ہم بدمعاشیہ کی جنگ کا ایندھن نہیں بنیں گے: عماد بزدار

0
  • 191
    Shares

سردار کی محفل میں مختلف قبیلوں کے وڈیرے بیٹھے ہوئے تھے میدان لوگوں سے بھرا ہوا تھا لوگوں کی آمد جاری تھی۔ ہر بندہ کندھے پر بندوق اور ہاتھ میں بکرے یا دنبے کی رسی تھامے وسیع و عریض میدان میں داخل ہو رہا ہے لوگوں کو خوش آمدید کہا جا رہا بٹھایا جا رہا ہے۔
سردار وڈیروں سے مخاطب ہے کہ دیکھیں جی ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی سرکار بد معاشی پر اتر آئی ہے حلقے تبدیل کیئے گئے ایسا رہا تو ہماری سیٹ چلی جائے گی مخالف جیت جایئں گے آپ لوگوں کو اسی لیئے بلایا ہے کہ یہ پوری قوم کی عزت آبرو کا معاملہ ہے۔۔

تمام موجود وڈیروں نے یک زبان ہو کر کہا سردار ہماری جان ہمارا مال سب حآضر ہے ہم اس چیز کو برداشت نہیں کریں گے کہ جو سیٹ آپ مدتوں سے جیتتے آ رہے اب کوئی اور اس کو جیت لے۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن یہ سب آسان نہیں ہوگا جب عزت آبرو پر بات آ جائے تو پھر اس کے لیئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔۔۔ کرنا یہ ہو گا کہ پولنگ عملے کو علاقے میں داخل ہی نہیں ہونے دینا۔۔ ہر قبیلہ کم از کم چار بندے شامل ہوں اور پہاڑوں پر چڑھ جایئں جیسے ہی عملہ پہاڑوں میں داخل ہو ان کا سامان چھیننا ہے کسی کو کسی بھی قیمت پر آگے نہیں بڑھنے دینا۔۔۔

اعلان ہو گیا کہ لڑنا اور مرنا ہے مختلف ٹولیوں میں تقسیم ہو کر تمام لوگ پہاڑوں پر چڑھ جایئں گے اور کچھ لوگ سڑک پر رکاوٹیں ڈال کر انتظار کریں گے کہ جیسے ہی سرکاری گاڑیاں آیئں ان سے ان کا سامان چھین کر انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس اعلان کے بعد سردار اٹھ کر گھر کے اندر چلا گیا اندر جاتے ہی سردار نے شہر میں موجود بیٹے کو کال ملائی۔۔ بیٹے نے پوچھا بابا کیا حالات ہیں؟ حالات کیا ہونے ہیں تمام قبیلوں کے وڈیرے اپنے بندوں سمیت مع مال مویشیوں کے آ گئے اور سرکار سے لڑنے کو تیار ہیں۔۔۔ انہیں کسی قیمت پر آگے نہیں بڑھنے دینا۔ ٹھیک بابا تو کیا میں شہر سے گاؤں آ جاؤں؟ نہیں نہیں باالکل نہیں تم وہیں رہو کیونکہ تم وہیں محفوظ ہو۔

قدر ت اللہ شہاب، ”شہاب نامہ” میں ایک واقعہ لکھتے ہیں وہ جھنگ میں بطور ڈپٹی کمشنر تعینات تھے ایک دن اونچی ’’پگ‘‘ والا ایک بڑا زمیندار ان کے پاس آیا۔ کہنے لگا حضور اگر فلاں گاؤں میں آپ ایک عدد سکول منظور کروا دیں تو بندہ سکول کی عمارت کے لئے زمین کے ساتھ، خاطر خواہ چندہ دینے کے لئے بھی تیار ہے۔ شہاب صاحب ان ’’علم دوست‘‘ بزرگوار سے کافی متاثر ہوئے۔ وعدہ کیا کہ ضرور وہ سکول منظور کروادیں گے۔

چند دن بعد اسی وضع قطع کے ایک اور بزرگ آدھمکے۔ شکوہ کناں تھے”حضور گاؤں میں سکول کے سلسلے میں جو بندہ آپ کے پاس آیا تھا، میرا مخالف ہے۔ جس گاؤں میں وہ سکول کھلوانا چاہتا ہے، وہ اس کا نہیں بلکہ میرا گاؤں ہے۔ آپ زمین اور نقد امداد مجھ سے لیکر اس کے گاؤں میں سکول کھلوا دیں‘‘۔ شہاب صاحب نے پوچھا اس فیاضی کا کیا سبب ہے۔ بڑے میاں فرمانے لگے اصل میں ہم دونوں اپنے گاؤں کے لوگوں کو استعمال کر کے ایک دوسرے کے مال مویشی چوری کرواتے ہیں۔ وہ چاہتا ہے میرے گاؤں کی نئی نسل پڑھ لکھ جائے تاکہ ان کے مال مویشی بھی محفوظ ہو جائیں اور اپنے گاؤں کے لوگوں کو جاہل رکھ کر خود مال بناتا رہے۔

شہاب صاحب نے پینترا کھیلا، کہنے لگے کہ سکول تو اب منظور ہو چکا، ایک کام کرتے ہیں تمہارے گاؤں کے لئے الگ سے سکول منظور کروا دیتا ہوں۔ بزرگوار دوبارہ واپس آنے کا وعدہ کر کے مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔۔ اس کے بعد دونوں حضرات کبھی واپس نہیں آئے۔

بریگیڈئیر اسلم گھمن “ہاں یہ سچ ہے” میں لکھتے ہیں کہ خیبر پختونخواہ میں ایک بہت بڑے عالمِ دین جن کا اپنے مسلک کے جید علما میں اپنا ایک مقام ہے اور ان کے پیروکاروں کی تعداد بھی لامحدود ہے۔ ان کا ایک عزیز اور پارٹی عہدیدار جو کہ دراصل ان کا فرنٹ مین تھا، وہ سرکاری اور قبرستانوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے میں پیش پیش تھا۔ بے انتہا کرپشن کرنے کی وجہ سے موصوف کو پکڑا تو مولانا سیخ پا ہو گئے۔ حضرت ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں، انہوں نے فورا اس وقت کے وزیرِ داخلہ کو نیب پشاور کے خلاف اپنے ہاتھ سےخط لکھا کہ نیب سرحد نے میری پارٹی کے ایک عہدیدار کو ناجائز پکڑآ ہے اور میرا نام لکھ کر مجھے فی الفور نیب پشاور سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ یہ خط جب ہمارے پاس رائے لینے کے لیئے پہنچا تو ہم نے ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ اس خط کا جواب دیا۔ جب یہ خط مولانا کو دکھایا گیا تو وقتی طور پر وہ خاموش ہو گئے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد انہوں نے حکومت سے بارگیننگ کر کے موصوف ملزم کو نہ صرف رہا کرایا بلکہ اس کو پشاور کا ناظم بھی بنا دیا۔ بعد میں یہ موصوف سینیٹر بھی بن گئے۔

عکسی مفتی کی کتاب “کاغذ کا گھوڑا” سے ایک واقعہ پڑھ لیں۔
“ایک دن خواجہ شاہد حسین، جو سب ذیلی محکموں کے سب سے بڑے افسر تھے یعنی سیکرٹری وزارتِ سیاحت و ثقافت، اسلام آباد سے ان کا فون آیا۔ کہنے لگے یار عکسی مائی جنداں کی حویلی کی چھت ٹپک رہی ہے۔ پانی سم کر رنجیت سنگھ کے دربار کی اہم ترین پینٹنگ کو خراب کر رہا ہے۔ یہ بہت ہی قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کی قیمت کئی لاکھ پونڈ ہے۔ اس کا ستیاناس ہو جائے گا۔ یار تم وہاں ہو فورا اس پینٹنگ کو بچانے کاانتظام کرو۔

میں نے اسی وقت ڈائرکیٹر نارتھ جس کا دفتر عین سامنے تھا فون کیا اور درخواست کی کہ مجھے ایک سیڑھی فراہم کی جائے تاکہ میں حویلی کی چھت پر جا سکوں۔ ڈائریکٹر صاحب نے سب سن کر کہا۔ جی ہاں جی ہاں ضرور، لیکن آپ یہ درخواست فائل پر لکھ کر بھیجیں۔

میں نے فوری حکم کی تعمیل کی۔ ایک درخواست لکھی اس کو فائل میں لگایااور خاص طریقے سے ٹیگ میں پرویا اور بڑے صاحب کے دفتر بھجوا دی۔ جو رتبہ میں مجھ سے کہیں چھوٹے تھے۔ ہفتہ گزر گیا، کوئی جواب نہ آیا۔ میں نے جا کر پوچھا تو کہنے لگے: ہاں ہاں وہ فائل تو قلعہ کے انجنیئر کو بھیج دی تھی آپ کو سیڑھی نہیں ملی ابھی تک؟ تعجب ہے میں نے اسی دن بھیج دی تھی۔

کئی دن میں انجینیئر جو تلاش کرتا رہا۔ بالآخر وہ مجھے ایک دن مل ہی گئے ہفتہ اور گزر گیا۔ میں نے دریافت کیا تو فرمانے لگے سیڑھیاں تو میرے پاس نہیں ہوتیں۔ وہ تو ٹھیکیدار کا کام ہے۔ میں نے فائل اپنے نائب کو بھیج دی ہے۔ عکسی صاحب آپ پریشان نہ ہوں وہ آپ کو سیڑھی مہیا کر دیں گے۔

آٹھ دن اور بیت گئے۔ سیڑھی کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ اب تو یہ پتہ لگانا بھی محال تھا کہ وہ فائل ہے کہاں۔

ایک دن مغرب کے وقت چہل قدمی کرتے ہوئے دفعتا میں احاطے کے ایسے کونے میں داخل ہوا جہاں پہنچ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہاں کئی قسم کی سیڑھیاں پڑی تھیں۔ چھوٹی، لمبی، بہت لمبی۔۔ میں نے اپنے انجینیئر یوسف ہارون کے ساتھ ایک سیڑھی اٹھائی اور مائی جنداں کی حویلی کی چھت پر پہنچ گیا۔

چھت پر دیسی انداز میں بڑی اینٹ کا چوکا لگایا گیا تھا۔ جس جگہ سے پانی نیچے ٹپکتا تھا وہاں چوکوں کے درمیان درز خالی ہو چکی تھی۔ ہم نے اسی وقت تھوڑے سے سیمنٹ میں پُڈلو پاؤڈر ملایا اور ان درزوں کو دس پندرہ منٹ میں بھر دیا نیچے اترے اور سیڑھی واپس وہیں رکھ دی جہاں سے لائی گئی تھی۔

دس دن اور گزر گئے ایک صبح مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ جو فائل میں نے بھیجی تھی وہ ضخیم فائل کی صورت میں مجھے واپس بھیج دی گئی ہے۔ اس پر ڈائریکٹر نارتھ نے لکھ کر بھیجا تھا۔ “ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہمیں سیڑھی نہیں مل سکی براہ کرم بہتر ہو گا کہ آپ سیڑھی بازار سے کرائے پر حاصل کرلیں۔

اگلے ہی روز مجھے اسلام آباد سے خواجہ شاہد حسین کا پھر فون آیا۔ یار عکسی آپ کو مائی جنداں کی حویلی کے کام کا کہا تھا اس کا کیا بنا؟مجھے دیکھ کر بتاؤ یہ کام انتہائی اہم ہے۔
میں نے کہا سر اس کی مرمت تو ہو چکی۔ ہم نے پوری تحقیق کر لی ہے اب چھت بالکل نہیں ٹپکتی۔
خواجہ شاہد نے حیرت سے پوچھا:کیا کہا چھت کی مرمت ہو چکی ہے؟اب چھت نہیں ٹپکتی کب ہوئی کس نے کی؟
میں نے کہا میں نے خود کی یہ معمولی سا کام تھا۔
شاہد نے پوچھا کتنے پیسے خرچ ہوئے؟ میں نے بتایا کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوا۔
شاہد کہنے لگے: حیرت ہے میرے سامنے چھت ٹپکنے کی فائل پڑی ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے اس کام کے لیئے 25 لاکھ روپے مانگے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ہے اس بد معاشیہ کا طریقہ واردات جن کے فریب میں آ کر ہم عام آدمی ہمیشہ پھنستے ہیں۔۔۔۔ میں اگر بلوچ کے گھر پیدا ہوا تو اس میں میری کونسی خوبی ہے کوئی دوسرا اگر کسی پنجابی پختون کے گھر پیدا ہوا اس میں اس بندے کا کیا کمال ہے؟
اقبال نے کہا کہ

نسل، قومیت کلیسا، سلطنت، تہذیب رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کر بنائے مسکرات

کبھی سنا ہے کہ کسی سردار کا بیٹا حقوق کی جنگ لڑتے مارا گیا؟ کبھی سنا ہے کسی جاگیردار کا بیٹا بسلسلہ روزگار سرحد عبور کرتے کرتے دہشت گردی کے نذر ہو گیا ہو؟

یہ سرزمین کا ٹکڑا جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے یہ ہمارا گھر ہے اس گھر میں بہت سارے مسائل ہیں ہمیں یعنی عام آدمی کو سوچنا ہو گا کہ کیا اس اشرافیہ کے آلہ کار بن کر ہم نے باہم دست و گریباں رہنا ہے یا متحد ہو کر اس سرزمین کو اس قابل بنانا ہے کہ جہاں معاشی اور معاشرتی انصاف ہو اور اگر کسی کے ساتھ نا اںصافی ہو تو اس کے لیئے آواز اٹھانا ہم سب کی ذمہ داری ہو گی۔۔۔

امیر شہر کو تلوار کرنے والا ہوں
میں جی حضوری سے انکار کرنے والا ہوں
کہو اندھیرے سے دامن سمیٹ لے اپنا
میں جگنوؤں کو علم دارکرنے والا ہوں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: