ہنگامہ ہے کیوں برپا۔ محمد خان قلندر

0

نواز شریف سے زیادہ اور بہتر کون جانتا ہے کہ اس نے اسحاق ڈار نیٹ ورک کی معاونت سے گزشتہ تیس برسوں میں کتنی دولت جمع کی ہے۔ ایک جدّی پشتی کاروباری جسے اپنی دولت انگلیوں پے شمار کرنے کا فن آتا ہے دوسرا حساب کتاب کا اور اکاؤنٹس کے کھاتوں میں ہیرا پھیری کا مستند ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، خوب جانتے ہیں کہ کتنا مال جمع ہے، محتاط اندازے کے مطابق ان دونوں کے مشترکہ پورٹ فولیو کی مالیت تیس ارب ڈالر سے زائد ہے۔ پاکستان میں ان کی سرمایہ کاری اس کا عشر عشیر بھی نہیں یہاں تو ان کے پراجیکٹس مال جمع کر کے مختلف ذرائع سے باہر منتقل کرنے کے لئے ہیں۔ ان کی اصل انوسٹمنٹ مشرق وسطی یورپ، افریکا اور مشرق بعید کے ممالک میں ہے، یہ دنیا کی انڈر ورلڈ کے کارٹلز میں شراکت دار ہیں اسحاق ڈار بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے علاوہ ان کارٹلز کا مشیر اور بروکر بھی ہے۔ پاکستان میں ان کی خلاف مالی بدعنوانی کے کیسز بھی زیادہ تر عدالتوں سے ان پر جائز ہونے کی مہر ثبت کرانے اور ان پر مزید عدالتی کاروائ روکنے کے سد باب کا سبب بنے۔

یہ تو پنامہ کی آفاقی آفت نے انہیں آ لیا۔ سابقہ تجربے کی بنیاد پے انہوں نے اسے بھی موقعہ غنیمت سمجھا، اس خوش فہمی سے یہ خود عدالت میں چلے گئے کہ حسب سابق ان کیسز پر بھی عدالت سے بریت کی مہر لگوا لیں گے۔کیسز میں تکنیکی قانونی موشگافیاں پیدا کر کے فیصلے اپنے حق میں لے لیں گے۔ لیکن یہ چال اس مرتبہ تا حال کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔

حفظ ما تقدم کے طور جب گیم ہاتھ سے نکلتی نظر آئ تو عدلیہ کے خلاف مہم شروع کی گئ۔ فوج کو گھسیٹنے کے لئے سازش کی تھیوری گھڑی گیئ۔ اس مرتبہ ان کے خلاف مدعی نہ تو کوئی ریاستی ادارہ تھا اور نہ عدلیہ نے از خود نوٹس لیا تھا اور حقیقت میں یہ خود ہی مدعی بھی تھے۔ عدالتی کاروائ میں بار ثبوت بھی ان پے تھا۔ سپریم کورٹ میں کارروائی میں شریک بھی تھے اور عدم تعاون بھی کرتے۔ عدالت سے اپنے لئے اپنی مرضی کا انصاف لینے کی کوشش بھی اور ساتھ عدلیہ پر عدم اعتماد بھی۔

اس دوران عدالت میں جو مواد پیش ہوا اس سے ظاہر ہونے لگا کہ جعلی دستاویزات سے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موجود مواد پر دو جج صاحبان نے نواز شریف کو نااہل اور اسحاق ڈار کے خلاف حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کا فیصلہ دیاجب کہ تین ججز نے ان فائینڈنگ سے اختلاف کئے بغیر، مزید تفتیش اور صفائی کا مزید موقع دینے کے لئے تفتیشی ٹیم بنا دی۔
عدالتوں اور اداروں سے گزشتہ تیس سال میں کامیاب کھلواڑ کرنے والے نواز شریف وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے وزیر خزانہ ہوتے یہ گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ تفتیشی ٹیم مقررہ مدت کے اندر ان کے خلاف اتنے ٹھوس شواہد جمع کر لے گی۔

اس کی رپورٹ پر دوبارہ عدالت میں کاروائ شروع ہوئ تو بوکھلاہٹ اور پریشانی کے ساتھ اپنی طاقت، دولت اور اقتدار کی رعونت میں عدالت میں سخت تحقیر آمیز اور عدم تعاون کا رویہ روا رکھا گیا۔ انجام کار عدالت نے امارات میں ملازمت کرنے اور کاروباری بنک اکاؤنٹ میں کروڑوں کے لین دین کرنے کے ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر نواز شریف کو نااہل کرنے کا متفقہ فیصلہ دیا جس کے مطابق وزیراعظم معزول ہوئے۔ اسحاق ڈار اور دیگر۔ ملزمان کے خلاف نیب عدالت میں ریفرنس دائر ہوئے اور ان کی سماعت شروع ہو گئ۔ حدیبیہ کیس بھی کھولنے کی کاروائی شروع ہوئی، اسحاق ڈار کی متعدد پیشیاں ہوئیں۔ شنید ہے ان کے خلاف سلطانی گواہ بننے کی درخواست انکے معاون نے دی ہے۔
اس منظر نامے میں لاہور میں ضمنی انتخاب، کلثوم نواز جو مستقل لندن میں زیر علاج رہ چکیں ان کے کینسر کی اچانک تشخیص،مریم نواز کی لانچنگ، پہلے تفتیشی ٹیم اور اب نیب عدالت میں شریف خاندان کے افراد کی شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ پیشی کے بعد باہر آ کر لکھے ہوئے خطابات میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنانے، جی ٹی روڈ مارچ، پنجاب ہاؤس میں اجلاس، شائد خاقان عباسی کی کٹھ پتلی حکومت کے قیام اس میں وزرا کی نامزدگی، اور کابینہ کی فوج ظفر موج کی نوکری، مریم بریگیڈ کی چینلز پر دشنام طرازی، ان کے وکلا کی عدالتی کاروائ کو طول دینے کی قلابازیاں، سب تصور میں رکھیں اور نواز و اسحق کی لندن، سعودیہ، امارات کی اڈاریاںبھی زیر نظر رکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ نااہل نواز شریف کو نُون لیگ کا صدر بنانے کے لئے کی گئ ترمیم میں ختم نبوت کی شک، جس کا اس ترمیم کے متن سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا اسے کیوں چھیڑا گیا۔

سکول میں انگریزی کی کہانی “پیاسا کوا” پڑھی تھی، کوے کہ ذہانت برسوں ذہن پے سوار رہی، پھر ایک دن ریت بجری اور سیمنٹ کو پانی ڈال کے مکس ہوتے دیکھا تو سمجھ آئ کہ یہ کہانی کوے کی ذہانت پے بہتان ہے کیونکہ دھوپ میں پڑی کنکری جب کوے نے گھڑے میں ڈالی ہو گی تو اس نے الٹا پانی جذب کر لیا ہو گا۔
یہی ماجرا نواز و اسحاق کی ضرورت سے زیادہ منفی ذہانت سے ہوا، عدالت میں بساط الٹی تو اداروں سے ٹکراؤ کی کاوش کی کہ کوئ ماورائے آئین ایکشن لیا جائے جس کے نتیجے میں ان کو بحفاظت بچنے کے لئے این آر او مل جائے۔ متعلقہ اداروں نے سنی ان سنی کر دی مزید چالیں چلی گئیں تو ٹکا سا جواب مل گیا کہ ہم آئین اور قانون کے ساتھ کھڑے ہیں۔
لندن میں اجتماع کیا گیا پاکستان کے سیاسی مسائل کے روایتی ثالث بھی اپنی اندرونی مجبوریوں کی وجہ سے متوجہ ہی نہ ہوئے۔ پچھلے بدنام زمانہ پاکستان کے سیاسی این آر او کے متحرک امریکہ کے فارن آفس نے بجائے گھاس ڈالنے کے افغان ایشو کی آڑ میں جھاڑ پلا دی، سعودی عرب والوں نے سابقہ وعدہ خلافی یاد کرائی، ڈیڑھ ارب ڈالر کی گرانٹ کے بدلے یمن اور قطر کے تنازعے میں میاں صاحب کی روایتی محسن کشی کا طعنہ اس طرح منہ پے مارا کہ نواز اور اسحاق کو کسی بھی سعودی اہم شخصیت نے منہ نہ لگایا، جب کوے کی گھڑے میں ڈالی ہر کنکری سے پانی اور کم ہوتا گیا تو اسے گھڑا توڑنے یا الٹانے کی نہ سوجھی ہو گی ان عقلمندوں کو سوجھ گئ۔ اب دو دھاری چال چلنے کی کوشش ہے قادیانی قضیئے کو ازسرنو چھیڑنے کی۔

مغرب میں اسلام مخالف قوتوں اور بالخصوص امریکہ اور برطانیہ میں مقیم بااثر قادیانیوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ ہم نے تو ترمیم کر کے ختم نبوت کی شق ختم کر دی تھی لیکن یہاں کی بنیاد پرست قوتیں ہمارے خلاف ہیں، مجبوری ہے ترمیم در ترمیم ہمیں کرنی پڑی ۔ دوسری طرف ملک کے اندر اس بہت ہی حساس معاملے پر شورش پیدا کی جا رہی ہے، تا کہ بد امنی اور انتشار پیدا ہو،انتظامی اور امن و امان کی صورت خراب ہو۔ جس سے ان دانشمندوں کو امید ہے کہ ان پے نیب کیسز کے پریشر میں کمی آ سکتی ہے، سیکورٹی کے ادارے دہشت گردی کی جنگ میں مصروف ہیں ان پے امن عامہ بھی خراب کر کے مزید دباؤ ڈالا جائےتو شائد وہ ملکی سلامتی کے خطرات کی وجہ سے مطلوبہ تعاون بہم پہنچانے پے راضی ہو جائیں۔ لیکن جو بات نہ کوے کے علم میں تھی اور نہ نواز و اسحق کو معلوم ہے کہ چکنے گھڑے پے پانی نہی ٹھہرتا، قطری شہزادے کا خط کام آیا نہ ملک کے دیوالیہ ہونے کی گیدڑ بھبکی سنی گیئ۔ ورلڈ بنک کی لومڑی والی چالاکی کِہ ملک اقتصادی بدحالی کا شکار ہے یہ چال بھی ناکام ہوئی۔

حکومت تو اب بھی ان کی پارٹی کی ہے اس کے واویلا ویسے ہی بیکار ہے اور ریاست کے خلاف مہم جوئ ریاست کے قائم رہتے اس کی طاقت سے بڑی طاقت کی مدد کے بغیر جیتی نہیں جا سکتی۔
نواز شریف اور اسحق ڈار کو بہتر معلوم ہے کہ ان کے پاس ملک سے لوٹی ہوئ دولت کتنی ہے اسے بچانے کے لئے وہ ہر شے داؤ پے لگا سکتے ہیں۔ لیکن ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں سے محاذ آرائ ان کی خود کشی کے مترادف ہے۔
ادارے جس صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کر رہے ہیں قابل تحسین بھی ہے اور قابل یقین بھی۔ بیس کروڑ انسانوں لاتعداد چرند پرند نباتات حیوانات اور نعمتوں کا مرقعہ ملک نظام ہستی میں قدرت کی طاقت سے قائم ہے اور رہے گا۔
ہر زمانے کے قارون اور فرعون اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ معین وقت اور متعین مقام سے کسی کو مفر تھا۔ نہ ہے اور نہ ہو گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: