یوسف کی بے بسی سے آسیہ کے اختیار تک: سحرش عثمان

0

بہت پیاری دوست کے لیے۔ بہت دنوں بعد کچھ لکھ رہی ہوں۔ بہت دنوں سے کچھ نہیں لکھا۔ دل آمادہ ہی نہیں ہورہا تھا۔ بے دلی سی بے دلی ہے۔ زندگی سے دلچسپی ہی ختم ہوگئی ہو جیسے۔ کرنے کو کچھ نہیں اور فراغت سےاکتاہٹ نہیں ہورہی۔ ہے نا عجیب؟

اتنا عجیب جیسے چھما چھم برستی برسات میں اچانک سورج نکل آئے۔ اور دریچے سے لگی حسینہ کے لئے کھڑکی کا منظر لا یعنی ہوجائے۔ اور جیسے میز پر پڑا چائے کا کپ اہمیت کھو دے۔ ایسے بے معنی دن چل رہے ہیں۔ سنو میری مثالوں پر مسکراؤ نہیں۔ اور اب مسکراہٹ چھپاؤ نہیں۔

خیر بے زاری عروج پر تھی۔ آج تم سے بات کرتے کرتے جیسے کسی نے جھنجھوڑ دیا ہو۔ مجھے ایسا محسوس ہوا اگر اب بھی نہ لکھا تو یہ سکوت موت میں بدل جائے گا۔ میرے لفظوں کی موت۔ ان سوچوں کی موت جو میرے لہجے میں احساسات بھرتی ہیں۔ اب احساس کی موت کیسے قبول کر لوں؟ کیسے اپنے احساس کو اپنے سامنے قطرہ قطرہ ذرہ ذرہ مرتے دیکھوں اور چپ رہوں۔ مانتی ہوں بے حسی سیکھ رہی ہوں میں۔ اور سیکھ بھی جاؤں گی۔ لیکن ابھی وہ مقام نہیں آیا جہاں احساس کو مرتے دیکھوں اور چپ رہوں۔
ابھی بھی میرے اندر کوئی چلا اٹھتا ہے جب میں اپنے ہی جیسے کسی انسان کا استحصال دیکھوں۔ ابھی میرے اندر وہ رمق باقی ہے جس کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔

پتا ہے سفید بالوں کے ساتھ پیدا ہوئی تھی میں۔ اماں تب سے ہی بوڑھی روح کہتی ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے زیادہ کتابیں پڑھنے کی وجہ سے میرا دماغ خاصا خراب ہوچکا ہے۔ لہذا ناقابل اصلاح ہو چکی میں۔ اس لئے آپ بھی میری ان خامہ فرسائیوں کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں۔ بالکل ویسے جیسے ہم اپنے ہر غلط فیصلے کو قسمت کے کھاتے میں ڈال کر اوروں کے جبر کو اپنا صبر کہہ کہہ کے بزعم خود رب کے برگزیدہ بندوں میں شمار کرتے رہتے ہیں اپنا۔ اب یہ کہوں گی کہ ظلم پر مسلسل خاموشی صبر نہیں ایک اور ظلم ہوتا ہے۔ تو کون مان لے گا اس تھیوری کو ؟
اس لئے تھیوری بدل دیتی ہوں اسے۔ کہے بغیر بھی تو گزارا نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ڈھیٹ بھی تو ہوں نا۔

تو یہ کہ اگر مشکل وقت میں صبر رب کا پسندیدہ ہے نا تو ظلم کے خلاف احتجاج بھی اسی کا بتایا ہوا رستہ ہے۔
میں شائد آئیڈیلزم کا شکار ہو رہی ہوں۔ لیکن رشتوں میں لگے اس قفل کی چابی آپ ہی کے پاس ہے۔ ہر بات پر “صبر” کرتی رہیں تو اردگرد جبر ایسے ہی بڑھتا رہے گا۔ میں ایکول رائٹس والا یوٹوپیا تخلیق نہیں کر رہی۔ نہ ہی برابری کا کوئی تعلق جنس سے ہوتا ہے۔ زور آور بلا امتیاز جنس استحصال کرتا ہے۔ طاقت کو تہذیب سکھانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے شائد۔ ہم انٹرنشینل ریلیشنز میں جب کتابوں میں بیلنس آف پاور پڑھتے ہیں نا۔ طاقت کو لگام ڈالنے کو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں؟

اس کے سامنے اس سے بڑی طاقت کھڑی کرتے ہیں فرضی ہی سہی۔ لیکن طاقت کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تمہیں لگام ڈالنے کو بندوبست ہے ہمارے پاس۔ طاقت کی اسی نفسیات کے پیش نظر تو رب نے زمین پر عارضی اختیار اتارا ہوگا ناں۔ اسی لئے تو آخری اختیار اس نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے کہ اس کے بندے اس کے ہمسری پر نہ اتر آئیں۔

خیر۔ ۔ ۔ سنو! میں یہاں طاقت ور کی زور آور کی حمایت میں بیان تو جاری کرنے کے لئے نہیں قلم گھسیٹ رہی نا۔ نہ ہی عقلمندی کا، وہ درجہ ہی حاصل ہوا ہے مجھے جہاں “دانوں والے ہر صورت سیانے ہی لگتے ہیں۔ ” تعلق نبھانے پر تو بات تو ضمنی سی تھی جو یونہی عادت سے مجبور ہوکر کردی۔ وگرنہ آپ سے اچھے کون نبھا ئے گا رشتے؟

میں تو یہاں اس بھیگے لہجے میں کئے گئے شکوؤں کا جواب تراشنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لہجے میں ہار کا، ذرا سا احساس بھی ٹوٹے کانچ کا سا چھبتا ہے مجھے۔ سنیں آپ بے بسی بے اختیاری کی بات مت کیا کریں۔ مجھے پتا ہے ہر وقت بہادر رہنا بہادر ہونا بہت بہت مشکل ہے۔ اتنا مشکل کہ اپنی ہی بہادری سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ مجھے یہ بھی پتا ہے بہت مضبوط لوگ بھی کبھی کبھی ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔ لیکن ان میں اور اوروں میں یہ ہی تو فرق ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹ کر بکھرتے نہیں ہیں۔

سنیں! آپ بے بسی کی بات مت کیا کریں۔ ۔ ۔ پتا ہے جب شعور کی پہلی منزل پر یوسُف علیہ السلام کا، قصہ پڑھا نا۔ تو کئی پہر آنکھوں سے آنسو صاف کرتے گزرے۔ اس دن مجھے بے بسی کا مفہوم سمجھ آیا۔ ۔ جب اندھے کنویں میں تنہا بیٹھا حیات و موت کی کشمکش میں کھوئے ہوں گے تو بے بسی محسوس کی ہوگی نا یوسف نے بھی۔ جب بارش کی شدت میں منحوس کہہ کر سواری سے اتارے گئے ہوں گے تب بھی۔ جب بازار میں بکنے کو کھڑے ہوں گے تب بھی۔ ۔ ۔ اور جب دو پھوٹی کوڑیاں دام لگایا ہوگا بڑھیا نے تب آنکھیں تو بھر آئی ہوں گی۔

پھر کریکٹر ایساسینیشن بارہ سال کے لئے مقید ہونا۔ بے اختیاری بے بسی تو محسوس ہوئی ہوگی۔ ۔
میں نے اس قصے کو بار بار پڑھا دہرا دہرا کر میں بے بسی کے اس دور میں کوئی شکوہ ڈھونڈنا چاہتی تھی۔ تاکہ میں بے بسی پر رب سے کی گئی بہت سی شکایتوں کے لیے جواز تراش سکوں۔
سنیں! مجھے نہیں ملا کوئی حرف شکایت۔ مجھے یوسُف کی کہانی نے پتا ہے کیا سبق دیا ہے؟
یوسُف کی کہانی نے مجھے قائم رہنا سیکھایا ہے۔ میرے اندر رب کے وجود پر یقین مضبوط تر کیا۔ ۔ مجھے اس کی بات سے وابستہ امیدیں بڑھانا اور وابستہ ہی رکھنا سیکھایا ہے۔ یوسف کی کہانی سے میں نے۔
اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوسُف کی کہانی نے مجھے ہر چیز کو رب کے گریٹر پلین کے تناظر میں دیکھنا سیکھایا ہے۔ بڑی سی پال کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے۔ دیکھیں اس دنیا میں ہر چیز ہر واقعے کے ہونے کا ایک مقصد ہوتا ہے۔

آپ کی وقتی بے اختیاری بھی۔ ۔ اختیار والوں کے سرد روئیے بھی۔ آپ کی خاموشی بھی اوروں کا شور بھی سب اپنی اپنی وجوہات کی وجہ سے وجود میں ہیں۔
ہو سکتا ہے جسے آپ اس وقت بے بسی سمجھ رہی ہوں وہ اختیار کی ابتدا ہو۔ چیزیں شروع میں جیسے نظر آتی اہیں انت میں ویسے نہیں رہتیں۔

جب اندھے کنویں میں۔ اپنوں کی سازشوں کا شکآر بے بس مظلوم لڑکا عزیز مصر بن سکتا ہے تو۔ یقینا رب کے پلین میں بے اختیاروں کے اختیار کا بھی آپشن ہوگا۔
آپ بس ہمت مت ہاریں۔ کہانی کے انت تک تو حوصلہ رکھیں۔

ممکن ہے یہ کہانی آسیہ اور فرعون کی کہانی جیسی ہو۔ ابتدا کے بادشاہ کو آخر میں اپنی جھوٹی انا سمیت جوابدہ ہونا پڑے۔ اور شروعات کے وکٹمز کے لئے آخر میں رب دریا کا سینہ پھاڑ کے حل نکالے۔

آپ کو شائد پتا نہیں آپ کا مضبوط لہجہ، بہادری پر مضبوطی پر کتنوں کا ایمان ریسٹور کرتا ہوگا۔ آپ بس ہارے ہوئے لہجے میں بات نہ کیا کریں۔ جیت اپنی گردشوں کا طواف بھول کر ساکت کھڑی ہوجاتی ہے میرے سامنے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: