ذہنی دباو کے 25 حقایق: مترجم محمد آصف

0
  • 61
    Shares

دانش تراجم 


ذہنی دباو کے متعلق وہ پچیس چیزیں جو آپ کے علم میں ہونی چاہییں۔

تقریبا 25 فیصد کینیڈین شہری غیر ضروری ذہنی  دباو کا شکارہیں۔ آئیے ماہرین کی ان آراء کی مدد سے ذہنی  دباو سےچھٹکارا حاصل کریں۔

ذہنی  دباو کے دوران ہمارا جسم کیا محسوس کرتا ہے؟ ذہنی دباو ہمیں کسی بھی خطرے میں اس کا سامنا کرنےیا اس صورتِ حال سے نکلنے میں مدد دیتا ہے۔آپ  یہ تصورکریں کہ ذہنی  دباو ہم پر اس طرح سے اثرانداز ہوتا ہے جیسے ہم پر کوئی درندہ حملہ آور ہونا چاہیے اورہم اس سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو مکمل تیار کررہے ہوں۔ خطرے میں آپ کا جسم کس طرح کا ردِ عمل دیتا ہے؟

۔ہمارے دماغ میں ایک خاص قسم کا مادہ جسے Amygdala کہتے ہیں، آنکھوں اور کانوں کے ساتھ مل کرقوتِ فیصلہ اور جذباتی ردِعمل دینے میں مددگارہوتا ہے۔

2۔۔amygdala  یہ بتاتا ہے کہ آیا خطرہ واقعی موجود ہےاوران خطرناک سنگنلز کو ایک اوراہم مادے Hypothalamus جو کہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو ہماری دل کی دھڑکنے کی رفتار، سانس اور خون کے دباو کوخود بہ خود بغیر کسی نیت یا حکم کے کنٹرول کرتا ہے، کی طرف بھیج دیتا ہے۔

3۔Hypothalamus  مادہ اُس خودکارنظام (جوہمارےدل کی رفتار،سانس اور خون کے دباوپرگرفت رکھتاہے) کو اطلاع کرتا ہے جوخطرےکا سامنا کرنے یا اس کا جواب دیتا ہے۔ اس کو آپ کار کے پیڈل سے تشبیہ دے سکتےہیں جسے ہم Adrenal Gland  کہتےہیں یہ ہارمونز ہمارے گردوں کے اوپر موجود ہوتےہیں۔جو ہمیں بالکل ایک قسم کے سفرکے لیے تیارکررہےہوتےہیں۔ جو ہمیں خطرے کے وقت محسوس ہوتاہے۔

اAdrenal Gland خون کےبہاو کو تیز کرتےہیں، اب آپ کا دل تیز دھڑکنا شروع کرچکا ہے۔ آپ کے پٹھوں کو اور زیادہ خون مہیا کررہا ہے،اس سے چکنائی اور شکر جسم سے خارج ہورہی ہیں جس سے آپ کے جسم کو بہت زیادہ طاقت حاصل ہورہی ہے۔ پھپھڑے اپنی مکمل حد تک کھُل چکے ہیں تاکہ ہوا یعنی آکیسجن زیادہ سے زیادہ اندر آسکے جو کہ دماغ کو بھیجی جارہی ہے جس سے ہماری حسیات تیز ہوتی ہیں اور ہمیں زیادہ سے زیادہ ہوشیارکرتی ہیں۔(اب آپ اس ٹائیگر سے لڑائی کرسکتےہیں)

5۔۔
ایک بار جب خطرہ ٹل جائے یا ختم ہوجائے تووہ نظام جسے ہم خودکاراعصابی نظام کا نام دے سکتےہیں، دوبارہ ہمارے جسم سے تعلق پیداکرلیتا ہے اور بالکل جس طرح بریک لگانے پر کار کےتمام مشینی اعضاء واپس اپنی حالت میں آجاتےہیں، ایسے ہی ہماری حیسات، جذبات اور تمام اعضاء اُس خطرے کو ہضم کرلیتےہیں اور ہمارا جسم دوبارہ عام حالت میں آجاتاہے۔
(۲) یہاں ایک کلیہ ہے
ڈاکٹر سونیا جو مانٹریال میں انسانی دباوپر تعلیم کے ایک ادارے میں ڈائریکٹرہیں، کہتی ہیں کہ سائنسدانوں نے ساٹھ سال کی محنت کے بعد یہ جان لیا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو ہمیں ذہنی  دباو کی جانب لے کر جاتی ہے۔
جسے وہ انگلش کے مخفف NUTS سے تعبیر کرتےہیں۔

Novelty ۔ کوئی بھی ایسا تجربہ جس سے ہم پہلے کبھی نہ گزرے ہوں جیسے سکول میں پہلا دن یا کسی نوکری پرپہلا دن۔
Unpredictability   جب آپ کو بالکل اندازہ نہ ہوکہ آگے کیا ہوسکتا ہے۔ جیسے آپ کسی دانتوں کے ڈاکٹرکےپاس ہوں اور وہ ایسا پروسیجر شروع کردےجو بالکل غیر متوقع ہو۔
Threat to ego ۔عزت نفس پر حملہ ۔
یہ تب ہوتا ہےجب آپ کے ساتھ کام کرنیوالوں کے سامنےآپ کی اہلیت پر حرف آنے کا خدشہ ہو۔
Sense of Control  جب آپ محسوس کریں کہ آپ صورتحال پر گرفت نہیں رکھ پارہے۔ جیسے آپ ٹریفک میں پھنس جائیں اور جلدی میں بھی ہوں مگر کچھ نہ کرسکیں۔
اس سے یہ جاننے میں آسانی ہوجاتی ہے کہ ہم کس طرح کا ذہنی  دباو لےرہے ہیں۔ ڈاکٹر سونیا کہتی ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ اچھی طرح سے بیان کردینے کا مطلب ہے کہ وہ تقریبا حل ہوچکا۔ وہ کہتی ہیں کہ کسی دباو کا الٹ یہ نہیں کہ آپ پرسکون ہوں بلکہ وہ اہلیت ہے وہ خوبی ہے جس سے کسی مسئلے کوحل کیا جاتا ہے۔
جب ایک بار آپ اپنے زہن کو باور کروانے میں کامیاب ہوجائیں کہ آپ کسی ذہنی  دباو کوحل کرسکتےہیں تو ہمارا دماغ ان ہارمونز کو پیدا ہی نہیں ہونے دیتا جو اس کا سبب بنتےہیں اور نتیجتاّ ہم پرسکون ہوجاتےہیں۔ لیکن اگر آپ جلد سے جلد کسی مسئلے کوحل کرنا چاہتےہیں تو ڈاکٹر سونیا ان تکنیک کا مشورہ دیتی ہیں۔
گہرا اور لمبا سانس لیجیے۔.
گانا گانے سے آپ کے پیٹ سے سانس خود بخودخارج ہوتا رہتاہے اور آپ کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔
کوئی بھی جسمانی مشق آپ کی جسم میں موجود قوت کو استعمال میں لاتی ہے اور ذہنی  دباو کو بتدریج کم کرتی جاتی ہے۔
جن عوامل کی بنیاد پر ذہنی  دباو پیدا ہوتا ہے،اسی طرح ہمارے ہنسنے سے جوہارمون پیدا ہوتا ہے وہ ہمارے ذہنی  دباو کو کم کرتا ہے۔
3۔2015 میں کینڈیین ادارہ برائے ذہنی  امراض نے ایک رپورٹ شائع کی، یہ ملکی سطح پر پہلی بار ایسی رپورٹ سامنے آئی جس کے مطابق 22 فیصد کینڈین شہری روزانہ کی بنیادپر بہت زیادہ ذہنی  دباو لےرہے ہیں۔

4
مردو خواتین ذہنی  دباو میں مختلف خواب دیکھتی ہیں۔
2013 میں یونیورسٹی آف مانٹریال کے ماہرینِ نفسیات نے یہ جانا کہ مردوں کےخوابوں کی رجحان عام طور پر زلزلے، تباہی، کسی خفیہ چیز کا ظاہرہونا، کسی جنگلی جانورکو دیکھ لینا۔جبکہ خواتین ان سے دگنے بُرےخواب دیکھتی  پائی گئیں جن کے خواب عموما زاتی تعلقات میں مسائل، دھوکے بازی یا پھر جسمانی و ذہنی  شرمندگی جیسے مسائل نظر آئے۔
5 سائنس کوشش کررہی ہے کہ ایک ایسا آلہ بنایا جاسکے جو ذہنی  دباو کو کم کرنے میں مددگارہوسکے۔

6۔ آپ دوسروں کےپاس سے آنی والو بُو سونگھ سکتےہیں۔
جذباتی قسم کے دباو میں ہمارا جسم ایک خاص قسم کی بُو خارج کرتاہے جو دوران مشق محسوس نہیں ہوتی۔
2009 میںNewyork stony brook universityکے محققین نے کچھ اسباق رکھے جن میں 20 منٹ کی دوڑ شامل تھی اور بیس ہی منٹ کی انسٹرکڑز کے ساتھ ایک پہاڑی سے چھلانگ شامل تھی۔
جب دونوں ٹیمز کے دماغ کے سکین کئے گئےاور ان کے اجسام سے ذہنی  دباو کےنمونےلئے گئے۔ چھلانگ لگانے والوں کے نمونوں میں وہ مادہ پایا گیا جوAmygdala کہلاتا ہے اور ہمارے جزبات کے بہاو کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ دوڑ لگانے والوں کے پسینے میں یہ چیز موجود نہ تھی۔
۷ذہنی  دباو بیرونی عوامل کے ساتھ ملحق ہے۔
2013 میں ایک جرمن جرنل نے ایک تحقیق شایع کی جس کے مطابق یہ شواہد سامنےآئے کہ اکثر ذہنی  دباو کسی بیرونی فاعل سے متعلق ہوتےہیں۔
30فیصد لوگوں نے جب دوسروں کو کسی مشکل میں دیکھا تو ان کے جسم سےایک خاص مادہ جسے Cortisol کہتےہیں کا اضافہ ہوا۔ اور 24 فیصد نےکسی کو وڈیو وغیرہ میں دیکھ کر اس ذہنی  دباو کو اپنے اوپر حاوی کیا۔

8۔ بائیک پر بیٹھیں۔
جیسے کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی تحقیقات یہ بتاچکی ہیں کہ سائیکل چلانے سے ہمارا ذہنی  دباو کم ہوتا ہے۔ چاہے تواس سے آپ گھر کے کام کریں یا ساری زندگی دوپہیوں پر رہیں۔
9۔ پندرہ منٹ بعد۔
2013 میں جاپان میں کی گئی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ پندرہ منٹ تک جن لوگوں نےسائیکل چلائی ان میں کارٹِسل ہارمون قابلِ زکر حد تک کم ہوگیا۔
10۔ ایک گھنٹے بعد۔
California stand university نے 2015 میں ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات کہی کہ  کچھ سائکل چلانے والوں کا پیدل چلنے والوں سے موازنہ کیا گیا جس میں صاف نظرآیا کہ پیدل چلنے والوں نے ایک گھنٹے میں کم سانس لیا جو کہ ذہنی  دباو کی صاف مثال ہے۔

18 گھنٹے بعد۔

2014 میں 17985 کمپیوٹر استعمال کرنے والوں پر ایک تحقیق کی گئی جس میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ  مسلسل سائکل چلانے والے زیادہ خوش دکھائی دئے اور اپنی مشکلات اور مسائل کوحل کرنے میں ان کو دوسروں سے بہتر پایا گیا۔

12۔ اگر آپ نے ڈرائیو کرنی ہے تو پہلے انتظام کیجیے۔

کیلفورنیا یونیورسٹی کی 2012 میں کی گئی ایک تحقیق میں سان جوز کی ڈرائیورز نے رپورٹ بتائی کہ ٹریفک قوانین اور سمت وغیرہ کو جان لینے کے بعد ان پر ذہنی  دباو بہت حد تک کم ہوگیا بجائے اس کے کہ وہ بغیر کسی تیاری کے گاڑی چلاتےرہتے۔

13۔ چیونگم کھائیں دباو گھٹائیں۔

Cardif university  میں 133 رضا کاروں کی یاداشت، موٹرسائیکل چلانے کی مہارت اوران کو صنعتی ایریا میں ایک ایسی جگہ بٹھایاگیا جہاں ویکیوم کلینر جتنا شور تھا۔۔ جن لوگوں نے اس شور کے دوران چیونگم کھائی ان کا ردِ عمل ان رضاکاروں کی نسبت بہتر دکھائی دیا جو چیونگم کھائے بغیر وہاں بیٹھے تھے۔

14۔ کھلونے جادو اثر رکھتےہیں۔

آپریشن ہونے سے پہلے کی حالت ایک عجیب ذہنی  دباو کی حالت ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف سرے انگلینڈ میں ماہرینِ نفسیات نے تقریبا 400 مریضوں سے یہ سوال کیا کہ کیا وہ ایسا آپریشن کوئی سرجری جسے وہ بالکل پسند نہ کریں اس سے پہلے کوئی مووی دیکھنا چاہیں گے، کسی نرس سے بات کرنا چاہیں گے ،ایک خاص سطح جہاں سے ذہنی  دباو اور پریشانی محسوس کی جاسکتی تھی، وہاں پر موسیقی نے کوئی تاثر نہ چھوڑا جبکہ وہ مریض جنہوں نے ذہنی  دباو کم کرنے والی بال کے ساتھ وقت گزارا ان کا ذہنی  تناو 18 فیصد کم اور اسی طرح بتدریج ان میں درد بھی 22 فیصد کم محسوس کیا گیا ۔ ایک اچھی گفتگو بھی  اس حوالے سے فائدہ مند ہوسکتی ہے۔مگر سٹریس بال بہترین آپشن پائی گئی خاص کر جب کسی بھی جسمانی تکلیف کا معاملہ ہو۔ ۔ خاتون نرس کے ساتھ بات کرنے سے ذہنی  دباو کی سطح سب سےزیادہ یعنی تیس فیصد کم محسوس کی گئی۔۔

15۔ آپ دباو میں اپنے راستے خود بنا سکتےہیں۔

University of Sussex میں اعصابی نظام کے سائنسدانوں نے ایک عجیب فارمولہ ایجا دکیا۔۔ وہ کہتےہیں آپ محض چھ منٹ تک اپنے پسندیدہ موضوع پر کچھ بھی پڑھئے یہ آپ کے ذہنی  دباو کی سطح 68 فیصد کم کردے گا۔ یہ موسیقی سننے سے بہتر ہے جو 61 فیصد ہے، چائے کا کپ جو کہ 54 فیصد ہے اور ایک مناسب سی سیر جو کہ 42 فیصد ہے۔

16۔ ذہنی دباو آپ کے دماغ کو سکیڑ دیتا ہے۔

Connecticut University of Yally   نے 2012 کچھ تجربات کیے۔ ایک بینک جو ساری دنیا سے مختلف لوگوں کی طرف سے عطیہ کیے گئےدماغ کے خلیات و عضلات جمع کرتا ہے۔ ان کی طرف سے یونیورسٹی کو دماغ کے کچھ ریشے عطیہ کیے گئے اس میں معلوم ہوا کہ کسی بھی طویل بیماری میں دماغ کے ریشوں کے درمیان جو ایک رابطہ ہوتا ہے وہ کم ہوتا گیا۔ یہ ربط جو کم ہوتا محسوس ہوا دراصل وہی چیز ہے جو ہمارے دماغ میں جذبات اور معرفت کے احساس پیدا کرتا ہے۔ اس مادے کی عدم موجودگی سےہمارے دماغ کا سائز کم ہوتاجاتا ہے اور ہمارا سر اپنے اصل وزن سے کم ہو جاتا ہے۔

17۔

مگر آپ اس کو دوبارہ بڑھا سکتےہیں۔ کیسے؟

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اپنی 2014 کی ایک تحقیق میں بتاتی ہے کہ Hippocampus وہ ہارمون جو ہماری یاداشت اور کسی دباو میں ہمارا اس صورتحال میں خود کو ڈھال لینے کی اہلیت پر کام کرتا ہے، ان لوگوں میں زیادہ نظرآیا جو (broiled fish مچھلی جو براہ راست آگ پر پکائی جائے)  ہر ہفتے کھا رہے تھے۔ ان لوگوں کی نسبت جو اسے بالکل نہیں کھاتے تھے۔

  1. ورزش۔

University of Illinois نے 120 لوگوں پر ایک سال تک تحقیق کی ۔ 2012 میں انھوں نے یہ جانا کہ Hippocampus ہارمون ان لوگوں میں دو فیصد بڑھ گیا جو ہر ہفتے تین بار چالیس منٹ تک تیز چلتےتھے۔

19۔ مراقبہ۔

Harvard university of Massachusetts کی 2010 کی تحقیق کے مطابق آٹھ ہفتوں بعد ہر روز ستائیس منٹ کے مراقبے سے Hippocampus ہارمونز کی کثافت حیرت انگیز اضافہ ہوا۔

20۔ Meta-analysis(ایک ایسے تجزیےکا نتیجہ جو مختلف سائنسی تجربات کے مجموعے سےسامنے آئے)

2013 میں ماہرینِ نفسیات نے boston university, The university of Montreal, and Quebec,laval university کے ساتھ مل کر 200سے زائد مختلف تعلیمی سرگرمیوں پر تحقیق کی۔(جس میں کسی بھی موجودہ یا گرزتی ہوئی صورتحال کی طرف توجہ دلائی جاتی ہےاور اس کے لیے مراقبے کی مشقوں سے مدد لی جاتی ہے۔)  جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ مراقبے سے کسی بھی معاملے پر ذہنی  دباو اور گھبراہٹ کم ہوجاتی ہے۔. Ohio university کے انتہائی نگہداشت مرکز میں کام کرنے والی نرسز پر 2015 کی تحقیق کے مطابق  مراقبے نے ان کی چالیس فیصد ذہنی  تناو اور دباو کو کم کرنے میں مدد کی۔

21۔اگر آپ نہیں جانتے کہ مراقبہ کس طرح کرنا چاہیے تو یہ آسان سی تراکیب اپنائیے۔

Kelson Rigdon,  ٹورنٹو کے ایک Kadampa Meditation center میں بدھسٹ راہبہ ہیں۔ آپ چند آسان سے مشورے دیتی ہیں۔

1۔مراقبے کے وقت اپنی کمر کو بالکل سیدھا رکھیے اس سے آپ نہ تو سُست ہوں گے اور نہ آپ کو نیند آئے گی۔

2۔ اپنے اعصاب ڈھیلے رکھیں اور ذہنی  توجہ مراقبے پر رکھیں اور آنکھیں نیم بند۔

3۔ سانس صرف نتھنوں سے لیجیے اور بالکل قدرتی طریقے سے۔ جس سے آپ کو سانس نہ چڑھے۔

4۔ سانس پر حاوی ہونے کی کوشش نہ کیجیے۔ اس سے آپ کی توجہ بٹے گی۔

5۔ اگر آپ کا زہن مختلف اشکال و خیالات کی طرف جارہا ہو تو اسے اپنے سانس کی طرف توجہ دلوائے ۔اگر ممکن ہو تو ساتھ ساتھ سانس گنتے جائیے۔

6۔ہر روز اسی طرح کم سے کم دس سے پندرہ منٹ تک سانس لیجیے۔

7۔ کوشش جاری رکھیے اس سے آپ کے خیالات میں یکسوئی پیدا ہوگی اور آہستہ آہستہ زہن پرسکون ہوتاجایا کرے گا۔

22۔اپنے خاندان اور اہل و عیال سے گلے ملیں۔

Queen University of Kingston نے چھیاسٹھ  کم عمر لڑکیوں کے ذہنی  دباو کے کچھ امتحان لیے۔ کچھ لڑکیوں نے ان امتحانات کے دوران اپنی ماوں کے ہاتھ پکڑے رکھے۔ جبکہ باقی لڑکیاں اکیلی امتحان دیتی رہیں۔ جن لڑکیوں نے ماوں کے ساتھ امتحان دیے ان کی کارکردگی زیادہ بہتر سامنے آئی۔۔ اسے ماہرینِ نفسیات ایک انگزیزی اصطلاع میں Emotional loud sharing کا نام دیتےہیں۔

23۔ British Medical journal میں ہونے والی ایک تحقیق جو کہ meta-analysis کی بنیاد پر کی گئی، میں یہ بات سامنے آئی کہ ذہنی  دباو عورتوں کے حمل ٹھہرنے میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ خواتین جو انتہائی زیادہ درجے کے ذہنی  دباو کا شکار ہیں وہ بھی حاملہ ہونے کے اتنے ہی قریب ہوتی ہیں جتنی کہ (in Vitro fertilization process ایک ایسا طبی نظام جس میں انڈے ٹیسٹ ٹیوب میں زرخیز کیے جاتےہیں) اپنانے والی خواتین۔

24۔ ایک پیارا سا ساتھی ساتھ رکھیے۔

2007 میں UCLA study کے مطابق وہ مریض جو دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال آئے ان کو ان کے پالتو کتوں کے ساتھ بارہ منٹ تک رکھا گیا۔ جبکہ ایک دوسرے گروپ کے مریضوں کو رضاکاروں کے ساتھ رکھا گیا۔

(Canine crowd سامنے سے چار نوکیلے دانتوں والےجانور) والے گروپ میں حیرت انگیز طور پر Adrenaline ) وہ مادہ جو شریانوں کو سکیڑ کر دل کی دھڑکن تیز کردیتا ہے) اس مادے میں کمی محسوس کی گئی۔

25۔ خودداری ذہنی دباو کو کم کرنے کی ایک قدرتی نعمت ہے۔

Concordia University in Montreal کے محقیقین نے  چار سال تک ساٹھ سال سے اوپر کے لوگوں کے ساتھ مل کر ایک تحقیق کی۔ ان لوگوں کا  معیشت اور اس کے ساتھ ساتھ ایک خاندان کا جزو ہونے کے ناطے یہ تحقیق سامنے آئی کہ خود داری اور عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزارنے والوں میں  ذہنی  دباو اور تناو بہت کم درجے میں پایاگیا۔

آئیے ہمیں اسی لمحے میں اسی اعتماد کے ساتھ آغاز کرنا چاہیے۔۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اتنے عظیم انسان ہیں کہ ایسا کرسکتےہیں۔

بشکریہ: ریڈرز ڈایجسٹ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: