ثانیہ، سالگرہ اور نمبر ون ریٹنگ: شہنیلہ بیلگم والا

2
  • 71
    Shares

دو دن سے فیس بُک پر ڈھنڈیا مچی ہوئی ہے کہ ایک ویب سائٹ نے بھابی جی کو سالگرہ کی مبارکباد دے ڈالی۔ آپ بھی کہیں گے کہ اس میں ڈھنڈیا والی کیا بات ہے، شام کے اخبارات کی طرح سنسنی نہ پھیلائیں مگر مسئلہ یہ تھا کہ سالگرہ کی مبارکباد دینے کے لیے جو تصویر لگائی گئی کہ وہ کچھ ایسے اینگل سے لی گئی ہے کہ جو کچھ عیاں نہ ہونا چاہیے وہ تفصیلی عیاں ہورہا تھا۔ ہم چونکہ اس ویب سائٹ کے ریگولر وزیٹر نہیں اس لئے بے خبر رہے اور ساری دنیا میں تہلکہ مچا رہا۔ سوچا کیئے کہ چلو دیکھ آئیں کہ خلق خدا کیوں اسقدر واویلا مچا رہی ہے۔ خیر جب پہنچے تو پتا چلا کہ عوام کے تابڑ توڑ حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ قیامت خیز تصویر ہٹادی گئ ہے اور نسبتاََ کم فتنہ پرور تصویر لگا دی گئی۔ ہم اپنا سا منہ لے آئے مگر کہتے ہیں نا کہ ڈھونڈھنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے یہ تو ثانیہ مرزا کی تصویر تھی۔ بھلا ہو ہمارے بھائی بندوں کا جنہوں نے سوچا کہ بار بار کیوں اس کوچہ جاناں پہ حاضری دی جائے۔ سکرین شاٹ لے کر رکھ لیتے ہیں کہ جب دل بھی دل مچلے گا، مونڈھے جھکا کر موبائل سے آف لائن دیدار کر لینگے۔

معاف کیجئے گا ہم سے یہ منافقت نہ ہوگی۔ ہم تو فحش کو فحش ہی کہیں گے چاہے آپ ہمیں کسی بھی ناپسندیدہ شخص سے ملائیں۔

تو قصہ مختصر ہمیں وہ گوہر نایاب مل ہی گیا۔ ہم چونکہ خود صنف نازک سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے وہ تصویر ہم پہ تو وہ ستم نہ ڈھا سکی جو بھائی لوگوں پہ ڈھائے۔ ہم نے آنکھیں میچ کر پھر سے تصویر کو دیکھا اور پھر سے سالگرہ کے پیغام کو دیکھا، کچھ مماثلت سمجھ میں نہ آئی۔ اس پر ہم نے ہمیشہ کی طرح اپنی عقل کو کوسا سوچا اتنے گنی لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اگر یہ تصویر لگائی ہے تو کھیل کے بارے میں ہی خبر ہوگی مگر نہیں صرف سالگرہ پر پیغام ہی تھا۔ جناب مانا کہ محترمہ ٹینس کی سپر اسٹار ہیں اور ٹینس کے لئے پہنا جانے والا مخصوص لباس ہی پہنتی ہیں کیونکہ وہ کھیل کے ضوابط میں شامل ہے۔ لیکن اس لباس کا ان کی سالگرہ سے کیا تعلق؟؟ اتنا تو ہمیں یقین ہے کہ انہوں نے اپنی سالگرہ یہ لباس پہن کر ہرگز نہ منائی ہوگی۔ اور منائی, تو اسے ہماری کم مائیگی اور ویب سائٹ والوں کی کڑی جانکاری تصور کیا جائے۔

چلیں اس پر بھی بس نہیں ہوئی۔ نیا سیاپا یہ ہوا کہ اس تصویر کو نازیبا بھی نہ کہا جائے۔ خبردار جو کہا، تمہیں فلانے سے ملایا جائے گا۔ ہم تو سہم گئے کیونکہ ہم چنداں اس ہستی کہ پرستاروں میں سے نہیں۔ کہا یہ گیا کہ اگر آپ کو یہ تصویر فحش لگ رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ فحاشی آپ کے اندر ہے تصویر میں نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ بھی فرما دیا کہ آپ کی نظر صرف زیر جاموں اور کولہوں پر ہی کیوں پڑی۔ تو حضور اس لئے پڑی کہ تصویر میں یہ ہی دکھانا مقصود تھا۔ آپ نے تصویر منتخب ہی اسی لئے کی تھی۔ کیا ثانیہ کی اور کوئی تصویر موجود نہ تھی۔ ہم نہیں کہتے کہ سر پہ دوپٹہ اوڑھے دکھاتے کہ آپکی دلِ ناتواں پر گراں گزرتا لیکن کیا کسی ڈھنگ کے لباس میں تصویر نہ لگائ جاسکتی تھی؟؟ چلیں ٹینس کے لباس میں ہی لگاتے مگر کیا ایسا اینگل ضروری تھا۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ تصویر میں کوئی عریانیت نہیں۔ اگر کولہے دکھ رہے ہیں تو مت دیکھئے۔ اگر زیر جامہ دکھ رہا ہے تو نظرانداز کیجئے۔ تو معاف کیجئے گا ہم سے یہ منافقت نہ ہوگی۔ ہم تو فحش کو فحش ہی کہیں گے چاہے آپ ہمیں کسی بھی ناپسندیدہ شخص سے ملائیں۔

بہرحال تصویر لگانے والوں کا مقصد پورا ہوا۔ شہرت پہلے بھی ملتی رہی ہے اور اب بھی خوب ملی۔ اب یہ شہرت سنجیدہ اور ادبی مواد شائع کر کے حاصل کی گئی, سستے, غیر معیاری اور جنسی مضامین چھاپ کے یا نیم عریاں تصاویر لگا کے, یہ ایک الگ قضیہ ہے۔ ریٹنگ تو بڑھ گئی, اب یہ عوام پر منحصر ہے کہ اگلے سال جب آپ مارکیٹ میں اپنے نمبر ون ہونے کا بے لگام طبل پیٹیں گے وہ اندھی ڈالفن یاد رکھیں گے یا ثانیہ مرزا۔۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: