ہارون الرشید کا انٹرویو: ایک تبصرہ —- مراد علوی

0
  • 113
    Shares

ہارون الرشید صاحب ایک کہنہ مشق صحافی ہیں۔ پاکستانی صحافیوں میں ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ معاصر ویب سائٹ پہ شایع ہونے والے ان کے حالیہ انٹرویو پہ مختلف تبصرے آرہے ہیں۔ چونکہ ہم ان کی طرح صحافتی حرکیات سے زیادہ واقف نہیں ہیں تو ہماری یہ معروضات اگر نامناسب لگیں تو پیشگی معذرت۔

ہمارے صحافی حضرات عموماََ تضادات کا مرقع ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی تضادات سے عبارت ہوتی ہے۔ ہمیں آج تک کسی ’’نظریاتی‘‘ صحافی کی زیارت نصیب نہیں ہوئی ۔ ہماری صحافت پر قومی اور بین الاقومی اسٹبلشمنٹ دونوں کی ترپال بھی بچھی ہوتی ہے ۔ افکار میں ژولیدگی صحافت کا جز لاینفک ہے۔

ہارون صاحب کے ایک ایک لفظ سے سطحیت جھلکتی ہے۔ تاہم پورے انٹرویو کی بنیاد دو ستون پر کھڑی ہے۔ ”حب الوطنی” اور تصوف۔ مقدم الذکر تو ہمارا المیہ ہے اور ہارون صاحب کا خاصہ، جس کا کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔ جہاں تک تصوف کا معاملہ ہے تو ہارون صاحب کا تصوف پروفیسر رفیق اختر کے گرد گھومتا ہے۔ یہ کہنے میں بھی کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کہ ہارون صاحب نے جنرل کیانی اور پروفیسرصاحب کی داستان حیات بیان کی ہے۔ شخصیات میں اس قدر دلچسپی کہ دونون کی نیند کے اوقات کے ساتھ ساتھ شخصی مشترکات بھی دریافت کئے ہیں۔ جنرل صاحب کو خود نہیں معلوم کہ وہ روزانہ کتنے سگریٹ پیتے ہیں جبکہ ہارون صاحب کو اس کا بھی علم ہے۔ اگر کوئی ان دو پیمانوں -حب الوطنی اور ہارون صاحب کے تصوف- پر پورا اترا تو پوتر ہے ورنہ ملک اور تصوف دونوں کا دشمن ۔ جیسا کہ میاں طفیل محمد کو کشف المحجوب کے ترجمے کی وجہ سے بخشش کے پروانے جاری کردئے ہیں۔ ورنہ تصوف دشمنی پر تو مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی جیسے علم کے کوہ گراں بھی پروفیسر صاحب کے سامنے ہیچ ثابت ہوتے ہیں۔ یا للعجب!

بعض لوگوں پر ایسے تبصرے کئے ہیں جس سے ان کی ”صحافت ” کو خوب تقویت ملتی ہے۔ پہلے مقدمے (حب الوطنی) کے مطابق ہارون صاحب بار بار اپنی حب الوطنی کو ثابت کرتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی واقعی دیدنی ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی ہارون صاحب اب بھی ان کو نہیں بخشتے۔ مولانا ابوالکلام آزادؔ، مولانا حسین احمد مدنی کو جس انداز میں رگیدا ہے وہ ہارون صاحب کی “صحافت” پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔ مفتی محمود کے بارے میں بھی یہی اسلوب اپنایا ہے۔ کافی پہلے انھوں نے مفتی محمود کے بارے میں ایسی ہی ایک صحافتی تحقیق نقل کی تھی۔ لکھا تھا کہ مفتی محمود فرقہ پرست تھے۔ مفتی محمود فرقہ پرست تھے یا نہیں لیکن ہارون صاحب حب الوطنی کی خاطر مفتی صاحب کو فرقہ کہتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے مفتی صاحب کے بارے میں وہ بات دہرائی تھی کہ شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے۔ اس بات کا ہارون صاحب جیسے محب وطن کی طبیعت پر گراں گذرنا فطری تھا۔ بہرل حال اس صحافتی تحقیق کی گرہ کھولنا بھی لازم ہے۔ مفتی صاحب دیوبندی حلقے میں چند سلجھے ہوئے شخصیات میں سے تھے۔ پاکستان کے گناہ کی بات محبین وطن پس منظر کے خلاف بیان کرتے ہیں کہ مفتی صاحب نے کہا تھاکہ ”ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے” امر واقعہ اس کے برعکس ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک محفل میں چوہدری ظہور الہی نے انتہائی مایوسی کے عالم میں کہاتھا: ہم نے پاکستان بنا کر بہت بڑاگناہ کیا ہے، اس پر مفتی صاحب نے ازراہ تفنن کہا: شکر ہے کہ ہم اس گناہ میں شامل نہیں ہیں۔ اگر کسی کو اس کا حوالہ چاہیے تو اس واقعے کو نقل کرنا خود ایک مضبوط حوالہ ہے۔

انٹرویو میں ہارون صاحب جنرل اختر عبدالرحمان کی سیرت پر ”فاتح” سے آغاز کرتے ہیں۔ شامی صاحب کے کہنے پر جنرل صاحب پر مضمون لکھتے ہیں۔ شوق شدت پکڑتا ہے اور کتاب کا ارادہ کرلیتے ہیں لیکن رکاوٹیں آتی ہیں، قاضی حسین احمد جنرل صاحب پر قادیانیت کا بہتان باندھتے ہیں۔ جبکہ ہارون صاحب کی نظر میں وہ صلاح الدین ایوبی ہیں، ان جیسے بہادر جرنیل صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ قاضی صاحب کتنے بہتان باز ہیں، ہارون صاحب کو تو جنرل صاحب کے بارے میں اتنی معلومات ہیں کہ جنرل صاحب کے فرزند بھی اس پر حیران رہ جاتے ہیں کہ اصل صاحبزادگی کا شرف تو آپ کو حاصل ہے، ان کی بیگم تو اتنی صالح ہیں کہ صدقے کے بکرے جامعہ اشرفیہ بھجواتی ہیں۔ تاہم کتاب چھپوانے کے آخری دن بھی ان کو یاد ہے کہ سوئے ہی نہیں۔ صبح لکھنا شروع کیا، رات ہوگئی، ساری رات گزرگئی۔ اگلا دن دوپہر کا وقت ہوگیا تو اس کا آخری پیراگراف لکھ رہے ہیں۔ اگلے دن عید تھی، اتنا تھک چکے تھے کہ فیصل آباد میں مغرب کے وقت اپنی والدہ کے ساتھ بات کرتے کرتے سوگئے۔ سوکر اٹھے تو سورج نکلنے میں بمشکل اتنا وقت تھا کہ فجر پڑھی جاسکے۔ نماز کے بارے میں بی بی جی مرحومہ بہت سختی سے بازپرس کیا کرتیں۔ مولانا آزاد جھوٹے قصے بیان کرتے ہیں جبکہ اس سے آپ ہارون صاحب کے ذوق نماز کااندازہ لگا سکتے ہیں۔

ہارون صاحب جہاد پر بغیر لگی لپٹی اپنی رائے دیتے ہیں۔ یہ جرات بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ وہ افغان جہاد کی ڈٹ کر حمایت کرتے ہیں۔ اقبالؔ کے بعد اگر کوئی ہیں تو وہ پروفیسر رفیق اختر ہیں۔ لیکن ہمیں اس بات سے عدم اتفاق ہے۔ ہارون صاحب اقبال سے بھی بڑے ہیں، کیوں کہ وہ فلسفہ عشق و عقل اقبال سے بھی اچھا سمجھتے ہیں۔ یہ تو اقبال کی خوش قسمتی ہیں کہ ہارون صاحب سے پہلے پیدا ہوئے ورنہ اصل مفکر تو ہارون صاحب ہیں۔ ہارون صاحب نے حب الوطنی کے آٹے کو پروفیسر صاحب والے تصوف کے پانی سے گوندھا ہے۔ ملٹری آپریشن کے بارے میں بھی پروفیسر رفیق صاحب کی رائے پوچھتے ہیں۔ مزید حب الوطنی یہ کہ ہارون صاحب کو جنرل کیانی کے سونے کے اوقات بھی معلوم ہیں، سوتے بہت کم ہیں، مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ وہ تو اس دور کا نپولین ہیں۔ شخصیت پرستی میں اس قدر ڈوبے ہوئے کہ پروفیسر صاحب کو مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی جیسے علم کے کوہ گراں پر فوقیت دی۔ تعصب ایسا کہ مولانا آزاد، مولانا مدنی، مولانا فضل الرحمن، سراج الحق پر انتہائی صحافیانہ نشتر برسائے ہیں۔ اپنی تحریر پر گھمنڈ کا یہ عالم ہے کہ برصغیر کے صاحب طرز انشا پردازوں پر رکیک حملے کئے۔ overconfident اتنے کہ دیکھیے کس کے بارے میں کس لہجے سے بات کررہے ہیں۔ خود ان کی اپنی تحریر پر مولانا آزاد ہی کے عاشق شورش کاشمیری کی گہری چھاپ ہے۔ افسوس کہ اس کا اقرار نہیں کیا۔ لیکن کرنا بھی نہیں چاہیے کہ حقیقت کھل جاتی مگر اہل نظر تو جانتے ہیں۔

مولانا آزاد پر تنقید انتہائی طفلانہ ہے، جو باتیں مولانا آزاد کے بارے میں کہی ہیں وہ تمام ہارون صاحب میں نظر آتی ہیں۔ کہتے ہیں: وہ خود پسند ہے”۔ ہم نے ”تذکرہ” پڑھا ہے مولانا اپنےذکر ہی سے کتراتے ہیں۔ انٹرویو میں دیکھیں تو ہارون صاحب ہر جگہ یہی باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں جیسے، جنرل اختر کے بارے میں مجھے وہ بھی معلوم تھا جس کا ان کے صاحبزادے کوبھی علم نہیں تھا۔ جنرل کیانی کو خود پتا نہیں تھا وہ کتنے سگریٹ پیتے ہیں جبکہ مجھے معلوم تھا، وعلی ھذالقیاس۔

مولانا آزاد پر بہت پہلے نقادوں نے تبصرے کئے تھے کہ انھوں نے اردو نثر میں روایت سے ہٹتے ہوئے اسے ایک نئے رنگ و آہنگ سے روشناس کیا جس میں خطابت اور رومانویت نمایاں ہیں۔ ہارون صاحب نے مولانا آزاد پر تنقید کرتے ہوئے مشتاق احمد یوسفی کے اس فرمان کو صحافیانہ سانچے میں کفنادیا اور ساتھ ڈاکٹر سہیل عمر کی عبارات کو الٹا کر پروفیسر رفیق پر فٹ کرنے کی کوشش کی۔ یوسفی صاحب لکھتے ہیں: آزاد کی نثر کا مطالعہ تو دلدل میں تیرنا ہے وہ تو دراصل اپنی انا کے اسیر تھےاگر بس چلتا تو خود کو سجدہ بھی کرتے”۔ آگے سہیل عمر صاحب لکھتے ہیں: عصر حاضر کے مسائل پر اگر کسی عالم کی گہری نظر ہے تو اس دور میں جاوید احمد غامدی ہے۔ جبکہ ہارون صاحب نے سہیل عمر صاحب کی تحریر میں غامدی صاحب کی جگہ پروفیسر صاحب کا نام رقم کیا۔ مولانا آزاد پر مذکورہ تنقید مولوی عبد الحق اور مشتاق احمد یوسفی کی ہے، باقی تنقید بھی حسن عسکری سے مستعار لی ہے۔

آخر میں یہ بات پھر سے ذہن میں تازہ کیجئے کہ ہارون صاحب کاغذ کے سپاہی ہیں۔ پورے انٹرویو میں جرنیلوں کے مدح سرائی کی ہے۔ اور وہ بھی اس سطح کی کہ کب سوتے ہیں، سگریٹ کتنے پیتے ہیں۔

اسٹبلشمنٹ، معاشرے کے خود سر مذہبی لوگوں کو ہارون الرشید اور اوریا مقبول جان جیسے حضرات کے ذریعے کنٹرول کرتی ہے۔ یہ دانشور غیر جانب دار بھی ہوتے ہیں اور محب وطن بھی۔ مثلاََ اوریاصاحب کا یہ کہنا کہ ہندوستان کے تمام مسلمان دارالحرب میں ہیں، اور ان پر ہجرت واجب ہے۔ یہ لوگ پاکستانیات کو اسلامیات میں مکس اپ کرکے ایک نئی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ تاکہ مذہبی لوگوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوں۔

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: