علامہ اقبال کی سیاسی جدوجہد میں خطبہ الہ آباد کا تسلسل (حصہ اول): ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

0
  • 56
    Shares

خطبہ الہ آباد کو ہماری جدوجہد آزادی میں میگنا کارٹا کی حیثیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال نے ا س خطبہ میں سیاسی، معاشی، تہذیبی اور جغرافیائی استدلال کےساتھ مسلمانان برصغیر کے لیے ایک الگ وطن کی تجویز پیش کی۔ اس خطبے کے بعد بھی علامہ کی سیاسی فکر اور جدوجہد میں اس موقف کا تسلسل رہا جو انہوں نے دسمبر 1930ء کے خطبہ الہ آباد میں پیش کیا تھا۔ علامہ نے یہ موقف مختلف مواقع پر مختلف انداز سے پیش کیا مگر اس کا مقصود یہی تھا کہ مسلمانان ہند کو انگریز او رہندو کی غلامی سے مکمل آزادی حاصل ہو اور وہ بتدریج اپنے آزاد وطن کے مالک بنیں جہاں وہ اپنے نظریہ حیات کے مطابق نظام زندگی طے کر سکیں۔

جن حالات میں علامہ نے خطبہ الہ آباد دیا، وہ حالات اس تجویز کی اہمیت کو سمجھنے اور بعد ازاں ا س کے تسلسل کی مختلف صورتوں کی تفہیم میں مدد کرتے ہیں۔ نہرو رپورٹ میں جداگانہ طریق انتخاب کی منسوخی اور وحدانی طرز حکومت پر زور بڑھ رہا تھا۔ اس اثر کو کم کرنے کے لیے آل انڈیا پارٹیز مسلم کانفرنس دہلی کی قرار داد کو ڈھال بنایا گیا تھا کہ مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔ چونکہ 1930ء  میں کانگرس حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کر چکی تھی، کانگرس کے رویے اور مسلمانوں کےساتھ طرز عمل سے مسلم زعما  اس سے مایوس ہو چکے تھے۔ اندریں حالات قرارداد دہلی کی رو سے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی آبادی کے لحاظ سے نمائندگی، سرحد او ربلوچستان میں اصلاحات کا نفاذ اور سندھ کی بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی جیسے مسلمانوں کے مطالبات انگریزوں سے منوا لینا مسلمانوں کے عین مفاد میں تھا۔ کیونکہ انہی مطالبات کے تسلیم کیے جانے پر مسلمانوں کے الگ تشخص کا تحفظ ہو سکتا تھا۔ دہلی کانفرنس کی قرار داد توثیق کے لیے کانگریس کو بھیجی گئی۔ کانگریس  کی ورکنگ کمیٹی نے اس کا جائزہ لیا اور اسے کانگریس کونسل کے اجلاس میں پیش کر دیا جس کی صدارت سری نواس آینگر کر رہے تھے۔ قرارداد پر غور و بحث کے بعد اس کی تجاویز منظور کر لی گئیں۔ مگر بعد ازاں نہرو رپورٹ اور پھر 22 دسمبر 1928ء کو کلکتہ کے کل جماعتی قومی کنونشن میں ان تجاویز اور قائد اعظم کی دیگر ترامیم کو یکسر مسترد کر دیا گیا اور قائد اعظم کو یہ کہنا پڑا کہ ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ مزید برآں دوسری گو ل میز کانفرنس میں ہندو مسلم اتحاد کی کوششوں کے ناکام ہو جانے پر مسلمانوں کے پاس اس کے سوا کوئی  چارہ بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی راہ اختیار کریں بلکہ جب گول میز کانفرنسوں کی ناکامی پر اگست 1932ء میں حکومت برطانیہ کی جانب سے کیمیونل ایوارڈ کا اعلان ہوا اور مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے نشستیں ملیں اور پست اقوام کو بھی مراعات دی گئیں تو گاندھی نے وزیر اعظم کو خط لکھا کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق ایوارڈ میں ترامیم نہ کی گئیں تو وہ 28ستمبر سے مرن برت شروع کر دیں گے۔

مسلمانوں کے الگ ریاست کے مطالبے پر ہندوں نے پان اسلام ازم کا شوشہ کھڑا کر کے انگریزوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ مسلمان اپنی ا س تحریک کے ذریعے انگریزوں کو برصغیر سے بے دخل کر کے اپنی سلطنت کا احیا چاہتے ہیں اور انگریز بھی یہی سمجھتے تھے کیونکہ انہوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی۔ 1857ء کی جنگ آزادی کو جب انگریزوں نے غد رکا نام دیا تو ا س کاذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا تھا نتیجتاً ہندو انگریزوں کے غضب سے بالکل محفوظ رہے تھے۔

ا س پورے سیاسی ماحول پر مسلمانوں کے بارے میں ا س طرح کے تاثرات اور پان اسلام ازم کا اثر غالب تھا۔ جب ترکی میں انگریز خلافت کو جڑ سے اکھاڑ رہے تھے تو وہ ان کا یہی خوف تھا کہ مسلمان متحد ہو کر عالمی برادری کی صورت نہ اختیار کر لیں۔ وہ مسلمانوں کا ایک مرکز پر جمع ہونا اپنے لیے موت تصور کرتے تھے۔ یہی وہ ماحول تھا کہ جب علامہ دوسری گو ل میز کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے تو بمبئی کرانیکل کے نامہ نگار کا علامہ سے سوال پان اسلام ازم کے حوالے سے ہی تھا۔

دوسری گول میز کانفرنس کے دوران ایڈروڈ تھامسن نے ٹائمز میں خط شائع کروایا۔ اپنے خط میں تھامسن نے علامہ اقبال کی تجویز کو پان اسلامی سازش قرار دیا۔ ایڈروڈ تھامسن کا خط 3 اکتوبر 1931ء کو شائع ہوا جس کا عنوان ہی Pan-Islamic Plotting تھا۔ تھامسن کی بدنیتی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ بعد ازاں اس نے علامہ سے یہ بیان منسوب کر دیا کہ Pakistan would be injurious to India as a whole and to Muslim specially اور اس حوالے سے یہی بیان نہرو کی Discovery of India میں دہرایا گیا۔ تھامسن نے یہ من گھڑت افسانہ اپنی کتاب “ہندوستان کو آزادی کے لیے تیار کرو” میں تحریر کیا جو لندن سے 1940ء میں شائع ہوئی۔ تھامسن نے اسی طرح کے خیالات دو سال بعد 1942 میں اپنی کتاب “عصر حاضر کے ہندوستان میں اخلاقی تخیلات” میں دہرائے مگر اس نے یہ سارے جھوٹ اس وقت بیان کیے جب علامہ اس کی تردید کے لیے موجود نہ تھے۔ بلکہ تھامسن کے ان مفروضہ بیانات کی تائید نہ تو علامہ کے ٹائمز میں شائع ہونے والے خط سے ہوتی ہے نہ ہی بعدازاں علامہ کی سیاسی فکر اور حکمت عملی سے۔ علامہ کا 10 اکتوبر 1931 ء کا خط جو تھامسن کے جواب میں ٹائمز میں 12اکتوبر 1931ء کو شائع ہوا س میں علامہ نے لکھا:

I am all for a redistribution of India into provinces with effective majorities of one community or another on lines advocated both by the Nehru and the Simon Reports. Indeed, my suggestion regarding Moslem provinces merely carries forward this idea. A series of contented and well-organized Moslem provinces on the North-West Frontier of India would be the bulwark of India and of the British Empire against the hungry generations of the Asiatic highlands.

“میں ہندوستان کے ایسے صوبوں کی از سر نو تقسیم کا حامی ہوں جن میں کسی ایک فرقہ کی موثر اکثریت ہو۔ جس کی تائید نہرو اور سائمن رپورٹ نے بھی کی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مسلم صوبوں کے متعلق میری تجویز اسی تصور کو آگے بڑھاتی ہے۔ ہندوستان کی سرحد پر مطمئن اور منظم مسلم صوبوں کا ایک سلسلہ سطح مرتفع ایشیا کی بھوکی نسلوں کے خلاف ہندوستان کے لیے اور برطانوی سلطنت کے لیے )اگر یہ بندوبست سلطنت برطانیہ کے اندر ہوا تو ( ایک فصیل ثابت ہو گا۔ “

اس خط میں redistribution کا لفظ بتا رہا ہے کہ پان اسلام ازم کے نام پر تمام تر مخالف پراپگینڈے کے باوجود علامہ کا موقف بدستور وہی تھا جو انہوں نے خطبہ الہ آباد میں پیش کیا تھا۔ پھر دوسری گول میز کانفرنس میں علامہ نے کھلے اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ صوبوں کو مکمل خود مختاری دی جانی چاہیے، لیکن ہندستان میں ان کا کوئی مشترکہ مرکز نہ ہو اور وہ آزاد ریاستیں ہوں۔ قائد اعظم کے ساتھ اس کے بعد ہونے والی مراسلت میں جسے بعد ازاں خود قائد اعظم نے 27 مارچ 1943ء کو اپنے پیش لفظ کے ساتھ لاہور سے شائع کروایا، علامہ کے اسی موقف کا تسلسل نظر آتا ہے۔ 28 مئی 1937ء کو قائد اعظم کے نام لکھا:

“خوش قسمتی سے اسلامی قانون کے نفاذ میں ا سکا حل موجود ہے او ر موجودہ نظریات کی روشنی میں مزید ترقی کا امکان ہے۔ اسلامی قانون کے طویل اور عمیق مطالعہ کے بعد میں ا س نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر اس نظام قانون کو اچھی طرح سمجھ کر نافذ کیا جائے تو ہر شخص کے لیے کم از کم حق معاش محفوظ ہو جاتا ہے۔ لیکن شریعت اسلام کا نفاذ اور ارتقاء ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے بغیر اس ملک میں ناممکن ہے۔ سالہاسال سے یہی میرا عقیدہ رہا ہے اور اب بھی میرا ایمان ہے کہ مسلمانوں کی غربت اور ہندوستان میں امن و امان کا قیام اسی سے حل ہو سکتا ہے۔ اگر ہندوستان میں یہ ممکن نہیں تو پھر دوسرا متبادل راستہ صرف خانہ جنگی ہے جو فی الحقیقت ہندوو مسلم فسادات کی شکل میں کچھ عرصہ سے جاری ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ملک کے بعض حصوں مثلاً شمال مغربی ہندوستان میں فلسطین کی داستان دہرائی جائے گی۔ جواہر لال نہرو کی اشتراکیت کا ہندووں کی ہیئت سیاسیہ کے ساتھ پیوند بھی خود ہندووں کے آپس میں خون خرابہ کا باعث ہو گا۔ “

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: