تاریخ کا قتل: ڈاکٹر طاہر حمید تنولی

0

دانش اقبال

ڈاکٹر طاہر حمید تنولی ماہر اقبالیات ہیں جنکے سماجی اور ادبی کالم ملکی اخبارات کی زینت بنتے ہی۔ ڈاکٹر تنولی کے مضامیں آیندہ سے دانش پہ بھی مستقل شایع ہونگے۔ (ایڈیٹر دانش)


پاکستان کے ہر قومی دن کے موقع پر تاریخ دانی اور دانشوری کے علم برداروں کی طرف سے کوئی ایسی بات ضرور سننے کو ملتی ہے جو تاریخ شناسی کی بجائے تاریخ سازی کے مصداق زیادہ ہوتی ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال حالیہ 23 مارچ کو بھی دیکھنے کو ملی۔ 23 مارچ کو ایک نیوز چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا کہ قرار داد پاکستان کا مسودہ مسلم لیگ کے لاہور کے اجلاس میں 23 مارچ 1940 ء کو پیش کرنے سے پہلے وائسرائے کو منظوری کے لیے بھیجوایا گیا اور وائسرائے کی طرف سے منظوری کے بعد شیر بنگال اے کے فضل حق نے اجلاس میں یہ قرارداد پڑھ کر سنائی۔ بعدازاں ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے مضمون میں ایک سابق سفارتکار نے لکھا نہ تو قائد اعظم ایک الگ وطن کا قیام چاہتے تھے اور نہ ہی علامہ اقبال نے کبھی خطبہ الہ آباد میں مسلمانوں کی آزادی کی بات کی!

بریں عقل و دانش ببیاید گریخت! مسلمانان ہند کی جدوجہد آزادی کی اس سے زیادہ توہین نہیں ہو سکتی کہ یہ کہا جائے کہ 23 مارچ 1940 ء کو پیش کی جانے والی قرارداد کو وائسرے ہند کی رضامندی حاصل تھی۔ اور نہ ہی اس سے بڑھ کر تاریخ سے لاعلمی یا علمی بددیانتی کا کوئی مظہر ہو سکتا ہے کہ علامہ اقبال کے بارے میں یہ رائے دی جائے کہ انہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی بات نہ کی تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اقبال تو پہلے دن سے ہی مسلمانوں کی الگ نمائندگی اور ان کے الگ تشخص کے تحفظ کے حامل تھے۔ مسلم لیگ کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا باعث یہی موقف تو تھا۔ مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کے حق پرزور کے موقف کے باعث ہی مسلم لیگ جناح لیگ اور شفیع لیگ میں تقسیم ہو گئی۔ حتی کہ قائد اعظم کی سیاسی زندگی کے وہ دو اقدامات جنہیں پورا ہندوستان تحسین کی نظر سے دیکھ رہا تھا اور جن اقدامات کے باعث قائد اعظم کو ہندو مسلم اتحاد کا سفیر قرار دیا جا رہا تھا اقبال کی مسلسل تنقید کی زد میں تھے۔ قائد اعظم کے یہ اقدامات میثاق لکھنو اور تجاویز دہلی تھے۔ مگر علامہ اقبال نے اپنے خطبہ الہ آباد میں کہا کہ جناح کے ان دونوں اقدامات کی حیثیت دو ایسے گڑھوں کی سی ہے کہ اگر مسلمان ان گڑھوں میں گر گئے تو وہ کبھی بھی ان سے نہ نکل سکیں گے اور ان کا مقدر صرف ہندوو ¿ں کی غلامی رہ جائے گا۔ موجودہ 23 مارچ کو پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا حاصل یہ ہے کہ ہمارے ان ’مہربانانِ وطن‘ نے درج ذیل تاریخی حقائق کو کمال ڈھٹائی اور بددیانتی سے مسخ کرنے کی کوشش کی:

۱۔            علامہ اقبال ہمیشہ مسلمانوں کے الگ تشخص کی بقا اور تحفظ کے لیے مصروف جدوجہد رہے۔

۲۔            خطبہ الہ آباد ہماری قومی تاریخ کی وہ دستاویز ہے جس میں پہلی مرتبہ ایک الگ اور آزاد وطن کے قیام کی بنیادی رکھ دی گئی اور مسلمانان ہند کی منزل کا واضح تعین ہو گیا۔

۳۔            قرار داد پاکستان، کسی بھی صورت میں کسی استعماری طاقت یا انگریز وائسرائے کے ذہن کی پیداوار نہیں بلکہ یہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کا تسلسل، ہندوو ¿ں کی مسلمان دشمنی کا رد عمل اور مسلمانوں کے سیاسی شعور کی بیداری کا ایک منطقی نتیجہ تھی۔

مسلمانوں کے الگ تشخص کی بقا اور مکمل آزادی کے حصول کے لیے اقبال کتنے حساس تھے اس کا اندازہ خطبہ الہ آباد سے ہوتا ہے۔ علامہ نے اس خطبے میں فرمایا:

” یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام بطور ایک اخلاقی نصب العین اور سیاسی نظام مسلمانانِ ہند کی تاریخ کا اہم ترین جزو ترکیبی رہا ہے۔ اس اصطلاح سے میری مراد ایک ایسا معاشرتی ڈھانچہ ہے جس کا نظم و ضبط ایک مخصوص اخلاقی نصب العین اور نظام قانون کے تحت عمل میں آتا ہے۔ اسلام ہی نے وہ بنیادی جذبات اور وفاکیشی فراہم کی جو منتشر انسانوں اور گروہوں کو بتدریج متحد کرتی ہے اور انھیں ایک اپنا اخلاقی شعور رکھنے والی متمیّز و معین قوم میں تبدیل کر دیتی ہے۔ حقیقت میں یہ کہنا کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ دنیا بھر میں شاید ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں اسلام ایک بہترین مردم ساز قوت کی حیثیت سے جلوہ گر ہوا ہے۔ دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی اسلامی معاشرہ تقریباً پوری طرح ایک مخصوص اخلاقی نصب العین کی ثقافت سے بنا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلم معاشرہ اپنی نمایاں ہم آہنگی اور اندرونی اتحاد کی جس صورت میں ارتقا پذیر ہوا ہے، وہ ان قوانین اور اداروں کے باعث ہے جو اسلامی ثقافت سے وابستہ ہیں۔ مغرب کے سیاسی فکر نے جن خیالات کو پیش کیا ہے، ان سے اب ہندوستان اور ہندوستان سے باہر مسلمانوں کی موجودہ نسل کا نقطہ نظر تیزی سے بدل رہا ہے۔ ہمارے نوجوان ان افکار سے متاثر ہوکر یہ چاہتے ہیں کہ ان کے ممالک میں بھی ایسے ہی افکار زندہ قوت بن جائیں لیکن وہ ان حقائق پر گہری نگاہ نہیں رکھتے جو جن کی بنا پر یورپ میں ان افکار نے نشوونما پایا۔ “

خطبہ الہ آباد میں ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کی ناگزیریت کا ذکر کرتے ہوئے اقبال نے کہا:

”میری خواہش ہے کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ریاست بنا دیا جائے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مربوط مسلم ریاست، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے یا اس کے باہر، ہندوستان کے شمالی مغربی مسلمانوں کا آخرکار مقدر ہے۔ “

23 مارچ کے ہونے والے ملسم لیگ کے اجلاس میں قائد اعظم کے خطاب کی تفصیلات کو دیکھیں تو وہ علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد ہی کا اعادہ نظر آتا ہے۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قائد اعظم کا یہ خطاب فی البدیہہ تھا۔ قائد اعظم کا یہ خطاب مسلمانوں کے جذبات کا عکاس تو تھا ہی، یہ اس امر کا بھی واضح ثبوت ہے کہ قائد اعظم برصغیر میں مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کی بقا، مکمل آزادی اور الگ وطن کے قیام کی ناگزیریت سے کتنے آگاہ تھے اور ان کی اقبال کے افکار سے کتنی ہم آہنگی تھی۔

قرار داد پاکستان کے آخری پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ:

This session further authorizes the Working Committee to frame a scheme of constitution in accordance with these basic principles, providing for the assumption finally by the respective regions of all powers such as defense, external affairs, communications, customs and such other matters as may be necessary.

یعنی یہ اجلاس ورکنگ کمیٹی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ان بنیادی اصولوں کی روشنی میں ایسا آئینی خاکہ تیار کرے جس کے تحت متعلقہ شعبوں مثلاً دفاع، امور خارجہ، مواصلات، کسٹم اور دوسرے امور میں اقدامات کیے جا سکیں۔ قرار داد کا یہ آخری پیراگراف مسلم قیادت اور قائد اعظم کے نقطہ نظر کی نمایاںطور پر وضاحت کرتا ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ ایک الگ وطن کے قیام کا مطالبہ پوری سنجیدگی کے ساتھ کر رہی تھی اور عملی طور پر اس مطالبہ کو رو بہ عمل کرنے کے لیے بھی پوری طرح تیار تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس اجلاس کے فوراً بعد قائد اعظم نے ایک دستور ساز کمیٹی تشکیل دی جس نے عبوری طور پر ایک مسودہ تیار کیا۔ اس کا ۰۶ صفحات پر مشتمل خلاصہ راغب احسن نے تیار کیا جو اس کمیٹی کے رکن تھے اور یہ خلاصہ مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری خان لیاقت علی خان کو پیش کیا گیا۔ اس دستور میں مستقبل کی آزاد مسلم ریاست کے نظام حکومت، آئینی، دستوری اور نظریاتی بنیادوں اورپاکستان کے علاقائی اور عالمی کردار تک کو بڑی وضاحت سے بیان کر دیا گیا۔ مزید برآں آل انڈیا مسلم لیگ نے پورے ہندوستان سے منتخب ہونے والے اپنے اراکین اسمبلی کے ۶۴۹۱ءکے اجلاس میں قرار داد لاہور کو مسلم لیگ کے دستور کا حصہ بنا لیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ فیصلہ ہمارے دانشور سفارتکار کے اس موقف کی نفی کے لیے کافی ہے کہ الگ ملک کا قیام قائد اعظم کا مقصود ہرگز نہ تھا!ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مسلمانان ہند کی جدوجہد آزادی کے بارے میں غلط فہمیاں وہی لوگ پھیلا رہے ہیں اور وہی لوگ پاکستان کے قیام کے مقصد کو دھندلا کرنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں وقف کیے ہوئے ہیں جن کی ذاتی سوچ اس سے متصادم ہے۔ قیام پاکستان کا مقصد علامہ اقبال کے اسی خطبہ الہ آباد کے اختتامی الفاظ میں موجود ہے ، جس خطبے میں ان دانشوروں کو اقبال کا کیا گیا آزادی کا مطالبہ نظر نہیں آتا۔ علامہ اقبال نے کہا:

’ ہماری منتشر حالت کے باعث ایسے سیاسی مصالح الجھ گئے ہیں جو کہ ہماری ملی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ میں فرقہ وارانہ تصفیے سے مایوس نہیں ہوں، لیکن میں اپنا یہ احساس آپ سے پوشیدہ نہیں رکھ سکتا کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لے ہماری ملت کو مستقبل قریب میں ایک آزادانہ راہ عمل اختیار کرنی پڑے گی اور آزادانہ سیاسی راہ عمل ایک مقصد پر مرکوز ہو۔ کیا آپ کے لیے یہ ممکن ہے کہ متحدہ عزم کے لیے منظم کا ملیت حاصل کر لیں؟ بے شک یہ ممکن ہے۔ فرقہ بندی اور نفسانیت کی قیود سے آزاد ہو جائیے۔ اپنے انفرادی اور اجتماعی اعمال کی قدر و قیمت کا اندازہ کیجیے خواہ وہ مادی اغراض ہی سے متعلق کیوں نہ ہوں۔ اس نصب العین کی روشنی میں ، جس کی آپ نمایندگی کر رہے ، مادہ سے گزر کر روحانیت کی طرف آئیے۔ مادہ کثرت ہے۔ روح نور ہے، حیات ہے، وحدت ہے، مسلمانوں کی تاریخ سے میں نے ایک سبق سیکھا ہے کہ آڑے وقتوں میں مسلمانوں کو اسلام نے بچایا ہے، مسلمانوں نے اسلام کی حفاظت نہیں کی۔ اگر آج آپ اپنی نظریں اسلام پر جما دیں اور اس کے زندگی بخش تخیل سے متاثر ہوں تو آپ اپنی پراگندہ قوتوں کو از سر نو جمع کر لیں گے اور اپنی صلابت کردار کو دوبارہ حاصل کر لیں گے۔ اس طرح آپ اپنے آپ کو مکمل تباہی سے بچا لیں گے۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: