فلسفیانہ اداسی اور وجودی لایعنیت: خالد بلغاری ـ قسط 2

0

نئے قاری کے لئے اس موضوع پہ شایع ہونے وال پہلا حصہ دیکھ لینا مفید ہوگا۔ مضمون کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجئے۔


یقین کی فلسفیانہ بنیاد:

یہ بیان تو کسی حد تک تفصیل سے ہو چکا کہ فلسفیانہ ذہن میں وجودی لا یعنیت کی کیفیت اداسی کی ایک ایسی شدید شکل ہے جو اپنے پھیلاؤ میں مکمل اور نفوذ میں گہرا ہے۔ ایسی شدید اداسی کا شکار اگرچہ عام افراد بھی ہوسکتے ہیں، تاہم عام لوگ اس بے معنویت اور لایعنیت تک کسی فلسفیانہ سوال و جواب کے نتیجے میں نہیں پہنچتے۔ ہوتا یوں ہے کہ یا تو انکو کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہوگیا یا ایسا ذاتی دکھ پہنچا جو انکی قوت برداشت سے زیادہ تھاـ کوئی ایسی امید تھی جو بر نہ آئی، کوئی مان تھا جو ٹوٹ گیا۔ کوئی خواھش ایسی تھی جو پوری نہ ہوسکی یا کوئی خواب تھا جو بکھر گیا۔ اس طرح کی ذاتی اور سماجی نوعیت کی کسی کاری ضرب نے انکے قویٰ اس قدر مضمحل کردئے کہ نفسیاتی طور پر ایک بیماری کا شکار ہوگئے جسے کہ ڈپریشن کہا جاتا ہے۔

عرض یہ ہے کہ آنے والی بحث کا موضوع ایسے عام افراد نہیں ہیں ـــ باوجود اسکے کہ کیفیتی مماثلت اور کئی دفعہ اس کیفیت کے زیر اثر انتہائی اقدام کے نوعیت کی مماثلت بھی دونوں طرف موجود ہوسکتی ہے، اور ہوتی ہے۔ جیسے نشہ کا استعمال اور خود کُشی فلسفی بھی کرسکتا ہے اور عام آدمی بھی۔

یہاں پر اس حقیقت کو سمجھ کے اور تسلیم کرکے آگے جانا چاہئے کہ ہر درجہ بندی کی طرح یہ تقسیم کاری اور خانہ بندی بھی ایک غیر حقیقی سادگی کی بنیاد پر قائم کی گئی ہے۔ یعنی فلسفی اور عام آدمی کی تقسیم کوئی ایسی صاف ستھری اور واضح تقسیم نہیں ہے۔ فکر ہر انسانی ذہن کا خاصہ ہے۔ اور فکر کی ایسی حد متعین کرنا ممکن نہیں ہے کہ جس پر کھڑے ہوکر اس سے آگے گذر جانے والے کو فلسفی قرار دیا جائے اور جو اس حد سے پیچھے رہے اسکو عام آدمی کہا جائے۔

یہ حدود اور لائینیں سبھی بیرونی ‘مکانی’ تصورات ہیں اور فکر اندرونی جہان سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر خالص ‘زمانی’ ہوتا ہے۔ اس خالص اندرونی زمانی جہان پر بیرون کے مکانی پیمانوں کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔

اس سے پہلے کہ گفتگو زیادہ ثقیل اور فلسفیانہ ہوکر لامکانی ہوجائے، اپنے موضوع کی طرف یہ کہہ کر پلٹ جاتے ہیں کہ ہر طرح کی تقسیم میں کچھ سودے بازی ضرور ہوتی ہے۔ ہم اس کوتاہی اور فکری مجبوری کو تسلیم کرکے آگے بڑھتے ہیں کہ ایک خاص گروہ یعنی فلاسفہ کے اندر وجودی لایعنیت کا تجزیہ کرنے کی غرض سے کی گئی یہ تقسیم کاری ہماری اپنی اختراع ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس راستے سے اگر کسی کارآمد نتیجے پر پہنچ پائیں تو اُس نتیجے کے دائرہ کار کو عام آدمی تک بھی پھیلایا جا سکے گا۔ فی الحال اس بحث کو پیچیدگی سے بچنے کیلئے صرف فلاسفہ ہی تک محدود رکھیں گے۔ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ تقسیم کا یہ اصول بھی اِس بنیاد پر عارضی اور بندوبستی ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں، اور آپ کو کہنا بھی چاہئے، کہ؛ پچھلی قسط میں آپ بیان کرکے آئے ہیں کہ اِس طرح کے بندوبستی، عارضی اور مصلحتاً ترتیب دئے گئے اصول و ضوابط سے تنگ آکر ہی فلسفیانہ ذہن وجودی لایعنیت کا شکار ہو کر حیات کُش رویوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور اب آپ مضمون کا آغاز ہی اسی طرح کے ایک بندوبستی اصول سے فرما رہے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ آپکا یہ اعتراض بالکل درست ہے۔
مگر، یوسفی صاحب کے بقول پھر آپ ہی بتائیں کہ ہم اور کیا لٹکائیں!

یوسفی صاحب تو خدا انکو صحت مند رکھے، اس فقرے کی وجہ سے اور اسطرح کے دیگر انمول فقروں کی وجہ سے اردو ادبیات میں زندہ جاوید ہوگئے ہیں۔

ہم اپنی بے مزہ بات کو آپکی مان کر یہاں سے شروع کرتے ہیں:

اگر آپ کسی بھی نامعلوم وجہ کی بنیاد پر یہ بات تسلیم کرتے ہیں ــــ کہ ہمارے فلسفیانہ اذہان میں وجودی لایعنیت نام کی ایک بامعنی کیفیت پائی جاتی ہے اور یہ کیفیت جدید آدمی کا ایک غالب رویہ ہے، تو پھر اوپر ہونے والی گفتگو کو بھلا کر اس مشترک زمین سے آگے کا سفر ہم باہم مل کر طے کرلیتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟
اور اگر آپ یہ بات تسلیم نہیں کرتے تو پھر شاید آپکو یہیں سے مڑ جانا چاہئے اور واپس جا کر ممکن ہوا تو پچھلی قسط دوبارہ پڑھ لینی چاہئے۔۔

اتفاق کرنے والوں کی خدمت میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض ہے کہ ہمارا یہ متفق علیہ فلسفیانہ ذہن جو مسلسل سوالات اور ناکافی جوابات کے بودے پن اور پھر انکو تسلیم کرنے کی مجبوری کے باعث ایک وجودی اذیت میں گرفتار ہے، غور فرمائیں تو اس ذہن کے اندر ایسی اذیت کی پیدائش کا ایک مطلب ہے۔

یہ نکتہ توجہ طلب ہے، یہیں کچھ دیر توقف کر کے سوچئیے ــ کہ آخر وہ ذہن اِن جوابات کو ناکافی کیوں کہہ رہا ہے۔ ان بندوبستی اصولوں سے مطمئن کیوں نہیں ہورہا؟ اذیت میں کیوں مبتلا ہے؟ اِس کا ذہن اُن عامیانہ اصولوں کو کس بنیاد پر رد کررہا ہے؟ کس وجہ سے ان کو عارضی اور بندوبستی کہہ رہا ہے؟
اس انکار اور اذیت کی بنیاد یہ ہے کہ اسکے ذہن میں ایک برتر تصور پہلے سے ہی کام کررہا ہے۔ ایک اصول پہلے ہی ذہن کے اندر برسر کار ہے جو اسکو یہ بتاتا ہے کہ یہ جواب ابھی کافی نہیں ہے، ابھی کم ہے، ابھی نامکمل ہے۔ اندر کا یہ اصول اسکیلئے ایک پیمانے اور کسوٹی کا کام دیتا ہے۔ ایک پیمانہ جس پر وہ ہر دوسرے اصول کو پرکھتا ہے، یہ شخص اپنے ذہن کے اندر پہلے ہی پالے ہوئے ہے ـ ممکن ہے اس کی موجودگی کی خود اسے خبر نہ ہو۔

یہ اندرونی اصول مگر اسکے بس سے بالکل باہر ہے۔ یہ اسکی گرفت میں نہیں آتا۔ یہ بس اسکو دے دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ شاید وہ پیدا ہوا ہے۔ یا شاید وہ اس اصول کے اندر ہی پیدا ہوا ہے۔؟

ذہن کے اندر موجود اِس برتر پیمانے اور سانچے کو جس کی کسوٹی پر ذہن تمام اصولوں کو پرکھتا ہے، اور جنکی مدد سے ذہن دیگر ہر اصول کی تفہیم کرتا ہے، امانویل کانٹ قبل تجربی اصول یا “اے پری یورائی پرنسپلز” کہتا ہے۔ یعنی اس عظیم ترین فلسفی کے مطابق ایسے بنیادی قواعد ایک سے زیادہ ہیں۔ یہ قبل تجربی اصول جو کسی بھی نوعیت کے تجربے سے پہلے ذہن کے اندر موجود ہوتے ہیں، کی بنیاد پر ہی ذہن شے (اصول/ خیال/ تصور سبھی) کیساتھ کسی بھی نوع کی نسبت پیدا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ اور انہی کی بنیاد پر وہ شے پر کسی قسم کا حکم لگا سکتا ہے۔ فلسفہ سے واقف حضرات یہاں پہنچ کر مصنف کی رجعت پسند قلابازی پر تعجب کرتے ہونگے کہ پچھلی قسط میں جبکہ کسی طور کامیو اور سارتر تک پہنچ گیا تھا، اب پسقدمی کرکے دوبارہ کانٹ کی گود میں جا بیٹھا ہے۔

یہ تعجب بھی بالکل درست ہے ۔

چلیں کانٹ کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی تحریر پر ایک لمحے کیلئے غور کیجئے ــــ اِن الفاظ پر، جو مصنف نے غور و فکر کرکے چن کر لکھے ہیں۔ ان لفظوں کی بناوٹ پر، ان لکیروں پر جن سے یہ لفظ بنے ہیں، انکو ذرا غور سے دیکھیے۔ یہ لکیریں جو دراصل سکرین کی زیادہ روشن سطح پر کم روشنی کے یا اندھیرے دھبے ہیں۔ یہ لکیریں لفظ کیسے بن گئیں؟ یہ دھبّے کس طرح الفاظ بن گئے؟ سوچئے ــ اور پھر انکے اندر معنی کیسے بھر گئے؟۔
کس طرح سکرین کے اندر سے خدا جانے کس کس نوع کے پیچیدہ الیکٹرانکی اور برقی مراحل سے گزر کر ان دھبّوں کے عکس آپکی آنکھ کی پتلیوں سے ہوکر پردے سے ٹکرائے، کیسے اس پردے پر ایک برقی تاثر قائم ہوا، کیسے یہ برقی تاثر برقی رَو بنی اور کس طرح یہ برقی رَو اعصاب پر سوار ہوکر ایک سوراخ کے رستے ذہن میں داخل ہوا۔ وہاں اس رَو پر کیا بیتی کہ وہ لفظ بن گیا؟ واللہ، سوچیے کیا بیتی؟ کیا کچھ نہ بیتی ہوگی اس بے چاری رَو پر کہ پہلے برق سے لفظ بن گئی ـ پھر لفظ سے معنی ہوگیا۔

یہ تمام پیچیدہ ترین سفر جسکو مصنف کی کوتاہ فہمی نے کسی قدر کم پیچیدہ بنادیا ہے، سائینسی حقائق ہیں جن کو ہمارا جدید ذہن چُوں کئے بغیر تسلیم کرتا ہے۔ غور کیجئے کیا کیا الم غلم ہم تسلیم کئے جاتے ہیں، اور بولتے نہیں۔ اس پیچیدہ بیان سے کئی ہزار گنا پیچیدہ اور تہہ دار عمل کو آپ پی پلا کر اس مضمون کے الفاظ کو الفاظ کے طور پر پہچان رہے اور پھر معنی پہنا رہے ہیں۔ یہ سب عمل آپ کیساتھ ابھی ہورہا ہے، اِس وقت۔ اور آپ بغیر سوال کئے اس سب کو مان کرکے بلکہ انہی کی بنیاد پر یہ تحریر سمجھ کر، اسکے معانی کی تائید کررہے ہیں یا ان سے اختلاف کررہے ہیں۔
یہی پیچیدہ حال ہر حس کا ہے۔ دید یا بصارت کا مختصر حال آپ نے پڑھ لیا۔ سماعت اور لمس کی بھی روداد اس سے مختلف نہیں۔ اور یہ ابھی حسّیات کی کہانی ہے۔ جسکے پاس ارتسامات (stimuli) کی شکل میں کچھ خارجی مواد ہے۔ عقلیات کی کہانی تو اس سے بھی زیادہ خیالی اور اس سے زیادہ ہوائی ہے۔ کہ اسکے پاس برتنے کو کوئی خارجی مواد ہی نہیں۔

اس سب تفصیل کے بعد جدید لایعنی فلسفی سے کہنا یہ تھا کہ کانٹ کا کانٹا اگر نکال بھی دیا جائے، تو مشاھدے ہی سے واضح ہے کہ شعور کی پہلی جست پر ہی ہم آپ سب اس بے بنیاد اور پیچیدہ قواعد کے مجموعے کو درست تسلیم کرکے بلکہ انہی کی بنیاد پر باقی چیزوں کا فہم بہم پہنچاتے ہیں اور ان پر حکم لگاتے ہیں۔ تو پھر جن بندوبستی اصولوں کے بودے پن سے ہماری نازک طبیعت مکدّر ہورہی تھی، کیا وہ اِن پس منظری/ قبل تجربی قواعد کے مجموعے سے زیادہ پیچیدہ ہیں؟ زیادہ بودے ہیں۔ ؟ یہ مجموعہ جو مکان متصور کرتا ہے، پھر اس میں روشنی۔ پھر روشنی کی شدت کے اختلاف کو لکیر بناتا ہے، لکیر کو حرف، حرف کو لفظ اور لفظ کو معنی۔
یعنی یہ اصول اور پیمانے جنکی بنیاد پر آپ اُن عامیانہ اصولوں (عام اصول جیسے آگ سے حرارت اور پانی سے تری کا اثر پیدا ہونا۔ یا پچھلی قسط میں ڈپریشن کی تعریف میں یہ طبی قاعدہ کہ آدمی اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی کرنے لگ جائے۔ یا یہ طبی اصول کہ جراثیم سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور دواؤں سے ان کا خاتمہ ہوتا ہے۔ وغیرہ) کی تفہیم کے قابل ہوئے ہیں اور انکو بندوبستی و عارضی کہہ رہے تھے، خود کون سے کوئی حتمی اور ثابت شدہ حقائق ہیں؟

یہ حسیات کے راستے ارتسامات کی پیچیدہ ترسیل اور پھر عقل و فہم کا انکو معانی و مفاہیم میں ڈھالنا جس کی بنیاد پر آپ کسی بھی شے اور خیال سے کسی بھی درجے میں نسبت پیدا کرتے ہیں، آپ ان کو بھی غلط تسلیم کیوں نہیں کرتے۔؟
انکا بھی انکار کیوں نہیں کرتے؟ ہم بتاتے ہیں کہ کیوں نہیں کرتے۔

آپ ان قبل تجربی اصولوں کا انکار اسلئے نہیں کرتے کہ انکا انکار کر نہیں سکتے۔ انکو اگر آپ نے ناقابل قبول اور غلط قرار دیدیا تو پھر آپکے ہاتھ سے وہ بنیاد ہی چھن جائے گی جس کے بل پر آپ کسی بھی شے/ خیال کو درست یا غلط بتانے کے قابل ہوتے ہیں۔ جب مکان ہی متصور نہ ہوسکے گا تو روشنی کہاں سے آئے گی اور کہاں جائے گی؟ روشنی لفظ ہی نہیں بنے گی اور لفظ معنی ہی نہیں بن سکینگے تو پھر انکار کا کیا مطلب ہوگا اور اقرار کے کیا معنی ہونگے؟
اس نکتے میں ایک خمدار لچک ہے۔ اس پر توقف کریں۔
اس کو کچھ اور کھول کر بات کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اب تک کی کہانی یہ ہے کہ پہلے مرحلے پر آپ نے اُن عامیانہ اصولوں کو جو روزمرہ برتنے میں آتے ہیں ناکافی اور بے بنیاد سمجھ کر عارضی اور بندوبستی کہہ دیا۔ پھرآپ کو یہ بتایا گیا کہ آپ ان اصولوں کی جن بنیادوں پر تفہیم کرتے ہیں، وہ بنیادیں بھی تو اصولی ہی ہیں۔ انکو بھی بندوبستی اور بے بنیاد کہیے!
یہ اصول جو حسیات کی ترسیل اور فہم کے مقولات کے نام پر اپنے اندر اُن عام اصولوں سے، کہ جن کو بودا اور عارضی کہہ کر ہم خودکشی کرنے چلے تھے، کہیں بڑھ کر بندوبستیت اور عارضی پن لئے ہوئے ہیں۔ اِنکو بندوبستی اور بے بنیاد کیوں نہیں کہہ دیتے؟
اب یہاں اگر آپ کہیں، کہ نہیں ہم تو ان کو بھی بندوبستی ہی کہتے ہیں۔ ہم انکو بھی نہیں مانتے۔ ہم تو حسیاتی ارستسامات اور عقل کے مقولات، کسی کو نہیں مانتے۔

تو آپ کو بتایا جائے گا کہ اِن پس منظری قبل تجربی قواعد کو بغیر کسی ثبوت کے درست مانے بغیر آپ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ آپ خودکشی کے مطلب بھی نہیں جان سکتے۔ لکھا ہوا پڑھ نہیں سکتے، کہا ہوا سُن نہیں سکتے۔ آپ نہ کسی شے/خیال کو درست مان سکتے ہیں، نہ غلط۔ بات اس سے بھی آگے کی ہے۔ ان اصولوں کو درست مانے بغیر کسی بھی شے/ خیال سے آپ کسی بھی قسم کی کوئی نسبت ہی نہیں پیدا کر سکتے، تعلق ہی نہیں پیدا کیا کرسکتے۔ درست یا نادرست اور غلط یا صحیح کا حکم تو بہت بعد کی بات ہے۔
ان اصولوں کا گھیراؤ اس قدر مکمل ہے، کہ اس سے مفر ناممکن ہے۔ ان اصولوں کا انکار بھی انکا اثبات کئے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ شعور اپنی پہلی حرکت ہی ان اصولوں کو درست مان کر کرتا ہے۔ ان کو درست مانے بغیر شعور شعور نہیں ہے۔ لفظ لفظ نہیں ہے۔ معنی معنی نہیں ہے۔ آپ آپ نہیں رہتے۔ ہم ہم نہیں بچتے۔ انکو درست مانے بغیر درست اور غلط کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ نفی اور اثبات کے کوئی معنی نہیں ہے۔ وحدت اور کثرت بے معنی ہیں۔ اوپر اور نیچے بے معنی ہیں۔ پہلے اور بعد کے کوئی معنی نہیں۔ لفظ کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ معنی کے کوئی معنی نہیں ہیں۔

تو پھر اب کیا کریں؟
عرض یہ ہے کہ پہلے تو اس بات کو تسلیم کریں کہ اصول کی بنیاد تلاش کرنے کے عمل کا تسلسل لامتناہی نہیں ہے۔
پچھلی قسط میں وجودی لایعنیت کی پیدائش میں فلسفی کی اس بیزاری کا دخل بتایا گیا تھا کہ جو اصولوں کی لامتناہی پسپائی کو دیکھ کر پیدا ہوتی ہے۔ کہ ہر اصول کے پیچھے ایک اصول ہے اور اسکے پیچھے ایک اور اصول، اور اصولوں کا یہ سلسلہ کہیں نہیں رکتا۔ تو ایسا نہیں ہے۔

فہم اور عقل کے اور حسیات کے بھی، وہ قبل تجربی اصول جن کی بنیاد پر پہلے درجے میں ہم شے کیساتھ نسبت پیدا کرتے ہیں جیسے زمان و مکان اور علت و معلول وغیرہ، (کچھ کے نزدیک یہ بارہ قواعد ہیں) وہ آخری ہیں۔ ادھر پہنچ کر سوال کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ کیونکہ سوال کا تصور خود بھی انکو درست مانے بغیر وجود میں نہیں آتا۔ آ نہیں سکتا۔

اور خود ہی سوچیے، کیا “سلسلے” اور “تسلسل” کا تصور “زمان” کے بغیر ممکن ہے؟ ان قبل تجربی اصولوں کی آگے کوئی اور بنیاد نہیں ہیں۔ یہ اٹل اور حتمی ہیں۔ انکی بنیاد اگر ہے بھی تو آپ انکو درست مان کر ہی انکی بنیاد کھوج سکتے ہیں۔ مطلب اگر مکان کے پھیلاؤ کا انکار کرینگے، تو آپ بنیاد کہاں ڈھونڈنے جائینگے؟ اور اگر زمان سے فرصت غائب ہوجائے تو آپ کس وقت وہ بنیاد تلاش کرینگے؟ جب وقت ختم اور مکان گم ہوجائے گا تو ہر شے بنیاد سمیت غائب ہوجائے گی، نہ آپ بتاسکینگے کہ کہاں غائب ہوئی اور نہ آپکے پاس بتانے کیلئے وقت ہوگا۔

یہاں پہنچنے تک آپ نے مرحلہ وار دیکھ لیا کہ شعور اپنی پہلی جست ہی یقین کی لگاتا ہے۔ شعور کی آنکھ کھلنے کا عمل ہی اِن بنیادی اصولوں یعنی زمان/ مکان اور علت و معلول وغیرہ کو بغیر ثبوت کے درست مان لینے کا عمل ہے۔ کیونکہ ثبوت کا تصور بھی ان اصولوں کو مانے بغیر ممکن نہیں۔

اسلئے عقل ــ جو ہر وقت ثبوت! ثبوت! چیختی رہتی ہے اور اپنے پیرویان کو بھی ثبوت کے بغیر کسی چیز کو تسلیم نہ کرنے کی نصیحت کرتے نہیں تھکتی اپنی پہلے حرکت ایک یقین کی بنیاد پر کرتی ہے۔ اس کا وجود ہی یقین پر کھڑا ہے۔ اس کا پورا بنیادی نظام، قواعد کے ایک ایسے مجموعے کو بغیر ثبوت کے مان لینے پر استوار ہے جس کیلئے اسکو کوئی دلیل مہیا ہو نہیں سکتی۔ ان قواعد کو مانے بغیر یہ ہل نہیں سکتی، سانس نہیں لے سکتی۔ یہاں تک کے یقین کے خلاف بول بھی نہیں سکتی۔

مصنف کی نظر میں یہ اٹل حقیقت ہی یقین کی وہ فلسفیانہ بنیاد ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔

اس بحث کا تتمّہ اگلی قسط میں پیش کیا جائے گا انشا اللہ۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: