بلوچستان کی شورش اور زمینی حقائق ۔ چوہدری بابر عباس

0
  • 59
    Shares

تربت میں پندرہ پنجابیوں کے وحشیانہ قتل پر ہر طرف سے ہر انداز میں کہا، سنا اور لکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے انتہائی عدم سیاسی استحکام اور امن کے مخدوش حالات کے حامل صوبے، بلوچستان میں کسی بھی واقعہ کے بے شمار پس منظر اور پیش منظر موجود رہتے ہیں، غربت، سیاسی عدم استحکام، فرقہ واریت، نسلی اور لسانیت، مگر سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ مسلح علیحدگی پسند عناصر ہیں، جو چند بلوچ سرداروں اور ایک طلباء تحریک کی مشترکہ اختراع تھی، روز اول سے آج تک کی بلوچستان کے حالات کی واحد بنیادی اور ناقابل تردید وجہ ہے۔

پنجاب کی بالادستی کو بلوچستان سمیت دونوں چھوٹے صوبے بھی اپنے مسائل کی علت سمجھتے ہیں۔ یہ ایک بڑی پیچیدہ اور پانی پر مکھن چڑھانے والی بات جتنی ہی بار آور بحث ہے۔ بلوچستان میں جیسا کہ اصل اور بنیادی مسلہ علیحدگی پسند مسلح جدوجہد کا ہے، اگر ہم چند لمحوں کے لیے تعصب، جذباتیت اور کسی صحیح غلط نظریے سے تھوڑا الگ ہو کر بات کریں، تو یہ ماننا ہو گا کہ پاکستانی ریاست کے خلاف بلوچوں کے شکوے شکایت حقیقی ہوں یا انکے زہنوں میں حقائق سے پرے متشکل کر دیئے گئے تصوراتی استحصال پر مبنی ہوں، پاکستان کے اندر مزید کسی بھی قسم کی علاقائی، نسلی، لسانی یا مذہبی بنیاد پر علیحدگی پسند تحریک کی کامیابی کے امکانات یکسر معدوم ہو چکے ہیں۔

انقلاب چاہے کسی بھی درجہ اور قسم کا مقصود ہو صنف انقلاب پر مکمل اجارہ داری ہی ایک کامیاب انقلاب کی ضمانت ہوتی ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند گوریلا جنگ کا منبع پرولتاری (عام آدمی) بوناپارٹسٹ ریاستوں کی طرز پر تھا۔ ان پرولتاریہ بوناپارٹسٹ ریاستوں کی تعریف کچھ یوں ہے، ان ممالک میں پرولتاریہ طبقہ بہت کمزور ہونے کے ناطے جمہوری حقوق نہیں رکھتا تھا۔ جسکے نتیجے میں استحصال زدہ درمیانی طبقے کے افسران اور افراد نے محنت کش طبقے کے سہارے سرمایہ داری اور جاگیرداری کے نیم خاتمے کے ساتھ ماسکو اور پیکنگ طرز کی نئ سٹالنسٹ ریاستیں قائم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، جو ایک ترقی پسندانہ اقدام تھا۔

مگر قبل ازیں ان ریاستوں میں جن میں شام، ایتھوپیا، موزمبیق، یمن، ویت نام اور کیوبا وغیرھم شامل تھیں ماسوائے اس انقلاب کے سر چشمے روس اور چائنہ کے برعکس ان ریاستوں کا نظام بیوروکریٹک تھا جو استبدادیت کی خصلت سے آزاد نہ ہو سکا۔ جسکی بنا پر اس قلیل المدتی پر جوش سٹالنزم سوشلزم سے مروعوب درمیانے طبقے کی جدوجہد کو دوام نہ مل سکا۔ سرمایہ دارنہ اور جاگیردارنہ نظام کو کمزور کر ڈالنے کے بعد ایک تو تمام تر صنعت و معیشت سرکاری کنٹرول میں تھی اور دوسرا اس نظام کی ترقی کے لئے عوام کی وسیع تر شعوری شراکت کو بھی قائم نہ رکھا جا سکا۔ اور ان ریاستوں کا انحصار چینی اور روسی اقتصادی اور عسکری امداد پر بڑھ گیا۔ نتیجتے میں سویت یونین کے انہدام کے ساتھ ہی ان ریاستوں کا بھی شیرازہ بکھر گیا۔ افغانستان، موزمبیق، صومالیہ، ایتھوپیا اور انگولا اسکی مثالیں ہیں۔

مگر یہاں بلوچستان نہ وہ مقام تھا، نہ وقت اور نہ ہی وہ حالات میسر تھے جو مذکورہ بالا ماخوذ نظریات پر مبنی کسی تحریک کو کامیاب کروا سکتے تھے۔ سٹالنزم نظریات پر مبنی تحریک کی قیادت کی جد وجہد زیادہ تر قومی بنیادوں پر محدود رہی جس میں بلوچستان میں بسنے والے دوسرے قوموں کی مڈل کلاس جو کسی بھی انقلابی تبدیلی کا کندھا ثابت ہوتی ہے اور محنت کشوں کی حمایت اور شراکت حاصل نہیں کر سکی۔ بلکہ منقسم طبقاتی رائے اس تحریک کی مخالف اور ناقد بھی ہے۔ اگرچہ اس مصلح جدو جہد کو بیرونی طور پر مغرب میں ایک لابی کی محدود درپردہ اور کہیں ظاہری اخلاقی حمایت اور مکمل بھارتی امداد میسر ہے مگر یہاں معاملہ مشرقی پاکستان والا نہیں ہے اور نہ ہی پندرہ سو میل کی مسافت حائل ہے۔ زمینی طور پر متصل ریاستیں ایران اور افغانستان ہیں۔ جنکی فعالیت زیادہ موثر ہو سکتی تھی، کی طرف سے کسی حوصلہ افزائ کے آثار نہیں ملتے۔ بلکہ ایران کے لیے تو اس قسم کی کسی تحریک کی حمایت کے اثرات انکی اپنی بلوچ آبادی میں سرائیت کر سکتے ہیں۔ مستزاد یہ کہ ستر کی دہائ میں بھٹو دور کے بلوچستان آپریشن میں شاہ ایران کی فوجی مدد بھی شامل رہی ہے۔ جبکہ افغانستان کی حثیت صرف بلوچستان میں ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں کسی پراکسی تخریب کار اور سہولت کار سے زیادہ نہیں ہے نہ ہی سرے سے کسی ایسی پوزیشن میں ہے جو کسی بڑی تبدیلی کے ساتھ کھڑا ہو سکے۔ لہذا بلوچستان کی اس نام نہاد علیحدگی پسند تحریک کے لیے زمین پر کوئی روس یا چین موجود نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک منظم پروپیگنڈا کا ہمہ وقت سلسلہ جاری ہے اور حالیہ دنوں میں تو برطانیہ اور سوئیٹزر لینڈ میں فری بلوچستان مہم سے یکجہتی کے علامتی اظہار کا بھی سوانگ بھی رچایا گیا ہے۔ جس پر پاکستانی احتجاج موءثر ثابت ہوا ہے، ایک لمحاتی مورل ریسکیو بھی بمشکل سے ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس نام نہاد علیحدگی پسند گروہ کی قیادت ملک کے اندر ہو یا ملک سے باہر ملک دشمن گھروں کی مہمان، نہ تو کسی اکثریت کی نمائندہ ہے نہ ہی آج کسی نظریے کی حامل ہے اور نہ ہی تعلیم و جدیت سے آراستہ ہے۔ جبکہ صوبے کی عوام تعلیم کے حصول، پر امن اور خو شحال زندگیوں کے متمنی ہیں۔ اور ریاست پاکستان پر یقینا انکا یہ بنیادی حق ہے۔ اور نہ ہی انکی حب الوطنی پر کوئ سوال ہونا چاہیئے۔ دہائیوں پرمشتمل پاکستان کے بیالیس فیصد کے اس حصے پر جس کے بغیر پاکستان مکمل ہے نہ ہی بلوچ عوام کا رشتہ پاکستان سے کوئ طاقت کاٹ سکتی ہے، کے خون آشام لیل و نہار غیروں کی خواہش تو سکتی ہے، جسکی تکمیل کے لیے ارزاں نرخ پر ہر دور میں ملت فروش دستیاب اور دوسری طرف بر سر اقتدار بھی رہے ہیں،، مگر یہ خواہش اس صوبے کی عوام کی نہیں ہے۔

اس تحریک کی ناکامی کا ایک اور پہلو، تنظیم اور وسائل کسی بھی تحریک کی کامیابی کی ایک اہم بنیاد ہیں۔ کردوں کے برعکس جو ترکی، عراق اور ایران کے درمیان بٹے ہوئے ہیں، بلوچوں کے علیحدگی کے امکانات معدوم ہیں۔ جس علاقے میں بلوچ قوم کی اکثریت آباد ہے وہاں قیمتی اور قابل ذکر وسائل کی بھی فراوانی نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ کردوں کے طرح بہتر منظم ہیں۔ مزید براں صوبے کے بڑے حصوں میں اب بلوچ ایک بالادست نسلی و لسانی گروہ نہیں رہے۔ ایک طرف تو جہاں افغان پشتون پناہ گزینوں نے شمالی بلوچستان میں آبادی میں اضافہ کر رکھا ہے وہیں مقامی بلوچ اور پشتون آبادیوں تقسیم بھی پائ جاتی ہے۔ جبکہ خود بلوچوں کی قابل ذکر تعداد جنوبی پنجاب اور شمالی سندھ میں سکونت پزیر ہے۔

علیحدگی پسندی کے لئے موجود ان تمام غیر موافق حالات کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ بلوچستان میں قومی سلامتی کے خطرات سرے سے ختم ہو گئے ہیں۔ صرف جغرافیائ حدود اور تزویراتی سلامتی ہی کسی قوم کی مکمل بقا اور ترقی کی ضامن نہیں ہوتیں۔ بلکہ معاشرے میں عدل و انصاف، تعلیم، مساویانہ معاشی اور سب بڑھ کر اور اہم” سیاسی” حقوق کا حصول ہے۔ جو کسی بھی ریاست کی اپنے عوام کو فراہمی اولین ذمہ داری ہے۔ ان مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے لیے مرکز کے ساتھ ساتھ بلخصوص سندھی اور بلوچ سیاستدان اور انٹلیکچوئیل ایلیٹ کو اپنی گفتگو کا یہ بلٹ ان بیانیہ بدلنا ہو گا کہ ہر علاقائ تنازعے اور چھوٹے صوبوں کے ساتھ نا انصافی کی بڑی وجہ ملکی انتظام و انصرام میں پنجابی بالادستی اور پاکستانی کم پنجابی زیادہ خودمختار اور طاقتور فوج ہے۔ جبکہ صوبائ خودمختاری کی ترمیم سندھ سے بنی مرکزی حکومت نے ہی پاس کروائی۔ جس میں کوئی پنجابی آڑے نہیں آیا۔ اور آج چاروں صوبوں کی حکومتیں با اختیار ہیں۔ مواخذے کی تربیت بہر حال عوام نے اپنی خود ہی کرنی ہے۔ شعور پیدا کرنا ہو گا، جراءت دکھانی ہوگی۔

اگر مرکز یا پاکستان سے مراد پنجاب لیا جاتا ہے تو مرکز پر تو غیر پنجابی بھی حکومت کر چکے ہیں اور آئندہ بھی کرنے میں کوئ ممانعت نہیں ہے، مگر ون یونٹ کا معاملہ ہو یا صوبائ خود مختاری کا کسی بھی صوبے پر کسی پنجابی نے جا کر حکومت نہیں کی۔ بلوچستان کی ہی کی بات کریں تو پاکستان کا واحد صوبہ ہے جس پر حتی کہ بغیر کسی سیاسی پارٹی پلیٹ فارم کے آزاد امیدوار بھی وزیر اعلی گزر چکے ہیں۔ بھٹو کے مشکل دور میں “نیپ” کے جن راہنماوں پر اپنے پیروکاروں کو مصلح کرنے الزام لگائے گئے، ضیاء کے ساتھ صلح صفائی اور شامل حکومت و مراعات ہو گئے۔ اور کچھ لندن جا بسے۔ کیسی تحریک آزادی ؟یہ سوال بلوچ حریت پسند کو ضرور سوچنا چاہیئے۔

مسلےء کی وجہ اور حل کے طور پر ہماری سیاست اور عوام میں کافی حدتک یہ ایک سادہ اور درست عام رجحان پایا جاتا ہے، کہ کھلے اندازے بھی قائم کیے جائیں تو بھی بلوچستان کی شرح خواندگی عورتوں کی تشویشناک پانچ فیصد کے ساتھ پچیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ اور اس کم شرح خواندگی اور غربت کے سبب سادہ لوح بلوچ قبائیلی رہنماوں کے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔ جو آج تک انکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوئ ہے۔ لہذا اس مخصوص تناظر میں ریاست کو بلوچ قوم کو مرکزی قومی دھارے میں پرونے اور انکی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے خلوص اور محنت کی ضرورت ہے۔ جس کا آج عملی مظاہرہ موجودہ حکومت کی طرف سے پاکستان کی تاریخ میں بلوچستان کو دیا جانے والا سب بڑا بجٹ، سڑکوں، تعلیمی اداروں کا قیام اور یقینا ریگنائیزڈ سی پیک پروجکٹ جس کا پاکستان کے تمام علاقوں میں سے سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہو رہا ہے، کیا بھی گیا ہے۔ مسلے کی ایک اور وجہ پاکستان کی کم و بیش تمام ہی سیاسی جماعتیں خود کو بلوچستان میں منظم کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ صوبے میں سیاسی جماعتوں کو خصوصی محنت کرنی چایئے، کے علاوہ میڈیا بھی ہر لمحہ کی سنسنی اور ہجان خیزیوں کے بجائے قومی وحدت کے لیے بھی کوئ کردار ضرور ادا کرے۔

بلوچستان میں میں علیحدگی کے نام پر اس گوریلا جنگ کا اہتمام چونکہ بائیں بازو کے سٹالنسٹ سوشلزم کے نظریے کی بنیاد پر کیا گیا تھا، دم توڑ چکی ہے۔ مگر ایک طبقہ لبرلزم کے بوسیدگی میں پورے معاشرے کو سرطان زدہ کرنے کے در پے ہے۔ تناظر میں ایک انتہائ موءثر کردار علماء کرام اور مزہبی سیاسی جماعتوں کا ہو سکتا ہے۔ جو جدید اسلامی فلاحی پاکستانی سیاسی نظام کے ایک حصے کے طور نہ صرف خود کو فعال کریں بلکہ بلوچ قبائیلیوں اور دائیں بازو کے اس اکثریتی معاشرے کے لئے اتالیقوں کا کام بھی کریں۔
مبادہ جغرافیہ تو بچ چائے، زیر عتاب تشخص سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

ایک ہوجائیں توبن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے (مجاہد زاہد)

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: