پشاور یاترا اور تبدیلی : ایک تاثر —— عابد آفریدی

2
  • 785
    Shares

دنیا میں پختونوں کے سب سے بڑی آبادی والے شہر کراچی کے متولد اور مقیم، قبائلی علاقہ سے آبائی تعلق رکھنے والے عابد آفریدی نے پھولوں کے شہر پشاور کے حالیہ سفر کا تاثراتی تذکرہ دانش کے قارئین کے لئے قلمبند کیا ہے۔


آج سے کچھ سال پہلے جب ہم پہلی بار پشاور آئے تو ہمارا استقبال بربادی، خستہ حالی، ہر ادارے ہر محکمہ کی رشوت خوری نے کیا۔

ٹریفک کا برائے نام سا نظام! سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے نام پر بچوں سے ہونے والا مذاق! دہشتگردوں کی چھوٹ، رہزنوں کی لوٹ آئے روز سڑکوں پر بہتا خون، بم دھماکے، بجلی کی تاروں میں جھولتے ٹپکتے انسانی اعضاء یہ سب دیکھا تھا ہم نے۔

یہاں سے جب بھی عزیز و اقاراب کراچی آتے تو پشاور کے قصے اس دل کش رومانوی انداز میں سنایا کرتے تھے۔ جیسے یہ شہر دیومالائی کرداروں کی کوئی آسمانی سلطنت ہو۔ میں تو اس داستانی سلطنت کو ڈھونڈنے نکلا تھا۔ مجھے اس پشاور کی تلاش تھی۔ جہاں کھانوں کو ثقافت کا تڑکا دیا جاتا تھا۔ مجھے بہادر انسانوں کے روشن چہرے، کھلی باہیں، کشادہ مہمان خانیں دیکھنے تھے۔ نظریں مسلسل کئی دنوں تک تباہیوں کے ملبے کو پھلانگتے، سنسانی کو سہتے، سناٹے سے ہولتے، ویرانی کی دھول چاٹتے دیر تک بھٹکتی رہیں۔ مگر وہ پشاور نظر نہ اسکا جس کی خوبصورتی رباب کے تاروں پہ بجتی تھی۔

مجھے ان پھولوں کی تلاش تھی جن پر گایا ہوا وہ سدا بہار گیت
” لاڑ شہ پیخور تہ قمیس تور مالا راوڑا۔
تازہ تازہ گلونہ درئی سالور مالا راوڑا۔”
پرائے دیس میں روزی ڈھونڈتے یہاں کے لوگ رات کو بطور لوری سنا کرتے تھے۔

وہ گیت بنجر ہوگیا تھا، یتیم ہوگیا تھا اپنے ممدوح کو کھو چکا تھا
یہاں کے جن پھولوں کا ذکر ہر گیت و تحریر کا حصہ رہتا تھا۔ وہ پھول فضاء میں پھیلے بارود کی حدت سے جھلس گئے تھے۔

مینہ بازار کی مینہ کاری سے پر وہ کالی قمیض جس کی فرمائش چاہنے والے چاہنے والوں سے کرتے آرہا تھے۔ اس قمیض کو لوگوں نے مینہ بازار بم دھماکے کی آگ میں راکھ ہوتے دیکھ لیا تھا۔

شہروں پر آسیب کے سائے کا گمان کیا جاتا ہے۔ مگر پشاور پر تو آسیب کا راج تھا۔غیر یقینی کے چیختے سائے کسی بدروح کی طرح اس شہر پر معلق تھے۔

ہائے خوابوں کے اس شہر کو یوں پامال دیکھ کر دل نجانے لایعنیت کی کتنی گہرائی میں ڈوب گیا تھا۔
مجبورا پشاور کو اس مریض کی طرح جو بستر مرگ پر پڑا آخری سانسیں لے رہا ہو بے یارو مددگار چھوڑ کر کراچی روانہ ہوا اور پھر کبھی زندگی بھر یہاں نہ آنے کا خود سے وعدہ کیا۔

سیاسی سوچ کی بات ہو تو صوبہ خیبر پختون کے لوگ مثالی ہیں۔ بلکل آزاد نہ کسی کے فکری غلام نہ ہی کسی کے جبری محکوم۔ دیگر صوبوں کی طرح سیاسی یرغمال نہیں مرضی ہو تو متحدہ مجلس عمل کے مولوی کو پسند کرلیا، نہیں تو سوشلسٹوں کو چن لیا، مگر نامعلوم کیوں ایسا تھا کہ ہر بار حکمران بدلیں پر ان کی قسمت نا بدل سکی۔

الیکشن کا دور آیا۔ اب کے بار سارا نوجوان طبقہ بڑوں سے اس بات پر الجھ گیا اگر موقع دینا ہے تو عمران کو دینا ہے۔ بڑوں نے نئی نسل کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے کیونکہ روایات کے تو وہ خود بھی پابند تھے۔ کچھ نیا دیکھنا تھا۔ نئے لوگوں کو موقع دینا تھا۔ لہذا عمران خان کو ان تمام تقاضوں کے عین مطابق جانا۔ اور حکمرانی کی باگیں اس کے ہاتھوں تھما دی۔

لوگ سمجھے تھے کہ معاملہ وہی ہونا ہے۔ بات دعووں کے حد تک ہی رہے گی۔ مگر ایسا ہوا نہیں ۔ابتدائی ایام میں ہی نئی حکومت نے ان تمام پرانے ہاتھوں کو جو اکثریتی بنیاد پر اقتدار میں آنے والوں کے جانب بڑھتے ہیں! اور نئی دوستیاں گانٹھ کر پانچ سال مل بانٹ کر نظام کو چلاتے اور کھاتے ہیں آخر میں باہمی الزام دے کر جدا ہوجاتے ہیں۔ ان تمام ہاتھوں کو دھتکار دیا۔

آہستگی اور خاموشی کے ساتھ پشاور نام کے اس اجڑے باغ کی آبیاری شروع کردی۔ لاغر پولیس اہلکاروں کے وہ گال جن پر طاقتور کے تھپڑوں کے نشانات ہوا کرتے تھے ان کو دھو دیا گیا۔ جن کے جیب و پیٹ بھاری تھے، ان کو ہلکا کروایا۔ خالی پڑے اسکولوں سے جانوروں کو بھگایا، بچوں کی آوازیں بلند ہوئیں، اساتذہ جو محکمہ تعلیم کو کراچی واٹر بورڈ کی طرح لوٹ رہے تھے۔ ان کی اکھاڑ پچھاڑ ہوئی۔ اسکول بہت تھے مگر استاد کم یاب میرٹ کا آغاز ہوا قابل لوگ آگے آنا شروع ہوئے۔

سرکاری ہسپتالوں کے سرکاری ڈاکٹرز جنہوں ہسپتالوں کو قصاب خانوں میں تبدیلی کردیا تھا۔ ان کو مسیحائی کا پاٹ پڑھایا۔

بیشک میری ان باتوں سے اختلاف ہوسکتا ہے، یقینا خیبر پختون میں کئی اضلاع ایسے ہوگے۔ جہاں لوگ تاحال بنیادی سہولیات سے محروم رہے ہوں مگر اس بات کا اعتراف نہ کرنے والا کوئی سنگ دل پٹھان ہی ہوگا کہ خیبر پختون خواہ کسی حد تک تبدیل ہوا ہے۔ البتہ جہاں تک مکمل تبدیلی کی بات ہے تو یاد رہے رجب طیب اردگان نے صرف سنٹرل استنبول کو بدلنے میں چار سال لگائے تھے۔ اور پھر سارے ترکی کو بدلنے کی اس محنت میں ان کو پندرہ سال کا عرصہ لگا۔

جبکہ یہاں مسلسل دہشتگردی بدعنوانی بے ضابطگیوں نے عوام کو مایوسی کی جس تاریک گڑھے میں پھینک دیا وہاں سے ان سب کو نکالنے والا شخص یہودی ایجنٹ ہو یہ خانہ کعبے کا امام ان باتوں سے انھیں کوئی لینا دینا نہیں تھا۔
عمران خان ایک برا انسان ہوگا۔ بد اخلاق ہوگا بد زبان ہوگا۔ بدکردار ہوگا۔ مگر پختون خواہ میں اس نے اخلاص کی ایک جھلک دکھائی ہے۔ لوگوں کے دلوں میں گھر کیا ہے۔ یہ گواہی مجھ سمیت ہر وہ آدمی دے گا جو ماضی کا پشاور کا دیکھ چکا ہو۔

لوگوں کے چہرے پر موجود وہ انجانا خوف، سفید پوشوں کے دامن پر زبردستی مسلط کردہ افلاس کے وہ دھبے سب یاد ہیں مجھے۔ یہ تو عمران خان ہے، اپنی کریڈٹ دینے کی عادت تو ایسی ہےکہ مشرف جیسے کے لئے بھی دل سے بے ساختہ دعا نکل جاتی ہے۔ جب نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال کے ابتدائی دور کے کراچی کو یاد کرتا ہوں۔

آج جب سالوں بعد خود سے کیا ہوا وعدہ توڑ کر پشاور آیا ہوں۔ تو یہاں سب بدلا بدلا نظر آیا۔ واللہ میں نے اپنوں کو خوش ہوتے دیکھا ہے۔ آلودہ چہروں کو مسکراتے دیکھا۔ ان جلے مرجائے پھولوں کو پھر سے کھلتے دیکھا۔

گھومتے پھیرتے قصہ خوانی بازار کی ایک تنگ مگر خوبصورت صاف ستھری گلی سے گزرا تو دماغ میں یک دم عزیز و اقارب کا وہ رومانوی انداز بیان ابھر کر سامنے آیا۔ پرانے وضع کے ایک گھر جس کے دروازے لکڑی کے تھے۔ اس کے احاطے سے ایسی آوازیں سنائی دی۔ جیسے پراسرار قسم کے لوگوں کی ایک مجلس جاری ہو۔ تمام شرکاء سر و چہروں کو ڈھانپے ہوئے ہوں۔ ہر فرد نے سامنے ایک چراغ روشن کیا ہو اور ایک لمبا تڑنگا با ریش آدمی کھڑا کھلے ڈلے لباس میں ملبوس، کبھی دھیمی تو کبھی اونچی آواز میں ” طلسم ہوشربا ” پڑھ کر سنارہا ہو۔

واقعی پشاور کے متعلق ان سب لوگوں کی رومانیت بجا تھی۔ اگر امن کا دور ہو تو بیشک یہ شہر کسی آسمانی سلطنت کا ہی منظر پیش کرتا ہے۔ رومانیت اور دیو مالائی احساس کی گرفت ہم پر اس وقت اور بھی قوی ہوجاتی جب شب گئے ہم موٹر وے موڑ پر بنائے اس خوبصورت کیاری نما چورنگی پہ، کہ جہاں لاتعداد اقسام کے پھول کھلے تھے، بیٹھنے جاتے تھے۔

دھند اور پول لائٹس کی روشنی کا امتزاج ایسا سماں باندھ دیتا کہ یقین سا ہونے لگتا کہ اب پاس ہی کسی دھندلے منظر سے آدم خان رباب بجاتے اپنی درخانئی کو پکارتے ہوئے برآمد ہوگا (پشتو ادب کے لیلا مجنوں) اور میرے ساتھ بیٹھ کر اپنی درخانئی کو یاد کرتے ہوئے مجھ سے ان لوگوں کا ذکر بھی کرے گا جو برے وقتوں میں پشاور کی حسین تصویر انکھوں میں سجا کر ابدی نیند سو چکے ہیں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: