پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور سیاسی رواداری: سردار جمیل خان

0
  • 64
    Shares

یہ جماعت اسلامی کے کارکنان کا حق ہے کہ وہ اپنی قیادت سے یہ سوال ضرور پوچھیں کہ گذشتہ 5 سال مفاہمتی اور پھسپھسی سیاست کی نذر کرنے کے بجاۓ عوامی جدوجہد کے زریعے پاپولر ووٹ بینک اپنی طرف موڑنے اور اپنے پرچم / نشان کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کے لیے بارگینیگ پوزیشن بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کیوں نہیں کی گئی جو آج کرپشن کے خلاف زبردست جد و جہد کے بعد جماعت اسلامی انہی مولانا صاحب کے ساتھ ایم ایم اے کا حصہ بننے پر مجبور ہوئی جنہوں نے کرپشن کی وکالت میں حد کر دی اور جن کا فاٹا اور پارلیمانی ترمیمی ایکٹس سمیت کسی بھی اہم ایشو پر جماعت کے مؤقف سے ہم آہنگی نہیں۔۔
(ابھی واضع نہیں کہ ایم ایم اے سیاسی اتحاد میں شامل جماعتیں ایک ہی نشان سے الیکشن لڑیں گی یا اپنے اپنے نشان سے)۔

لیکن جماعت اسلامی کے کارکنان پی ٹی آئی سے یہ پوچھنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ جب دونوں جماعتیں اتحادی ہیں، اہم داخلی خارجی ایشوز پر باہمی اتفاق راۓ موجود ہے، کرپشن کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے علاوہ دونو دھرنوں میں سراج الحق نے پی ٹی آئی کے قابل قبول مؤ قف کی حمایت کی ہے، استعفوں کے معاملے پر بھی سراج الحق نے ایاز صادق سمیت تمام پارٹی رہنماؤں سے پی ٹی آئی کو واپس پارلیمنٹ میں لانے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے تو پھر پی ٹی آئی اپنے رویے اور سرد مہری کے باعث جماعت کے ساتھ ساتھ اپنا نقصان کرنے پر کیوں تلی بیٹھی ہے؟

اگر پی ٹی آئی کا اعتراض یہ ہے کہ جماعت نے سپیکر کے انتخاب، جہلم اور کشمیر میں ن لیگ سے تعاون کیوں کیا؟ یا این اے 120 اور این اے 04 میں اپنا امیدوار کیوں لائے تو یہ اعتراض بنتا ہی نہیں کیونکہ جماعت اسلامی پی ٹی آئی کی ذیلی تنظیم نہیں۔ پھر یہ کہ پی ٹی آئی کوھاٹ، طوطالئ، دیر، چارسدہ، لالہ موسی، فیصل آباد، لانڈھی، جنوبی اور کشمیر میں تقریبآ ساری چھوٹی بڑی جماعتوں سے لین دین کر چکی ہے تو ایسے میں چھاج کا چھاننی کو طعنہ کیوں؟؟
یہ دو رنگی اور بے کار منطق کون مانے گا کہ جو کام جماعت اسلامی کرے تو حرام وہی پی ٹی آئی کرے تو حلال۔۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی سپیکر کا انتخاب اور کشمیر الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں تھی؟ یا جماعت کی حمایت سے جہلم الیکشن جیت جاتی؟
سیاست میں دشمن نہیں حلیف یا حریف ہوتے ہیں، ساری جماعتیں پاکستانی ہیں۔۔

فرض کیا کسی ڈسٹرکٹ میں 12 نشستیں ہیں جہاں جماعت اسلامی تنہا ایک سیٹ بھی جیتنے کی پوزیشن میں نہیں اب اگر پی ٹی آئی 10 کے بدلے جماعت کو 02 سیٹ آفر کرتی ہے ن لیگ 03، جے یو آئی 04 اور پی پی پی 05 کی آفر دیتی ہے اور جماعت کو یقین ہو کہ پی پی پی کو 07 پر فائدہ پہنچا کر وہ کم از کم 03 نشستیں جیت سکتی ہے تو پھر باقی جماعتیں اس بات پر سیخ پا کیوں ھوتی ہیں؟ اور یہ خواب کیوں دیکھتی ہیں کہ جماعت کو لازمی سولو فلائیٹ کر کے 12 کی 12 ہارنی چاھییے تھیں؟

سیاست میں دروازے مستقل بند نہیں رکھے جاتے، وائٹ واش سے بدرجہا بہتر ہے کہ اپنے حریفوں میں سے کسی ایک سے Give/Take کر لیا جاۓ۔۔
یہی اصول ہر پارٹی پر لاگو ہو گا کیونکہ ہر پارٹی یہی چاہتی کہ اسمبلی میں اسکی زیادہ سے نمائندگی ہو۔
مگر انتہائی افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے “بابا کوڈا” ٹائپ پیجز کے زریعے گالم گلوچ پر مبنی جس لچے کلچر، ذاتیات پر حملے، کذب بیانی، جگت بازی اور مسخرے پن کو پروموٹ کیا ہے اس کے رد عمل میں جماعت اسلامی کے کارکنان بھی عمران خان کی کردار کشی پر اتر آۓ ہیں جسکا ہر صورت میں تدارک ہونا چاھیئے۔۔

سیز فائر میں پہل کرنے کی زیادہ زمہ داری پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ عمران خان وزیراعظم کے امیدوار ہیں۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: