پروفیشنل سیکرٹس : تحریر میشل کراؤچ – مترجم سیدہ صبیح گل

1
  • 215
    Shares

دانش تراجم 

ہمارے ہاں ایک مخصوص طبقہ فکری مغالطے پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ یورپ میں مذہب ایک متروک چیزبن گی ہے۔ زیر نظر مضمون ایک مشہور ڈایجسٹ میں شایع ہوا ہے جس کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے مذہبی روایت کتنی تابندگی سے موجود ہے۔ (ایڈیٹر دانش)


13 باتیں جو کوئی ربی پادری یا مذہبی تشخص رکھنے والا آپ کو کبھی نہیں بتاے گا

1۔ کوئی بھی آپکو یہ نہیں بتاے گا کہ میں بھی ایک عام آدمی ہوں۔ مجھے بھی غصہ آجاتا ہے جب دوران ٹریفک کوئی میرا راستہ کاٹے۔ میرے بچے بھی ہیں جو میری نافرمانی کرتے ہیں اور ہاں میں اپنی شریکِ حیات سے بہت بحث کرتا ہوں۔

2۔ جب میں نے شروعات میں نیا نیا منسٹری  (عیسایت میں تبلیغی فرایض کی ادایگی کو منسٹری کہا جاتا ہے) کا عہدہ سنبھالا تھا تو ایک تجربہ کار سینئر منسٹر میرے دفتر میں آئیں مجھ سے پوچھا”کیسا چل رہا ہے سب کچھ؟” میں نے کہا ”میں اپنی کارکردگی سے خوش نہیں، ابھی مجھے نیوز لیٹر پر کام کرنا ہے، میرا خطاب رہتا ہے جسے لکھنا ہے، اسی طرح کے دیگر کام ہیں جو ابھی مجھے کرنے ہیں اور پھر یہ لوگ ہیں جن سے ملاقات کے سلسلے ختم نہیں ہوتے جو میرے کام میں رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں۔” اس نے کہا ”اس رکاوٹ، اور مداخلت کو توجۃ دینا ہی تمھارا اصل کام ہے باقی سب تو کاغذی کاروائیاں ہیں۔”

3۔  ہم میں سے بیشتر لوگ مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ ہمارا اپنا منفی رویہ ہے ہم دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا نہیں کرتے اور نتیجتاً ہمیں بہت محنت کرنی پڑ جاتی ہے، شاز و نادر ہی چھٹیوں کا کوئی  موقع میسر آتا ہے یا کچھ وقت فراغت کا اور ہم خود اسی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ مختلف تحقیقات کہ مطابق بنسبت عام آدمی کہ ہم لوگ جلدی ذہنی  دباؤ، ذہنی  تناؤ اور آرتھیرائٹس جیسے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

4۔ میری زندگی کا سب سے شرمناک لمحہ وہ تھا جب میں شدید بیمار تھا اور مجھے شادی کروانے جانا تھا اور بجائے شادی کی دعا کے الجھن اور گھبراہٹ میں، جنازہ کی دعا پڑھا بیٹھا۔ شکر ادا کرتا ہوں کہ لوگ بہت اچھے تھے اور انہوں نے میری اس غلطی کو بخش دیا۔

5۔  جب میں سیمیناری (پادریوں کی درسگاہ) میں تھا تو ہمیں بتایا گیا تھا کہ جب کسی کا اپنا اس دنیا سے کوچ کر جائے تو کیسا رویہ اختیار کرنا چاہیئے مگردراصل  میں نے یہ بات لوگوں سے سیکھی کہ ان حالات میں وہ ہم سے کیا سننے کی توقع رکھتے ہیں کہ ہم ان کو کہیں”اوہ! یہ بہت افسوس ناک ہوا ہے۔ ہم آپ کے غم میں شریک ہیں۔”  اور اسکے بعد بیٹھ جایئے اور ان کو سنیئے۔

6۔ ایک وقت تھا جب میں بچوں کو آداب سکھایا کرتا تھا اور ان کے والدین کی آدھی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی تھی، مگر پھر مجھے احساس ہوا کہ سات سال کا بچہ تو میری بات سمجھنے سے قاصر ہے ہی مگر شاید اسکا باپ  بھی مجھے سمجھ ہی نہیں پا رہا پھر یہ تو بد قسمتی اس باپ کی ہے یا پھر خوش قسمتی اس بچے کی۔

7۔  کیا مجھے بھی خدا کے ہونے پر 100 فیصد یقین ہے؟  نہیں۔ ہم میں بھی تشکیک پسند ہوتے ہیں۔ بسا اوقات ہم خدا کو اپنے بہت قریب محسوس کرتے ہیں اور کبھی بالکل نہیں۔  مگر پھر بھی بیشک ہم اسے کتنا ہی دور کیوں نہ محسوس کریں عبادت کو اولین ترجیحات میں ہی  رکھتے ہیں۔

8۔ میرا مزاج ہمیشہ ایسا نہیں رہتا۔ اگر آپ میرے گھر پر دعوت میں مدعو کیئے گئے ہیں تو میں ہرگز نہیں چاہوں گا کہ آدھا وقت میں آپ کے بچوں کو توریت مقدس کے قصے سنانے میں  گزار دوں۔

9۔ اگر میرا تعلق کسی چھوٹی جماعت سے ہے تو میں اپنے سر پر کوئی بھی ٹوپی سجا سکتا ہوں۔ کبھی بھی، ٹوائلٹ پیپر منگوا سکتا ہوں،  کسی بھی اسپتال میں کسی سے بھی مل کر اتوار کے دن اپنی خدمات پیش کر سکتا ہوں۔ میں سوچتا ہوں کہ کبھی کبھار کچھ کام اصولوں اور آدرشوں کے سوا بھی کر لینے چاہیئں۔

10۔ جنسی ذیادتی جیسے اسکینڈلز کافی بد اعتمادی کا سبب بن چکے ہیں، جس کے ردِ عمل میں اب کچھ پادری بالکل بھی کسی کو نہیں چھوتے۔ جبکہ میں اسکے بالکل مخالف نقطہ نظر کا حامل ہوں میں لوگوں کو چھوتا بھی ہوں، کبھی ہلکی سی کاندھے پر تھپکی تو کبھی کسی کا ہاتھ ہلکے سے دبا دینا۔ اگر کوئی مجھ پر الزام لگائے تو میرے پاس سینکڑوں لوگ ہیں جو میری شرافت کی گواہی دے سکتے ہیں۔

11۔ شادیوں کی نسبت جنازے زیادہ پر سکون ہوتے ہیں کیونکہ شادیوں میں ہر کوئی دلہن ہو یا دولہا یا ہم جیسے بیچ کے لوگ سب کو ہی اپنی اپنی فکر ہوتی ہے جبکہ جنازوں میں نوعیت اسکے بر عکس ہوتی ہے۔

12۔ جب سے میں ربی (یہودیوں کے مذہبی رہنما کا لقب) بنا ہوں میں نے جو ایک بات محسوس کی وہ یہ کہ لوگوں کے لئے سچائی کا مطلب ہے جب کوئی دنیا سے رخصت ہوجائے تو اسکے لئے کیسا خیال رکھنا چاہیئے میں نے بہت سے سروے کیئے لوگوں سے دریافت کیا اور نتیجہ یہی اخذ کیا کہ لوگوں کو اس بات کی فکر زیادہ  ہوتی ہے کہ ان کو زندگی سے زیادہ  مرنے کے بعد لوگ کیسے یاد رکھتے ہیں۔

13۔ یہاں کچھ تنگ مزاج لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنھوں نے ہمیں بھرتی ہی اسلیئے کر رکھا ہے کہ ہم زیادہ وعظ گو نہ بنیں اور اسی لیئے ہماری عزت بھی کی جاتی ہے۔ لیکن ہم جب کبھی بولے تو ہمارا بولنا شاید ان کی طبیعتوں پر گراں گزرے۔


بشکریہ: دی ریڈرذ ڈائجسٹ

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: