شرمناک خاموشی : منیر احمد خلیلی

0

انتخابات کا مرحلہ جوں جوں قریب ہو رہا ہے بے ضمیر اور خود غرض و مفادات پرست سیاست کے بازار کی گہما گہمی بڑھنے لگی ہے۔ اخلاقی اصولوں کی قربان گاہیں تیار ہو رہی ہیں۔ پرانے موقف بدلنے کے لیے عقل عیار کی سجائی منڈی میں نئی سے نئی تاویلوںکی تلاش ہو رہی ہے۔عہد و پیمان اور وفائوں کے قبرستانوں میں گورکن زیادہ سے زیادہ مردے دفن کرنے کے لیے مستعد ہو گئے ہیں۔قافلہ یہ دیکھ کر حیران ہے کہ اس کے لٹنے کے سب سے بڑے ذمہ دار ’منصف‘ اور ’رہنما‘ گم نام شاعروں کے شعروں کی زبان میں ایک دوسرے پر چوٹیں کر رہے ہیں۔گھر کی حفاظت پر مامور ’نگہبانوں‘ کے لبوں پر گہری پر اسرار مسکراہٹ غماز ہیں کہ سارا کھیل اسی رخ پر مڑ رہا ہے جدھر وہ اسے موڑنا چاہتے ہیں۔ شاطرانہ انداز میں کسی کے in ہونے کا سامان ہو رہا ہے اور کسی کو out کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔ عزت اور ذلت کے ہدف بدل رہے ہیں۔ ’وکٹری سٹینڈ‘ پر 1,2,3نمبر نئے سرے سے لکھ دیے گئے ہیں۔

عین یہ وہ حالات ہیں جن کے دوران میں ایک ایسا شرمناک واقعہ ہوا کہ زمین تو ضرور کانپی ہو گی اور آسمان پھٹنے کو آیا ہو گا لیکن اجتماعی ضمیر، قومی غیرت اور سیاسی و مذہبی رہنمائوں کی حمیت اور اخلاقی حس پر سیاست کا اتنا گہرا ’اسموگ‘ چھایا ہوا ہے کہ کوئی زور دار احتجاجی آواز اٹھتی سنائی نہیں دی۔ جاگیردارانہ ذہنیت، سرمایہ دارانہ نشے اور سیاسی اثر و رسوخ اور طاقتور عناصر کے تعلقات کے ماحول میں اگرچہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہوا۔ عزتیں لٹنا، گردنیں کٹنا، گھر اجڑنا، کھیت پامال ہونا،کھلیان جلنا، جائدادیں چھننا وہ کہانیاں ہیں جو گلی گلی اور محلے محلے میں بکھری ہوئی ہیں۔اگرچہ گزشتہ کم و بیش تین چار عشروں سے اقتدار اورکرپشن کا چولی دامن کا ساتھ ہوگیا ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حرام ذرائع سے کمانا، پھر اس’کالی دولت‘ کو ’سفید‘ بنانے کے لیے گورے ملکوں کے بنکوں میں رکھنا، وہاں وسیع جائدادیں خریدنا اور ماورائے ریاست (off-shore) کمپنیوں میں لگا کر ٹیکس چوری کرنا صرف حکمرانوں تک محدود نہیں ہے۔ صنعت کار، کارخانہ دار، پراپرٹی اور دیگر میدانوں میں اونچے کاروباری لوگ، ریٹائرڈ اورحاضر سروس سول اور ملٹری بیوروکریٹ، جرنلسٹ، کھلاڑی کسی نہ کسی پیمانے پر اور کسی نہ کسی راستے سے اس کرپشن میں ملوّث ہیں۔ لیکن لفظ ’کرپشن‘ صرف مالی بدعنوانی تک محدود نہیں ہے۔ یہ اخلاقی زوال کی ہر اس شکل کو شامل و محیط ہے جس سے قُرآن کی اصطلاح میں خُدا کی زمین پر فساد پیدا ہوتا ہے۔ انسانیت کی تحقیر، نسوانیت کی تذلیل، شرافت اورشرم و حیا کی موت، موالات و تعلقات کی بے قدری، شائستگی و معقولیت یہاں تک کہ انسانی جانوں کی ارزانی جیسے سارے رویّے فساد کو جنم دیتے ہیں اس لیے یہ سب ’کرپشن‘ ہیں۔

بات ایک ہولناک سانحہ کی ہو رہی تھی۔یہ المیہ ایک دیہات کے دوگروہوں کے مابین تنازع کا شاخسانہ تھا جس کا شکار کنویں سے پانی بھر کر آتی ہوئی لڑکی بنی۔ گائوں کے بااثر غنڈوں اور اوباشوں نے لڑکی کو پکڑ کر برہنہ کیا، عریاں حالت میں اسے گلیوں میں گھمایا اور پھر اسے اسی حالت میں مجمع کے سامنے کھڑے کر کے اس کی تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئیں۔ مقامی پولیس نے کمزور سماجی حیثیت رکھنے والے اس خاندان کی کوئی شنوائی نہ کی جس کی بیٹی کو یوں سرِ عام بے آبرو کیا گیا۔ یہ اس پولیس کا طرزِ عمل تھا جس کے بارے میں اس صوبے کی حکمران جماعت کا دعویٰ ہے کہ اسے سیاسی دبائو سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہوا جہاں اس جماعت کی حکومت ہے جس نے انصاف کو اپنے نام کا حصہ بنا رکھا ہے۔ یہاںحکومت میں شراکت دار دوسری جماعت وہ ہے جو نظامِ عدل کے قیام کے لیے اٹھی ہے اور دین و شریعت جس کی پہچان ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، جس کے مضافات میں یہ المیہ پیش آیا، اُن مولانا فضل الرّحمٰن کا آبائی شہر ہے جن کی اس صوبے میں اہم سیاسی حیثیت، گہرا اثر و اقتدار اور دینی مدارس کاایک وسیع نیٹ ورک ہے۔ پچھلے پندرہ برسوں سے تو وفاق میں ہر حکومت کے حصہ دار ہوتے ہیںاور اب بھی ان کا ایک وفاقی وزیر کے برابر ان کا درجہ ہے۔

سانحہ تو جتنا المناک ہے، وہ ہے ہی لیکن میں جس پہلو سے اس معاملے کو اہم گردانتا ہوں وہ اس واقعہ پر صوبے میںقوت و اقتدار کے مالک عمران خان کی شرمناک حد تک بے حسی اور خاموشی ہے۔اگرچہ ان کی پارٹی کی رکن اسمبلی عائشہ گلالئی کے لگائے ہوئے الزامات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایک دیہاتی لڑکی کی وحشیانہ انداز میں بے حرمتی پر عمران خان کی خاموشی کوئی حیرت کی بات نہیں ہے لیکن صوبے میں حکومت کی وجہ سے کمزوروں کی حمایت اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کی ذمہ داری کی وجہ سے وہ خود اور ان کی حکومت اور پارٹی اس معاملے میں مسئول ہے اور ان کی خاموشی ایک سنگین جرم ہے۔ ان کے حوالے سے اس معاملے کی نزاکت اور بڑھ گئی ہے کہ تحریکِ انصاف کے ایک لیڈر نے اپنی پارٹی کے ایک اور لیڈر پر اس درندہ اور وحشی صفت گروہ کا پشت پناہ ہونے اور مجرموں کی کھلی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ دینی اور اخلاقی اصولوں کے پاسدار اور دین وشریعت کے علم بردار ہونے کی وجہ سے مولانا فضل الرّحمٰن اور جناب سراج الحق کی خاموشی کا ذکر بھی جس ہلکی سے ہلکی صفت سے کیا جا سکتا ہے اس کے لیے شرمناک لفظ ہی موزوں ہے۔ ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر اور خاص طور پر حقوقِ نسواں کے عنوان سے سرگرمیوں میں مصروف امریکہ اور مغربی ممالک سے بھاری گرانٹس لینے والی این جی اوز کی آواز بھی کہیں سنائی نہیں دی ہے۔ لے دے کے عمران خان کی مطلقہ ریحام خان کو صدائے احتجاج بلند کرتے دیکھ رہے ہیں لیکن وہ بھی بعد از بصد خواری و تاخیر۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: