دشمن کا بچہ پڑھتا ہے: محمد عثمان جامعی

0
  • 91
    Shares

اگرچہ ہمارے ملک کے اکثر اساتذہ ہر بچے کو دشمن کا بچہ سمجھ کر پڑھاتے ہیں، مگر اب سے کچھ عرصہ پہلے دشمن کے بچوں کو پڑھانا قومی پالیسی قرار پایا ہے، بہت اچھی پالیسی ہے، لیکن دشمن کے کچھ پڑھے لکھے بچے دشمنی کا سبق اس طرح یاد کرچکے ہیں کہ تعلیم ان کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی اور وہ ایک ہاتھ میں کتابیں اور تعلیمی سند اور دوسرے میں بم پکڑے جھوم جھوم کر گاتے ہیں ”مجھے اَبّو کے مقصد کو بڑھانا ہے۔“

ہمارا خیال ہے کہ اس پالیسی کو عملی جامہ بلکہ عملی جیکٹ پہنانے کے لیے درس گاہوں میں دشمن کے بچوں کا کوٹا مقرر کردیا جائے گا، عین ممکن ہے کہ خصوصی انتظام کرتے ہوئے تعلیم بالغاں کی طرح تعلیم دشمناں کا کوئی علیحدہ سلسلہ شروع کیا جائے۔ اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ اس پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے، ”مجھے دشمن کے ابو کو پڑھانا ہے، مجھے دشمن کی امی کو پڑھانا ہے، مجھے دشمن کی پھپھو کو پڑھانا ہے، مجھے دشن کی خالہ کو پڑھانا ہے، کے نغمات یکے بعد دیگرے لاکر دشمن کے پورے خاندان کو تعلیم دینے کا بیڑا اٹھا لیا جائے، اگلا نغمہ یہ بھی ہوسکتا ہے، مجھے دشمن کے ٹبر کو پڑھانا ہے۔

یہ تو خیر بعد کی بات ہے، ہم تو فی الوقت یہ سوچ رہے ہیں کہ دشمن کے بچوں کے لیے شروع کی گئی تعلیم دشمناں کی کلاس کا منظر کیا ہوگا، شاید کچھ ایسا ہوگا:

پیارے پیارے دشمن کے بچو!
کیا ہے بے
ہاں بول
بُری بات، استاد سے ایسے بات نہیں کرتے
ام کو یہ پتا ہوتا تو ام تمارے پاس پڑھنے کیوں آتا۔
اچھا چھوڑو، قاعدہ کھولو۔
تم بولو تو ام القاعدہ کول لے۔
ارے نہیں نہیں، بستے سے اپنی کتابیں نکالو۔
تو ایسا بول ناں۔
پڑھو الف الف سے
ایٹم بم اوئے استاد، ام کو ایٹم بم بنانا سکھاﺅ، ام امریکا کو مارے گا۔
نہیں نہیں بیٹا ایٹم بم نہیں، الف سے انار
انار تو ام کو بغیر پڑے بھی مل جاتا ہے، اس کے لیے پڑنے مڑنے کا کیا ضرورت ہے، ام کو نئیں پڑنا۔
ارے نہیں، بیٹھو بیٹھو، چلو الف کو چھوڑو، بتاﺅ ب سے۔
ب سے بندوق استاد ام کو بندوق لاکر دو، امارے ہاتھ میں خارش ہوتا ہے۔
ارے بچو! ب سے بکری سب کہو ب سے بکری

تم خود ایک دم بکری اے، ام کو تماری ب سے بکری نئیں چائیے، وہ تو امارے گاو¿ میں بہت ہے، بندوق دینا اے تو دو ورنہ امارا جان چوڑو۔

اچھا، ب بھی چھوڑا، پ سے
پستول امارے بستے میں پستول رکا اے، نکالے؟
اررررے، نہیں بیٹاپ سے پستول نہیں پلنگ۔
ایسا ”پے“ کیا کیا پائدہ جس سے پستول نہ بنے دَپا کرو، نئیں پڑنا۔
ارے بیٹھو بیٹھو
اوئے خانہ خراب کا بچہ، تم نے امارا دماغ بوت خراب کردیا، اب تم بیٹو اَم تم کو پڑائے گا۔
بولو، ت سے تورابورا۔

ارے بیٹا! پڑھانا میرا کام ہے(لہک لہک کر گاتے ہوئے) مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے ے ے ےایسے نہیں کرتے بیٹا، آپ تو بہت اچھے بچے ہیں۔

کبی کیتا اے دشمن کا بچہ، کبھی کیتا اے اچا بچہ، تمارا ایک زبان نئیں اے۔
چلو تم امارا نغمہ سُنو:
امے استاد کو خودکُش بنانا اے اے اے
کیا کہہ رہے ہو بیٹا! استاد کا کام تو علم کی روشنی پھیلانا ہوتا ہے۔

وئی تو، تم جب جیکٹ پین کر زور سے پَٹے گا تو تمارے اندر سے علم کا روشنی نکل کر دور دور تک پیلے گادیکو ایسے بڑوووووم م م م۔

چلو اب شراپت سے بیٹ جاو ¿ اب تم کو پڑاتا ہے۔ دیکو ام سے سبق لے لو ورنہ ام سبق سکا دے گا۔ ام تمیں بارود والا جیکٹ بنانا سکائے گا، بم بنانا سکائے گا، پِر تم جتنا چائے روشنی پیلانا۔

میرے مُنے! میرے بچے، من کے سچے! روشنی تو چراغ سے ہوتی ہے، بم اور بارود سے تھوڑی ہوتی ہے۔

(دشمن کا بچہ کچھ دیر تک استاد کے نم آنکھوں سے دیکھنے کے بعد) نئیں استاد صاب! تم غلط بولتا اے۔ جب امارے گاوں میں بمباری اوا ناں تو ام چراغ کی روشنی میں پڑ رہا تھا۔ اس سے پیلے گر میں اتنا اندیرا تا کہ امیں کسی کا چیرا ساپ نظر نہیں آرہا تا، نہ باپ کا نہ ماں کا نہ چوٹے بائی اور چوٹی بین کا پِر جاز آیا، اس نے بم گرایا، بم پٹا تو اتنا روشنی تا کہ ام نے ماں، باپ بین، بائی سب کو بالکل صاپ گِرتے اور مرتے دیکابم میں بوت روشنی اوتا اے استاد صاب، چراغ میں تو کچ بی نئیں، خدا کا قسم۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: