اوریانیت اور عریانیت کے بیچ ہم سب: ثمینہ رشید

0
  • 146
    Shares

کہیں پڑھا تھا کہ حسین پھولوں کی قطار ہو یا مہکتے کھانوں کے خوان سجے ہوں، ایک مکھی کا پسندیدہ ٹھکانہ کچرے کا ڈھیر ہی ہوتا ہے۔ اس چھوٹی سی بات کو سمجھنے کے لئے کسی منطق کی کتاب کو پڑھنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسا کرنا اس کی فطرت ہے۔

سال گزشتہ کا ہی قصہ تھا شاید جب اسی طرح اوریا مقبول جان نے ایک اشتہار میں کرکٹ کھیلتی نوجوان لڑکی کے سراپے پر تنقید کی گو کہ تین سے چار سیکنڈ کے ایک کلپ میں اشتہار دیکھنے والا اس زاوئیے پر بھی غور کرسکتا ہے۔ یہ کافی ناقابلِ فہم پہلو تھا۔ پھر اس روئیے کو اوریانیت کا نام دے دیا گیا۔ اور اس پر سوائے چند فیصد کے سب متفق نظر آئے کہ مزکورہ بالا ایڈ میں ایسی کوئی چیز نہیں کے جسے فحاشی کا نام دیا جاسکے۔

اب چلئیے ایک اور قصہ کی جانب۔ عورت کی آزادی، خود مختاری اورحقوق کی بات کرنے والی ایک ویب سائیٹ کی جانب سے ایک انٹرنیشنل لیول کی ٹینس پلئیر کی سالگرہ کا اشتہار لگایا جاتا ہے۔ بلاشبہ ایک خوبصورت ٹیلنٹڈ پلیئر جس کے کھیل کی ایک دنیا مداح ہو اس کی سیکڑوں نہیں تو ہزاروں خوبصورت تصاویر انٹرنیٹ پہ موجود ہوں جن میں نہ صرف ٹینس کھیلنے کے لباس میں کئی شاندار تصاویر شامل ہوں بلکہ کئی مختلف مشرقی و مغربی لباس کی تصویروں کا بھی بہت بڑا کلیکشن شامل ہو۔ وہاں ویب سائٹ چلانے والے ایک ایسی تصویر کا انتخاب کریں جس پر اگر کسی بھی “متوازن” طرز فکر، صحیح آلدماغ انسان کی رائے لی جائے کہ “کیا یہ تصویر کسی کی سالگرہ کی مبارکباد کے میسج کے ساتھ لگائی جاسکتی ہے؟” تو وہ یقیناً اس سوال پوچھنے والے کو سر تا پیر تک ضرور دیکھے گا اور اسکی زہنی حالت پہ شبہ نہ سہی زہنی پسماندگی پہ ضرور تین حرف کہے گا۔

ایسی تصویر کے انتخاب پہ کسی بھی “متوازن” طرز فکر، صحیح آلدماغ انسان کی رائے لی جائے کہ “کیا یہ تصویر کسی کی سالگرہ کی مبارکباد کے میسیج کے ساتھ لگائی جاسکتی ہے؟” تو وہ یقیناً سوال پوچھنے والے کی زہنی حالت پہ شبہ نہ سہی زہنی پسماندگی پہ ضرور تین حرف کہے گا۔

لیکن کیا کیا جائے پھر وہی مثال یاد آتی ہے کہ مکھی تو مکھی ہے۔ پھولوں کے گلدستے سجے ہوں یا دسترخوان پہ کھانوں کی بہار ہو، اب اس کی فطرت میں گندگی کی طرف ہی لپکنا لکھا ہو تو وہ اسی کے آس پاس پائی جائے گی اس میں حیرت کیسی۔ اس لئے جب آپ اس نیوز پر نظر ڈالتے ہیں تو تصویر چننے سے لگانے کے مرحلے تک، لوگوں کے اندر کی مکھی بھی صاف نظر آتی ہے۔ جو خوبصورتی اور نفاست سے مزین تصاویر کو چھوڑ کر کے اپنی فطرت کی گندگی کو ظاہر کرتی تصویر کی طرف لپک لپک جاتی ہے۔ بھلا اس میں خلاف فطرت کیا ہے؟

ہاں، خلاف فطرت ایک بات ہوئی کہ جب نفیس طبع لوگوں نے اس پر اعتراض اٹھایا کہ یہ ہی تصویر کیوں، تو اصرار ہوا کہ یہ آپ کے دماغ کی گندگی ہے تصویر میں بھلا کیا نقص ہے؟ زور دیا گیا کہ ساری دنیا میں ٹینس اسی لباس میں اسی طرح کھیلی جاتی ہے۔

ہم نے کہا جناب اعتراض لباس پہ کب ہے؟ ہمیں فخر ہے کہ ثانیہ انٹرنیشنل لیول کی پلئیر ہیں۔ اعتراض تو بس اتنا ہے کہ یہ آپ کے زہن کی گندگی کی عکاسی کرتی تصویر کا سلیکشن ہم پہ زبردستی تھوپنے پر اصرار کیوں ہے؟

جواب آیا تصویر کے سلیکشن میں کوئی مسئلہ نہیں آپ کی عوام ہے ہی جنس زدہ، بلکہ جنسی مریض۔

سوال ہوا جناب آپ تو عورت کے حقوق اور آزادی اور اس کو بطور عورت عزت اور مقام دلوانے کے دعویدار تو پھر عورت کو ایسے پروڈکٹ بنانا؟ وہ بھی چند ٹکوں کی خاطر؟

جواب آیا یہ بھی عورت کی آزادی کا مظہر تصویر ہے بس آپ کے دیکھنے میں ہی کچھ خرابی ہے۔

یعنی آپ ایک تصویر لگائیں جو نہ صرف آپ کی فطرت کی عین عکاس ہو، آپ اس کے پس پردہ مقصد کا حصول یعنی پیسہ بھی بناتے رہئیے اور خرابی اس کی نظر میں جو آپ کو آئینہ دکھا دے۔ آپ سے سوال کر بیٹھے کہ صاحب یہ کون سی عورت کی عزت ہے؟ سوال گندم، جواب چنا۔

ایسے جوابات سن کر ہم نے سوچا کہ یہ کوشش ترک ہی کردینی چاہئے کیونکہ مکھی اپنی فطرت سے مجبور، گندگی کی طرف ہی لپکے گی۔ اسکے لئے اپنی پسند کی جگہ کو گندہ سمجھنا تو مشکل ہے تو بہتر یہی ہے مکھی کو گندگی پر ہی مزے سے رہنے دیا جائے۔

لیکن ایسا تب ہی ممکن ہے جب گندگی کے یہ ڈھیر ہمارا راستہ نہ روکیں۔ کیونکہ کبھی کبھی کا صرفِ نظر تو آسان کام ہے لیکن روز کا یہی چلن ہوگا کہ نیم عریاں تصاویر، فحش قصوں کو ہی رینکنگ کا آلہ کار بنالیا جائے گا تو سوال بھی اٹھیں گے اور تعفن زدہ سوچ پر اعتراض بھی کرنا ہوگا کہ کہیں یہ کچرہ ہمارے گلی کوچوں میں ہی اس طرح نہ پھیل جائے کہ لوگوں کا رستے پر چلنا ہی مشکل ہوجائے۔

اب ہمارے ایک طرف اورانیت ہے دوسری طرف عریانیت، ایک نے اشتہار کے اصل میسیج سے توجہ فحش ویڈیو کہہ کر دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی تھی تو ہم نے اسے بھی مسترد کردیا تھا۔
آج آپ کے گروہ نے سالگرہ کے نام پر عریانیت کی طرف توجہ کروا کر رینکنگ بڑھانے کا شوق پورا کیا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے آپ نے اپنی فطرت کے مطابق تصویر کا انتخاب بھی کیا ہے تو ہم اس کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

بس عرض اتنی ہے کہ پرفارمنگ آرٹ کے نفیس آرٹسٹوں کے بیچ اگر نچلے درجے کے تھیٹر والی پرفارمنس اور جگتیں چلا کر مجمع جمع ہونے پر خود کو نمبر ون بتایا تو کیا بتایا۔ کہ یہ مقابلہ تو سرے سے بنتا ہی نہیں۔

مہنگی خوشبوؤں کے بازار میں سستا عطر اگر آواز لگا کر مجمع جمع کرکے بھی بیچا تو کیا سستا عطر مہنگے پرفیوم کی جگہ لے سکتا ہے؟ کیونکہ دونوں کے خریدار ہی الگ تو دونوں کے منافع کا آپس میں مقابلہ ہی کیا۔

بہتر ہے کہ یہ نچلے درجے کی تھئیٹر پرفارمنس اور سستا عطر انہی بازاروں میں بیچا جائے جہاں ان کی مانگ ہے۔ یہ جگہ اس کام کے لئے مناسب نہیں جہاں کے کسٹمر کو آپ کے دوکان کے سامنے سے ناک پہ کپڑا رکھ کر چلنے کی مشکل پیش آئے۔

ہم کل اوریانیت کے بھی خلاف تھے اور ہم آج عریانیت کے بھی خلاف ہیں۔ کیونکہ ان دونوں کی سمت مخالف ضرور ہے لیکن منزل بہرحال ایک ہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: