ہر داغ ہے اس دل میں بجُز داغِ ندامت: ثمینہ رشید

0
  • 59
    Shares

آج بیس نومبر ہے، فیض کے ہم سے رُخصت ہونے کا دن۔
چاہے آپ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لکھاری ہوں یا بائیں بازو سے
آپ سیاستدان ہیں یا وکیل،
پروفیسر ہیں یا صحافی
ڈرامہ نگار ہیں یا کالم نگار
ایسا ممکن ہی نہیں کہ آپ کبھی فیض کے کسی شعر سے متاثر نہ ہوئے ہوں
گُلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے کا سُر آپ کے سماعت سے نہ گُزرا ہو
مادام نورجہاں کا
مجھ سے پہلی سی محبت نے آپ کے دل کو نہ چُھوا ہو
یا دشتِ تنہائ میں اے جانِ جہاں جیسے کلام سے لطف نہ اُٹھایا ہو
فیض کے کلام کے کیا کہنے، کون ہے جو ان کے مداحوں میں شامل نہیں
کون ہے جو
نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کے جہاں ۔۔۔۔ کے مصرعوں کا اسیر نہ ہوا ہو
ان کے کلام کی سچائ آج بھی ہمارے معاشرے کا ایک کڑوا بلکہ جیتا جاگتا سچ ہے
گو فیض کو اس دنیا سے رخصت ہوئے تین دہائیاں گزرچکیں لیکن ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔
لیکن کیا عاشقانِ فیض نے سوچا بھی کہ فیض کے قلم سے ٹپکتے اس لہو کا اصل سبب کیا تھا
ایک ایسا شاعر جس کو وطن کے صبح وشام سے بھی عشق تھا، کیسے اپنے سینے پہ اسیری بلکہ غداری کے الزامات کےانمٹ داغ سجائے بیٹھا تھا۔
فیض کے کلام کے عشاق تو ہم سب ہیں لیکن آج ان کے کلام کے ساتھ ساتھ ہم اس زخم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جس کے صدقے فیض کا کلام امر ہے۔

Faiz with his wife

ابھی قیام پاکستان کو چند ہی سال گزرے تھے جب فیض کو راولپنڈی سازش کیس کے الزام میں نو مارچ 1951 میں گرفتار کیا گیا۔ راولپنڈی سازش کیس سے جڑے حقائق ہمارے اس خاص طبقۂ فکر کی نشاندہی کرتے ہیں جو پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی لیاقت علی خان کی طرزِ حکمرانی کو نہ صرف نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا تھا بلکہ انیس سو اڑتالیس کے کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم کرنے کی ادا بھی اس حلقۂ فکر کو گراں تھی۔ ایشیا سرخ ہے کا نعرہ تھا اور انقلابِ روس کی سنہری داستانیں تھیں جو ہندوستان اور پاکستان کے جدید دانشوروں کے لئے ایک انتہائ کشش کا باعث تھیں۔ فیض کی کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت بھی اسی سنہری لہر کا شاخسانہ تھی۔ جنرل اکبر خان جو اس دور کے چیف آف جنرل اسٹاف اور راولپنڈی میں تعینات اور کمیونسٹ نظریات رکھتے تھے، اس وقت کی حکومت اور اس کی پالیسیوں سے سخت نالاں تھے۔ ایک فوجی بغاوت کا خواب آنکھوں میں سجائے انہوں نے ڈاکٹر سجاد ظہیر اور فیض کو اس مقصد کے لئے ساتھ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

نظریاتی جھنڈے تلے ایک فوجی بغاوت کا تصور شاید ایک فوجی اور ایک سیاستدان تو شاید کرسکے لیکن ایک کمیونسٹ نظریات کا حامل شاعر اس قسم کے ایڈونچر کا سوچے، یہ بعید از قیاس تھا اور ہے۔ لیکن میجر جنرل اکبر خان نے اس مقصد کے لئےسید سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض کو تئیس فروری کو ایک خفیہ میٹنگ میں بلایا۔ کئی گھنٹوں کی گفت وشنید کے بعد بھی فیض صاحب اور سجاد ظہیر (سیکریٹری جنرل کمیونسٹ پارٹی) اس معاملے میں معاونت پہ تیار نہ ہوئے اورمعاملہ کسی نتیجے پہ پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔ جلد ہی جنرل اکبر کے ہی ایک ساتھی کی رپورٹ پر حکومت کو اس میٹنگ اورمیجر جنرل اکبر کے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کا علم ہوگیا۔

نو مارچ 1951 کو اس الزام کے تحت ایک آپریشن کیا گیا اور جنرل اکبر اور ان کے کئی جونئیر اور قریبی آرمی آفیسرز کے ساتھ ساتھ سید سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کا نہایت گہرا اثر فیض صاحب کے کلام پر ہوا۔

بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
ترے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں

راولپنڈی سازش کیس پہ تحقیقات کےلئے ہائی کورٹ کے ججز پہ مشتمل ایک سپیشل ٹرائبیونل کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے پندرہ جون انیس سو اکیاون میں اپنا کام شروع کیا۔ اس پورے ٹرائل کو پبلک سے خفیہ اور اِن کیمرہ رکھا گیا۔

اٹھارہ ماہ چلنے والا یہ کیس نومبر انیس سو باون میں اختتام کو پہنچا۔ کیس کے دوران اختتامی مرحلے پر ایسا موڑ بھی آیا جب فیض صاحب کے وکیل حسین شہید سُہروردی نے انہیں بتایا کہ شاید انہیں غدار وطن قرار دے کہ پھانسی کی سزا سنا دی جائے لیکن کیس کے فیصلے میں فیض کو چار سال کی سزا سنائی گئی۔ سوائے جنرل اکبر کے جنھیں بارہ سال کی سزا سنائی گئی۔

پھر حشر کے ساماں ہوئے ایوانِ ہوس میں
بیٹھے ہیں ذوی العدل گنہگار کھڑے ہیں
ہاں جرمِ وفا دیکھیے کس کس پہ ہے ثابت
وہ سارے خطا کار سرِ دار کھڑے ہیں

کیس کی سنگینی کا اندازہ وزیراعظم کے بائیس مارچ کے بیان سے کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ رائے عامہ اور فوج کی آراء کے مطابق سازشیوں کو بغیر کسی قسم کے کیس لڑنے اور صفائی کا موقع دئیے پھانسی دے دینی چاہئیے (ڈان 22مارچ 1951)۔ اخبارات میں بہت سارے ایڈیٹرز نے مل کر حکومت وقت کی حمایت کے لئے مشترکہ اعلامیے جاری کئے اور حکومت سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔

یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے

سجاد ظہیر ایک جگہ اپنی یادداشتوں میں فیض کے اس دور کے کلام کے بارے میں لکھتے ہیں:
(منجملہ دیگر کتابوں کے) اس دعویٰ کی شہادت ان کے کلام میں تخلیق کا سرخ شعلہ ہے
جس میں گرمی بھی ہے، حرکت بھی، توانائی بھی
نامساعد حالات میں نہ دھیما ہوتا ہے اور نہ بجھتا ہے بلکہ جہل و رجعت کی کالی آندھیاں اسے اور بھی بھڑکاتی ہیں۔

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عُشاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کرچلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں‌ مارے گئے

ایک آس، ایک امید اور ایک نئی سحر وہ موضوعات ہیں جو ان کی اسیری کے دنوں میں بھی ان کی شاعری کا محور تھے۔
خواب دیکھنے والا پسِ زنداں کردیا گیا۔
ان کی صحافتی زندگی پہ اس کا گہرا اثر پڑا لیکن ان کے اندر کے شاعر نے امید نہ چھوڑی، نئی صبح کی امید!

ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر
ان کو شعلوں‌کے رجز اپنا پتا تو دیں‌گے
خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی، صدا تو دیں گے
دور کتنی ہے ابھی صبح، بتا تو دیں گے

اسیری کے وہ دن جب دو عزیز دوستوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی آزادی نہ تھی کہ دونوں کو علیحدہ جیلوں میں رکھا گیا تھا۔ سجاد ظہیر اس دور کے بارے میں لکھتے ہیں:

جیل میں، گو ہم ایک دوسرے سے خط وکتابت بھی نہ کرسکتے تھے تاہم دوسرے دوستوں کے خطوں اور بعض اردو رسالوں کے ذریعے مجھے فیض کی چند غزلیں اور نظمیں جو اس زمانے میں لکھی گئیں، پڑھنے کا موقع مل جاتا تھا۔ اب کہ حالات زندگی میرے لیے کافی خوشگوار ہیں، اور میں آزاد فضا میں سانس لے سکتا ہوں، اس کے باوجود جب میں ان ذہنی،جذباتی اور روحانی کیفیات کا خیال کرتا ہوں، جو مجھ پر اس وقت طاری ہوئی تھیں جب اپنے اس محبوب ترین دوست اور ہمدم کا کلام پڑھتا تھا تو اس کا اظہار مشکل معلوم ہوتا ہے۔شاید بے لاگ تنقید کے لیے یہ اچھا بھی نہیں ہے۔

ظلم کا زہر گھولنے والے
کامراں ہوسکیں گے آج نہ کل
جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں

اپنے اور فیض کے نظریات اور مشترکہ خوابوں کا ذکر کرتے ہوئے سجاد ظہیر لکھتے ہیں:
یہ صحیح ہے کہ چونکہ ہمارے بہت سے تجربے، زندگی اور اپنے وطن کو ثمر بار اور حسین بنانے کے متعلق ہمارے خواب، ہمارا درد، ہماری نفرتیں اور رغبتیں، مشترک تھیں۔

یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک، اس خوں میں حرارت ہو جب تک
اس دل میں صداقت ہو جب تک، اس نطق میں طاقت ہو جب تک
ان طوق و سلاسل کو ہم تم، سکھلائیں گے شورشِ بربط و نے
وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامۂ طبل قیصر وکے
آزاد ہیں اپنے فکر و عمل بھرپور خزینہ ہمت کا
اک عمر ہے اپنی ہر ساعت، امروز ہے اپنا ہر فردا
یہ شام و سحر، یہ شمس وقمر یہ اختر خواب اپنے ہیں
یہ لوح و قلم، یہ طبل و علَم یہ مال و حشم سب اپنے ہیں

اس لیے فیض کے ان اشعار سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوتا تھا۔اگر میرا دل کبھی خون کے آنسو روتا تھا کہ قید و بند کے مصائب اور صعوبتیں اس کا حصہ کیوں ہیں جو اپنی حسن کاری سے سب کی زندگی کو اتنی فیاضی سے مرصع کردیتا ہے اور اپنی نغمگی سے ہم سب کی رگوں میں سرو کی نہریں بہادیتا ہے، تو کبھی میرا ذہن نطاس کے تخیل کی ان شاداں اور فرحاں گل کاریوں سے کسب شعور کرتا جہاں جدید جدلیاتی علم کی ضیا پاشیاں، انسانیت کے شریف ترین جذبات سے اس طرح مل گئی ہیں، جیسے شعاع مہر سے تمازت۔

چاہا ہے اسی رنگ سے لیلائے وطن کو
تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں
ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل
رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

فیض کی نظموں کا جائزہ لیں، نہ تو یہ ہماری تہذیب و تمدن کی بہترین روایات سے الگ نظر آتی ہیں اور نہ شاعر کی انفرادیت، اس کا نرم، شیریں اور مترنم انداز کلام کہیں بھی ان سے جدا ہوا ہے۔اس کے متحرک اور رواں استعاروں میں ہمارے وطن کے پھولوں کی خوشبو ہے،

چند روز اور مری جان! فقط چند ہی روز
ظلم کی چھائوں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں
اپنے اجداد کی میراث ہے معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں
فکر محبوس ہے گفتار پہ تعزیریں ہیں
اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی معیاد کے دن تھوڑے ہیں
اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں

فیض کے خیالات میں ان سچائیوں اور ان جمہوری مقاصد کی چمک جن سے ہماری قوم کی عظیم اکثریت کے دل روشن ہیں، اگر تہذیبی ارتقا کا مطلب یہ ہے کہ انسان مادی اور روحانی عسرت سے نجات حاصل کرکے اپنے دلوں میں گداز، اپنی بصیرت میں حق شناسی اور اپنے کردار میں استقامت و رفعت پیدا کریں اور ہماری زندگی مجموعی اور انفرادی حیثیت سے بیرونی اور اندرونی طور پر مصفا بھی ہو اور معطر بھی تو فیض کا شعر غالباً ان تمام تہذیبی مقاصد کو چھو لینے کی کوشش کرتا ہے۔

کوئے ستم کی خامشی آباد کچھ تو ہو
کچھ تو کہو ستم کشو، فریاد کچھ تو ہو
بیداد گر سے شکوہء بیداد کچھ تو ہو
بولو، کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو
مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا
اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پا
مقتل میں‌ کچھ تو رنگ جمے جشنِ رقص کا
رنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہو
خوں پر گواہ دامنِ جلّاد کچھ تو ہو
جب خوں بہا طلب کریں ،بنیاد کچھ تو ہو
گرتن نہیں ، زباں سہی، آزاد کچھ تو ہو
دشنام، نالہ، ہاؤ ہو، فریاد کچھ تو ہو
چیخے ہے درد، اے دلِ برباد کچھ تو ہو
بولو کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو
بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو

فیض کا قصور اتنا تھا کہ وہ خواب دیکھتے تھے ایک ایسے معاشرے کے خواب جہاں انسانیت مقدم ہو جہاں انسان دوسرے انسان کے حقوق کو سلب کرنے کے بجائے فرد کی آزادی کو تسلیم کرے۔ ایک ایسا معاشرہ جو ظلم و استبداد سے پاک ہو۔ ان کی سب سے بڑی دولت ان کا یقین تھا اور یہی وہ یقین ہے جس نے عاشقانِ فیض کو آج تک اندھیروں میں روشنی کو کھوجنے کا ہنر دیا ہے۔

الم نصیبوں، جگر فگاروں
کی صبح، افلاک پر نہیں ہے
جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں
سحر کا روشن افق یہیں ہے
یہیں‌پہ غم کے شرار کھل کر
شفق کا گلزار بن گئے ہیں
یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے
قطار اندر قطار کرنوں
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں
یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے
یقیں جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو شب سے عظیم تر ے

سیاسی اتر چڑھاؤ نے سکندر مرزا کو ملک کی صدارت تک پہنچایا تو کئی اسیروں کو، بشمول فیض چار سال کی قیدوبند کی صعوبتیں اٹھانے کے بعد رہائی کا اذن ملا۔ یہ انیس سو چون کا سال تھا۔ یہ اسیری فیض کے لئے بہت تکلیف دہ سیاہ شب کی طرح تھی جس نے ان کے زندگی کی چار قیمتی سال نگل لئے تھے۔ جیل سے نکلنے کے بعد فیض انگلینڈ چلے گئے۔ 1958 میں وطن واپس آنے کے کچھ عرصے بعد انہیں پھر سے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ ان پر کمیونزم سے متعلقہ مواد کو پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ زنداں سے ان کو دو سال کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد وہ کئی سال روس میں رہے، جہاں انہیں لینن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ روس نے نہ صرف ان کی زندگی میں بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی انہیں “ہمارا شاعر” کا خطاب دیا۔

فیض کو ادب کے نوبل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ ان کے اس دنیا سے جانے کے کئی سال بعد آخر کار ان کی حب الوطنی پہ لگا داغ اس وقت دھل گیا جب 1990 میں انہیں نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ لیکن آج بھی ان کے چاہنے والے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کا جرم کیا تھا؟ امن و سلامتی، انسانیت، آزادی کے خواب دیکھنا یا وطن سے محبت کرنا۔ بعد میں آنے والے دور میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ راولپنڈی سازش کے ٹرائبیونل کو بناتے ہوئے قانونی تقاضوں کو صریحاً نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے اس اسپیشل ٹرائبیونل کی کوئی قانونی حیثیت نہ تھی۔ اس کے بعد ان سب سزاؤں کی کیا حیثیت رہی اور فیض کی زندگی کے جو قیمتی سال اسیری میں گزرے اس کا کون ذمہ دار تھا۔ مقدمے کی کاروائی سے متعلق بھی مورخ کا قلم ابھی تک خاموش ہے۔ کیا آنے والے دور میں ہم کوئی ایسا سچ سن سکیں گے جو اب تک کہیں دفن ہے یا مورخ بہت سی دوسری سچائیوں کی طرح تاریخ کے اس موڑ سے بھی آنکھ بند کرکے گزر جائے گا۔

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پسِ زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار
گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہء منبر
کڑکے ہیں بہت اہلِ حکم برسرِ دربار
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اس عشق، نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت


References :-
1- Faiz Ahmed Faiz
And The Rawalpindi Conspiracy case
By- Estelle Dryland
2- The Times and Trial of the Rawalpindi Conspiracy 1951
Hassan Zaheer
3- نسخہ ہائے وفا – کلیات فیض احمد فیض

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: