آلو قیمہ ۔۔ افسانہ: ڈاکٹر نگہت نسیم

0
  • 256
    Shares

سکینہ کو کراچی کے سب سے بڑے دماغی امراض کے ہسپتال میں داخل ہوئے تین دن گرز چکے تھے، جہاں مجھے نفسیات کی گتھیوں کوسلجھاتے ہوئے کوئی دسواں برس تھا۔ وہ جب سے آئی تھی اس وقت سے چپ تھی بلکہ وہ تو کئی دنوں سے چپ تھی اور کئی ڈاکٹروں سے علاج کے بعد ہی مینٹل ہوسپٹل لائی گئی تھی۔۔ سکینہ دبلی پتلی تیکھےنین نقش کی پر کشش لڑکی تھی۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں یا تو حیرانی نظر آتی یا پھر ویرانی، چہرے کی زرد ی میں‌ یاسیت نمایاں تھی۔ خوبصورت کٹاؤ‌ والے ہونٹ پانی کی کمی کی وجہ سے بے جان لگ رہے تھے۔ گہرے نیلے پھولدار شلوار قمیض کی سلوٹیں بتا رہی تھیں کہ وہ کئی راتوں سے صرف کروٹیں بدلتی رہی ہے۔ گہری نیلی کناری والے سفید دوپٹے میں سے جھانکتے کالے بال اس کے چہرے سے اپنایت میں ایسے لپٹ‌رہے تھے جیسے تسلی دے رہے ہوں۔ سکینہ کے پاس ہر بات کے جواب میں صرف ایک چپ تھی۔ کچھ کھانے کو دیتے تو ایسے پتھر کی ہو جاتی جیسے نہ اسے کچھ سنائی دے رہا ہو اور نہ ہی کچھ دکھائی دے رہا ہو۔ آج اس کو مینٹل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہوئے تیسرا دن تھا۔۔ دوا کی مقدار بھی بڑھائی جا چکی تھی اور ڈرپ بھی لگ چکی تھی اور میں سوچ رہی تھی کہ چپ کے اس سمندر کو کیسے عبور کروں۔۔ اگر کل تک سکینہ نے کچھ نہ کھایا اور نہ بولا تو ایمر جنسی میں الیکٹرک شاک (‌ای سی ٹی) دینا پڑ جائے گا۔۔ کاش کہ سکینہ اس سے پہلے ہی کچھ بول پڑے اور کچھ کھا لے تاکہ اس طریقہ علاج کی ضرورت نہ پڑے۔

سکینہ کے گھر والوں میں سے اس کی ماں اور بہن کے ساتھ اس کا شوہر اور ساس آفس کے باہر انتظار گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آج بھی سکینہ سے ملاقات کے بعد انہیں کچھ نہ بتا پائی کہ سکینہ کب تک اس حالت میں رہے گی؟ وہ ہر بار کی طرح آج بھی وہی بات کہہ رہے تھے جو سکینہ کو ہوسپٹل داخل کرواتے وقت بتائی تھی۔۔ سکینہ کی ماں رندھے ہوئے لہجے میں کہہ رہی تھی “ سکینہ ٹھیک ٹھاک تھی۔۔ اپنے گھر ہنسی خوشی رہ رہی تھی، جانے کیا ہوا ہے؟ پھر سفید سوتی دوپٹے سے آنسو پونچھتی جاتی اور کہے جاتی ’’ابھی عمر ہی کیاہے میری بچی کی۔۔ یہی کوئی چوبیس سال۔۔۔ ہائے یہ کوئی عمر ہے بیمار پڑنے کی۔۔ دوا کھانے کی“ پھر ماتھا پیٹ لیتی اور کہتی ’’نظر کھا گئی میری بچی کو۔۔ کوئی پیر فقیر کرو کہیں جن بھوت کا سایہ ہی نہ ہو “۔۔ جس پر سکینہ کی چھوٹی بہن تہمینہ اپنی ماں کو فورا ٹوک دیتی “توبہ کریں امی جی، کوئی جن بھوت نہیں ہے، کسی پیر فقیر کی ضرورت نہیں۔۔ پھر میری طرف متوجہ ہوتی اور کہتی“ سکینہ کو بچے بہت اچھے لگتے ہیں، اللہ پاک نے شادی کے دو برس بعد اسے بیٹا دیا تھا “ احمر “۔۔ پر وہ۔۔۔ ایک برس کا بھی نہ ہونے پایا تھا کہ اللہ پاک نے واپس لے لیا۔ اس کے بعد سےکوئی خوشخبری سکینہ کے دامن میں نہیں آئی ۔۔ اپنی اس کمی کو سکینہ بہت محسوس کرتی تھی اور چپ سی ہو کر رہ گئی تھی۔۔ شاید اسی لیئے اب زیادہ بیمار ہو گئی ہے “۔۔ پھر خاموش سا سکینہ کا شوہر “ اعجاز“ آہستہ آہستہ بتاتا “ جی ہماری طرف سے سکینہ پر اولاد نہ ہونے پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔۔ سب اس کی دلجوئی کرتے ہیں، خدا جانے کس کی بات کو دل پر لے لیا ہے “۔۔ بھلا اس سارے منطر میں سکینہ کی ساس کیوں نہ بولتی وہ اپنے بیٹے کی طرف دیکھتی اور نظروں ہی نظروں میں اسے خاموش رہنے کا حکم جاری کرتی اور خود سکینہ کی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جاتی “ ہائے بہت علاج کروایا کہ بہو کی گود ہری ہو جائے، ہم نے تو کوئی پیر فقیر نہیں چھوڑا۔۔ بس اللہ کی رحمت ہی اس کے ساتھ نہیں ہے۔۔ کتنی بار سمجھایا کہ لوگوں سے ملنے جلنے میں احتیاط کیا کرو پر آج کل کی لڑکیاں جہاں منہ اٹھایا چل پڑتی ہیں۔ کچھ مہینوں سے تو سکینہ پر نیا بھوت سوار تھا، یتیم خانے جانے کا اور خدا جانے وہاں کا کونسا بچہ گود لینے کا رونا ڈالے رکھتی تھی“۔۔ پھر وہ خونخوار نظروں سے سکینہ کی ماں کی طرف ایسے دیکھتی جیسے ایسا کرنے کو انہوں نے ہی کہا ہو۔۔۔ اتنی آوازوں کے بیچ سکینہ چپ رہتی۔۔ سر جھکائے زمین کی طرف ایسے دیکھتی رہتی جیسے اس کے ارد گرد کوئی نہ رہتا ہو اور نہ بستا ہو۔ کسی کے پاس بھی مزید کچھ نیا کہنے کو نہ تھا۔۔ انٹرویو والے کمرے میں ایک لمبی سی خاموشی چھا گئی۔۔ جسے میں نے ہی توڑا اور ایک نئی یقین دہانی کے ساتھ سکینہ کے تمام گھر والوں کو واپس گھر جانے کوکہہ دیا اور خود سکینہ کی کیس ہسٹری میں الجھ گئی۔۔

سکینہ کو داخل ہوئے چوتھا روز تھا۔۔ اور اس کی چپ کو کئی دن۔۔ ایسا کب تک ؟ آج میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے اس یتیم خانے ضرور جانا ہے جہاں سکینہ چوری چوری جایا کرتی تھی۔۔۔ اور اس بات کو اس کی ساس نے باتوں باتوں میں ہر انٹرویو میں جتایا تھا۔ یتیم خانے کی تفصیل سکینہ کے شوہر اعجاز سے مل گئی تھی۔ اسی نے بتایا تھا کہ احمر کی پیدائیش پر اسی یتیم خانے کو بچوں کو بلا کر ان دونوں نے خوشی منائی تھی۔۔۔ فون پر یتیم خانے کے مینجر “‌سرمد”‌ سے سکینہ کے سلسلے میں ملاقات کا وقت صبح کے دس بجے مقرر ہو چکا تھا۔ میں نے کتابیں بند کیں اور یتیم خانہ جانے کے لئے تیار ہونے لگی۔۔ اعجاز نے بہت کہا کہ وہ بھی ساتھ چلے گا پر میں نے اسے منع کر دیا تھا۔۔ میرے زہن میں کئی سوال تھے۔۔ جنہیں جاننا میرے لیئے بہت ضروری تھا۔۔ مجھے سکینہ کو سمجھنا تھا۔۔۔۔ پھر مجھے آگے بہت کچھ علاج کے بارے بھی سوچنا تھا۔۔۔ فیصلے تنہائی مانگتے ہیں جو مجھے اس وقت چاہئے تھی۔۔

میں اعجاز کے بتائے ہوئے پتے پر یتیم خانہ پہنچ چکی تھی جو چھوٹی سی پیلے رنگ کی بلڈنگ تھی جس کی دیواروں پر جا بجا رنگ اتر چکا تھا۔عمارت کے دونوں طرف چھوٹے چھوٹے بغیر رنگ کے لوہے کے دروازے تھے جو شاید آفس میں کام کرنے والوں کی گزرگاہ تھی۔ عمارت کے بیچوں‌بیچ بڑا سا لوہے کا ہی کالا گیٹ‌ تھا جس پر بڑا سا کالے ہی رنگ کا تالا لگا ہوا تھا۔ گیٹ سے باہر ایک باوردی چوکیدار کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے سرمد صاحب سے دس بجے کی ملاقات کا بتایا۔ اس نے مجھے دائیں طرف لوہے کے بے رنگ چھوٹے سے گیٹ‌کی طرف اشارہ کیا اور اندر جانے کو کہا۔ میں چوکیدار کو شکریہ کہتے ہوئے دائیں طرف بڑھ گئی۔ سرمد صاحب جیسے میرے ہی منتظر تھے۔ درمیانی عمر کے خوش اخلاق سے سرمد صاحب بے حد احترام سے ملے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کایتیم خانہ بغیر کسی نام کے اس لیئے ہے کہ ہر بچے کو اپنا ہی گھر لگے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے یتیم خانے میں دو سو بچے ہیں جن کی عمریں پانچ سال سے لے کر اٹھارہ برس تک ہیں۔ انہیں قران پاک مدرسے میں پڑھایا جاتا ہے جو یتیم خانے کے اندر ہی ہے۔ یہی پر ان کے لئے پرائمری اسکول اور ہائی اسکول تک کا انتظام ہے۔ وہ بڑی دردمندی سے بتا رہے تھے “ اسلام میں سب سے زیادہ یتیم کے حق کا زکر ہے پر اسلامی ملکوں میں ہی یتیم سب سے زیادہ تکلیف سہتے ہیں، ان کے لیئے فنڈز کم ہوتے ہیں، گورمنٹ کی سرپرستی نہیں ہوتی۔۔ اور تو اور انہیں نہ ہی کوئی اپناتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں “۔۔ ان کے پاس زیادہ تر بچے ایسے تھے جو کشمیر اور کوئٹہ میں ظلم و بربریت میں مرنے والے والدین کے تھے یا زلزلوں میں بچ جانے والے بچے۔ میں خاموشی سے سرمد صاحب کی باتیں سن رہی تھی۔۔ یتیم خانے کی دنیا ہماری دنیا سے کتنی الگ تھی۔۔ ہر رشتے سے محروم ایک دوسرے میں رشتے تلاش کرتے ہوئے کمسن بچے جن کا ہماری دنیا سے صرف صدقہ خیرات کا رشتہ تھا۔۔۔ پاروں اور تسبحیات کا رشتہ۔۔ مرگ و برسی پر فاتحہ کا رشتہ تھا۔۔

آپ فون پر کچھ سکینہ صاحبہ کے بارے بتا رہی تھی۔۔۔ میں نے چونک کر سرمد صاحب کو دیکھا جو اب چائے پانی کامجھ سے پوچھ رہے تھے۔جسے شکریہ کہہ کر میں نے منع کر دیا اور سکینہ کی بابت ضروری معلومات انہیں پہنچائیں۔۔ انہوں نے بتایا کہ “سکینہ انتہائی خوش اخلاق خاتون تھیں۔ کوئی دو برس سے یہاں آ رہی تھیں۔ وہ پہلے تو کبھی کبھار آتی تھیں پھر کچھ عرصے سے ہر پندرہ روز میں ایکبار یہاں ضرور آتیں۔ بچوں میں گھل مل جاتیں۔ ان کے ساتھ کھیلتی، انہیں کھانا کھلاتیں، کہانیاں سناتیں اور واپس چلی جاتیں۔ بچوں کو ان سے بے حد پیار تھا۔ کوئی ایک ماہ سے وہ نہیں آئیں اور ہر بچہ انہیں پوچھ چکا ہے“۔ سرمد صاحب نے یہ کہہ کر مجھے اور حیران کر دیا کہ وہ کبھی کسی کے ساتھ نہیں آتی تھیں۔ لیکن آفس میں سب جانتے تھے کہ سکینہ، اعجاز صاحب کی بیوی ہیں اور احمر کی والدہ تھیں کیونکہ احمر کی پیدائیش پر انہوں نے ہی خصوصی طور پر اس یتیم خانے کے بچوں کو اپنے گھر دعوت دی تھی۔۔ جو بچے آج بھی یاد کرتے ہیں۔ سرمد صاحب آگے بڑھنے کے لیئے مجھے جگہ دیتے ہوئے آفس سے باہر آ گئے پر کسی فون پر الٹے پیر پھر آفس کے اندر چلے گئے۔۔

آفس کا ایک دروازہ یتیم خانے کے اندر کی جانب بھی کھلتا تھا۔ وہاں سے تین سیڑھیاں اتر کر سیدھی ایک روش سی جا رہی تھی۔ میں اسی روش پر کھڑی دونوں جانب دیکھ رہی تھی جہاں گھاس کا فرشی قالین بچھا ہوا تھا جس پر بچوں کے لیئے چھوٹے بڑے جھولے لگے ہوئے تھے۔گھاس کے دائین بائیں چورس سبز ٹکڑوں کے آخری جانب جہاں سے پکی اینٹوں والا برآمدہ شروع ہوتا تھا وہاں دونوں طرف درخت لگے ہوئے تھے جس کی چھاؤں میں تنے سے جڑاایک ایک واٹر کولر رکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک بنچ تھی جہاں غالبا بچے بیٹھ کر پانی پیتے ہونگے یا پڑھتے ہونگے۔۔۔ یا پھر باتیں کرتے ہونگے، اپنی قسمت کا سوچتے ہونگے، اپنے پیاروں کویاد کرتے ہونگے، اور اگر باہر کی دنیا کا سوچتے ہونگے تو کیسے کیسے نہ تڑپتے ہونگے۔۔۔ پھر اداس ہو کر اپنے کمروں کولوٹ جاتے ہونگے۔۔ وہ کمرے برآمدے کے سامنےہی بنے ہوئے تھے۔

کمروں کے دروازے کھلے ہوئے تھے جہاں ہر کمرے میں چھوٹی بڑی کئی چارپائیاں پڑی ہوئی تھیں، جن پر رنگ برنگے بستر بہت سلیقے سے لگے ہوئے تھے۔۔ دل میں آیا کہ کمروں کے اندر جا کر دیکھوں‌ کہ ان چار دیواریوں پر کونسے خوابوں کی فہرست کنداں تھی جو ہمارے خوابوں سے الگ تھی۔ میں نے ابھی چند قدم آگے ہی بڑھائے تھے کہ میں وہیں رک گئی۔۔ کسی نے میرا آنچل ہلکے سے کھینچا تھا۔۔ میں گھبر اکر پلٹی۔۔ ہلکے نیلے رنگ کی نیکر اور شرٹ‌ پہنے سانولے سے رنگ کا، صاف ستھرا سا بچہ بڑی معصومیت سے میرے آنچل کو تھامے مجھے تک رہا تھا۔۔ وہ بچہ مشکل سے سات برس کا ہو گا لیکن اس کی آنکھوں میں سات قرنوں کے سوال پوشیدہ تھے۔ میں اس کے قد کے برابر آنے کے لئے فرش پربیٹھ گئی۔۔ اس کی امید سے بھری چمکیلی آنکھیں میری چہرے پر مرکوز تھیں اور مجھے لگ رہا تھا جیسے وہ میرے دل کے اندر اتر رہا تھا۔۔ میں نے بے اختیار ہو کر پوچھا۔۔
کیا نام ہے اتنے پیارے بیٹے کا۔۔۔
آلو قیمہ۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
کیا عمر ہے تمہاری۔۔
آلو قیمہ۔۔ اس نے پھر وہی جواب دیا تو دوسرے بچے جانے کہاں چھپے ہوئے تھے، باہر نکل کر ہنس پڑے
تم یہاں کب سے ہو بیٹے۔۔؟
آلو قیمہ۔۔ بچے کے جواب نے مجھے پریشان کر دیا پر بچوں کے بلند ہوتے قہقہے بھی اسے پریشان نہ کر سکے۔۔ وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔۔ اس کے ہاتھ میں ابھی بھی میرا آنچل دبا ہو اتھا۔۔
بیٹا تم کونسی کلاس میں پڑھتے ہو۔۔
اس نے اپنا سر زور سے ہاں میں ہلایا اور کہا “ آلو قیمہ“۔۔

معاف کیجئے گا آپ کوتکلیف ہوئی بہت ضروری فون آگیا تھا۔۔ سرمد صاحب کی بات پر میں نے جلدی سے اس بچے کے ہاتھ سے اپنا آنچل چھڑایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔ اور محویت سے پوچھا یہ بچہ کون تھا۔۔۔ سرمد صاحب مسکر ادیئے۔۔“ ڈاکٹر صاحبہ یہ بچہ “‌یاسر” بہت اسپیشل ہے۔ اس کی پیدائیش کے سال بعد ہی اس کے ماں باپ ایک حادثے میں وفات پا گئے تھے اور اسے اس کے چچا نے ہمارے ہاں داخل کروا دیا تھا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن پھر پلٹ‌کر خبر نہ لی۔۔۔“ پر اس معصوم کو ماں چاہئے سرمد صاحب۔، کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آٹھ سال سے کم عمر کے بچے لڑکیوں کے یتیم خانوں میں پلیں تاکہ انہیں ماں کے لمس سے آشنائی رہے۔۔۔۔ میں بے اختیار کہہ گئی۔“ جی جی آپ کی بات درست ہے پر ہم کوشش کے باوجود ایسا نہیں کر سکتے“ سرمد صاحب کو شاید دفتری پالیسیاں یاد آگئی تھیں‌ جو جزوی طور پر پراوئیویٹ اداروں کو کچھ زیادہ ہی درپیش رہتی تھیں‌۔

وہ بتا رہے تھے “ آج سے کوئی تین سال قبل اعجاز اور سکینہ صاحبہ یہاں تشریف لائے تھے۔ ان کے ہاں بیٹا ہوا تھا اور وہ بچے کے عقیقہ کے لیئے یتیم خانے کے بچوں کو کھانے پر بلانا چاہتے تھے۔ اس دن سکینہ صاحبہ کی ملاقات یاسر سے ہوئی تھی۔ پانچ برس کا یاسر ان کے ساتھ جیسے جڑ سا گیا تھا۔ دراصل یتیم خانے اور مدرسوں کے بچوں کو لوگ کہاں خوشی کی تقاریب میں بلاتے ہیں۔ پر احمر کے عقیقہ پر پچیس بچے پہلی بار کسی خوشی کو منانے کسی کے گھر گئے تھے۔۔ انہیں یقین ہی نہ ہورہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے “ سرمد صاحب مسکرا رہے تھے جیسے اس واقعہ کا لطف لے رہے ہوں۔ انہوں نے بڑی محبت سے بتایا کہ “ جب بچوں نے اپنا شبہ دور کرنے کے لئے وہاں جا کر پارے مانگے تو سکینہ صاحبہ نے ہنس کر سب کو باری باری گلے سے لگایا اور کہا کہ آج ہم سب لوگ مل کر احمر کی زندگی اور خوشیوں کے لئے دعا کریں گے اور صرف خوشی منائیں گے۔ واپسی پر انہوں نے سب بچوں کو تحفے بھی دیئے اور پچاس پچاس روپے بھی بانٹے۔۔۔ یاسر بچوں میں سب سے چھوٹا تھا، ساری رات خوشی سے سویا نہیں۔۔۔ سکینہ صاحبہ نے اس دن بچوں کی فرمائیش پر اپنے ہاتھ سے آلو قیمہ بنایا تھا۔۔“ میری حیرانگی قابل دید تھی۔ اب ہم کافی کمروں کے سامنے سے گزر کر ملحقہ مدرسے کے سامنے کھڑے تھے جہاں بچے قران پاک پڑھ رہے تھے۔ سرمد صاحب آگے آگے تھے اور میں ایک معمول کی طرح ا نکے ساتھ خاموش پر سب کچھ اپنے اندر جذب کرتے ہوئے۔۔۔ اب ہم یتیم خانے کے اسکول کے سامنے تھے جہاں دو کمروں میں پرائمری کی کلاس ہو رہی تھی اور تیسرے کمرے میں سیکنڈری کی کلاس۔۔۔ میں سوچ رہی تھی کہ اگر یہ دو سو بچے سڑک پر ہوتے تو کیا ہوتا۔۔۔۔۔؟ سرمد صاحب کی بات نے مجھے چونکا دیا۔۔ وہ کہہ رہے تھے “یتیم خانوں اور مدرسوں میں جو بھی صدقے خیرات میں آتا ہے وہ زیادہ تر بریانی رائیتہ ہی ہوتا ہے یا پھر قورمہ۔۔ ہمارے بچوں نے سن رکھا تھاکہ آلو قیمہ ایک ڈش ہے جو صرف ماں ہی اپنےبچوں کو بنا کر کھلاتی ہے۔۔۔ یاسر نے کبھی آلو قیمہ نہیں کھایا تھا۔۔ اس نے پہلی بار فرمائیش کی تھی سکینہ صاحبہ سے اور انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق آلو قیمہ بنایا بھی تھا۔ یاسر کو اتنا مزا آیا کہ اس دن سے ہر آنے جانے والے کو خؤشی خوشی بتاتا ہے کہ اس نے بھی آلو قیمہ کھایا ہوا ہے۔ سکینہ صاحبہ جب بھی آتی یاسر کے لیئے آلو قیمہ اپنے ہاتھ سے بناکر لاتی تھی اور اپنے ہاتھوں سے کھلایا کرتی تھیں۔ یاسر ان کی غیر موجودگی سہار نہیں سکا اور جب سے وہ ہر کسی کو اس کے سوال کے جواب میں “‌آلو قیمہ “‌ کہہ دیتا ہے ۔۔ آپ برا نہ منایئے گا“۔

میں نے پلٹ کر اس معصوم کو دیکھا۔۔ ا سکی آنکھوں میں اس وقت بھی اس کی خواہشیں امید کا جھولاجھول رہی تھیں۔۔ میں یاسر کی معصومیت، محرومی اور ان گنت سوالوں کو اپنی آنکھوں میں لیئے واپس مینٹل ہوسپٹل آگئی۔۔ اور اب میں سکینہ کے روبرو تھی۔۔ وہی اداس مضمحل آنکھیں۔۔ دن بدن کمزور ہوتا جسم۔۔ سکوت کانوحہ لکھتی اس کی موجودگی۔۔
سکینہ آج میں اس یتیم خانے گئی تھی جہاں تم جایا کرتی تھیں۔۔ اس نے میری بات پر بے چینی سے مجھے دیکھا۔۔۔ پر پوچھا کچھ نہیں !
میں نے بہت سارے بچوں سے ملاقات کی۔۔ بچے تمہیں بہت یا دکرتے ہیں پر یاسر تمہارے بغیر بہت بہت اداس ہے۔۔ میری بات پر سکینہ کی آنکھوں میں اعتبار کا رنگ چھلکنے لگا۔۔ وہ کرسی پر بیٹھی بے چینی سے پہلوبدلنے لگی۔۔ میں نے آہستگی سے کہا “ تم بہت اچھی ہو سکینہ۔۔ تم درد کی زبان جانتی ہو۔۔ تم دوسروں کی خواہشوں کو خوشبو کی طرح خود پر چھڑک لیتی ہو۔۔ پھر ان خواہشوں کو اپنایت و شفقت کا پیراہن دے دیتی ہو۔۔ ماں ہو جاتی ہو “ سکینہ کی آنکھوں میں زندگی کے سرخ ڈورے تیر نے لگے۔۔ میں نے اعتبار کے منظر میں ایک نیا نگ بھرنے کی کوشش کی۔۔
کیا نام ہے تمہارا۔۔۔ میں اس سے زندگی کا تعارف نئے سرے سے کروانا چاہتی تھی
آلو قیمہ۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
کیا عمر ہے تمہاری۔۔؟
آلو قیمہ۔۔ سکینہ نے سکون سے جواب دیا
کیا تم جانتی ہو کہ یہاں کب سے ہو۔۔؟
آلو قیمہ۔۔ سکینہ کے جواب پر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے مجھے لگا جیسے یاسر کے نرم ہتھیلیوں میں میرا آنچل دبا ہو۔۔
تمہیں یاد ہے بیمار ہونے سے پہلے تم نے یتیم خانہ جانے کی ضد کی تھی اور تمہیں کمرے میں قید کر دیا گیا تھا۔۔
اس نے اپنا سر زور سے ہاں میں ہلایا اور مسکراتے ہوئے کہا “ آلو قیمہ“۔۔
سکینہ کے ایک ہی جواب پر میرے کئی سوال سانس لینا بھول گئے۔۔ اعتبار کے منظر نے، بے اعتبار رشتوں کے سارے بھید کھول دیئے تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: