تعبیرِ قانون کے چند اہم مباحث: ڈاکٹر مشتاق احمد

0
  • 208
    Shares

ڈاکٹر محمد مشتاق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں کلیہ شریعہ و قانوں کے سربراہ ہیں۔ اس مضمون میں وہ تعبیر قانون کی ضرورت اور متنوع دستوری ڈھانچوں میں تعبیر قانون کے حق اور اختیار پر چند مباحث پر اپنی علمی رائے پیش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ علمی رائے عام فہم انداز میں پیش کی ہے جسے قانون کے طالبعلموں کے علاوہ دیگر قارئین بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ خالص علمی اور قانونی موضوعات کو عام فہم انداز میں بیان کرنے کی قدرت مشتاق صاحب کو ’مدرسانہ‘ اور ’ڈاکٹرانہ‘ کے الزام سے بچاتی ہے۔ یہ مضمون “دانش” کے پلیٹ فارم سے قارئین کی علمی استعداد کو بڑھانے کی کاوش کا حصہ ہے۔


پہلا سوال۔ تعبیرِ قانون کی ضرورت کیوں؟

ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ مقننہ نے قانون میں سب کچھ واضح طور پر پیش کردیا ہےتو اس کے بعد “تعبیرِ قانون” یا قانون کا مفہوم متعین کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ سوچتا ہے کہ جج کا کام صرف یہ ہے کہ مقننہ کے وضع کردہ قانون کی مقدمے میں موجود حقائق پر تطبیق کردے۔

کاش یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ ہوتا!

جہاں قانون بظاہر خاموش ہو۔

پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ مقننہ اپنے طور پر پوری کوشش کرتی ہے کہ موجودہ حالات اور آئندہ پیش آنے والے ممکنہ واقعات سے متعلق ایک جامع قانون بناکر پیش کردے لیکن عملاً ایسا ہوتا نہیں ہے۔ بسا اوقات ایسے نئے مسائل سامنے آجاتے ہیں جن کے متعلق قانون سازی کے وقت سوچا بھی نہیں گیا ہوتا۔ ایسے حالات میں جب جج کے سامنے، جس نے مقدمے کے کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کرنا ہے، کیا آپشن ہیں؟

ایک آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت سے یہ کہہ کر انکار کردے کہ ‘قانون اس معاملے پر خاموش ہے’۔ (بہ الفاظِ دیگر، غامدی صاحب کی اپروچ اختیار کرتے ہوئے قرار دے کہ یہ معاملہ قانون کا موضوع ہی نہیں ہے !)

دوسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے (جو پہلے آپشن ہی کی ایک دوسری صورت ہے) کہ معاملہ مقننہ کی طرف واپس بھیج کر اسے کہے کہ اس موضوع پر قانون سازی کرے۔

تیسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سامنے موجود قانون کی رو سے مقدمے کا فیصلہ کسی ایک فریق کے حق میں کرے۔

واضح رہے کہ پہلی دو صورتوں میں بھی جب وہ مقدمہ خارج کرتا ہے اور نتیجتاً مقدمے کا فیصلہ مدعی کے بجاے مدعا علیہ کے حق میں کرتا ہے تو وہ اصلاً یہ قرار دیتا ہے کہ قانون مدعا علیہ کے حق میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ‘قانون خاموش ہے’ کا آپشن جج کے پاس ہوتا ہی نہیں ہے کیونکہ عملاً صورت حال یہ ہوتی ہے کہ جج کے سامنے جب مقدمہ آیا تو اسے لازماً کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

اب آئیے تیسرے آپشن کی طرف، یعنی سامنے موجود قانون کی رو سے مقدمے کا فیصلہ۔

یہاں الجھن یہ پیش آتی ہے کہ جن صورتوں کا قانون میں ذکر ہوتا ہے، مقدمے میں ان کے بجاے کوئی اور صورت ہوتی ہے۔ اس نئی صورت پر قانون کا اطلاق کیسے کیا جائے ؟ ایسے مقدمات کو اصولِ قانون کی اصطلاح میں Hard Cases، یعنی مشکل مقدمات، کہا جاتا ہے۔ ان مقدمات میں جب ‘بظاہر’ قانون ‘خاموش’ معلوم ہوتا ہے، مقدمے کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟

اصولِ قانون کے ایک مکتبِ فکر Legal Positivism کا موقف یہ ہے کہ ایسے مقدمات میں جج اپنی قانونی صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے نیا قانون وضع کرتا ہے اور یوں گویا وہ مقننہ کے نائب کا کردار ادا کرتے ہوئے ان خلاؤں کو پر کرتا ہے جو مقننہ سے رہ گئے تھے۔ اس موقف پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر جج آج قانون وضع کرتا ہے تو اس قانون کا اطلاق وہ اس مقدمے پر کیسے کرتا ہے جو اس قانون کے وضع کیے جانے سے قبل دائر کیا گیا تھا؟ قانون کا مؤثر بہ ماضی ہونا اخلاقی لحاظ سے معیوب امر سمجھا جاتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس مکتبِ فکر کے نزدیک اخلاقی ضوابط کا قانون پر اطلاق نہیں ہوتا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے نزدیک قانون قانون ہوتا ہے، خواہ وہ اخلاقی لحاظ سے اچھا ہو یا برا !

اصولِ قانون کے ایک دوسرا مکتبِ فکر Naturalism کا موقف یہ ہے کہ وضعی قانون میں تو خلا پایا جاتا ہے لیکن قانونِ فطرت ایک جامع قانون ہے اور وہی اصل قانون ہے؛ اس لیے جج کو چاہیے کہ قانونِ فطرت کے اصول معلوم کرکے سامنے موجود مقدمے کا فیصلہ کرلے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عملاً یہ مکتبِ فکر بھی جج کو discretion دیتا ہے لیکن نظری طور پر فرق یہ ہے کہ Positivists کے نزدیک جج نیا قانون وضع کرتا ہے جبکہ Naturalists کے نزدیک جج پہلے سے موجود قانون دریافت کرتا ہے۔ یوں Naturalists پر وہ اخلاقی سوال نہیں اٹھتا جو Positivists پر قائم ہوتا ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ ‘قانونِ فطرت’ ہے کیا اور یہ کیسے دریافت کیا جاتا ہے؟

مایہ ناز امریکی فلسفیِ قانون رونالڈ ڈوورکن کا موقف یہ ہے کہ جج کے پاس discretion نہیں ہوتی، یہاں تک کہ جنھیں Hard Cases کہا جاتا ہے ان میں بھی جج قانون کے اصولوں کا پابند ہوتا ہے۔ اس لیے جج نہ ہی نیا قانون بناتا ہے، نہ ہی کسی موہوم قانونِ فطرت کے اصول دریافت کرتا ہے، بلکہ جج پر لازم یہ ہوتا ہے کہ اپنے سامنے موجود قانون کے قواعدِ عامہ معلوم کرکے ان کی روشنی میں مقننہ کا عمومی ارادہ (general intention of the legislature) متعین کرے اور پھر اس کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کرے۔ (یہ اپروچ حنفی فقہاے کرام کے طریقِ کار سے بہت زیادہ قریب ہے اور اسی اپروچ کو امام جوینی اور امام غزالی کے بعد شافعی مکتبِ فکر نے بھی قبول کرلیا اور بعد میں دیگر مذاہبِ فقہ نے بھی اسے کسی حد تک اپنالیا۔ )

جہاں قانون خاموش نہ ہو۔

یہاں تک تو اس صورت حال پر بحث ہوئی جس میں قانون بظاہر خاموش ہو۔ تاہم ‘تعبیرِ قانون’ کی ضرورت وہاں بھی پیش آتی ہے جہاں قانون خاموش نہیں ہوتا۔

یہاں پہلی بحث تو الفاظ کی دلالت کی آجاتی ہے۔ مقننہ کی کوشش ہوتی ہے کہ قانون سازی میں ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں تو اپنی دلالت میں واضح ہوں۔ تاہم مختلف امور کی بنا پر لفظ کی دلالت میں کئی امکانات موجود ہوتے ہیں، یہاں تک کہ – جیسا کہ مایہ ناز فلسفیِ قانون ایچ ایل اے ہارٹ نے واضح کیا ہے – وہ الفاظ بھی جنھیں ‘قطعی الدلالہ’ سمجھا جاتا ہے ظنیت کے کئی پہلو رکھتے ہیں اور ان مختلف پہلووں میں جج کو کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی قانون میں یہ قرار دیا جائے کہ اس کا اطلاق ‘گاڑیوں’ (vehicles) پر ہوگا تو یہ تو بات واضح ہوگی کہ اس کا اطلاق کار اور جیپ پر ہوگا لیکن کیا اس کا اطلاق بائیسکل، بچوں کی ٹرائیسکل، گدھاگاڑی یا تانگے پر بھی ہوگا؟ ان صورتوں میں جج کو قانون کے اندر اور باہر بہت سے عوامل کا جائزہ لینے کے بعد یہ متعین کرنا پڑے گا کہ مقننہ ان چیزوں پر بھی قانون کا اطلاق کرنا چاہتی تھی یا نہیں؟

الفاظ کی دلالت کے علاوہ اور بھی کئی امور ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر الفاظ قانون کی جس دفعہ میں وارد ہوئے ہوں اس دفعہ کا دیگر دفعات کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ایک جانب کسی لفظ کی اپنی مخصوص دلالت ہوتی ہے اور دوسری طرف قانون کی اس مخصوص دفعہ کا اس قانون میں ایک مخصوص مقام ہوتا ہے۔ کیا جج لفظ کی مخصوص ‘قطعی’ دلالت کو دیکھے گا یا اس قانون کو ایک مکمل وجود (organic whole)قرار دے کر پورے قانون کے کلی تصور کی روشنی میں اس لفظ پر قیود و حدود عائد کرے گا؟ لفظ بظاہر عام ہوتا ہے لیکن قانون میں اس کا مخصوص مقام اسے خاص کردیتا ہے۔ لفظ بظاہر مطلق ہوتا ہے لیکن قانون میں اس کا مخصوص سیاق اسے مقید کردیتا ہے۔ پھر بات صرف اس ایک قانون کی نہیں ہوتی، بلکہ یہ قانون بھی پورے قانونی نظام کا ایک جزو ہوتا ہے اور اسی لیے جج کو اس ایک قانون کے اس ایک لفظ کے مفہوم کے تعین کےلیے دوسرے قوانین کا بھی جائزہ لینا پڑتا ہے اور پورے قانونی نظام میں اس مخصوص قانون کا مقام بھی متعین کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ اس مخصوص قانون میں وارد شدہ کسی مخصوص لفظ کا صحیح قانونی مفہوم متعین کرسکتا ہے۔

دوسرا سوال۔ تعبیرِ قانون کون کرے ؟

اب جبکہ تعبیرِ قانون کی ضرورت واضح ہوگئی ہے تو اگلا سوال یہ ہے کہ تعبیرِ قانون کا اختیار کسے ہے؟

اختیارات کی تقسیم کا نظریہ

مونٹیسکو نے یہ نظریہ دیا تھا کہ اختیارات کا ارتکاز کرپشن اور ظلم کا باعث بنتا ہے اور اس لیے سیاسی اختیارات کی تقسیم ضروری ہے۔ اس نے حکومت کی تین شاخیں ذکر کرکے ان کو الگ الگ تین طرح کے اختیارات دینے کی بات کی:

مقننہ قانون وضع کرے ؛
عدلیہ اس قانون کی تعبیر و تشریح کرے ؛ اور
انتظامیہ اس قانون کی تنفیذ کرے۔

نظری طور پر اس نے قرار دیا کہ یہ تینوں شاخیں ایک دوسرے سے الگ ہوں لیکن عملاً جب اس نظریے کو ریاست ہاے متحدہ امریکا کے دستور میں برتنے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ اس دستور میں قرار دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی صدر کا اختیار ہے، حالانکہ وہ انتظامیہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ نیز ان ججز کی تعیناتی کی منظوری سینیٹ دیتی ہے حالانکہ سینیٹ کانگرس کا، یعنی مقننہ کا، جزو ہے۔ پھر صدر انتظامی سربراہ ہونے کے باوجود جو انتظامی احکامات (executive orders)جاری کرتا ہے وہ قانون ہی کی حیثیت سے نافذ ہوتے ہیں، جب تک عدلیہ انھیں دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار نہ دے۔ اسی طرح قانون سازی کا اختیار کانگرس کےلیے مان لیا گیا لیکن سپریم کورٹ کا یہ اختیار مان لیا گیا کہ کانگرس کے وضع کردہ قانون کو دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دے۔

یوں اختیارات کی علیحدگی (separation of powers) کے ساتھ اس کا بھی بندوبست کیا گیا کہ حکومت کی یہ تینوں شاخیں ایک دوسرے پر نظر رکھ توازن قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اسے system of checks and balances کہا گیا۔ بعض اوقات یہ نظام توازن قائم کرنے کے بجاے تینوں شاخوں کے درمیان تصادم کی طرف بھی لے جاتا ہے۔ (ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل امیگریشن کے حوالے سے آرڈر جاری کیا جسے ایک فیڈرل جج نے کالعدم قرار دیا اور پھر ابتدائی جارحانہ ردرعمل کے باوجود ٹرمپ کو نیا آرڈر جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ )

برطانیہ میں بھی اصولی طور پر تو یہ مانا گیا ہے کہ قانون کی تعبیر کا اختیار عدلیہ کے پاس ہے لیکن وہاں عدلیہ نسبتاً مختلف حیثیت رکھتی ہے کیونکہ وہاں اس کا بنیادی کام “مقننہ کے ارادے کا تعین(determining the intention of the legislature)ہے اور اس کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ مقننہ کے وضع کردہ کسی قانون کو کالعدم قرار دے۔ البتہ یورپی یونین میں شمولیت اور بالخصوص یورپی معاہدہ براے حقوقِ انسانی کی توثیق کے بعد معاملہ تھوڑا مختلف ہوگیا کیونکہ برطانیہ نے خود پر لازم کردیا کہ وہ اپنے اس معاہدے کا نفاذ یقینی بنائے۔ چنانچہ اس معاہدے کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے حقوقِ انسانی کا قانون (Human Rights Act)منظور کیا جس کے تحت یہ اصول طے پایا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچے کہ کوئی برطانوی قانون اس معاہدے سے متصادم ہے تو وہ اس کے بارے میں سرٹیفیکیٹ دے اور معاملہ پارلیمنٹ کی طرف بھیج دے جو مناسب سمجھے تو قانون میں تبدیلی کرلے گی۔ گویا عدالتیں قانون کو کالعدم تو قرار نہیں دے سکتیں لیکن مخصوص حالات میں پارلیمنٹ کو کسی قانون پر نظرِ ثانی کےلیے کہہ سکتی ہے۔ (یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے –Brexit – کے بعد صورت حال کیا ہوگی ؟ یہ سوال بہت دلچسپ ہے لیکن سردست اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ )

عدلیہ کے پاس مقننہ کے وضع کردہ قانون کو کالعدم قرار دینے کا اختیار کہاں سے آیا؟ اس پر ذرا تفصیل سے بحث کی ضرورت ہے۔

وفاقی ریاست میں دستور اور سپریم کورٹ کی حیثیت

برطانوی دستور کا بنیادی مفروضہ یہ ہے کہ بالادستی پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ اس مفروضے کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے جس پر بحث کا موقع نہیں ہے لیکن مختصراً اتنا بتادینا کافی ہے کہ ابتدا میں بادشاہ کو مطلق اختیارات حاصل تھے جو صدیوں کے قانونی ارتقا کے نتیجے میں پارلیمنٹ کو منتقل ہوگئے جس کے بعد پارلیمنٹ کو مطلق اختیارات کا حامل مانا گیا۔

امریکا نے جب برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو ابتدا میں چند ریاستوں نے ایک ‘نیم وفاقی ‘(confederation)طرز کی ترتیب اپنائی جس میں ہر ریاست کو خودمختاری حاصل تھی لیکن چند اہم امور، بالخصوص دفاع، میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھی ہوئی تھیں۔ اس نظام کے پیچھے اصل مقصد برطانیۂ عظمیٰ کی طاقت کا مقابلہ کرنا تھا۔ چند سالوں میں معلوم ہوا کہ یہ نظام قابلِ عمل اور مقصد کے حصول کے لیے مفید نہیں ہے۔ چنانچہ اسے ‘وفاقی’ ریاست (federal state) میں تبدیل کیا گیا۔ اس نئی ریاست کی تشکیل میں ایک جانب الگ الگ ریاستوں کی اندرونی خودمختاری کو بھی مناسب اور ممکن حد تک محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی اور دوسری طرف ان ریاستوں کے اجتماع سے وجود میں آنے والی ‘وفاقی ریاست’ کو دفاع اور دیگر متعلقہ امور کے لیے مناسب اختیارات بھی دیے گئے۔ ان دوطرفہ مصالح کے تحفظ کے لیے ان ریاستوں نے آپس میں باقاعدہ تحریری معاہدہ کرکے اپنی آزادی پر کچھ قدغن قبول کیے اور ‘وفاق’ کےلیے کچھ اختیارات مان لیے۔ اس تحریری معاہدے کو ‘دستور’ (Constitution) کہا گیا۔

اس دستور/تحریری معاہدے کے ذریعے وفاق اور اس کی ‘اکائیوں ‘(federating units)کے درمیان قانون سازی کے اختیارات تقسیم کیے گئے اور پھر حکومت کی تین شاخوں – مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ – کے اختیارات الگ کیے گئے۔ یوں امریکی دستور کی دو بنیادی خصوصیات یہ قرار پائیں:

وفاق اور اکائیوں کے درمیان قانون سازی کے اختیارات کی تقسیم (distribution of legislative powers)؛ اور حکومت کی شاخوں کی الگ حیثیت (separation of powers)۔

نیز اس نظام میں بالادستی مقننہ کے بجاے اس تحریری معاہدے، یعنی دستور، کے لیے تسلیم کی گئی جس کے نتیجے میں یہ وفاقی ریاست وجود میں آئی۔ یہ امریکی دستور کی سب سے اہم خصوصیت قرار پائی جس نے اسے برطانوی نظام سے ممیز کیا، یعنی پارلیمنٹ کی بالادستی کے بجاے دستور کی بالادستی۔

اس دستور کی تعبیر و تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے لیے مان لیا گیا۔ اسی تعبیر و تشریح کے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگر مقننہ یا انتظامیہ دستور میں مقررہ حدود سے تجاوز کرکے کوئی قانون بنائے، یا کوئی انتظامی حکم جاری کرے، تو اس قانون یا حکم کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ حدود سے متجاوز (ultra vires)ہونے کی وجہ سے غیر دستوری ہوگا۔ یوں سپریم کورٹ کو “دستور کے محافظ” (Custodian of the Constitution)کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اس حیثیت سے سپریم کورٹ کو مقننہ اور انتظامیہ کے افعال پر “عدالتی نظرِ ثانی” (Judicial Review)کا حق مل گیا۔ اس حق کو استعمال کرتے ہوئے سپریم کورٹ، یا ریاستی اکائی کی سطح پر فیڈرل کورٹ، کسی قانون یا انتظامی حکم کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

پاکستان کے قانونی نظام میں صورت حال کیا ہے؟ اس پر الگ بحث کی ضرورت ہے۔

تیسرا سوال۔ پاکستان کے قانونی نظام میں تعبیر قانون کیسے کی جائے؟

نصابی کتب میں پاکستان کے قانونی نظام کی تاریخ ایسٹ انڈیا کمپنی کے چارٹر سے شروع کی جاتی ہے اور پھر مختلف قانونی دستاویزات سے ہوتے ہوئے بالآخر بات 1857ء کی جنگ تک آجاتی ہے جس کے بعد ہندوستان کو برطانیہ کی سلطنت میں شامل قرار دیا گیا اور اسے “برطانوی ہند”کہا جانے لگا۔ اس کے بعد انگریز حکومت کے دور میں نافذ کردہ مختلف قوانین کا ذکر کیا جاتا ہے جن کے ذریعے ایک طویل عرصے میں حکومتی اختیارات ٹکڑوں ٹکڑوں میں ہندوستان کے لوگوں کو منتقل کیے گئے۔ اس ساری کہانی میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی جب ہندوستان آئی تو یہاں کا نظامِ حکومت کس دستور پر قائم تھا اور اس کو کیسے بتدریج ختم کیا گیا۔ یہ ایک الگ کہانی ہے۔ بہرحال ہم انگریز دور پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

پاکستانی قانونی نظام کی مخصوص حیثیت

انگریز دور میں خصوصاً ذکر کیا جاتا ہے 1909ء کے ‘منٹو –مارلے ریفارمز’ کا اور پھر 1919ء کے ‘قانونِ حکومتِ ہند’ کا۔ اس مؤخر الذکر قانون کی رو سے ہندوستان میں ‘صوبوں’ کی سطح پر ‘دوہری حکومت’ (Diarchy) قائم کی گئی جس میں ایک طرف انگریز گورنر اور اس کی مجلسِ مشاورت ہوتی تھی اور دوسری طرف وزیرِ اعلی اور اس کی کابینہ ہوتی تھی۔ ‘قانونِ حکومتِ ہند 1935ء’ کے ذریعے اس نظام کو صوبوں سے تو ختم کیا گیا لیکن اسے ‘وفاق’کی سطح پر نافذ کیا گیا۔ 1935ء کے اس قانون کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس نے ہندوستان کو ‘وفاقی ریاست’ بنادیا اور صوبوں اور ‘شاہی ریاستوں’ (princely states)کو اس کے اجزا اور اکائیاں مان لیا گیا۔ اس قانون کے تحت ہندوستان میں ایک ‘وفاقی عدالت’ (Federal Court)بھی بنادی گئی۔ نیز مختلف علاقوں میں قائم ہائی کورٹس اور چیف کورٹس کو اس فیڈرل کورٹ کے ماتحت لایاگیا۔ 1947ء کے ‘قانونِ آزادیِ ہند’ کے ذریعے اسی 1935ء کے قانون کو نئی ریاستوں، بھارت اور پاکستان، کا عبوری دستور بنادیا گیا۔ یوں پاکستان ابتدا سے ہی ‘وفاقی ریاست ‘ ہے۔

پاکستان کی دستور سازی اسمبلی نے 1949ء میں ایک اہم دستاویز منظور کی جسے ‘قراردادِ مقاصد’ کہتے ہیں۔ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان کے دستور کے عمومی خدوخال واضح کیے گئے۔ دیگر امور کے علاوہ یہ بات بھی اس قرارداد میں کہی گئی کہ پاکستان کا دستوری نظام وفاقی ہوگا۔ یہی بات 1956ء کے دستور میں دہرائی گئی ؛ پھر ریاست کی وفاقیت کو 1962ء کے دستور نے بھی برقرار رکھا اور 1973ء کے دستور نے بھی۔ 1956ء کے دستور کے بعد سے ‘فیڈرل کورٹ’ کو ‘سپریم کورٹ’ اور ‘چیف کورٹ’ کو ‘ہائی کورٹ’ کہا جانے لگا۔

بہرحال پاکستان چونکہ وفاقی ریاست ہے، اس لیے یہاں بھی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مقننہ (پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی) کے وضع کردہ قانون کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دے کہ مقننہ نے اپنے دستوری حدود سے تجاوز کیا ہے۔ اس لیے پاکستان میں ‘پارلیمنٹ کی بالادستی’ کا نعرہ قانونی لحاظ سے بالکل ہی غلط ہے۔ وفاقی ریاست ہونے کی وجہ سے پاکستان میں پارلیمنٹ نہیں، بلکہ دستور بالادست ہے اور سپریم کورٹ کو دستور کے محافظ کی حیثیت حاصل ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ برطانوی نظام کی حد تک قابلِ قبول ہے لیکن وفاقی ریاست میں یہ بات نہیں مانی جاسکتی۔ پاکستان میں رائج زیادہ تر قوانین چونکہ برطانوی ہند سے وراثت میں ملے ہیں، اس لیے ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ پورے خلوص سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں کہ برطانیہ کی طرح یہاں بھی بالادستی پارلیمنٹ کو حاصل ہے لیکن یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ پاکستان کا دستور برطانیہ کے بجاے امریکا کے دستور کے قریب ہے کیونکہ برطانیہ وحدانی ریاست (unitary state)ہے جبکہ امریکا وفاقی ریاست ہے۔

پھر پاکستان صرف وفاقی ریاست ہی نہیں ہے بلکہ ‘اسلامی جمہوریہ’ بھی ہے۔ ملک کے دستور کی رو سے ملک کا نام ‘اسلامی جمہوریۂپاکستان’ ہے؛ یہاں کا ‘ریاستی مذہب’ اسلام ہے ؛ یہاں اللہ تعالیٰ کےلیے اقتدارِ اعلی تسلیم کیا گیا ہے اور مانا گیا ہے کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود کے اندر استعمال کیے جائیں گے ؛ یہ بھی مانا گیا ہے کہ یہاں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو اسلام سے متصادم ہو ؛ نیز موجودہ تمام قوانین سے وہ امور ختم کیے جائیں گے جو اسلام سے متصادم ہوں۔ اس مقصد کے لیے ایک خصوصی عدالت ‘وفاقی شرعی عدالت’ بھی قائم کی گئی ہے جسے یہ اختیار حاصل ہے کہ معدودے چند قوانین کے سوا دیگر تمام قوانین کا جائزہ لے کر ان کی ان دفعات کو کالعدم قرار دے جو اسلام سے متصادم ہوں۔

پس پاکستان کے قانونی نظام میں کسی قانون کی تعبیر کرتے ہوئے تین بنیادی امور عدالت کے سامنے مد نظر رہتے ہیں، یا رہنے چاہئیں :

ایک یہ کہ یہ بیش تر قوانین برطانوی ہند کا ورثہ ہیں اور ان کی تعبیر و تشریح کے لیے انگریزی کامن لا کے تصورات کا فہم ضروری ہے ؛
دوسرا یہ کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں مقننہ اور انتظامیہ کے افعال پر نظرثانی اور ان کی دستوری حیثیت کا اختیار ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کو حاصل ہے ؛ اور
تیسرا یہ کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جہاں تمام قوانین – جی ہاں، تمام قوانین – کی ایسی تعبیر ضروری ہے جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔

اس آخری نکتے کی مزید توضیح ضروری ہے۔

چوتھا سوال۔ “اسلامی جمہوریہ” میں تعبیرِ قانون کیسے کی جائے؟

انگریزوں نے جب ہندوستان کے مختلف علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم کرنا شروع کیا تو اس کے ساتھ انھوں نے عدالتی اور قانونی نظام پر بھی بتدریج قبضہ کرلیا۔ البتہ انھوں نے ‘شخصی امور’ میں عدم مداخلت کو ہی بہتر پالیسی سمجھا۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے ان امورمیں بھی مداخلت شروع کی اور مسلمان قاضی کے بجاے انگریز جج کو عدالتوں میں بٹھادیا، البتہ اس کی مدد کےلیے مفتی ہوتے تھے۔ پھر انھوں نے ہدایہ اور عالمگیری کے منتخب ابواب کا انگریزی میں ترجمہ کروایا تو مفتی بھی غیر ضروری ٹھہرے۔ اب ہوتا یہ تھا کہ مسلمانوں کے خانگی امور کا تصفیہ انگریز جج ہدایہ یا عالمگیری کے انگریزی ترجمے کی مدد سے کرتا اور اسلامی قانون کی تعبیر و تشریح کے لیے انگریزی قانون کے اصول استعمال کرتا۔ نتیجتاً جو قانون عدالتی نظائر کی صورت میں وجود میں آیا اسے ‘اینگلو-محمڈن لا’ کہا جانے لگا۔ یہی اینگلو-محمڈن لا اب بھی ہماری عدالتوں کے لیے بنیادی ماخذ ہے جس کی روشنی میں وہ عائلی امور کے مسائل کا تصفیہ کرتے ہیں۔

آزادی حاصل کرنے کے بعد معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیے تھا۔ اب ہمارے سامنے انگریزوں کے چھوڑے ہوئے بے شمار قوانین تھے جن کی تعبیر و تشریح ‘اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں ‘ ہونی چاہیے تھی۔ تاہم ہماری عدالتیں بدستور انگریزی کامن لا کے مفروضات پر عمل کرتی رہیں۔ قراردادِ مقاصد 1949ء کی منظوری کے بعد یہ سلسلہ رک جانا چاہیے تھا کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کےلیے اقتدارِ اعلی تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کرلیا۔ 1956ء، 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں ہم نے باقاعدہ اعلان کیا کہ پاکستان کے تمام قوانین کو اسلامی احکام سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ تاہم بدقسمتی سے آج تک یہ کام باقاعدہ طور پر شروع بھی نہیں کیا جاسکا۔

1991ء میں ‘قانونِ نفاذِ شریعت’ کی دفعہ 4 کے تحت قرار دیا گیا کہ پاکستان میں تمام قوانین کی تعبیر و تشریح ‘قرآن و سنت میں مذکور اسلامی احکام’ کی روشنی میں کی جائے گی۔ یہ بھی قرار دیا گیا کہ اگر کسی قانون کی دو تعبیرات ممکن ہوں تو وہ تعبیر اپنائی جائے گی جو اسلامی احکام سے ہم آہنگ ہو۔ اس قانون کے بعد تمام عدالتوں کی قانونی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر قانون کی تعبیر اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں کریں۔ تاہم وکلا بھی کبھی عدالت سے یہ نہیں کہتے کہ اس قانون پر عمل کریں، نہ ہی عدالتوں نے اس قانون پر عمل کی طرف توجہ دی ہے۔

اس عمومی قانون کے علاوہ کئی قوانین میں خصوصی طور پر لازم کیا گیا ہے کہ اس قانون کی تعبیر و تشریح اسلامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں کی جائے گی لیکن اس کے باوجود عدالتیں اس طرف متوجہ نہیں ہوتیں۔ ایک اہم مثال قصاص و دیت کا قانون ہے جو اس وقت مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کے باب 16 میں مذکور ہے۔ اس قانون کی دفعہ 338 – ایف میں تصریح کی گئی ہے کہ اس باب کے احکام اور دیگر متعلقہ احکام کی تعبیر و تشریح اسلامی احکام کے مطابق کی جائے گی لیکن اس کے باوجود عدالتیں اس سے پہلو تہی کرتی ہیں۔

عام طور پر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے سامنے جب اس طرح کا مسئلہ آجاتا ہے تو ہمارے فاضل جج یہ کہہ کر جان چھڑاتے ہیں کہ کسی قانون کے اسلامی احکام سے تصادم یا عدم تصادم کا فیصلہ کرنا وفاقی شرعی عدالت کا اختیار ہے اور یہ معاملہ وہاں اٹھایا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک عذرِ لنگ ہے کیونکہ سوال کسی قانون کے اسلامی احکام کے ساتھ تصادم (repugnancy) کا نہیں بلکہ اس قانون کی تعبیر (interpretation) کا ہے۔ یقیناً اسلامی احکام کے ساتھ تصادم یا عدم تصادم کا فیصلہ کرنا وفاقی شرعی عدالت کا کام ہے لیکن جہاں تک اسلامی قانون کی روشنی میں قانون کی تعبیر کا تعلق ہے تو یہ سپریم کورٹ وہائی کورٹس سمیت تمام عدالتوں کی قانونی ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: