہے کہ تم مجھے تو ثبوت پر چلنے کی نصیحتیں کرتی ہو اور خود قبل تجربی اصولوں پر بغیر ثبوت کے یقین کئے بیٹھی ہو!
تم مجھے یہ کیوں نہیں بتاتی کہ یقین ہی اصل ہے؟ جبکہ تمھارا اپنا حال یہ ہے کہ یقین کئے بغیر تمہارا وجود ہی معدوم ہے۔ تم مجھے یقین کا سہارا رکھتے ہوئے یقین کی کھوج کی طرف کیوں نہیں لگاتی جبکہ تمھارا اپنا طریقہ کار یہی ہے۔

یقین کے حق میں اس عقلی ثبوت کے فراہم ہوجانے سے آدمی کی فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت کو ختم نہیں ہوجانا چاہئے؟
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ متبادل راستہ کیا ہے۔

ہمارے اردگرد زندگی کی تمام تر رنگینی اور کھلکھلاہٹ جس اصول پر کھڑی ہے وہ غفلت ہے۔ اصل اور سنگین حقیقتوں سے ہنس کر توجہ ہٹالینا۔ اصولوں کے بودے پن اور عارضی پن کو جب تک ممکن ہو اور جہاں تک ممکن ہو بھلائے رکھنا۔ سوال زیادہ تنگ کرنا شروع کردیں، تو اچھل کود شروع کردینا۔ بھاگ کھڑے ہونا۔ انتہائی حالتوں میں نشہ شروع کردینا۔ یہ سب اضطراری حرکتیں غفلت کے اُس پردے کو دبیز تر کرنے کی کوششیں ہیں جو انسان اور حقیقی سوالوں کے درمیان حائل رہتا ہے۔ جدید دنیا ان کوششوں کو انٹرٹینمنٹ کا خوشنما نام دیکر، اسکی اپنی مکروہ حقیقت پر بھی پردہ ڈال دیتی ہے۔
اور ہاؤ و ہو کی دنیا چلتی رہتی ہے۔

جان لینا چاہئے کہ ایسی “انٹرٹینمنٹ” کے بعد جو مصنوعی اور عارضی توانائی محسوس کی جاتی ہے وہ غفلت کی توانائی ہے۔ کچھ مزید دیر کیلئے آپ اور میں زندگی کی اصل پر نظر کرنے کی اہلیت کھو چکتے ہیں۔ اور بدنصیبی دیکھیے کہ اس پر خوش ہوتے ہیں۔
آج یہ فلم، کل وہ ڈرامہ، پرسوں ادھر شاپنگ، پھر ادھر آؤٹنگ۔ فلاں ریستوراں میں ڈائن آؤٹ۔
یہ جوتا، وہ پتلون، فلاں رنگ، یہ بیگ، وہ سوٹ۔
اور جب یہ سب کرچکیں اور کھا چکیں اور پہن چکیں، تو پیش قدمی کرتی ہوئی بوریت کے خوف سے کسی مزید “انٹرٹینمنٹ” کی تلاش۔

ایک طریقہ تو اداسی اور لایعنیت دور کرنے کا یہ ہے، جو عام لوگوں میں بہت مقبول ہے۔ یہ نسبتاً آسان راستہ ہے، بہت چلا ہوا ہے اور عام دستیاب بھی ہے۔ عارضی ہے مگر زود اثر ہے۔ ایک پوری مشینری اس راستے پر گھات لگائے منتظر رہتی ہے کہ کب کوئی خوفزدہ مفرور فلسفی بھی اس راستے پر آئے اور ہم اسکی نظر کو چمک دمک دکھا کر اچک لیں۔ لوگ جوق در جوق اس رستے پر گامزن ہوتے ہیں۔ ہر موڑ پر ایک نئی دکان سجی ہوئی ہے۔ خوشنما، رنگ برنگی اور نہ ختم ہونے والی اشیاء کا ایک انبار ہے جو بلّوریں الماریوں کے اندر سے غفلت کی سر عام دعوت دیتی ہیں۔ اور لوگ نگل لئے جاتے ہیں۔ خوف زدہ لوگ جو سوالوں سے ڈرتے ہیں ان الماریوں میں قید ہوجاتے ہیں۔ اشیاء کی چمک دمک انکو اسیر کرلیتی ہے۔ جب ایک شے پرانی ہوجائے تو ایک نئی شے اس خوفزدہ آدمی کو اپنے دام میں پھانس لیتی ہے۔

غفلت کی اس بھول بھلیوں میں سرگرداں ہر شخص زیادہ کی طلب میں ہے۔ ہر شخص کیلئے اسکی حصول کردہ شے اب وجہ اطمینان نہیں رہی۔ ایک انبوہ ہے جو “ھل من مزید” پکارتا بھاگتا چلا جاتا ہے۔ نشے کی ختم نہ ہونے والی ایک طلب ہے کہ جس میں ہر دفعہ سرور حاصل کرنے کیلئے نشے کی مقدار بڑھانی پڑتی ہے۔ پاتال میں اترتی ہوئی ایک منحوس سیڑھی جسکے ہر زینے پر ایک نئے طرز کا خوشنما پھندا لٹک رہا ہے۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ سوالوں کا سامنا کیا جائے۔ یہ مستند فلسفیانہ رستہ ہے۔ عقلی راستہ ہے۔ اس رستے پر چلنے والے لوگ مگر کم ہیں۔ فلسفی کم ہی ہوتے ہیں۔ آپ اسی حقیقت کو دیکھ لیں کہ ایک فلسفیانہ تحریر پڑھنے والوں کی تعداد ایک چٹخارے والی کہانی پڑھنے والوں کی تعداد کے مقابلے میں کتنی کم ہوتی ہے۔

موضوع پر واپس آکر بات کو سمیٹ لیتے ہیں۔

اس بات کے ثبوت مہیا ہوجانے کے ساتھ، کہ عقل اپنی بنیاد قواعد کے ایک مجموعے پر یقین کے بعد استوار کرتی ہے، یہ بات غیر عقلی ہے کہ یقین سے صرف نظر کیا جائے۔ یقین کو بلائینڈ فیتھ کہہ کر اسکے خلاف ایک تحقیری رویہ اپنایا جائے۔ یہ رویہ فلاسفہ کی اکثریت کے ہاں موجود ہے تاہم یہ دکھایا جا چکا ہے کہ اس رویے کی کوئی عقلی بنیاد کم ازکم نہیں ہے۔

عقل ہی ہمیں عقل کی مجبوریوں سے آگاہ کرتی ہے۔ عقل ہی عقل کیلئے یقین کی ناگزیریت کو ہماری عقل پر آشکار کرتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ فلسفی یقین کو کمتر سمجھتے ہیں۔؟
مذھبی نظام کے اندر یقین کی مرکزیت جسکو مذھب ایمان کے نام سے بیان کرتا ہے فلسفہ کے بالکل متضاد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ فلسفہ جو عقلیات کی بیساکھی کیساتھ چلتا ہے، کے پاس یقین کو کمتر سمجھنے کا کوئی عقلی جواز نہیں ہے۔
جس عقلیات کے سہارے وہ چل رہا ہے، وہ عقلیات خود یقین کے سہارے چل رہی ہے۔

فلسفیانہ لغویت اور لایعنیت کا حل غفلت کے عارضی طریقے سے کرنا تو مزید مایوسی پیدا کرتا ہے۔ فلسفی کو لایعنیت سے نمٹنے کیلئے بامعنی سوال درکار ہیں تاکہ وہ اپنی توانائیاں ان سوالوں کے جواب کھوجنے میں صرف کردے۔

یہاں پہنچ کر اس سوال کا جواب اب براہ راست دیا جاسکتا ہے کہ کیا یقین کی ناگزیریت عقل پر ثابت ہوجانے کے بعد فلسفی کو اپنی لایعنیت اور لغویت سے آزاد ہوجانا چاہئے؟

فلسفیانہ لغویت اور لایعنیت کا حل غفلت کے عارضی طریقے سے کرنا تو مزید مایوسی پیدا کرتا ہے۔ فلسفی کو لایعنیت سے نمٹنے کیلئے بامعنی سوال درکار ہیں تاکہ وہ اپنی توانائیاں ان سوالوں کے جواب کھوجنے میں صرف کردے۔
یقین ایک ایسا ہی بامعنی سوال ہے۔ یقین جواب بھی ہے مگر اس بات کے سامنے آنے پر کہ عقل اپنی بنیاد یقین پر استوار کرتا ہے، فلسفی کو خود یقین کی ماہیت پر غور کرنے کے راستے پر چل پڑنا چاہئے، اس علم کیساتھ کہ یہ غور وفکر بھی یقین کے اصول پر استوار عقل ہی کی بنیاد پر ممکن ہے۔

یقین کا منبع اور ماخذ کیا ہے؟ یقین میں پختگی اور مظبوطی پیدا کرنے کے کیا طریقے ہیں؟ جو طریقے بیان کئے جاتے ہیں انکی فلسفیانہ حیثیت کیا ہے؟ وغیرہ
یہاں سے آگے سوالات کو ایک اور مختلف رخ اختیار کرنا چاہئے جس کے اندر یقین ایک اہم اور بنیادی جزو کے طور پر شامل حال رہے۔
اور اگر عقل بطور ذریعہ علم، یقین پر مبنی ہونے کی بنیاد پر قابل اعتبار نہیں، تو آدمی کے پاس علم کے حصول کا کیا کوئی اور ذریعہ بھی ہے؟

وجودی لایعنیت بے معنی سوالات کی بے بنیاد تکرار سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کا حل جبکہ غفلت میں تلاش کرنا اس کیفیت کی شدت میں بالآخر مزید اضافہ کرتا ہے، یقین کو ساتھ رکھ کر کئے گئے بامعنی سوالات کی دریافت اور جوابات کی کھوج فلسفی کو پھر سے اسکی کھوئی ہوئی معنویت عطا کرسکتے ہیں۔

تاریخی طور پر سوالات کی معروف بے بنیاد تکرار موجودیت پسند فلاسفہ تک پہنچتے پہنچتے اس قدر لغو ہوگئی تھی کہ انکے اندر حیات دشمن اور حیات کُش رویے جنم لینے لگے اور کچھ نے تو خودکشی کرنے کو حل کے طور پر بھی پیش کیا۔

ہمارے ملک کے اکثر نوجوان فلسفیانہ اذہان اس غیر عقلی رویے کو فلسفیانہ رویہ سمجھتی ہے اور ایک زاویے سے اس سے رومان کشید کرتی اور اس پر فخر بھی کرتی ہے۔
ہماری نظر میں یہ نیم فلسفیانہ رویہ غیر معیاری، بے راہ اور نامکمل تفلسف سے پیدا ہوا ہے اور اس قید سے اصولِ یقین پر استوار بامعنی سوالات کے سہارے نکلا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: