تعصب اور بین الاقوامی ڈریکولا ۔ محمودفیاض

0
  • 72
    Shares

تعصب کا پودا اسی مٹی میں لگتا ہے جہاں انسانیت کی مسخ شدہ لاش کھاد کے طور پر گل سڑ رہی ہو۔
۔
دو “گملوں” کی کہانی، جن میں لگے تعصب کے پودے اسی “سڑاند زدہ مٹی” کی وجہ سے پھل دے رہے تھے۔

1990 کی ایک سہ پہر:
میں ایک وین میں بیٹھا کوئٹہ سے لورالائی کی جانب سفر میں تھا۔ میرے ساتھ بیٹھے موٹے تازے بلوچ نے مجھ سے حال احوال پوچھا اور یہ پتہ چلنے پر کہ میں لاہور سے آیا ہوں، اس نے کہا، اچھی طرح گھوم لو، ہوسکتا ہے اگلی بار تم آؤ تو ویزہ لیکر آنا پڑے۔ لاہور میں رہتے ایک لڑکے کے لیے یہ جملہ کافی غم زدہ کردینے والا تھا۔ اس موٹے بلوچ کا نام شائستہ خان تھا۔ اور وہ ایک وکیل تھا۔

2006 کی ایک شام:
سعودیہ کے ایک شہر میں ایک پنجابی دوست کے گھر مہمان تھا۔ شام کی چائے پر بات بلوچستان کے حقوق کی طرف نکل گئی۔ میں نے کہا بلوچستان میں سڑکیں تک نہیں ہیں، اس پر اس پنجابی دوست نے کہا، یار انہوں نے سڑکیں کیا کرنی ہیں، کیا وہ اس پر لیلے (بکری کے بچے) دوڑائیں گے؟ یہ پنجابی بھی انجنئر تھا۔

پنجابی بلوچی سندھی، پٹھان کی بحثوں میں رلتے دانشورو! یہ سڑاند زدہ پودا جس کو تعصب کہتے ہیں اس کے لیے جو مٹی درکار ہوتی ہے وہ کسی خاص علاقے میں نہیں ملتی بلکہ انسان کی شکل میں پیدا ہوئے حیوانوں کے سروں میں ملتی ہے جو اس تعصب کو اپنے جیسے دوسروں کو مارنے کا لائسنس سمجھتے ہیں۔

چھوٹے صوبوں سے نا انصافی ایک حقیقت ہے، مگر اسکے جواز میں ہر پنجابی کا خون کسی خون آشام درندے پر حلال نہیں ہوجاتا۔ لاکھ دلیلیں نکال لاؤ، پھر بھی حق قتل کسی بھیڑیے کو نہیں دیا جا سکتا۔ تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیں کہ کسی ایک پنجابی نے بھی بلوچستان کی محرومیوں پر آواز نہیں اٹھائی۔ تب بھی کوئی انسان ، کسی بھی جنگ کے اصولوں میں بے گناہ مزدوروں کا قتل حلال قرار نہیں دے سکتا۔ ظالم کے خلاف اٹھنے والی جنگ میں جب تم پہلے مظلوم کا گلا کاٹتے ہو تو تم اپنا حق انصاف کھودیتے ہو۔ انسانیت کی کوئی تعریف تمہیں دو ٹانگوں والے جانور سے زیادہ عزت نہیں دلا سکتی۔

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مرنے والے پاکستانی تھے اور قتل کرنے والے دہشت گرد اور ایسا کہہ کر وہ اپنے آپ کو اس تعصب سے اوپر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں مگ اس طرح آپ تعصب سے اوپر اٹھنے کی بات کرتے کرتے اس کو سند قبولیت دے دیتے ہیں۔

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ مرنے والے پاکستانی تھے اور قتل کرنے والے دہشت گرد اور ایسا کہہ کر وہ اپنے آپ کو اس تعصب سے اوپر اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انکا یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہم ہر پیشے کی عزت کرتے ہیں چاہے وہ ریڑھی والا ہی کیوں نہ ہو، اس جملے میں ریڑھی والے کے بےعزتی آپ خود کر رہے ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح آپ تعصب سے اوپر اٹھنے کی بات کرتے کرتے اس تعصب کو سند قبولیت دے دیتے ہیں۔ آپ یہ مان لیتے ہیں کہ ایسی بات کرنے کا آپ کا مقصد ایک حقیقی سانحے میں موجود کچھ باتوں سے پہلو تہی ہے۔ آپ یہ مان لیتے ہیں کہ جیسے ہی آپ پنجابی کا نام لیں گے، آپکو تعصب زدہ قرار دیدیا جائیگا، اس لیے آپ نام لینے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر یہی گریز اصل میں آپ کو ایک اور طرح کا تعصب زدہ بنا جاتا ہے۔

غیر جانبداریت یہ ہے کہ کسی بھی واقعے میں موجود حقائق کو بعینہ اسی طرح بیان کیا جائے۔ موجود سانحے میں سے آپ اس حقیقت کو نہیں نکال سکتے کہ مارے جانے والے تمام لوگ ایک مخصوص شناخت رکھتے تھے۔ ان کا پنجابی ہونا ہی ان کے مرنے کی وجہ بنا۔ آپ وجہ کو نظر انداز کر کے دوسرے تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تعصب تب ہوتا جب مارے جانے کی وجہ کچھ اور ہوتی اور آپ اس کو کسی مخصوص شناخت سے منسلک کرتے۔ اور جب آپ مارے جانے کی وجہ کو نظر انداز کرتے ہیں تو اس کے بعد آپ ایک بند گلی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جہاں آپ کو کسی بات کا کوئی جواب نہیں ملنے والا۔

آپ کو کس بات پر احتجاج کرنا تھا، آپ نے کون سی نماز جنازہ ادا نہیں کی، فلاں قبیلے کے مرنے والوں پر آپ نے لکھا نہیں، اور فلاں کے مرنے پر آپ خاموش رہے، یہ سب باتیں آپ کو کسی حل کی طرف نہیں لے کر جاتیں۔ سوائے اس کے کہ کچھ دن کا وقفہ ہمیں کسی اور سانحے پر اپنی “غیر جانبداریت” ثابت کرنے کا موقع فراہم کردے۔

چھوٹے صوبوں سے ناانصافی ایک حقیقت ہے، مگر اس کے ساتھ جنم لیتی دوسری حقیقت یہ ہے کہ اس ناانصافی کے کھیل میں ہر صوبے کے مقتدرہ حلقے شامل رہتے ہیں۔ بلوچستان ہو، سندھ یا خیبر پختونخواہ، جہاں استحصالی درندوں کو محروم عوام کے نمبرز اپنے حق میں کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ ان نمبرز کو چیک بک میں لکھے ہندسوں سے بدل لیتے ہیں۔ یا قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سیٹوں کی تعداد سے۔ مگر اس کے ساتھ ایک گھناؤنا کھیل وہ یہ کھیلتے ہیں کہ اپنی مراعات اور عوام کی محرومیوں کے درمیان سارے تفاوت کو بڑے صوبے کے خلاف نفرت میں بدل دیتے ہیں اور اپنے عوام کی وفاداریوں کو اپنے لیے مزید مضبوط کر لیتے ہیں۔

ان حقیقتوں سے نکلتی ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ چھوٹے صوبوں میں تعصب کی آبیاری کرنے کے لیے سازگار فضا موجود رہتی ہے۔ جسکی وجہ صرف ایک ہے اور وہ مراعات یافتہ طبقے کے مقتدرہ سے سودے بازی اور لالچ ہے۔ جس طرح سے مرکز میں حکومت کرنے والے اپنی ساری کوتاہیوں کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی سازش کا راگ الاپتے رہتے ہیں، بالکل اسی طرح چھوٹے صوبوں میں موجود مفادپرست اپنی ہوس کو چھپانے کے لیے بڑے صوبے کے خلاف تعصب کو ہوا دینے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔

محرومیوں کی فضا سے جب بغاوت ابھرتی ہے تو یہ تعصب اس کے بہت کام آتا ہے۔ مگر ٹھہریں۔ اس صورتحال میں آپ کلبھوشن جیسے کرداروں کو شامل کر لیں اور گوادر اور سی پیک کے “متاثرین ممالک” کے پیٹوں میں اٹھتے مروڑ کو بھی زیر بحث لے آئیں تو اتنی تو بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ بڑے صوبے اور فوج کے خلاف تعصب کو ہوا دینا اب صرف مقامی گدھوں (زیر کے ساتھ پڑھیں) کی خواہش ہی نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ڈریکولا بھی اپنا حصہ وصولنا چاہتے ہیں۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: