اج آکھاں وارث شاہ نوں۔۔۔۔۔۔ سانحہ بلوچستان: ثمینہ ریاض

2
  • 164
    Shares

یہ پنجاب ہے، دنیا کے زرخیز ترین علاقوں میں سے ایک، دنیا کے سب سے زیادہ متنوع موسموں والا خطہ، دنیا کے چند گنجان آباد علاقوں میں شامل، دنیا میں سب سے زیادہ جنگیں وسائل کے حصول کے لئے ہوتی تھیں اور معدنیات، تیل، گیس وغیرہ کے منظر عام پر آنے سے پہلے سب سے زیادہ ضرورت خوراک کی ہوتی تھی، اور پنجاب اس حوالے سے سونے کی چڑیا رہا ہے، چاہے ہندوستانی پنجاب ہو یا پاکستانی، اس لئے کئی جنگوں کا مرکز رہا ہے پنجاب، یہاں دریا بھی تھے، جہاں آبادیاں ہوتی ہیں، یہاں زراعت بھی تھی، یہاں مزدورں کی شکل میں غلام بھی مل سکتے تھے، فوج میں بھرتی کرنے کے لئے سپاہ بھی ملتی تھی۔۔۔۔۔۔۔

رکیں۔۔۔۔ ایک لمحہ رکیں۔۔۔۔۔ یہ ہندوستانی پاکستانی پنجاب کے الفاظ نے آپ کو دہلایا نہیں؟ روکا نہیں؟ ایک لمحے کو بھی نہیں؟ کبھی یہ الفاظ سنے ہندوستانی پاکستانی سندھ؟؟؟ ہندوستانی پاکستانی بلوچستان؟؟؟؟
چلیں آئیں اگر سننا چاہتے ہیں تو ایک نوحے سے آغاز کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اج آکھاں وارث شاہ نوں،
کتھے قبراں وچوں بول۔۔۔۔۔
تے اج کتاب عشق دا اک نواں ورقا پھول۔۔۔۔۔
اک روئی سی دھی پنجاب دی۔۔۔۔۔۔ تو لکھ لکھ مارے وین۔۔۔۔۔۔ اج لکھاں دھیاں روندیاں۔۔۔۔۔ تینوں وارث شاہ نوں کہن۔۔۔۔۔۔۔
اٹھ درد منداں دیا دردیاں۔۔۔۔۔ اٹھ تک اپنا پنجاب۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔ بس۔۔۔۔۔ یہ لکھنے والی کا حوصلہ تھا جو لکھ گئی، جو ماتم کر گئی اپنے بیٹوں کا، ہم سے نا ہو سکے گا، ہم کہیں گے تو لعنت ملامت کے حق دار بنیں گے۔۔۔۔۔۔
لیکن امرتا پریتم ہیں یہ بین ڈالنے والی، اور اس وقت یہ بین ڈالے گئے جب پنجاب کو کاٹا گیا، پنجاب کے بیٹے کاٹے گئے، پنجاب کی بیٹیاں نوچ نوچ کھائی گئیں، پنجاب کی ماوں کی عزت لیر لیر ہوئی، پنجاب کے بچے نیزوں پر پروئے گئے۔۔۔۔۔
لیکن کبھی آپ نے کسی سے سنا وہ قربانی پنجاب کی قربانی تھی؟ کسی ایک پنجابی نے کبھی کہا ہو کہ ہم نے روحوں پر زخم کھائے اور ہم نہیں کرلائے۔۔۔۔۔؟
پنجاب کے بیٹوں نے سر کٹوائے کروڑوں کی تعداد میں لیکن اس قربانی کو پنجاب کی قربانی کبھی نا کہا، پاکستان کی قربانی کہا۔۔۔۔۔ پنجاب کی لاکھوں بیٹیاں تار تار وجود اور لیرو لیر روحوں کے ساتھ بھی پاکستان کے لئے کنووں میں کود گئیں لیکن حرف شکایت نہیں کہا۔۔۔۔۔۔۔
پنجاب کے دریاوں میں پانی کے ساتھ زہر بہایا گیا ہم چپ رہے، پنج دریاوں کی سرزمین کے دریا چھیننے والے نے پاکستان دشمنی میں خشک کر دئیے، ہم چپ رہے، کبھی نہیں کہا ہم ہی کیوں؟ کیونکہ ہمیں یقین تھا ہمارے دوسرے بھائی ہمارے ساتھ ہیں ہمیں کیا ڈر….

لیکن چھوڑیں۔۔۔۔۔ کیا کرنا یہ یاد کر کے، ہمیں رنجیت سنگھ کی اولاد پکارا جائے یا دال خور کہہ کر تمسخر اڑایا جائے، کالا باغ ڈیم اس لئے نا بننے دیا جائے کہ یہاں کی فصلیں ہری بھری ہوں گی، یا بجلی کوئی اور پیدا کرے اور استعمال پنجاب کرے۔۔۔۔۔۔ یہ کہہ کر نفرت سکھائی جائے، این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب اپنی آبادی کے مقابلے میں کم حصہ لے یا کم آبادی والے صوبے کو زیادہ دیا جائے، ضروریات زندگی میں سب سے ضروری چیز بجلی کے بلوں کو پنجاب سے پورا کیا جائے، کوئی مسئلہ نہیں، معمولی باتیں ہیں، عمومی قصے ہیں۔۔۔۔۔۔

بات تو بس اتنی ہے کہ ہم پنجابی استعمار ہیں، ہم بنگالیوں کے حقوق کے غاصب ہیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کے فیورٹ ہیں، ہم کوٹہ سسٹم کے تحت 50 فیصدی ملکی نوکریوں پر قابض ہیں، ہم فوج میں جا کر دوسرے صوبوں کو فتح کرتے ہیں، ہم ستر سال میں کوئی لیڈر نا پیدا کر سکے، ہم ووٹ ٹھیک لوگوں کو نہیں دیتے، ہم نے مخصوص اشرافیہ کو پورے ملک پر مسلط کر رکھا ہے، ہماری حب الوطنی صرف ایک ناٹک ہے، کیونکہ حکمران ہم ہیں اور نام نہاد حب الوطنی کی خوراک سے ہم بے شناخت پنجابی خواہ مخواہ دوسروں کو ایموشنل بلیک میل کرتے ہیں، ہم کالے کالے پنجابی جن کے دماغ بہت زیادہ تیز نہیں، یہاں ہمارے علاقوں میں دوسری اقوام اسی لئے کامیاب ہو جاتی ہیں کیونکہ ہم ہاتھ پیر ہلانے اور دماغ استعمال کرنے کے قائل نہیں۔۔۔۔۔

لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟

کیا حقیقت اتنی ہی ہے جو آپ کہتے آئے جو آپ کو فیڈ کیا جاتا رہا؟ بنگالیوں کو مسئلہ مغربی پاکستان سے تھا، اس مغربی پاکستان کو پنجاب کا نام کس نے اور کیوں دیا؟ کون سوچے گا؟ 56 فیصد آبادی اور دوسرے صوبوں سے زیادہ شرح خواندگی کے ساتھ بھی 50 فیصد کوٹے پر کروڑوں بیروزگاروں کے ساتھ پنجاب کوٹہ سسٹم نہیں ختم کر رہا؟ جس سے خود پنجاب کو ہی نقصان ہو رہا ہے لیکن ظالم پنجاب ہے؟ فوج میں ہم اپنی آبادی کے تناسب سے کم اور پختون اپنی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہیں، لیکن فوج کو پنجابی فوج کہہ کر گالی دینا مناسب ہے؟ سندھ بلوچستان یا کشمیر کے لئے بھی فوج کی نوکری کے دروازے بند تو نہیں تو گالی پنجابی کیوں کھاتا ہے؟ ہم ستر سال میں لیڈر نا پیدا کر سکے لیکن کیا قائد اعظم، بھٹو، بے نظیر کا ساتھ ہم نے نہیں دیا؟ ان کو اپنا نہیں کہا؟ پورے پنجاب کے طول و عرض میں بلوچ، سندھی اور بے شمار پٹھان کاروباری ہیں، کسی کو شناختی کارڈ دیکھ کر مارا؟ کسی کے کاروبار کا بائیکاٹ کیا؟ یا سب کے لئے بانہیں کھولی اور اس کے باوجود بھی سست قوم کا استعارہ پایا۔۔۔۔۔ عام پنجابی کا معیار زندگی بہتر بتایا جاتا ہے، کیا اس کا معیار زندگی بیرون ملک مزدوریاں کر کے بہتر ہوا یا حکومتوں نے بہتر کیا؟ پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ دھاندلی زدہ الیکشن پر پورے ملک سے پنجابیوں نے گالیاں کھائیں لیکن کسی نے پلٹ کر جواب نہیں دیا، بلکہ خود کو ہی مورد الزام ٹھہرایا، کیا خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت کو سب سے زیادہ سپورٹ کرنے والے پنجابی نہیں؟ پاکستان سپر لیگ میں وہ کون لوگ تھے جو کوئٹہ گلیڈیٹیرز اور پشاور زالمے کو سب سے زیادہ سپورٹ کر رہے تھے؟ کیا وہ پنجابی نہیں تھے؟

اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ۔۔۔۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ کا دھبہ بھی دیکھ لیں؟
پاکستان کی کل 70 سالہ تاریخ میں صدارت کا عہدہ صرف 23 سال پنجاب کے رہنماؤں جبکہ 47 سال غیر پنجابی رہنماوں کے پاس رہا۔

وزارت عظمی کی کل 40 سالہ مدت میں 13 سال پنجابی وزرائے اعظم براجمان رہے جبکہ 27 سال غیر پنجابی، جو یقینا پنجابی ووٹ کے طفیل منتخب ہوئے۔۔۔۔۔
33 سال کے مارشل لاء میں 22 سال مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر غیر پنجابی رہے جبکہ پنجابی آمر نےصرف 11 سال حکومت کی۔
یعنی کہ اس ملک پر 67 فیصد وقت میں حکمرانی باقی قوموں کے رہنماؤں کے پاس رہی جبکہ پنجابی رہنماؤں کو صرف 33 فیصد وقت میسر آیا۔۔۔۔۔
معمولی ردوبدل کے ساتھ یہ اعداد و شمار تاریخ میں درج ہیں، لیکن اس کے باوجود پنجابی استعمار کی بات کی جاتی ہے، پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے آڑھ میں پنجابیوں سے نفرت کی جاتی ہے، اپنے علاقوں میں لسانی مسائل کا ذمہ دار پنجاب کو کہا جاتا ہے، پنجاب جو ہمیشہ آپ کے دکھوں پر رویا، اگر ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار اپنے دکھ پر رونے لگا تو آپ نے گلا گھونٹنا چاہا؟ ہمارے بیٹوں کو پنجاب کے بیٹے کہہ کر قتل کیا جائے تو یہ ہمارے گناہوں کا انجام، آپ کے ہاں مذہبی اور لسانی دہشت گردی ہو تو آپ مظلوم؟ یہ مظلومیت کا لبادہ ہم نہیں اوڑھ سکتے اور ہمیں کہا جاتا ہے کہ گریبان میں جھانکیں؟

ہمارے بیٹے مرے ہیں۔۔۔۔۔ ہماری شناخت کی وجہ سے مرے ہیں، مارنے والوں نے صرف شناخت کی سزا دی ہے، مارنے والے دشمن کے ایجنٹ ہیں یا ناراض بھائی، قصہ پرانا ہے، لیکن مرنے والے گناہ گار نہیں تھے، وہ اگر غیر قانونی سرحد پار کر رہے تھے تو بھی کیا وجہ تھی کہ اپنے گھروں سے دور بے یارو مددگار مارے گئے؟ اگر پنجابی کا معیار زندگی حکومتوں نے اتنا بلند کر دیا ہے تو وہ مٹی میں لتھڑے، کمزور، بیمار، کالے وجود کس لئے گولیوں کا نشانہ بنے؟ اور پہلی بار نہیں بنے، کئی بار ان کی شناخت ان کے لئے موت کا پیغام بنی، تو کیا ہم اپنی شناخت کو روئیں بھی نا؟ ہماری حب الوطنی ناٹک ہے تو ہمارا رونا صوبائی عصبیت؟

صرف ایک شکوہ اور چند سسکیاں ہی تھیں نا؟ کوئی گالی دی کسی کو؟ کوئی بدلے کی بات کی گئی؟ کسی نے پاکستان کے خاتمے کی بد دعا دی؟ کسی نے پاکستان کو توڑنے کا نعرہ لگایا؟ 47 میں یا آج 17 میں؟ کوئی ایک بولا کہ ہمیں پاکستان نہیں پنجاب کی فکر ہے؟ یہ سب نہیں تھا تو کیا روئیں بھی نا؟ ہم تو 47 کے آنسو پی گئے تھے، اب بھی پی جائیں گے، لیکن آپ جو مرہم رکھنے کے وقت نمک پاشی کرتے رہے، سوچئیے گا ضرور کہ عام پنجابی آپ سا ہی مظلوم ہے، اور مظلوم اگر روئے گا نہیں تو مر جائے گا۔۔۔۔۔۔ پاکستان پائندہ باد

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: