بلوچستان: چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے! طلحہ الیاس

0
  • 120
    Shares

گزشتہ روز بلوچ قوم پرستوں کے ہاتھوں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 مزدوری پیشہ افراد کے بہیمانہ قتل پر پوری قوم سوگوار ہے۔ اس اندوہناک واقعے نے جہاں وطنِ عزیز کے صوبے میں امن و امان کی صورتحال, حکومتی پالیسیوں, اداروں کی حاکمیت اور خطے میں خارجی و داخلی انتشار پیدا کرنے والے عناصر کی موجودگی پر کئی سوال اٹھائے, وہیں مختلف مکتبہ فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان شناختی بنیاد پر قتل ہونے والے اس واقعے کے نتیجے میں ایک نا ختم ہونے والی تکرار کا بھی آغاز کر دیا۔

دیگر زرائع کی طرح سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے کو دیکھ کر بہت سے رویئے دیکھنے کو ملے۔ ایک طرف انسانی حقوق کی خود ساختہ علم بردار برگیڈ مصالحتی (یا دوسرے لفظوں میں روایتی منافقانہ) روش قائم رکھتی ہوئی انگشتِ بدندان نظر آئی۔ دوسری جانب متاثرہ افراد کی قوم کے کچھ احباب کا لسانیت کے جھنڈے تلے قطار اندر قطار اکھٹا ہونے کا نظارہ دیکھنے کو ملا۔ کچھ دوست ایسے بھی نظر آئے جو اس المیئے پر کسی بھی تفریق سے بالاتر ہو کر تمام شہداء کے لیئے دعاگو اور غمگین تھے کہ انکے نذدیک اس مصیبت کی گھڑی میں لاحاصل امر میں پڑنے سے قوم کو جوڑے رکھنا زیادہ اہم تھا۔

اسے محض اتفاق ہی کہئیے کہ چند روز قبل ایک عزیز کی وال پر یورپ کے بعض ممالک میں مقیم بلوچ علیحدگی پسند تحریک کی جانب سے چلائی گئی اشتہاری مہم کی تصاویر دیکھنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں مذکورہ واقعے اور اسکے نتیجے میں اٹھنے والے مختلف ردعمل نے بےاختیار ان تمام عوامل پر سوچنے پہ مجبور کر دیا جن کی وجہ سے آج ستر سال گزرنے کے باوجود بھی ہم اپنے ہی بھائیوں کے مابین تعصب اور منافرت کی دیوار پاٹنے میں ناکام ہوئے ہیں۔

اگر آپ بنسبِت شناخت مارے جانے پہ غمزدہ ہیں تو یاد رکھیئے شناخت ہر اس وقت تک یاد کرائی جاتی رہے گی جب تک شناخت کے نام پر حقوق سلب کیئے جائیں گے, شناخت کے نام پہ نسل کشی کی جائے گی, شناخت کے نام پر امتیازی سلوک برتا جائے گا, شناخت کے نام پہ معاشی استحصال کیا جائے گا۔

زیادہ دور نہ جائیے, آنکھیں کھول کر دیکھیئے کہ مخصوص بلوچ اشرافیہ اور انکے بچے آج بھی بیرونِ ملک پرتعیش زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ غریب اور مزدور آدمی آج بھی گارے مٹی کی لیپائی سے بنے کچے جھونپڑوں میں زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہے۔ لکھنے دیجیئے کہ ستر سال ہو گئے آپ حکومتی سطح پر ایسی کسی بھی واضح پالیسی بنانے میں ناکام ہوئے جس سے خطے کا انفراسٹرکچر بہتر ہوتا یا لوگوں کا معیارِ زندگی ہی بلند ہوتا، خواہ آپ فوجی قیادتوں کے عظیم ادوار دیکھ لیجیئے یا جمہوری حکومتوں کے سنہری باب۔ غریب بلوچ آج بھی اپنی کاریزوں میں پانی کے لیئے ترس رہا ہے لیکن آپ سے نا تو منصوبہ بندی ہی ہوئی نا ہی کسی قسم کی اصلاحات قائم ہوئیں۔

ستر سال تک اقتدار کی چھینا جھپٹی اور وسائل کی بندر بانٹ چلتی رہی لیکن کسی ایک حاکمِ وقت کی طبعیتِ نازاں پر یہ گراں نہ گزرا کہ وہ لاوارث صوبے کے بنیادی مسائل ہی پر توجہ دیتا۔ اور کچھ نہیں, اگر اچھے علمی ادارے ہی دے دیئے ہوتے تو شرح خوندگی میں کمزور ترین صوبہ نہ ٹھہرایا جاتا۔

ایسے میں ظلم یہ ہے کہ ہم ماضی کے سانحوں کی طرح ہر گزرتے حادثے کے پسِ پردہ محرکات تلاشنے کے بجائے قومیت و لسانیت کی بنیاد پر رویوں کا موازنہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ جناب! جہاں معیارِ زندگی نہ ہونے کے برابر ہو, جہاں شرح خواندگی کم ترین ہو, جہاں پانی و خوراک کی عدم فراہمی کے لیئے عوام پریشان ہو, صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں، جہاں آواز اٹھانے پر آپکی آواز سلب کر لی جائے, جس جگہ موت سے بد تر دس دس برس کی گمشدگیاں بوڑھی آنکھوں اور پیاروں کے چہروں کی رونق ماند کر دے، جس جگہ ماورائے عدالت قتل کر دیا جانا عام ہو، جہاں صوبے کے معدنی و دیگر وسائل کو ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں لیز دے کر لوٹا جا رہا ہو, جس جگہ معاشی استحصال ہو اس جگہ محرومیاں ہی جنم لیتی ہیں۔ وہاں محبتوں کی جگہ منافرت و انتشار جنم لیتا ہے۔

کل کا واقعہ ہر لحاظ سے بد ترین, بہیمانہ, قابلِ افسوس و مذمت ہے۔ لیکن میرے نذدیک اگر آپ چند لاشوں کے پیچھے کیئے گئے گناہوں کو ناکردہ کہہ کر ڈھانپنے کی کوشش کریں گے تو ماسوائے نتائج پر کفِ افسوس ملنے کے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

میرا خیال ہے ہم گذشتہ سات دہائیوں میں بحیثیتِ قوم ٹکڑیوں اور قومیتوں میں بکھرنے کے کافی اثرات دیکھ چکے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ اب لسانیت چھوڑ کر یک آواز ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ بہتر ہے کہ بلوچ بھائیوں کے ماورائے عدالت اٹھائے جانے پر بھی اسی طرح بین کریں جیسے ابھی نوحہ کناں ہیں۔ دس دس سال گمنام ہو جانا مر جانے سے کہیں اذیت ناک ہے۔ بلوچ بھی اٹھ کر کہہ سکتا ہے کہ میرے حق میں لفظ نہیں لکھتے جبکہ میں سینکڑوں کی تعداد میں گمشدہ اور ماورائے عدل جعلی مقابلوں میں مارا جاتا ہوں۔

اگر آپ بنسبِت شناخت مارے جانے پہ غمزدہ ہیں تو یاد رکھیئے شناخت ہر اس وقت تک یاد کرائی جاتی رہے گی جب تک شناخت کے نام پر حقوق سلب کیئے جائیں گے, شناخت کے نام پہ نسل کشی کی جائے گی, شناخت کے نام پر امتیازی سلوک برتا جائے گا, شناخت کے نام پہ معاشی استحصال کیا جائے گا۔

شناخت کے نام پر اپنے دکھڑے لے کے مت بیٹھیئے۔ ظلم کو ظلم کہیئے اور غلطیوں کو ناکردہ کہنے کے بجائے انکا ازالہ کیجیئے۔ آپکا دشمن آپکو سندھی, بلوچ, پنجابی یا پٹھان سمجھ کے نہیں مار رہا۔ وہ آپکو پاکستانی سمجھ کر مار رہا ہے۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: