ترکی میری نظر سے: عمار یاسر (قسط 4)

1
  • 24
    Shares

زیر زمین میٹرو سٹیشن پر دوسرے مسافروں کے ہمراہ ٹرین کے انتظار میں چہار جانب نگاہیں گھوم رہی تھیں۔ سٹیشن میں داخلے کے وقت صرف ایک پولیس اہلکار راہنمائی کے لیے موجود تھا۔ پلیٹ فارم پر زیادہ تر ترکش نوجوان لڑکے لڑکیاں ہی تھیں جن کی اکثریت اپنے موبائلز میں “سر” دیے ہوئے تھی۔ ٹرین میں داخل ہو کر جس کو جہاں جگہ ملی کھڑا ہوگیا۔

استقلال سٹریٹ کا ایک منظر

ترکی کے مختلف شہروں میں سفر کے دوران کچھ خاص باتیں ملاحظہ کیں ان میں سے ایک “صفائی” ہے۔ سڑک پر، سٹیشن پر، ٹرین میں، بس میں، دوکان میں، کسی بھی جگہ آپ کو کچرا یا کوئی فالتو چیز اِدھر اُدھر پڑی نظر نہیں آتی۔صفائی کے معاملے میں ترکش قوم نے مشہور حدیث کے مفہوم پر گویا من و عن عمل کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ ٹرین ہو یا بس یا ٹرام وے، ہر جگہ دوران سفر ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ کئی نوجوان انھی جگہوں پر عملی طور پر پیار کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں، لیکن اب یہ چیز ترک معاشرے میں برائی نہیں سمجھی جاتی۔ ترک نوجوان سے اگر اردغان کے بارے میں رائے لی جائے تو وہ بتائے گا کہ اردغان نے ہماری ذاتی زندگی پر کسی قسم کا قدغن نہیں لگایا۔ لیکن بہرحال اس آزادی کے منفی اثرات آپ کو کئی مواقع پر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں (لڑکا، لڑکی) میں سگریٹ نوشی کا رجحان بہت زیادہ نظر آتا ہے۔

آبنائے باسفورس کے پل پر، عقب میں بلیو ماسک کے مینار

چند ہی ساعتوں میں تاکسیم پہنچے تو اُفق پر پھیلی سرخی کی چادر پر شام کا اندھیرا اپنی سیاہی کی چادر پھیلا رہا تھا۔ بدلتے رنگ میں سیاہی بھرے جانے سے قبل ہی ہم تاکسیم سکوائر میں چند تصاویر بنا چکے تھے۔

تاکسیم سکوائر ترکوں کے لیے استنبول کی سب سے مشہور جگہ ہے۔ اس میدان کے ارد گرد بے شمار بلند و بالا ہوٹل، ریستوران دکھائی دیتے ہیں۔ میدان کے ایک طرف مشہور “استقلال سٹریٹ” نیچے کی جانب جا رہی ہے، جہاں نائٹ کلب،مساج سینٹر، سینما گھر اور مختلف عالمی برانڈ کی دکانیں بکثرت موجود ہیں۔ کہتے ہیں کہ تاکسیم میں دن رات لوگوں کا رش رہتا ہے کیونکہ یہ جگہ شہر کے وسط میں واقع ہے۔ اسی میدان میں ترکی کے سالانہ یوم آزادی کی پریڈ، عوامی اجتماعات اور مختلف پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔

گلاتا ٹاور کے سامنے

تاکسیم میدان کے وسط میں آزادی کا مجسمہ اس کی وجہ شہرت بتایا جاتا ہے۔ 1923 میں ترکی کو آزادی ملنے کے 5 سال بعد 1928 میں یہ مجسمہ ایک اطالوی مجسمہ ساز “پیٹررو کینونیکا” نے بنایا جس کا افتتاح 1928 میں ترکی کے پانچویں یوم آزادی کے موقع پر کیا گیا۔ مجسمہ آزادی میں “کمال اتاترک ” کو ایک فوجی کمانڈر، ایک منتظم کے طور پر دکھایا گیا ہے۔جبکہ مجسمے میں جس فوجی نے جھنڈا تھام رکھا ہے اسے ترک فوج سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مجسمہ کے دوسری طرف “اتاترک کلچرل سنٹر” کی ایک بہت بڑی عمارت قائم ہے۔ مذکورہ عمارت کی تعمیر مکمل ہونے میں 13 سال کا عرصہ لگا۔تکمیل کے بعد یہ عمارت 1969 میں عوام کے لیے “استنبول ثقافتی محل” کے نام سے کھولی گئی لیکن افتتاح کے ایک ہی سال بعد 1970 میں عمارت میں آگ لگنے کی وجہ سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ عمارت کی دوبارہ سے تزئین و آرائش کے بعد اسے 1978 میں نئے نام ” اتاترک ثقافتی مرکز” کے نام سے کھولا گیا۔ اس ثقافتی مرکز میں 2007 تک ملکی اور بین الاقوامی ثقافتی پروگرام، ڈرامہ اور دیگر مقابلے ہوتے رہے۔ فی الوقت یہ مرکز بند ہے اور اردغان حکومت نے حال ہی میں اس مرکز کو گرانے کا اعلان کیا ہے۔ جس کی بنا پر عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔

تاکسیم سکوائر کے پاس ہی عمر فاروق کے ایک پاکستانی دوست کا ریستوران تھا جہاں اس سے ملاقات کے لیے گئے اور تھوڑی سی لیکن مہنگی پیٹ پوجا بھی کرلی۔ گپ شپ کرتے اچانک ہم پر انکشاف ہوا کہ ترکی میں اگر آپ کا ذاتی کاروبار ہے اور آپ اپنے پاس ملازمت کے لیے کسی غیر ملکی کو ملازمت دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے پہلے 5 مقامی ترکوں کو ملازمت دینا لازم ہوگا۔ وگرنہ آپ کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔ ترکی میں چونکہ ٹیکس کٹوتی کا نظام انتہائی سخت ہے اس لیے یورپ کی طرز پر یہاں بھی جب تنخواہ آپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی ہے تو “انشورنس” کے نام پر مقامی لوگوں کی 600 لیرا ماہانہ جبکہ ٖغیر ملکیوں کی دوگنا کٹوتی ہوتی ہے۔ اور اس کے عوض حکومت مفت تعلیم اور علاج کی سہولت دیتی ہے۔ ترکی میں کم از کم ماہانہ آمدنی 2000 لیرا یعنی تقریباً 60,000 روپے ہے۔ اور اسی میں سے “انشورنس” کٹوتی ہوتی ہے۔ اور جب آپ مدت ملازمت مکمل ہونے پر رخصت ہوتے ہیں تو ٹھیک ٹھاک “رقم” آپ کے حوالے کی جاتی ہے تاکہ آپ فوری طور پر اگر کوئی کاروبار یا کام کا آغاز کرنا چاہیں تو وہ آسانی کے ساتھ ہوسکے۔ یہ رقم “پنشن” کے علاوہ ہے، جو ریٹائرڈ ملازم کو ماہانہ ملتی رہتی ہے۔

آئس کریم پارلر

آسمان پر سیاہی پوری طرح پھیل چکی تھی جب ہم تاکسیم سکوائر کے دوسری جانب “استقلال سٹریٹ” میں داخل ہوئے۔ یہ تقریبا ً ڈھائی کلومیٹر لمبی گلی ہے۔ استقلال سٹریٹ استنبول کے بڑے سیاحتی اور کاروباری مراکز میں سے ایک ہے۔ اس سٹریٹ پر آپ کو شاندار دکانیں، موسیقی،کتاب گھر، لائبریز، آرٹ گیلریز، سینما، تھیٹر، کیفے، ریستوران، پب اور کافی گھر بھی ملتے ہیں۔ استقلال سٹریٹ کے آغاز سے انتہا تک یعنی “گلاتا ٹاور” تک آپ کو ایک مختلف قسم کا استنبول نظر آتا ہے۔ ہر کونے کھدرے میں شہر کی کوئی نہ کوئی پوشیدہ کہانی ڈھونڈنے سے ملتی ہے۔ سٹریٹ کے اطراف میں مختلف مذاہب اور رنگ و نسل کے لوگ آباد ہیں۔ چلتے چلتے اچانک سے کوئی آپ کو “مساج سنٹر” میں آنے کی دعوت دیتا ہے تو کوئی “کلب” اور “پب” میں لہو لہب کی۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا لیکن فیاض بھائی نے بس ایک ہی جواب دیا کہ “پاکستانی”، تو آگے سے جواب ملا کہ “پاکستانی تو سب سے زیادہ یہاں آتے ہیں”۔ سٹریٹ میں “ٹرام وے” کی پٹڑی پر کام ہورہا تھا، اور اس وقت ٹھنڈ کی وجہ سے رش کچھ کم تھا۔ اچانک آئس کریم کی دکان نظر آئی تو خود بھی اس مذاق کا حصہ بننے کا فیصلہ ہوا۔ ہماری موجودگی میں ہی دیکھا دیکھی کئی لوگ جمع ہوگئے اور “آئس کریم تماشا” سے لطف اندوز ہونے لگے۔ گلاتا ٹاور کے پاس پہنچ کر کچھ دیر رکے اور باہر سےہی نظارے اور کیمرے کی آنکھ میں اپنی موجودگی کا ثبوت محفوظ کرتے ہوئے نیچے کی جانب چلتے رہے۔ ایک دکان کے باہر ترکی کے مشہور مقامات کی تصاویر کینوس پر بنی اور چھوٹی چھوٹی LED لائیٹس کے ساتھ خوبصورت “سینریز” رکھی ہوئی تھیں۔ یہ ایک منفرد چیز تھی جو ہمیں نظر آئی۔ نیچے پہنچے تو آبنائے باسفورس کا پُل ہمارے سامنے تھا۔ پُل کے اوپر اس وقت بھی کچھ ترکش بابے اور نوجوان اپنے اپنے ہتھیاروں کے ساتھ مچھلی کے شکار میں مصروف تھے۔ پتہ چلا کہ استنبول کےبابوں کا یہ بہترین مشغلہ ہے۔ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ایک مرتبان میں اکٹھی کرتے اور رات گھر لے جاتے ہیں۔ پُل پر چلتے ہوئے استنبول کے ایشیائی حصے کی جانب “بلیو ماسک” کے مینار روشنی میں بہت بھلے لگ رہے تھے۔ پُل کے دوسری جانب پہنچ کر فیاض بھائی کو ان کے ہوٹل کے لیے رخصت کیا جو ائر پورٹ کے پاس ہی تھا۔ اگلے دن صبح فیاض بھائی کو اسپین کی فلائٹ پکڑنا تھی۔ ہوٹل پہنچ کر وقت دیکھا تو رات کے 10 بجنے والے تھے۔ ترکی میں پہلا دن نہایت بھرپور انداز میں گزارنے اور اس سے لطف اندوز کے بعد جب سونے کےلیے لیٹا تو سوچ رہا تھا کہ “ترکی جانا کوئی مہنگا سودا نہیں”۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس سفرنامہ کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں     اس سفرنامہ کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں
 اس سفرنامہ کا دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کریں


عمار یاسر پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں اور دیس دیس سفر کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ حال ہی میں ترکی اور قطر کا سیاحتی دورہ کر کے آئے ہیں اور اپنے سفر نامے کو قلمبند کر رہے ہیں۔ یہ ان کا پہلا سفر نامہ ہے جو دانش کے قارئین کی نذر ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. چلتے چلتے اچانک سے کوئی آپ کو “مساج سنٹر” میں آنے کی دعوت دیتا ہے تو کوئی “کلب” اور “پب” میں لہو لہب کی۔ ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا لیکن فیاض بھائی نے بس ایک ہی جواب دیا کہ “پاکستانی”، تو آگے سے جواب ملا کہ “پاکستانی تو سب سے زیادہ یہاں آتے ہیں”

Leave A Reply

%d bloggers like this: