جہاد اور روح جہاد، اور مولانا مودودی : مراد علوی

3
  • 64
    Shares

ڈاکٹر عنایت اللہ اسد سبحانی ”جہاد اور روح جہاد” میں جہاد کے بارے میں تین نقطہ ہائے نظر بیان کرتے ہیں۔ پہلے نقطہ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد کی علت کفر اور شرک ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس نقطہ نظر کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی جرح کرکے بتاتے ہیں کہ یہ رائے درست نہیں ہے۔ دوسرے نقطہ نظر کے مطابق؛ کافر حکومتوں کا استیصال ضروری ٹہرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب اہل علم کے حوالہ جات فرضی ناموں سے نقل کرتے ہیں، مثلاََ: ایک معروف عالم دین فرماتے ہیں، ایک بزرک عالم دین فرماتے ہیں، اردو دنیا کے ایک بڑے دانشور فرماتے ہیں۔ دوسرے نقطہ نظر میں “بزرگ عالمِ دین” سے مراد مولانا مودودی ہیں۔ گر یہ کہا جائے کہ پورا باب مولانا کی نقد میں لکھا ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق دوسرا نقطہ نظر پہلے کا ترمیم شدہ ایڈیشن ہے۔ ہمارے خیال ناتواں میں مصنف نے مولانا کی اکثر آرا ”الجہاد فی الاسلام” سے نقل کی ہیں۔

مولانا کی اس شُہرہ آفاق کتاب میں جہاد کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: مدافعانہ جہاد اور مصلحانہ جہاد۔ مقدم الذکر میں عام دفاع کا ذکر ہے۔ یعنی مظلوم مسلمانوں پر غاصبانہ قبضے کے خلاف جہاد کو مدافعانہ جہاد کہتے ہیں۔ ثانی الذکر کافر حکومتوں کے استیصال کا بنیادی مقدمہ ہے۔ چنانچہ مولانا کے ہاں فتنہ کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ بذاتِ خود کافر حکومت بھی ایک فتنہ ہے۔ یعنی اس تعبیر کے مطابق جہاد فتنہ و فساد کے خلاف کیا جاتا ہے اور کافر حکومت ہی اس فتنہ کی جڑ ہے، لہذا اس کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے سے دنیا سے فتنہ کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ فتنہ وفساد در حقیقت (مولانا کے الفاظ میں) ایک ناحق شناس، ناخدا ترس، اور بد اصل نظام حکومت سے پیدا ہوتے ہیں۔ مولانا کی اس تعبیر کا نتیجہ ہے کہ اگر ایک طرف ”مصلحانہ جہاد” کی وجہ سے مولانا مخالفین نشتر برساتے ہیں تو دوسری طرف ان کے مؤیدین اس تعبیر کی صائب ہونے پر اڑے ہیں۔ یعنی وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ جہاد کی علت ”شوکت کفر”ہے۔ حال آں کہ ہماری فقہی روایت میں جہاد کی علت اس کے برعکس ہے۔

اس پر ڈاکٹر صاحب نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں: جہاں تک کفار و مشرکین کی خود مختاری اور بالا دستی، ان کی شان و شوکت اور ان کے دبدبہ کا تعلق ہے اسے ختم کرنا ہمارا کام نہیں ہے، نہ یہ ہمارے اختیار میں ہے۔ یہ خالص شہشاہ کائنات کا اختیار ہے، وہ جسے چاہتا ہے، شان و شوکت اور دبدبہ و اقتدار سے نوازتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے، اس سے محروم کردیتا ہے”۔ مصنف نے اس پر تفصیل سے کلام کیا ہے۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ “الجہاد فی الاسلام” میں مولانا کی تشریحات محض ان کی عبقریت ہے نہ کہ سلف سے منقول۔ ان میں بعض دقیانوسی و شدت پسندی اور بعض جدت لگتی ہیں۔ لیکن مقام حیرت ہے کہ جن اصحابِ علم کو معلوم ہے کہ یہ کتاب مولانا کی ابتدائی دور کی ہے تو پھر کیوں اکیلے اس کتاب کو مولانا کے نظریے کے لئے بنیادی مآخذ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ رسائل ومسائل میں مولانا نے لکھا ہے کہ مجھے اس کتاب پر نظر ثانی کا موقعہ نہیں ملتا۔ کاش یہ کام وہ خود کرجاتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ بہرحال اب بھی دیگر تحریروں سے، خصوصاََ “تفہیم القرآن”، اس کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ قتال کی علت پر الجہاد فی الاسلام اور تفہیم القرآن کی بعض آیات کی تفسیر میں جوہری فرق پایا جاتا ہے۔ چنانچہ مولانا کی اصل فکر کے لئے صرف اس کتاب کو پیش کرنا درست طرز عمل نہیں ہے۔

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

3 تبصرے

  1. محترم علوی صاحب___عنایت اللہ سبحانی صاحب مولانامودودی علیہ الرحمہ کےمخالفین میں سےنہیں ہیں,بلکہ مودودی صاحب کےزبردست مداح اوران کےخوشہ چیں ہیں…
    عنایت اللہ صاحب کاایک کتابچہ,,تفہیم القران _ایک عظیم تفسیری کارنامہ.بہت ہی اہم کتابچہ ہے.جس سےپتہ چلتاہے کہ سبحانی صاحب مودودی کےکتنےبڑےمداح ہیں.ایسےہی یوسف القرضاوی کی عربی کتاب جومولانامودودی پرہےاس کااردوترجمہ اپنےبیٹے سےکرایااوراس پرزبردست مقدمہ تحریر کیا..اس لیےسبحانی صاحب کی کتاب پرنقدکرتےہوےیہ بات ذہن نشیں رہےکہ سبحانی مودودی علیہ الرحمہ کےقدرشناس اورممدوحین میں سےہیں…

    • بھائی، میں نے کب کہا ہے کہ سبحانی صاحب مولانا مودودی کے خلاف ہیں؟ سبحانی صاحب کی رائے مجھے ٹھیک معلوم نہیں ہوئی اس لئے اپنا تبصرہ پیش کیا۔

  2. محی الدین غازی on

    یہ بات مراد علوی صاحب لکھتے ہیں اور محترم رضی الاسلام صاحب نے بھی لکھی ہے کہ مولانا مودودی کے موقف کو الجہاد فی الاسلام سے لینے کے بجائے ان کی بعد کی کتابوں خصوصاً تفہیم القرآن سے لیا جائے
    سوال یہ ہے کہ مولانا مودودی نے الجہاد فی الاسلام کے بعد کوئی دوسرا موقف اگر پیش کیا ہے تو اسے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا ہے.
    ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک مولانا مودودی کا کوئی اور موقف سامنے نہیں آجانا الجہاد فی الاسلام کے منسوخ ہونے کا دعوٰی کرنا درست نہیں ہوگا
    اور اگر واقعی الجہاد فی الاسلام والے موقف سے مولانا مودودی رجوع کرچکے تھے.. تو پھر اس کی اشاعت اور مسلسل اشاعت کا کیا جواز رہ جاتا ہے

Leave A Reply

%d bloggers like this: