تجھ سے ناراض نہیں زندگی حیران ہوں میں ۔۔۔۔ ایک عورت ایک کہانی ۔ قسط 2

0
  • 108
    Shares

ایک عروسِ نو کی آ بلہ پائی کی سچی، خود نوشت داستان ۔۔۔۔۔ جو بہت سے نشیب و فراز سے گزر کر اب ایک ملکہ کہ طرح اپنی راجدھانی کی حکمران ہے مگر عمرِ گذشتہ کے کچھ روگ اب بھی ہمراہ ہیں جو کہانی لکھنے کا محرک بنے۔ دوسرا حصہ۔


کچھ مہینے سب کی عادات کو سمجھنے میں گزر گئے۔ ایسے میں مجازی خدا کو سمجھنا بہت مشکل ہورہا تھا کیونکہ وہ مجھے کہیں بھی باہر لے کر جاتے تو ان کی نگاہ مجھ پر اور ارد گرد لوگوں پر رہتی وہ یہ دیکھتے رہتے تھے میں کس کو دیکھ رہی ہوں اور کون مجھے دیکھ رہا ہے جب کہ میں پردہ کرتی تھی برقع پہنتی تھی صرف آنکھیں نہیں ڈھانپتی تھی دو مرتبہ تو انھوں نے سرے بازار میرا ہاتھ پکڑا اور لوگوں کے پاس لے گئے کہنے لگے کہ برقعہ اتارو اور کپڑے تاکہ یہ لوگ تمھیں اچھی طرح دیکھ لیں۔ اتنی تذلیل کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا دل کرتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں دفن ہوجاؤں۔۔ اب میں یہ بات سمجھ چکی تھی کہ میرے شوھر شکی مزاج ہیں، کسی بھی مرد سے بات نہیں کرسکتی تھی اگر کرلی تو شامت اعمال آجاتی تھی.

چند دن سے عجیب واقعات رونما ہونے لگے میں دوپہر کو کمرے ہوتی تو دروازہ زور زور سے کھٹکنا شروع ہوجاتا دروازہ کھولتی تو کوئی نہ ہوتا کپڑے الماریوں میں پڑے پڑے کٹ جاتے. کچن نیچے تھا جب کام نبٹا کر اوپر اپنے کمرے میں آتی ہر طرف چیزیں بکھری ملتیں. بڑی بھابھی کو بتایا تو انھوں نے کہا کہ “اس گھر میں جن ہیں میں نے بہت مرتبہ جنوں کو دیکھا ہے کسی کو نہ بتانا کیونکہ کوئی تمھاری بات کا یقین نہیں کرے گا.” یہ سن کر تو میری جان ہی نکل گئی تھی روز بروز واقعات بڑھنے لگے.

مجھے ہر وقت ڈر و خوف رہنے لگا ایک دن ہمت کرکے مجازی خدا کو بتایا انھوں نے ہمیشہ کی طرح مجھے گھورا اور کہا کہ “یہ بات کسی سے نہ کرنا نہیں تو تمہارا ہی مذاق بنے گا”.. میری صحت گرنے لگی میری آنکھوں کے نیچے گہرے ہلکے پڑ گئے میں سوکھ کر کانٹا ہوگئی تھی. ڈاکٹر کو دکھایا تو انھوں نے مجھے خوشخبری سنادی کہ میں ماں بننے والی ہوں اور خون کی شدید کمی کی وجہ سے بچے کو خطرہ ہوسکتا ہے بہترین خوراک کا مشورہ اور وٹامن لکھ دیں . اس وقت مجھے لگا کہ میں دنیا کی خوش قسمت عورت بننے والی ہوں. بڑی بھابھی میرے ساتھ گئیں تھیں انھوں نے مجھے عجیب الفاظ میں مبارک باد دی انھوں نے کہا کہ” تم عورت بن جاؤگی تمھارا فگر ختم ہوجائے گا ہوسکتا ہے تمھارا شوہر بھی تم سے دور ہو جائے”. یہ کیسی مبارک باد تھی اس بات سے مجھے کوئی سروکار نہیں تھا. میرا دل کررہا تھا کہ جلدی سے شام ہوجائے اور مجازی خدا کو خوشخبری سناؤں۔ اللہ اللہ کرکے شام ہوئی اُس دن میں نے سجنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی تھی، خوب تیار ہوئی مگر انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں تھیں اللہ اللہ کرکے مجازی خدا آئے تو انہیں بتایا انھوں نے کہا خیر ہے تم اتنی تیار کیوں ہوئی ہو کان کھول کر سن لو میں نے کہیں نہیں جانا .میں نے اُن کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا کہ آج “اللہ پاک نے بہت بڑی خوشی دی ہے آپ سنیں گے تو خوش ہوجائیں گے .” انھوں نے کہا پہلیاں نہ بھجواؤ سیدھے سیدھے بتاؤ بات کیا ہے میں نے بڑے پیار سے کہا کہ “جناب آپ باپ اور میں ماں بننے والی ہوں” یہ سن کر نجانے کیوں ان کو غصہ آگیا اور چیخ کر بولے کیا “مطلب؟” میں ڈر گئی میں نے کہا کہ بھابھی سے پوچھ لیں ڈاکٹر نے یہی کہا تھا وہ فوراً کمرے سے چلے گئے اور میں حیران پریشان واش روم میں چلی گئی اپنی خوشی کو خوب آنسوؤں سے دھویا پھر منہ ہاتھ دھویا کپڑے بدلے اور نارمل ہوگئی ایک بات کا یقین بھی ہوگیا تھا کہ بھابھی جو کہتیں ہیں ٹھیک ہی کہتیں ہیں.

ان نو مہینوں میں مجازی خدا نجانے کیوں ناراض ہی رہے مگر میں بہت خوش تھی چھوٹے کپڑے سیتی اور انھیں چومتی نہ تھکتی تھی بالاخر وہ دن بھی آگیا جب اللہ پاک نے مجھے بیٹی سے نوازا۔۔ میری بہنیں اور امی اباجی اسپتال آئے میری چھوٹی بہن نے گڑیا کو دیکھا تو بے ساختہ بولی ” بھائی جان! آپ نے گڑیا کو دیکھا ماشاءاللہ بہت گول مٹول پیاری سی گڑیا ہے”. اُس کے جواب میں مجازی خدا بولے “یہ تو گوشت کا لوتھڑا ہے اسے کیا معلوم میں کون ہوں؟ جب اسے معلوم ہوجائے گا کہ میں اس کا کون ہوں تو میں بھی بتا دونگا کہ یہ میری کون ہے”

مجازی خدا کے الفاظ میری سماعتوں کو پگھلے ہوئے سیسہ کی مانند خاکستر کرگئے.میں نے اپنی گڑیا کو سینے سے لپٹالیا مجھے ڈر تھا کہ اُسے مجھ سے چھین نہ لیا جائے. ماں بننے کی خوشی آنسوؤں کے ساتھ ہی بہہ گئی امی ابا جی مجھے اپنے ساتھ کراچی لے گئے گڑیا بہت پیاری تھی بہنوں نے خوب لاڈ پیار کیے کبھی ایک اُٹھاتی اور کبھی دوسری بہن پکڑ لیتی تھی ایک مہینہ ہنستے کھیلتے گزرگیا. واپس سسرال جاتے وقت لڈو کےٹوکرے، پنجیری دیسی گھی اور پورے سسرال کے کپڑے نجانے کیا کچھ میرے ساتھ امی نے دے دیا تھا . مگر سسر جی نے پورے محلے میں لڈو بانٹنے کے لیے ٹرے میں لگادیے ایک بچے نے پوچھا کہ کیا کہنا ہے کس چیز کے لڈو ہیں میرے سسر بولے کہنا کہ “پھوپھو کے بیٹا ہوا ہے’. میں جلدی سے بولی کہ ” بولنا کہ بہن آئی ہے”. سسر نے مجھے ایسا ڈانٹا کہ بس. بولے کہ”یٹیوں کے بھی کوئی لڈو بانٹتا ہے؟” دیسی گھی اور پنجیری بھی یہ کہہ کر بانٹ دی گئی کہ گھی اور پنجیری خراب ہوجائے گی اس سےاچھا ہے کہ کوئی کھالے اللہ نے مجھے صحت مند بیٹی دی تھی اس بات کا میں جتنا شکر کرتی کم تھا مجھے اب کچھ نہیں چاہیے تھا بھلے سے میرا سب کچھ بھی لے لیتے میں اُف نہ کرتی.

مجازی خدا نے میرا استقبال یوں کیا کہ آفس سے آتے ہی کہ دیا کہ “اب میں تمھارے ساتھ نہیں سو سکتا، بچی پیدا کی تو اس کا شوق بھی تم ہی پورا کرو میں اُوپر تیسری منزل پر بھابھی کے بچوں کے ساتھ سو جایا کرونگا” یہ کہہ کر چلے گئے میری ساری تیاری دھری کی دھری رہ گئی، ہیئر کٹنگ کروائی تھی، نئے کپڑے پہنے تھے، کلائیاں رنگ برنگی چوڑیوں سے بھری ہوئی تھیں اور ہتھیلیاں مہندی کے خوبصورت ڈیزائین سے سجی ہوئی تھیں نیا زیور بھی پہنا ہوا تھا اس مرتبہ میں نے آنسو نہیں بہائے بلکہ اپنی کلائیوں پر اینٹ مار مار کر ساری چوڑیاں توڑ دیں. زیور اتاردیا صابن مل مل کر منہ سے میک اپ دھو دیا کلائیوں سے خون رس رہا تھا وہ بھی پانی میں بہادیا اور بالکل پرسکون ہوگئی کمرے میں گئی اور سوئی ہوئی گڑیا کو اُٹھاکر سینے پر لٹالیا.

مجازی خدا کا ہر کام میں کیا کرتی تھی لیکن اب انھیں میرے ہر کام میں خرابیاں نظر آنے لگیں، کپڑے صاف نہیں دھوتی استری اچھی طرح نہیں کرتی بوٹ پالش ایسے ہوتے ہیں جیسے کیے ہی نہیں، سالن میں نمک کم ہے، مرچیں تیز وغیرہ وغیرہ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں؟ ہر روز ایک نیا جھگڑا شروع ہوجاتا تھا مجازی خدا کو خوش کرنے کا ہر طریقہ ناکام ہوجاتا یہ ناکامی مجھے بہت مایوس کرتی تھی ایسے میں بڑی بھابھی ہمیشہ مجھے سمجھاتی کہ میاں سے زیادہ بات مت کیا کرو اس طرح تم سے نہیں الجھے گا کپڑے میں دھودیا کرونگی ساتھ ہی استری بھی کر دیا کرونگی پہلے بھی میں یہ کام کیا کرتی تھی اب بھی کرلونگی میں نے بھابھی کو کہا آپ کتنی اچھی ہیں میرا کتنا خیال رکھتیں ہیں.

اب اللہ پاک نے مجھ پر ایک اور کرم کیا بیٹے جیسی نعمت سے مجھے نوازا بیٹا بھی بہت خوبصورت تھا ہری ہری آنکھیں اور گورا چٹا. مجازی خدا نے بیٹے کی پیدائش پر نہ ہی ناراضگی کا اظہار کیا اور نہ ہی خوشی ظاہر کی. میرے لیے یہ بات بہت خوشی کی تھی میری خوشی چند دن کی ثابت ہوئی کیونکہ اب عجیب و غریب واقعات ہونے لگے تھے ایک واقعہ نے مجھے ہلاکر رکھ دیا ہوا یوں تھا کہ میں صحن میں تھی مجھے لگا کوئی اوپر میرے کمرے میں گیا ہے میں نے آواز دی کون ہے میرے کمرے میں کون ہے؟ کوئی جواب نہیں آیا میں نے اپنا وہم سمجھا کچھ دیر بعد میں نے ایک سایہ دیکھا جو دیوار کے ساتھ ساتھ بیٹھ کر تیزی سے جارہا تھا مجھے اپنے بیٹے کا خیال آیا جو کمرے میں سو رہا تھا میں تیزی سے اُوپر بھاگی اوپر پہنچ کر مجھے لگا کہ کوئی تیسری منزل کی طرف گیا ہے کمرے میں گئی بیٹے کو دیکھا تو اس کا سانس بند تھا اور منہ سے جھاگ نکل رہی تھی میری چیخیں نکل گئیں بیٹے کو جھنجوڑا مگر سانس نہیں لیا اُلٹا کیا سینے پر مارا مگر بے سود منہ پر منہ رکھ کر بیٹے کا سانس کھینچا تو شکر الحمداللہ میرے پیارے بیٹے نے سانس لیا ساتھ ہی رونے لگا. بھابی اور سب گھر والے آگئے پوچھنے لگے کیا ہوا تھا کیوں چیخ رہی تھی میں نے اپنے اوپر کنٹرول کرتے ہوئے کہا کہ میں ڈر گئی تھی.

مجازی خدا کا شروع سے معمول تھا کہ پہلے نیچے والدین کے پاس بیٹھتے پھر بھابھی کے پاس تیسری منزل پر جاتے تھے اس دن بھی یہی ہوا جب کمرے میں آئے تو خوب غصے میں تھے پوچھنے لگے کہ” تم نے کیا ڈرامہ کیا تھا؟ مجھے سچ سچ بتاؤ “. میں نے ڈرتے ڈرتے ساری بات بتادی میری بات سمجھنے کے بجائے غصے سے بولے” تمھارا مطلب ہے کہ کسی نے مارنے کی کوشش کی ہے تم خود نیچے تھی، امی ابا جی نیچے تھے پھر کس کی طرف تمھارا اشارہ ہے ؟کیا بھابھی کی طرف ہے ؟ تو بولنے سے پہلے سوچ لو تم نے اس گھر میں رہنا ہے یا نہیں؟”

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

اس داستان کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: