تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ۔۔۔۔ ایک عورت ایک کہانی ۔ قسط 3

0
  • 27
    Shares

ایک عروسِ نو کی آ بلہ پائی کی سچی، خود نوشت داستان ۔۔۔۔۔ جو بہت سے نشیب و فراز سے گزر کر اب ایک ملکہ کہ طرح اپنی راجدھانی کی حکمران ہے مگر عمرِ گذشتہ کے کچھ روگ اب بھی ہمراہ ہیں جو کہانی لکھنے کا محرک بنے۔ دوسرا حصہ۔


بھابھی کا آپ نے کیسے سوچ لیا میں تو ان کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ میرا جواب سن کر مجازی خدا حیرت زدہ رہ گئے، کہنے لگے پھر کون تھا میں فوراً بول پڑی وہ جن۔۔۔ کیا مطلب کہ وہ جن تھا مجازی خدا ابھی بھی حیرت میں تھے میں بولی جی جی۔۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ جن کے پاؤں نہیں ہوتے وہ چھپ چھپ کر چلتا نہیں مگر عافیت اسی میں تھی کہ خاموش ہی رہوں۔ اس واقعہ کے بعد مجھے ہر وقت خوف رہتا کہ میرے بچوں کو کچھ ہو نہ جائے۔ میں دونوں بچوں کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی۔ ایک ہی وقت میں دونوں کو گود میں اٹھائے رکھتی تھی دن بدن بھابھی کی مہربانیاں بڑھنے لگیں اکثر مجازی خدا کے کمرے میں آنے کے ساتھ ہی آجاتیں اور بچوں کو گود میں اُٹھاکر کہتیں کہ تم دونوں ہنسو بولو میں بچوں کو لے جاتی ہوں، میرے منع کرنے باوجود لے جاتیں تو مجازی خدا ہمیشہ یہی کہتے کہ بھابھی بچوں کا کتنا خیال رکھتی ہیں۔

اب میں بھابھی کے ساتھ بچوں کو باہر نہیں جانے دیتی تھی مگر ایک دن مجازی خدا کے سامنے گڈے کو باہر لے جانے کا کہا تو میں نے صاف منع کردیا اور گڈے کو سینے کے ساتھ مزید چمٹا لیا۔ بھابھی غصے سے بولیں اسے مجھ پر بھروسہ نہیں یہ سمجھتی ہے کہ میں اسکے بچوں کو مار دونگی۔ یہ سننا تھا کہ مجازی خدا نے گڈے کو مجھ سے چھینا اور بھابھی کو دے کر بولے یہ آپ ہی کا بیٹا ہے بھابھی اپنے دیور کی تعریفیں کرتے ہوئے باہر چلی گئیں، گڈا اب نو مہینے کا ہوگیا تھا۔ ماما اماں بولنے لگ گیا تھا اور بہت کچھ سیکھ گیا تھا۔ بھابھی کے جانے کے بعد مجھے سو سو وہم آنے لگے۔ فکر سے کبھی پیٹ میں درد اُٹھے اور کبھی اُبکائی آئے۔ اللہ سے دعا مانگتے مانگتے منہ خشک ہورہا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد بھابھی آئیں تو جان میں جان آئی مگر یہ دیکھ کر پریشانی ہوگئی کہ گڈا بُری طرح رو رہا تھا، بھابھی نے یہ کہکر پکڑا دیا کہ لگتا ہے اس کے پیٹ میں درد ہے دوائی پلادو ٹھیک ہوجائے گا، میں گڈے کو اوپر لے آئی منہ ہاتھ دھلایا کپڑے بدلے پھر دودھ دیا گڈا روتا ہی جارہا تھا، دودھ بھی نہیں پی رہا تھا بلکہ دودھ منہ سے باہر نکال رہا تھا ایسا کبھی نہیں ہوا تھا، میں پریشان ہوگئی پیٹ درد کی دوائی اٹھائی پہلے چکھی پھر گڈے کا منہ کھولا دوائی کا چمچ منہ ڈالنے ہی لگی تھی کہ دیکھا گڈے کی زبان کالی اور جلی ہوئی تھی، یہ دیکھ کر میں تڑپ گئی مگر کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی ساری رات گڈا روتا رہا۔ صبح ہوتے ہی مجازی خدا کمرے میں آئے تو گڈے کی طبیعت کا بتایا وہ بولے بھابھی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس لے جانا۔ اچھا جی کے علاوہ میں کچھ بھی نہیں بول سکی، جلدی جلدی سارے کام کیے بھابھی کو ساتھ چلنے کا کہا تو انھوں نے بہانے بنادیے اور کہا تم بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو بس دوائی دو ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔ میں نے ساس صاحبہ سے جیٹھ کے گھر جانے کی اجازت مانگی اور بہانہ یہ بنایا کہ کچے قیمے کے کباب کی ترکیب لے آؤں انھوں نے یہ کہہ کر اجازت دے دی کہ سارے کام پڑے ہیں جلدی آجانا ہنڈیا بھی ابھی پکانے والی ہے اچھا جی کہا اور ڈاکٹر کے کلینک کی طرف دوڑ لگادی کلینک پر پہنچ کر سانس لیا مگر یہ کیا کلینک تو بند تھا گڈا ابھی بھی روئے جارہا تھا میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ اللہ سے دعا مانگتے مانگتے زبان خشک ہوچکی تھی کچھ دیر بعد ڈاکٹر آگیا کلینک کھلتے ہی میں جلدی سے ڈاکٹر کے پاس گئی اور بولی جلدی سے میرے بچے کو دیکھیں ڈاکٹر میری پریشانی کو سمجھ چکا تھا، گڈے کا ہاتھ پکڑا تو بولا اسے بخار نہیں پیٹ میں درد سے رو رہا ہے میں جلدی سے بولی ڈاکٹر صاحب پہلے اسکی زبان دیکھیں انھوں ٹارچ لی اور روتے ہوئے گڈے کامنہ کھولا زبان دیکھتے ہی چیخ پڑے اسکی زبان کو کیا ہوا یہ کیسے جلی۔۔۔۔۔ میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا انھوں نے نیلی دوائی اور گلیسرین لگانے کے لیے دی میرے پاس پیسے بھی نہیں تھے جو ڈاکٹر کو فیس مانگنے پر دیتی ڈاکٹر صاحب بولے آپ بچے کو گھر لے جائیں اسے چپ کرائیں اور دوائی لگائیں میں بولی فیس۔۔۔۔ ڈاکٹر بولے فیس پھر لے لوں گا کلینک سے باہر آئی تو محلے کی ایک عورت مل گئیں سلام دعا کی اور جیٹھ کے گھر کی طرف دوڑ لگادی جٹھانی صاحبہ سے کچے قیمے کے کباب کی ترکیب لی اور گھر کی راہ لی۔۔۔۔ محلے والی نے گھر میں پہلے ہی ڈاکٹر کے پاس جانے کی اطلاع پہنچادی تھی گھر میں سب سے پہلے بھابھی نے غصے سے استقبال کیا، پھر سسر نے خوب کلاس لی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں اکیلی ڈاکٹر اور گھر سے باہر گئی تھی۔۔۔۔۔ شام کو مجازی خدا کے آنے کا انتظار تھا اوپر سے نیچے دیکھا تو بھابھی ٹہل رہیں تھیں اس کا مطلب تھا انھیں بھی انتظار تھا میں نے گڑیا اور گڈے کو اُٹھایا نیچے آگئی اسی وقت مجازی خدا بھی آگئے گڈے کو روتا دیکھ کر بولے ڈاکٹر کے پاس گئی تھی، میں نے جلدی سے بولی ہاں بھابھی کو کہا تھا مگر بھابھی نے جانے سے انکار کردیا تھا اس لیے میں لے گئی تھی، بھابھی میرا منہ دیکھتی ہی رہ گئیں، مجازی خدا بولے تو یہ رو کیوں رہا ہے میں بولی کہ گلے میں انفیکشن ہوگیا ہے دودھ بھی نہیں پی رہا بھوکا بھی ہے، میں نے دیکھا کہ مجازی خدا بھابھی سے نظریں نہیں ملا رہے تھے آج پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا۔۔۔۔

گڑیا پونے دو سال کی ہوگئی تھی بہت ہی گول مٹول سی تھی باتیں اتنی پیاری کرتی تھی دل کرتا تھا کہ بس سنتے ہی رہو اس کے باوجود مجازی خدا نے کبھی پیار نہیں کیا تھا۔ پیار ہی نہیں بلکہ ہاتھ تک نہیں لگایا اور نہ لگانے دیتے تھے۔ باپ کے آتے ہی چھپ جاتی تھی کبھی الماری میں کبھی بیڈ کے نیچے مجازی خدا کو اپنا غصہ نکالنے کا بہانہ ڈھونڈنا نہیں پڑتا تھا انھیں خود ہی بہانہ مل جاتا تھا۔ بھابھی روز ہی بچوں کی شکایت کردیتیں تھیں کہ گڑیا نے میرے پیسے چوری کیے تھے یا یہ کہ گڑیا نے مجھے گالی دی تھی وغیرہ وغیرہ۔ بھابھی کی شکایت سننے کی دیر ہوتی ان کے ہاتھ میں فوجیوں کی چمڑے والی اسٹک آجاتی۔ میں گڑیا کو بچاتے بچاتے صفائیاں پیش پیش کرتے کرتے تھک جاتی مگر ان کے لیے بھابھی کی گواہی کافی ہوتی تھی۔۔

مگر پھر ایک دن بھابھی کی گواہی کو جٹھانی صاحبہ نے غلط ثابت کردیا رمضان کا مہینہ تھا اور میں روزے سے تھی پیسے جمع کرکے افطاری کا اہتمام کیا۔ میں نے خاص طور پر سوکھے دودھ سے رس ملائی بنائیں۔ اب مسئلہ درپیش تھا کہ میٹھا کم یا زیادہ تو نہیں اللہ پاک نے میری مشکل دور کرنے کے لیے جٹھانی صاحبہ کو بھیج دیا۔ جٹھانی صاحبہ کو میٹھا چکھایا تو وہ بولیں کہ میٹھا ایسا ہے کہ نہ کم نہ زیادہ یہ سن کر مجھے اطمینان ہوگیا۔ دیگچی اُٹھائی اور سٹور میں پیٹی کے اوپر رکھ دی شام کو سب گھروں میں افطاری بھیج دی۔ روزہ کھولتے ہی رس ملائی منہ میں رکھتے ہی اُبکائی آگئی رس ملائی میٹھی کم اور نمک سے بھر پور تھی۔ سب ہی تھو تھو کرنے لگے پہلے الزام مجھ پر آیا کہ چینی کی جگہ تم نے نمک ڈال دیا ہے مگر میں نے اس الزام کو ماننے سے بلکل انکار کردیا۔ اسی وقت جٹھانی صاحبہ آگئیں انھوں نے آتے ہی کہا کہ نمک کس نے ڈالا جب کہ تم نے مجھے چکھایا تھا تو اس وقت میٹھی اور بہت اچھی لگی تھی دل تھا کہ اور کھاؤں یہ سوچ کر نہیں کہا کہ شام کو تم نے بھجوا تو دینی ہے۔ اب الزام بچوں پر آگیا کہ بچوں نے نمک ڈال دیا ہوگا کیونکہ ساس صاحبہ نے پیٹی کے اُوپر دیگچی دیکھ چکیں تھیں وہ الزام بھی ثابت نہ ہوسکا۔

دوسری طرف جنوں کی کاروائیاں مزید بڑھنے لگیں غور کرنے پر یہ بات بھی سامنے آگئی کہ جنوں کی کارستانیاں ساس سسر کی غیر موجودگی میں ہوتیں ہیں۔ فریج کے کمپریسر میں سوراخ ہوگیا گرینڈر مشین میں پانی بھر گیا۔ پف سلائی مشین کی تاریں بُری طرح کٹی ہوئیں تھیں۔ اون کو آگ لگ گئی جہیز کی ہر چیز تباہ و برباد ہورہی تھی۔ لگتا تھا کہ جنوں کو مجھ سے کوئی دشمنی تھی جو وہ وقتاً فوقتاً نکالتے رہتے تھے۔۔۔۔

لاکھ کوشش کے باوجود بھابھی کا ہر کام مجھ سے زیادہ اچھا ہوتا تھا یہ بات میری سمجھ سے بالا تر تھی۔ ایک دن جب میں اپنے کمرے سے نیچے سیڑھیاں اتر رہی تھی تو دیکھا بھابھی جی کا بڑا بیٹا لفافے میں کچھ لیے اوپر آرہا تھا۔ پوچھا تو ٹالنے لگا آگے بڑھ کر لفافہ کھولا تو دیکھا دھوبی سے دھلے استری شدہ مردانہ کپڑے تھے۔ پوچھا تو بولا چچا کے کپڑے ہیں غور سے دیکھا تو مجازی خدا کے کپڑے پہچان گئی۔ پوچھنے پر بتایا امی چچا کے کپڑے ہمیشہ دھوبی سے دھولواتیں ہیں۔ اس کا ایک ہاتھ پیچھے کی طرف تھا، دیکھا تو اس کے ہاتھ میں مجازی خدا کے پالش شدہ بوٹ تھے۔ اسی طرح ایک دن ڈونگے میں ہوٹل سے قورمہ آتے دیکھا، شام کو وہی قورمہ بھابھی نے مجازی خدا کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ خاص طور پر تمھارے لیے بنایا ہے۔ اب بھابھی کی اصلیت کھل کر سامنے آگئی تھی مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی کہ بھابھی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی، ان کی کفالت میرے سسر جی نے اپنے ذمے لے رکھی تھی، سب ہی بھابھی کی بہت عزت کرتے تھے پھر وہ میرے ساتھ ایسا کیوں کررہیں تھیں۔۔۔۔۔ جس دن مجازی خدا مجھے باہر لیجانے کا پروگرام بناتے فوراً بھابھی اپنا مسئلہ پیش کردیتیں یا اسکوٹر کے ٹائیر کی ہوا نکلی ہوئی ملتی جس پر مجازی خدا کا موڈ خراب ہوجاتا اور میں مشکل میں پھنس جاتی۔۔۔۔۔

ان سب حالات کے باوجود میں بہت خوش رہتی مجھے گڑیا اور گڈے کے ساتھ کھیلنا بہت پسند تھا دونوں کے چھوٹے چھوٹے کام کرکے مجھے بہت خوشی ملتی تھی۔ میں نےبچوں کے ساتھ اپنی دنیا بسالی تھی بچے بڑے ہورہے تھے اس کے باوجود مجازی خدا کی بچوں کے ساتھ سختیاں کم نہیں ہو رہی تھیں۔ گڑیا اور گڈے کو ناخن کھانے کی عادت پڑگئی تھی ان کے ناخنوں میں پیپ پڑی رہتی اور میں ان پر بینڈیج لگاتی رہتی تھی۔ گڑیا ساڑھے تین سال کی ہوگئی تھی محلے کے سکول میں داخل کرا دیا تھا۔ بھابھی کا اسرار تھا کہ وہ گڑیا کو اسکول چھوڑنے اور لینے جائینگی۔ یہ بات میرے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ مجازی خدا نے مجھے لیجانے اور لانے سے سختی سے منع کردیا تھا۔ اب مجھے اپنے بچوں کا ہر حال میں خیال رکھنا تھا پہلی مرتبہ ہماری آپس میں خوب لڑائی ہوئی مجازی خدا نے پہلے اپنی آنکھیں دکھائیں پھر ہاتھ۔۔۔ انھوں نے گڑیا کو اسکول نہ بھیجنے کا حکم سنا دیا۔ یہ حکم مجھے منظور تھا مگر بھابھی کی سرپرستی منظور نہیں تھی۔ چند دنوں کے بعد ہی ایک واقعہ ہوگیا۔ میرے سامنے بھابھی کی بیٹی نے پکتا چائے کا پیالہ ماں کو تھمایا میں گڑیا کو پیچھے کرنے لگی تو اس نے وہ پیالہ گڑیا کے سر پر انڈیل دیا۔ گڑیا بلبلا کر رونے لگی گڑیا کا سر اور منہ بری طرح جل گیا تھا۔ میں گڑیا کو لیکر نیچے بھاگی ملائی کا کٹورا فریج میں پڑا تھا جلدی سے وہ کٹورا گڑیا کے سر پر انڈیل دیا۔ میری امی ہمیشہ ہاتھ جلنے پر ملائی لگایا کرتیں تھیں۔ ساس صاحبہ کو پوتی سے زیادہ ملائی کا دکھ ہو رہا تھا اور شام کو بھابھی نے یہ کہہ کر گھر سر پر اُٹھالیا کہ میں نے ان پر الزام لگایا کہ جان بوجھ کر چائے انڈیلی ہے اور دوائی بھی لگانے نہیں دی۔ میں خاموشی سے بھابھی کو دیکھ رہی مجھے اب بھابھی کی پرواہ نہیں تھی مگر مجازی خدا کے غصے کا ڈر تھا۔ گڑیا کے چہرے پر بڑے بڑے آبلے پڑ گئے تھے۔ مجازی خدا نے بھابھی کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس داستان کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں     اس داستان کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: