مردِ بزرگ : ہارون الرشید —- سمیع اللہ خان

1
  • 100
    Shares

نائن الیون کے بعد دنیا کے تبدیل ہونے کا نعرہ بلند کیا گیا تھا، عالمی سیاست، بین الاقوامی تعلقات اور تاریخ کی تشریح اور تعبیر امریکی پیرائے میں اور امریکی حوالے سے کی جانے لگی تھی،اسی طرح ۳۰ اکتوبر۲۰۱۱ء کے بعد پاکستانی سیاست کی تشریح اور تعبیر عمرانی حوالے سے کی جاتی رہے گی۔۳۰ اکتوبر بلاشبہ عمران خان کے لیے ۲۳ مارچ تھا۔ یہ تجزیہ کہاں تک درست اور برحق ہے اس بحث میں پڑے بغیر تیس اکتوبر کے اُس پہلو کی جانب اشارہ کرنا مقصود ہے جو کہ میرے لیے بہت ہی اہم ہے۔تیس اکتوبر بہت سے لوگوں کے لیے ۲۳ مارچ کی حیثیت رکھتا ہوگا، بہت سے لوگوں کے لیے یہ عمران خان کے سونامی کا اولین ہیجان ہوگا اور بہت سوں کے لیے تیس اکتوبر کا دن عمران خان کی سیاسی زندگی کاسب سے بڑا دن ہوگا مگر میرے لیے اس دن کی اہمیت ان تمام حوالوں سے بڑھ کر کچھ ذاتی نوعیت کی ہے۔

سمیع اللہ خان

تیس اکتوبر کی شام ایک قیامت تھی جو مجھ جیسے طالب علموں پر گزرگئی۔ میرے نزدیک تیس اکتوبرکو مینارِپاکستان کے سائے میں، پاکستان کی اجتماعی مگر بوڑھی اور جہاندیدہ دانش کا جنازہ اٹھایا گیا۔ اور سرخ روئی جن کے حصے میں آئی تو وہ سوائے ایک بزرگ کے باقی سب کے سب ناتجربہ کاری، لڑکپن اور نوجوانی کے جنون سے آراستہ پاکستانی نوجوان تھے۔

تیس اکتوبر کی شام تک عمران خان ہر تجزیے میں ایک ناکام سیاستدان تھا، ایمانداری، سادگی او ر پاگل پن کی حدوں کو چھوتی ہوئی حق گوئی لائق توجہ نہیں تھی، بلکہ یہ وہ بڑی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے کپتان سیاست کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتاتھا۔ تیس اکتوبر کو نہ جانے عمران خان نے ایسا کون سا تیر مار لیا کہ وہی سادہ، بھولا، نا سمجھ اور سیاسی داؤ پیچ سے نا آشنا کپتان شہ سرخیوں کا موضوع بن گیا، کالموں کامرکزی مضمون اور ٹاک شوزکی ریٹنگ کا واحد سبب بن گیا؟ عمران خان تو آج بھی وہی ہے، اس کا موقف آج بھی وہی ہے جو پندرہ سال قبل تھا، مگر اس کے بارے میں ہمارے دانشوروں کا رویہ اور تجزیہ وہ نہیں رہا۔ دانش اور تجزیے کی جوڑی منہ چھپائے کہیں شرمندہ، کہیں خجل اور کہیں سینہ زوری پر اتر آئی ہے۔ کہیں اسٹیبلشمنٹ کی کپتان پر نظر کرم کے پردے گراکر اور ان کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کہیں مستقبل سے نظریں چرانے کے لیے عمران خان کے ماضی کو اس کا حال بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مگر یہ سب کرکے میرے دانشور اساتذہ کچھ نہیں کررہے سوائے اس کے کہ اِن کی اِن قلابازیوں سے مجھے اپنے کنویں کے آسمان کی وسعت ہی کُل آسمان لگنے لگی ہے۔ یعنی بزرگ اور جہاندیدہ دانش آنے والے دور کا ادارک تو نہ کر سکی کہ ہم عوام کو بروقت آگاہ کرتی بلکہ اس کے برعکس اعتراف کرنے کے بجائے الزام تراشی پر اتر آئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جھوٹی اخلاقیات کے پر دے بھی چاک ہوگئے ہیں۔

عمران خان وقت کی آندھی اور سونامی سہی، مگر اس وقتی اور عارضی طوفان کا اتنی مستقل مزاجی سے واویلا کیوں؟ آپ تو جمہور کے قصیدے گاگا کر نہیں تھکتے پھر اگرجمہور کی سوچ نے انگڑائی لی ہے تو اس کا خراج تحسین اسٹیبلشمنٹ کو کیوں؟ کیا جمہور اور جمہوریت کی بات فقط دانشوری اور جگالی ہے؟کیا کراچی سے خیبر تک بھرپور عوامی راۓ اور حمایت پر،’’ سجائے گئے تماشے‘‘ کی بھپتی کس کر آپ اس بات کا ثبوت نہیں دے رہے کہ دراصل آپ کا ایمان جمہور اور جمہوریت پر ہے ہی نہیں بلکہ آپ کی نظر میں اس ملک کے مقتدر ہی حال اور مستقبل کے اصل صورت گر ہیں۔ووٹ کی آپ کے نزدیک اہمیت ہی کوئی نہیں، کیونکہ ہونا تو وہی ہے جو مقتدر چاہیں۔پھر عوام، جمہور اور جمہویت کیا ہوئے؟

یہی میرا ذاتی دکھ ہے کہ پاکستان جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے وہاں پاکستان کے دل و دماغ کا یہ حال ہے کہ ان کو قیامت کا ادراک ہونا تو دور کی بات ہے اب جب کہ قیامت درپیش ہے تب بھی نوشتہ دیوار پڑھنے کے بجائے دیوار پر تھوک رہے ہیں۔

مگر یہ بھی انصاف نہ ہوگا اگر میں اس مرد بزرگ کا ذکر نہ کروں جن کی تحریروں نے ہمیشہ خواب بنے، خواب دیکھے اور دکھائے۔ ہمیشہ قلم کی سیاہی سے خوش رنگ اور روشن پاکستان کی تصویر بنانے کی کوشش کی۔وہ بزرگ جنھوں نے ہر خواب کا تعاقب کیا، جنھوں نے قصیدے بھی گائے تو ان کے جو سیاست کے کارزار میں خوار و زبوں تھے یا ہیں، جہاں در تو ہوتے ہیں مگر دربان اور دربار نہیں۔ ان لوگوں کے قصیدے جن سے کوئی امید نہ ہو کہ صلہ سات سمندر پار کسی یخ بستہ ملک کی سفارت کی صورت میں ملے۔ وہ مرد بزرگ جنھوں نے کبھی جناب قاضی حسین احمد کے دکھائے گئے خوابوں کو آنکھوں میں سجایا تو کبھی منارہ سے امڈتے طوفانوں کی ہم رکابی کی۔ جنھوں نے اقبال کی تقلید میں شیطانان عصر کے لیے سرخ سویرے اور برفانی ریچھ کو فتنہء حال و فردا ماننے سے انکارکردیا بلکہ برملا کہاکہ ہر شیطان کے لیے فتنہء فردا اسلام ہے۔ وہی ایک بزرگ تھے جو پاکستان میں’’ عمرانی تبدیلی‘‘ کے پیمبر اور پرچارک رہے، اور ایک عرصہ درا ز سے تھے۔بلکہ اس تواتر کے ساتھ عمران خان کی حمایت کی کہ اگر آپ کسی سے عمران خان کے واحد حمایتی کانام پوچھتے تو لوگ جھٹ سے ان بزرگ کا نام لیتے۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ اس بات کی ستائش تو درکنار اس کا ذکر کرنا بھی مناسب نہ سمجھا گیا کہ اصحاب دانش کے اس قبیلے کی کسی نے تو لاج رکھی۔

ایک اور المیہ جس کا ذکر کرنا مناسب ہوگا وہ یہ کہ اس عمرانی تبدیلی کی جو بھی شکل بنی یا آگے چل کر کیا رنگ دکھاتی ہے مگر اس پر تعمیری تنقید نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ یعنی کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر تحریک انصاف پاکستان میں ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی تھی تو اس کی تراش خراش میں خوش اسلوبی کے ساتھ ساتھ نیت کا اخلاص بھی شامل ہونا چاہیے تھا مگر ہوتا یہ رہا کہ جہاندیدہ اور جید دانشوروں کی جانب سے انتہا درجے کی بازاری تنقید اور عامیانہ انداز سے اس نئی تبدیلی پر تبصرے اور تجزیے کیے جا تے رہےجس کا رد عمل اگر عوام اور نوجوانوں کے ایک حلقے کی جانب سے بازاری اور عامیانہ رہا تو پھر گلہ کس با ت کاہے؟ (گو کہ گمان غالب یہی ہے کہ یہ جوابی ردعمل بھی منصوبہ بندی کے تحت ہوتا رہا ہے)

ایک اور المیہ جس کا ذکر کرنا مناسب ہوگا وہ یہ کہ اس عمرانی تبدیلی کی جو بھی شکل بنی یا آگے چل کر کیا رنگ دکھاتی ہے مگر اس پر تعمیری تنقید نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ عمرانی تبدیلی کے سب سے بڑے وکیل اور پاسدار یہی بزرگ، عمرانی انقلاب کے سب سے بڑے ناقد بھی رہے ہیں۔ جتنی تعمیری اور برحق تنقید عمران خان پر ان بزرگ نے کی ہے اس کا عشر عشیر بھی کہیں نہیں ملتا۔

ہارون رشید صاحب سے میری شخصی اور ذاتی شناسائی اتنی ہی ہے کہ میں ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی موجود نہیں۔ ہاں مگر بہت سے خوابوں کی طرح، پاکستان سے متعلق ایک خواب میں نے بھی بننے کی کوشش کی تھی جس میں ہارون صاحب نے ایک مشفق اور مہربان استادکی طرح ذاتی دلچسپی لی اور اس کی کامیابی کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کی۔ ہارون رشید صاحب نے جو خواب دیکھا ہے آیا وہ شرمندہ تعبیر ہوتا ہے یا اس کا انجام بھی محترم جناب قاضی حسین احمد اور جناب شیخ محمد اکرم اعوان کی صورت میں نکلتاہے میرے لیے شاید یہ بات اس پہلو سے اتنی اہم نہیں ہے، جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے بصیرت کے برحق ہونے کی لاج رکھ لی ہے۔ ہارون صاحب کی وجہ سے میرے لیے یہ بات سمجھنا آسان ہوگئی ہے کہ بہر حال میرے کنویں کا آسمان پورا آسمان نہیں، بلکہ ان ستاروں سے آگے اور جہان بھی ہیں۔ جن کی خبر کوئی صاحب نظر دے سکتا ہے۔اور یہ کہ تجزیے سے ماوراء بھی کوئی شے ہے جو حال کے پردوں سے اُس پار مستقبل میں جھانکنے کی قوت اور صلاحیت بخشتی ہے۔

ہارون رشید صاحب واحد دانشور ہیں جو عمران خان کے سونامی سے زندہ سلامت بچ نکلے، نہ صرف یہ کہ بچ نکلے بلکہ اس بحرانقلاب میں توازن، تدبر اور دانائی کے گھوڑے بھی دوڑانے رہے ہیں۔ باقیوں کی اکثریت یا تو پا مال ہوگئی ہے یا پھرجلد خس و خاشاک کی طرح اس سونامی کے ہم رکاب ہوگی کہ چڑھتاسورج ہو یا بڑھتا سونامی،اس کے آگے جلد یا بدیرصحافت کے ان’’ اصحابِ قاف و نون‘‘ پجاریوں نے سجدہ ریز ہونا ہی ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. بہت ہی بہترین لکھا ہے خاص کر تعمیری تنقید کی جو بات کی گئی ہے مکمل ایک سچ ہے اور دوسری بات دانشوروں کی منہ چھپای کیا جملہ استعمال کیا ہے بہترین بہترین بہترین

Leave A Reply

%d bloggers like this: