علامہ اقبال کی سیاسی جدوجہد میں خطبہ الہ آباد کا تسلسل (دوسرا حصہ) : ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

0

 

1937ء کا یہ خط واضح کرتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ اور آزاد ریاست کے قیام کے موقف پر علامہ زندگی بھر قائم رہے۔ اسلامی قانون کے نفاذ اور آزاد اسلامی ریاستوں کا ذکر کر کے علامہ نے واضح کر دیا کہ مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے اسلامی قانون کا نفاذ ضروری ہے اور اسلامی قانون کے نفاذ کےلیے آزاد ریاست کا قیام ضروری ہے۔ جب 1936-37ء میں کانگرس کو کامیابی حاصل ہوئی تو پنڈت نہرو نے مسلم لیگ کے سیاسی وجود سے ہی انکار کر دیا اور مسلم ر ابطہ عوام تحریک شروع کر دی تا کہ مسلم عوام کو اپنے دام میں پھنسایا جائے۔ علامہ اقبال نے اس موقع پر 20مارچ 1937ء کو قائد عظم کو مشورہ دیا کہ: سیاسی مطمع نظر کی حیثیت سے مسلمانان ہند جداگانہ سیاسی وجود رکھتے ہیں۔ یہ انتہائی ضروری ہے کہ اندرون اور بیرون ہند کی دنیا کو بتا دیا جائے کہ ملک میں صرف اقتصادی مسئلہ ہی نہیں بلکہ اسلامی نقطہ نگاہ سے تہذیب اسلامی کا مستقبل ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے اپنے اندر زیادہ اہم نتائج رکھتا ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ علامہ کے ا س مشورے کی پوری بازگشت ہمیں قائد اعظم کے مارچ 1940ء کے قراردار پاکستان کےاجلاس کے خطاب میں نظر آتی ہے۔ 28 مئی 1937ء کے خط کے آخر میں علامہ قائد اعظم کے نام لکھتےہیں:

“مسلم ہندوستان کے ان مسائل کا حل آسان طور پر کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کو ایک یا زیادہ مسلم ریاستوں میں تقسیم کیا جائے جہاں پر مسلمانوں کی واضح اکثریت ہو۔ کیا آپ کی رائے میں اس مطالبہ کا وقت نہیں آ پہنچا۔ شایدجواہر لال نہرو کی لا دین اشتراکیت کا آپ کے پاس یہ ایک بہترین جواب ہے۔ ”

اسی طرح 21 جون 1937ء کو قائد اعظم کے نام خط میں علامہ نے وفاق ہند کی تجویز کو بیکارقرار دیا اور بڑے ہی پر زور الفاظ میں آزاد ریاست کے موقف کا اعادہ کیا، جسے وہ خطبہ الہ آباد میں پیش کر چکے تھے:

“کانگریس کے صدر نے تو غیر مبہم الفاظ میں مسلمانوں کے جداگانہ سیاسی وجود سے ہی انکار کر دیا ہے۔ ہندووں کی دوسری سیاسی جماعت یعنی مہاسبھا نے جسے میں ہندو عوام کی حقیقی نمائندہ سمجھتا ہوں بارہا اعلان کیا ہے کہ ہندوستان میں ایک متحدہ ہندو مسلم قوم کا وجود ناممکن ہے۔ ان حالات کے پیش نظر بدیہی حل یہی ہے کہ ہندوستان میں قیام امن کے لیے ملک کی از سر نو تقسیم کی جائے۔ جس کی بنیاد نسلی، مذہبی اور لسانی اشتراک پر ہو۔ بہت سے برطانوی مدبرین بھی ایساہی محسوس کرتے ہیں اور اس دستور کے ذیل میں جو ہندو مسلم فسادات چلے آ رہے ہیں وہ ان کی آنکھیں  کھولنے کے لیے کافی ہیں کہ ملک کی حقیقی صورتحال کیا ہے؟ مجھے یاد ہے کہ انگلستان سے روانگی سے قبل لارڈ لوتھیان نے مجھے کہا تھا کہ میری سکیم میں ہندوستان کے مصائب کا واحد حل ہے لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے ۲۵ سال درکار ہیں۔ پنجاب کے کچھ مسلمان شمال مغربی ہندوستان میں مسلم کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کر رہے ہیں اور یہ تجویز تیزی سے مقبولیت اختیار کر رہی ہے۔ مجھے آپ سے اتفاق ہے کہ ہماری قوم ابھی اتنی زیادہ منظم نہیں ہوئی اور نہ ہی ان میں اتنا نظم وضبط ہے اور شاید ایسی کانفرنس کے انعقاد کا ابھی موزوں وقت بھی نہیں لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ آپ کو اپنے خطبہ میں کم از کم اس طریق عمل کی طرف اشارہ  ضرور کر دینا چاہیے جو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآخر اختیار کرنا پڑے گا۔ میرے خیال میں تو نئے دستور میں ہندوستان بھر کو ایک ہی وفاق میں مربوط رکھنے کی تجویز بالکل بے کار ہے۔ مسلم صوبوں کے ایک جداگانہ وفاق کا قیام اس طریق پر جس کا میں نے اوپر  ذکر کیا ہے صرف واحد راستہ ہے جس سے ہندوستان میں امن و امان قائم ہو گا اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے غلبہ و تسلط سے بچایا جا سکے گا۔ کیوں نہ شمال مغربی ہندوستان اور بنگال کے مسلمانوں کو علیحدہ اقوام تصور کیا جائے جنہیں ہندوستان اور بیرون ہندوستان کی دوسری اقوام کی طرح حق خوداختیاری حاصل ہو۔ ”

یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ علامہ نے یہ خطوط قائد اعظم کو اس حیثیت میں لکھے کہ وہ انہیں مسلمانان ہند کا نجات دہندہ سمجھتے تھے اور انہیں یقین تھا کہ قائد اعظم ہی اس طوفان بے یقینی میں مسلمانوں کو منزل تک پہنچاسکتے ہیں۔ اور یہ تمام خطوط قائد اعظم کو بصیغہ راز لکھے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خطوط جو قائد اعظم نے علامہ اقبال کو لکھے تھے وہ کہیں دستیاب نہیں ہیں۔  ان ناگفتہ بہ حالات کا اظہار ان خطوط میں بھی کیا گیا ہے۔ ۲۱ جون ۱۹۳۷ء کے خط میں علامہ لکھتے ہیں:

“ہم فی الحقیقت خانہ جنگی کی حالت ہی میں ہیں اگر فوج اور پولیس نہ ہو تو یہ خانہ جنگی دیکھتے ہی دیکھتے پھیل جائے گزشتہ چند ماہ سے ہندو مسلم فسادات کا ایک سلسلہ قائم ہو چکا ہے۔ صرف شمال مغربی ہندوستان میں گزشتہ تین ماہ میں کم از کم تین فرقہ وارانہ فسادات ہو چکے ہیں اور کم از کم چار وارداتیں ہندووں اور سکھوں کی طرف سے توہین رسالت کی ہو چکی ہیں۔ ان چاروں مواقع پر رسول کی اہانت کرنے والوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ ”

میں اپنی وفات سے تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے 9  مارچ 1938ء  کوعلامہ کا مضمون “جغرافیائی حدود اور مسلمان” شائع ہوا تھا جس میں تصور قومیت کے بارے میں جملہ شبہات کا ازالہ کیاگیا تھا۔ اس مضمون میں علامہ اقبال انگریزوں سے آزادی کے ساتھ ساتھ ہندووں کے تسلط سے نجات بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ آزادی اور الگ وطن کا حصول علامہ کے نزدیک کسی مقصد کے لیے ہے اور وہ مقصد ہے اسلام اور مسلمانوں کو مضبوط اور مستحکم کرنا۔ اس مضمون کا اختتام علامہ نے ان الفاظ پر کیا:

“مسلمان ہونے کی حیثیت سے انگریز کی غلامی کے بند توڑنا اور اُس کے اقتدار کا خاتمہ کرنا ہمارا فرض ہے۔ اور اس آزادی سے ہمارا مقصد یہی نہیں کہ ہم آزاد ہوجائیں، بلکہ ہمارا اول مقصد یہ ہے، اسلام قائم رہے اور مسلمان طاقتور بن جائے۔ اس لیے مسلمان کسی ایسی حکومت کے قیام میں مددگار نہیں ہوسکتا، جس کی بنیادیں انھیں اصولوں ہوں جن پر انگریزی حکومت قائم ہے۔ ایک باطل کو مٹا کر دوسرے باطل کو قائم کرنا چہ معنی دارد؟

ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کلیتاً نہیں تو ایک بڑی حد تک دارالاسلام بن جائے۔ لیکن اگر آزدایِ ہند کا نتیجہ یہ ہو کہ جیسا دارالکفر ہے ویسا ہی رہے، یا اُس سے بھی بدترین بن جائے، تو مسلمان ایسی آزادیِ وطن پر ہزار مرتبہ لعنت بھیجتا ہے ایسی آزادی کی راہ میں لکھنا، بولنا، روپیہ صرف کرنا، لاٹھیاں کھانا، جیل جانا، گولی کا نشانہ بننا سب کچھ حرام اور قطعی حرام سمجھتا ہے۔ ”

علامہ کی زندگی کی یہ آخری نثری تحریر ان کے خطبہ الہ آباد کے موقف کی تکمیل ہے۔ مغالطے اس وقت ہی پیدا ہوتے ہیں جب مخصوص مفادات کے تحت حقائق کو مسخ کر کے اور سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جائے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: