حقیقت سے فرار : ابراہیم قالن

0

ابراہیم قالن ترک صدر طیب اردوان کے مشیر اعلی اور ترجمان ہیں. ممتاز.دانشور ہیں. کئی کتب کے مصنف اور کالم نگار پیں. کئی اہم اسلامک تھنک ٹینک کے سرگرم رکن ہیں. منفرد موضوع پر تحریر کردہ آرٹیکل کا ترجمہ دانش کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے.


ایک نئی تکنیکی پیش رفت نے ہمیں اس قابل بنا دیا ہے کہ ہم معنوی دنیائیں اور متبادل حقیقتیں تخلیق کر سکتے ہیں۔ ہم تیزی سے حقیقت سے فرار جیسے مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں اور تصوراتی دنیا میں رہنے لگے ہیں۔ اسکرین پر بدلتی تصاویر خود چیزوں کو تیزی سے بدل رہی ہیں، جو مزید ہمیں فطری دنیا سے دور لے جا رہی ہیں اور حقیقی لوگوں سے الگ کر رہی ہیں۔ ہم اسکرین پر موجود اپنی تصاویر کو خود اپنے آپ سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی نئی راہیں ہمیں نامعلوم مقامات تک لے جائیں گی۔ کیا ہم بطور انسان ان متبادل دنیاؤں میں رہ سکتے ہیں اور اپنی انسانیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں؟

متبادل حقائق کی تخلیق ضروری نہیں کہ بُری چیز ہو۔ یہ وہی چیز ہے جو ادب ہمیں تخلیقی اور پر افزوں طریقوں میں پیش کرتا ہے ایک مثالی دنیا کی طرف ہمارا رخ ہماری امیدوں اور معیارات کو بلند کر سکتا ہے۔ لیکن یہی چیز پُرفریب راہوں پر چلا کر حقیقت سے دور لے جا سکتی ہے جو حقیقت ہماری انسانی قدر کو متعین کرتی ہے اور ہمیں اپنی سرگرمیوں کی ذمہ داری لینے پر مجبور کرتی ہے۔ جب ہم ان چیزوں کی ذمہ داری اٹھانے سے دستبردار ہوتے ہیں جو ہم نے اپنے ہاتھوں سے سرانجام دی ہوں تو ہم حقیقت سے دور بھاگنے لگتے ہیں جس کے اندر ہم زندہ ہیں۔ حقیقت کو خیالی دنیا، مشینوں، ربوٹس اور مصنوعی ذہانت کیساتھ بدلنے سے ہم دنیا میں امن، سکون، خوشی اور اطمینان حاصل نہیں کر سکتے۔ بلکہ یہ چیزیں ہمیں خیالی دنیا کی کئی تہوں میں گم کر دیتی ہیں-

حالیہ دنوں میں کئی ناولوں اور فلموں نے مصنوعی ذہانت کے امکانات اور انسانی حدوں پر اثرات کے دائرے میں اس سحر کو موضوع بنایا ہے۔ دی میٹریکس ٹرایلوجی (The Matrix trilogy)، ایکس مشینا (Ex Machina)، ویسٹ ورلڈ (Westworld)، بلیک مرر (Black Mirror)، آئی روبوٹ (I Robot) اور بلیڈ رنر 2049ء (Blade Runner 2049) ان میں سے چند نام ہیں، یہ ایسی کہانیوں کے گرد گھومتی ہیں جو مواقع اور تباہ کن نتائج کے ساتھ نئے حقائق بناتی ہیں۔ ان کا تھیم ایک ہی ہے جو نئی ٹیکنالوجیکل پیش رفت کی شکل میں اور اور ہر چیز کو مزید چاہنے کی خواہشات میں انسانیت کی نئی تعریف کرتا ہے۔ اس وقت کیا ہوتا ہے؟ جب ہم اپنے زور بازو سے آگے بڑھتے ہیں اور اپنی تخلیقات کے قیدی بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم فرینکنسٹین کی ہردم تازہ کہانی سے بخوبی واقف ہیں پھر ہم کیسے اپنی ہی عفریتی تخلیقات سے نمٹیں گے؟

2017ء میں ڈائریکٹر روپرت سینڈر اور اداکارہ اسکارلٹ جانسن کی طرف سے بنائی جانے والی فلم گھوسٹ ان دی شیل (Ghost in the Shell) یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اس وقت کیا بنے گا جب اپنے ذاتی فوائد اور کارپوریٹ مفادات کے لیے انسان دوسرے انسانوں کو مشین سمجھنا شروع کر دے گا۔ فلم کا مرکزی کردار میجر موتوکو کسانگی (اسکارلٹ جانسن) ہے جو سائبر ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر دنیا کے جرائم پیشہ افراد سے جنگ کر رہی ہے۔ وہ شیل کی صورت میں نئی صلاحتیں اور روبوٹ نما جسم رکھنے والی اس قسم کی پہلی لڑکی ہے جسے انسانی روح سمجھا جائے یا بھوت۔ جب اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس سے جھوٹ بولا گیا ہے اور اب وہ اپنی ذاتی رائے کے بجائے مصنوعی ذہانت جیسی چیز پر چل رہی ہے تو وہ ہر چیز کے بارے سوالات کرنا شروع کر دیتی ہے۔

ہر چند بڑی سادگی کے ساتھ یہ فلم بروقت اہم اخلاقی اور فلسفیاتی سوال اٹھاتی ہے۔ اس وقت کیا بنے جب حکومتیں اور بڑی کارپویشنز عوام کے اذہان اور روحوں کو بدلنا شروع کر دیں گی تاکہ ان کے مفادات کے تحت خدمت کی جائے۔ لوگ کوئی چیز یاد نہ رکھ سکیں اور آنے والے احکامات کو تسلیم کرتے جائیں اس مقصد کے لیے ان کی یادوں اور احساسات کو بدلنے کا حق آخر کون رکھتا ہے؟۔ لوگوں کو یہ یقین دلا دینا ہماری انسانی قدروں کے ساتھ ایک بڑا دھوکہ ہے کہ اس موجود حقیقی دنیا کے بجائے تخلیقاتی دنیا میں زیادہ بہتر خوش کن زندگی گزاریں گے کیونکہ وہ زیادہ عرصہ تک بذات خود نہیں رہیں بلکہ ایک سمولیش (simulation)، ایک پروگرام (program)، ایک سائبر ٹیکنالوجی سے مزین بھوت ایک زندہ انسان کے اندر موجزن ہو گا۔

“گھوسٹ ان دا شیل” میں خیالاتی مستقبل میں چند خوفناک چیزیں بھی وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ لیکن اس پریشان کن صورت حال کو زیادہ دور جا کر نہیں دیکھنا پڑتا، ان میں بہت کچھ اب بھی ہو رہی ہیں۔ ہماری موجودہ ٹیکنالوجی اور منافع پر کھڑی کمپنیاں یہ صورتحال اختیار کر چکی ہیں اور لوگوں کے خیالات، خواہشات اور ذائقہ کو بدلنا چاہ رہی ہیں تاکہ وہ صارفین کیپٹل ازم کے ناقابل اعتماد خدمت گار بن جائیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ خرچ کر کے، زیادہ سے زیادہ کی خواہش کر کے اور اپنی ذات کے بجائے کچھ اور بن کر خوشی محسوس کریں۔ بدترین صورت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس پر فریب انداز کو اپنانے کے لیے اس کامل وجود کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

جو چیز انسانیت کا تعین کرتی ہے وہ ہماری ان صلاحیتوں میں پنہاں نہیں جن کے ذریعے ہم مشینوں کو اپنے سے بہتر تخلیق کرتے ہیں۔ اس کے بجائے فطری دنیا سے ہمارے برتاؤ اور دوسرے انسانوں کے ساتھ عقلمندانہ، پیار اور محبت سے مزین تعلقات سے انسانیت کی تعریف کی جا سکتی ہے۔ خدا کی عطیہ کی گئی صلاحیتوں سے خود شکستگی کا کوئی نظام پیدا کرنا کوئی کامیاب راستہ نہیں ہے۔

  • یہ کسی گہری خواہش کی مرصع کاری لگتی ہے کہ ہر قیمت پر ایک خیالاتی دنیا میں جانے کے لیے اپنی حقیقت سے دور بھاگنا ہے۔ کیوں لوگ ایک تصوراتی دنیا میں پہنچنا چاہتے ہیں؟ جبکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ تصوارتی دنیا ہے۔ ہم کس جگہ کو چھوڑنے پر تیار ہو رہے ہیں؟ ہماری ان زندگیوں میں کس چیز کی کمی ہے جس کے حصول کے لیے ہم بناوٹی اور ورچوئل ورلڈ پہنچنا چاہتے ہیں جس کے بارے ہمیں معلوم ہے کہ وہ غیر حقیقی اور فکشن پر مبنی ہے؟مجھے نہیں معلوم کہ یہ سوال ہم اپنے آپ سے سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ پوچھنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ لیکن جب کبھی ہم ایسا کریں گے اس خود ساختہ فریب کا جادو ہوا ہو جائے گا اور ہم اپنی اجلی انسانیت کو اس کی نعمتوں اور کمی پیشیوں کے ساتھ اپنا سکیں گے۔ تب ہمیں یہ احساس ہو گا کہ جو چیز انسانیت کا تعین کرتی ہے وہ ہماری ان صلاحیتوں میں پنہاں نہیں جن کے ذریعے ہم مشینوں کو اپنے سے بہتر تخلیق کرتے ہیں۔ اس کے بجائے فطری دنیا سے ہمارے برتاؤ اور دوسرے انسانوں کے ساتھ عقلمندانہ، پیار اور محبت سے مزین تعلقات سے انسانیت کی تعریف کی جا سکتی ہے۔ خدا کی عطیہ کی گئی صلاحیتوں سے خود شکستگی کا کوئی نظام پیدا کرنا کوئی کامیاب راستہ نہیں ہے۔حقیقت سے بھاگنے کے لیے خیالاتی دنیا کی تخلیق کے بجائے ہمیں اپنے دماغ اور روح کی حالت کو بدلنا ہو گا تاکہ تاکہ ہم اپنے حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی جی سکیں۔ اگرچہ ہم اپنی حقیقت کو بدلنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں تاکہ ہم اس سے دور بھاگنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کریں۔ اس کے لیے ہمیں اپنی جدید ترجیحات پر سوالات اٹھانے اور اپنی زندگیوں میں نئی سمتوں کی تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسی سمت جو ہمیں ہماری باطنی حقیقت اور مشترکہ انسانی قدروں کے قریب لے جائے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: