عدلیہ بحالی تحریک کے مضمرات : محمد خان قلندر

0
  • 123
    Shares

تھوڑی دیر کے لئے اگر شریف باپ بیٹی, انکے خاندان اور حواریوں کی سخت ترین اور نامناسب گفتگو سے صرف نظر کر لیا جائے تو جس تواتر اور تسلسل سے ملک کی اعلی عدلیہ اور اس کے ماتحت ادارے تختہء مشق ستم و تحقیر بن رہے ہیں اس کے ذمہ دار عدالت کے دونوں ستون، بنچ اور بار خود بھی ہیں۔

ویسے تو ہم بہ حیثیت قوم ہر میدان میں انہونی تاریخ رقم کرنے کے ماہر ہیں ـ یہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا بلیک مارکیٹ سے حصول اور ایٹمی دھماکے کرنا ہو، یا دنیا کی ایک سُپر پاور کی شکست و ریخت ہو، دنیا کی دوسری اور موجودہ واحد سُپر پاور کو گھٹنوں تک افغانستان میں پھنسا کے رکھنا ہو، یا چین جیسی معاشی سُپر پاور کو تجارتی راہداری کا ڈھنگا ڈالنا ہو، مشرق وسطی کے ڈکٹیٹر اور بادشاہوں کو اپنی اداؤں سے زیر دام رکھنا ہو، بھارت جیسے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کو نکیل ڈالے رکھنی ہو، دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن اپنی ضرورت اور سہولت کے وقت پر کرنے مقصود ہوں، دنیا بھر میں اس لحاظ سے ہمارا منفرد مقام ہے.

اقوام عالم میں عدلیہ کی تاریخ میں یہ اچھوتا باب بھی ہم نے رقم کیا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی معطلی پر عوامی احتجاج ہوا تب اسی معزول چیف جسٹس کی سربراہی میں جلوس نکالے گئے، مارچ ہوئے، سیاسی تقسیم سے بالا ملک کی تمام وکلاء بار کے ارکان اس تحریک کا ہراول دستہ بنے. سول سوسائیٹی اور اس وقت کی اقتدار سے باہر سیاسی جماعتوں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا. اس تحریک میں درجنوں لوگ جاں بحق بھی ہوئے، اور میلوں کی مسافت طے کرنے والے مارچ، ہزاروں کے اجتماع کے جلوس اور جلسوں کے اخراجات قدرت نے اپنے مخفی خزانوں سے مہیا کئے. ججوں کی نظر بندی کا بےمثال کارنامہ بھی ہمارے ملک میں ہی سرانجام دیا گیا.

یہ تحریک اپنے شاخسانے بکھیرتی قسط وار کامیاب ہوئی اور افتخار محمد چوہدری ایک ہیرو کی طرح چیف جسٹس کی پُرافتخار کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے. اس ساری تحریک کے دوران میڈیا کی مسلسل کوریج کی وجہ سے عدالت میں ایک طرف محترم جج صاحبان بھی تشہیر کے لطف سے آشنا ہوئے تو دوسرے میڈیا کی عدالت میں رسائی ممکن، مکمل اور لازم ہو گئی.

سیاسی اور انتظامی معاملات کے کیسز کچھ روٹین میں اور کچھ از خود نوٹس کے اختیار سے ترجیحی حیثیت اختیار کر گئے. چوہدری صاحب کی عدالت تو ٹی وی چینلز کے سیٹ کی صورت بن گئی تھی جہاں سے چوبیس گھنٹے محترم جج صاحبان کے ریمارکس بریکنگ نیوز کے طور نشر ہونے لگے. ٹاک شو کے موضوع میں عدالتی کاروائی سر فہرست ہوتی تھی. ضرب المثل کہ ‘ججز اپنے فیصلوں میں بولتے ہیں شکل تبدیل کرتے، ٹی وی ٹکرز میں بولتے ہیں مستعمل ہو گئی’. یہ اسلوب ماتحت عدالتوں تک پھیلا اور اب بھی یہ صورت حال کچھ کم و بیش ردوبدل سے جاری و ساری ہے.

اس تحریک میں شرکت سے وکلاء برادری بھی سوسائٹی میں اپنے اثرورسوخ اور مقام کی اہمیت سے آشنا ہوئی بلکہ کہنا چاہئے کہ کچھ زیادہ ہی ہو گئی. جہاں وکلاء لیڈران مشہور و معروف ہوئے. ان کی تقاریر براہ راست نشر ہوتیں اور ٹی وی کے پروگرام میں ان کی دھواں دار بحث کسی بھی ڈرامائی سین سے کم نہ ہوتی وہ سب تو سُپر ہیرو، ہیروئن، اور ٹاپ ماڈلز سے زیادہ مشہور ہونے لگے.

چوہدری صاحب کی عدالت تو ٹی وی چینلز کے سیٹ کی صورت بن گئی تھی جہاں سے چوبیس گھنٹے محترم جج صاحبان کے ریمارکس بریکنگ نیوز کے طور نشر ہونے لگے.

چھوٹی سے چھوٹی بار ایسوسی ایشن کے عہدے داران اور ارکان اس زعم تفاخر کا شکار ہو گئے کہ عدالتی نظام کے وہ محسن ہیں اور کالا کوٹ پہننے والا ہر قانون سے مبرآ ہے. ججز ان کی تحریک کے وجہ سے موجود ہیں اور ان کو وکلاء کا ممنون احسان اور مطیع فرمان رہنا چاہیئے. اس دماغی فتور نے وکلاءگردی کے رویے کو پروان چڑھایا. اب عدالت کے اندر جج صاحبان سے بد تمیزی کرنا، اپنی مرضی سے اپنے مؤکل کو رعایت دلوانا بزور بازو بھی جائز سمجھا جاتا ہے. دیگر انتظامی اداروں پولیس وغیرہ سے ہاتھا پائی تک کو وکیل کا حق مانا جانے لگا ہے. وکالت کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کی دھجیاں اڑانا معمول ہو گیا ہے.

کسی بھی واقعے پر ہڑتال کرنے سے ملک بھر لاکھوں مؤکلان کی حق تلفی کا ازالہ تو دور کی بات کسی کو بھی اس کا معمولی احساس بھی نہی ہوتا، نچلی عدالتوں میں یہ رویے عام ہیں اور قابل تشویش بات عام لوگوں کے عدالت پر اعتماد میں گراوٹ ہے.

اس بد نظمی کے تدارک کی کوئی منظم کوشش بھی نہیں کی جاتی بلکہ بار کے عہدے دار کی زیادتی پر انضباطی کاروائی کی بجائے عدالت کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے. عدالت کی تالہ بندی کرنا بھی معیوب نہی سمجھا جاتا. کسی بھی واقعے پر ہڑتال کرنے سے ملک بھر لاکھوں مؤکلان کی حق تلفی کا ازالہ تو دور کی بات کسی کو بھی اس کا معمولی احساس بھی نہی ہوتا، نچلی عدالتوں میں یہ رویے عام ہیں اور قابل تشویش بات عام لوگوں کے عدالت پر اعتماد میں گراوٹ ہے.

تحریک کے نتیجے میں مشہوری حاصل کرنے والے وکیل لیڈران کی چاندی ہوئی بھی اور اب تک ہو رہی ہے. عام سے کیس کی وکیل بارہ ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ بیس ہزار ہوگئی. اور نامی وکلاء تو اب کروڑ کے عدد سے کم پر بات نہی کرتے ہیں. کسی بھی عدالت کے باہر وکلاء کی پارکنگ میں کھڑی بیش قیمیت گاڑیوں کی قطاریں ان کے معیار زندگی کا ثبوت ہیں

مشہوری کا ایک اور سبب اور صلہ سرکاری وکالت ہے. گورنمنٹ اور دیگر ادارے اپنے تنخواہ دار ملازم لیگل اٹارنی اور ایڈوائزر سے روٹین کے قانونی کام کراتے ہیں. عدالت میں ہر بڑے کیس کے لئے بڑے وکیل کی خدمات لی جاتی ہیں، جن کی فیس سرکار یا متعلقہ محکمہ ادا کرتا ہے. اس کا ضمنی فائدہ حکومت وقت ان وکلاء کے سیاسی اثر و رسوخ کو اپنے حق میں رکھنے کا بھی لیتی ہے.

کھلی عدالت میں کھلی سماعت کا بنیادی فلسفہ تو اس کیس سے متعلق فریقوں کو عدالتی کاروائ دیکھنے کی اجازت ہے لیکن اسے میڈیا کی آزادی اور عدالت میں رسائ کے نام پر اخباری اور چینلز کے نمائندوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، جو عدالت سے خبر نشر کرتے ہیں، جس پر چینلز دن بھر بریکنگ نیوز کے ٹُکر چلاتے ہیں ، اب سارے مشہور اور عوامی دلچسپی کے مقدمات سیاسی پارٹی کی شخصیات سے متعلق زیادہ چل رہے ہیں ، تو عدالت بھی سیاسی اکھاڑہ بن جاتی ہے.

گزشتہ دو سال سے پانامہ کیس سر فہرست ہے، اور عدالت ملزمان کے زیر عتاب ہےم جس میں ٹی وی ٹاک شو میں شریک قانونی ماہرین میں اکثریت کا کردار وکالت کے معزز ترین پیشے کی عزت و وقار کے منافی ہے. اس تناظر میں نواز شریف کی پالیسی تاحال کامیاب نظر آتی ہے کہ وہ ابھی تک مجرم قرار دیئے جانے پر نااہل ہونے کے باوجود رائے عامہ پر اثرانداز ہیں.

ایک وجہ تو یہ ہے کہ وفاقی حکومت ان کی طفیلی ہے. پنجاب میں شہباز شریف براجمان ہیں، اسمبلی میں ان کی عددی اکثریت کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اپوزیشن نہ متحد ہے اور نہ یکسو ہو سکتی ہے. متحدہ اور پیپلز پارٹی اپنی کمزوریوں اور مسائل کے سبب مشکوک اور اپنے وقتی مفاد کا رویہ رکھتی ہیں مزید برآں تحریک انصاف عمومی طور پارلیمانی امور سے لاتعلق ہے. ان کی امید عدلیہ سے شریف خاندان کو سزا ہونے پر بندھی ہے. جلسے ان کا پسندیدہ اور ان کے نزدیک کار آمد کاروائی ہیں. یوں نواز کیمپ ہر عدالتی پیشی اور کاروائی،.کو اپنی سیاسی برتری کے لئے باقاعدہ پلان کرتا ہے. عدالت کی کاروائی مخصوص انداز میں مخصوص رپورٹر اپنے چینلز سے نشر کراتے ہیں. جس کے بعد اخبارات میں ان کو اسی انداز سے چھاپا جاتا ہے. اداریئے اور کالم شائع ہوتے ہیں،.پھر اس سب مواد پر ٹی وی پروگرام ہوتے ہیں.

عدالت کے باہر شریف لکھا ہوا بیان پڑھتے ہیں. مخصوص اخبار اس کی ہیڈ لائن لگاتے ہیں. اور یہ بھی ٹی وی پرگرام کا موضوع بنتے ہیں. اب چونکہ عدالت کا معاملہ ہے تو ان مباحث میں قانونی ماہرین کی شرکت لازمی سمجھی جاتی ہے. جن کی اکثریت سیاسی وابستگی رکھتی ہے،ل. بیشتر حکومتی مراعات یافتہ یا اس کے متمنی ہوتے ہیں. یہ اینکرز کی لیڈ پر پروگرام کے سکرپٹ کے مطابق عدالتی احکام کی ان کی من پسند تشریح کر دیتے ہیں. اب یہ محترم بحالی تحریک کے شریک ہونے کے ناطے عدلیہ کو زیر بار احسان سمجھتے ہیں، تو اپنے مؤقف کو ججز کے فیصلے پر مقدم سمجھتے ہیں اور شد و مد سے بیان کرتے ہیں.

اعلی عدلیہ کے مقام کا تقاضا صبر، تحمل اور ضبط تو ہے. چنانچہ ان اوچھی حرکتوں پر رد عمل نہ دینا قرین مصلحت ہے. لیکن عوامی احتجاج کی وجہ سے بحال ہونے والی عدالت کو عوامی مزاج اور حساسیت کا خیال رکھنا بھی لازم ہے. یہ حقیقی خطرہ موجود ہے کہ اب عدلیہ مخالف تحریک کی کوشش کی جا سکتی ہے اور کچھ کوشش ہو بھی رہی ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہو گا کہ عدالتی کاروائی کی کوریج، رپورٹنگ، ماتحت اور اعلی عدالت میں غیر متعلقہ عام یا سرکاری عہدے داروں، سیاسی ورکرز و دیگر کے داخلے کے لئے ضابطہء اخلاق اور قوائد کا اطلاق سختی سے کرایا جائے. تمام متعلقہ بار کونسل اور ایسوسی ایشن سب سے ان کے ارکان کی لیگل پروفیشل اخلاقیات کی پابندی کرائی جائے.

اداروں کو اپنی عزت و تکریم کی خود حفاظت کرنی چاہیئے تاکہ کوئی ان کی توہین کی جرآت ہی نہ کر سکے_

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: