جنرل مشرف کی سیاسی غلطیاں۔ محمد خان قلندر

0

جنرل سید پرویز مشرف لندن میں بیٹھ کر یاد ماضی سے مجبور ہو کر لگتا ہے دن میں خواب دیکھتے ہیں۔  کراچی میں ایم کیو ایم کی فطری شکست و ریخت ، جو چند سال قبل ہو جانی چاہیئے تھی لیکن زرداری اور نواز کی اپنے مفادات کی خاطر سیاسی موقعہ پرستی کی وجہ سے تاخیر سے ہو رہی ہے، دیکھ کر کسی نا مؤلود سیاسی اتحاد کی سربراہی کرنے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ وہ بھول رہے ہیں کہ ان کے اقتدار کا اوج کمال ان کی اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے رو بہ زوال ہوا تھا۔  اور اب  وہ ایسا ناکارہ چلا ہوا کارتوس ہیں جس نے اپنی کار آمد معیاد میں بھی خود اپنے اور اپنے ادارے کو ہی نقصان پہنچایا، اور اب تو یہ خالی خول  ناقابل استعمال ہے۔

جو شخص ملکی عدالتوں سے مفرور ہو کر لندن مقیم ہو اسے ملکی سیاست سے دور رہنا چاہیئے وہ سابقہ صدر کے ساتھ سابقہ سپہ سالار اعظم بھی رہ چکے ہیں یہ عہدہ افواج پاکستان کی عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے جس کی آبرو حامل عہدہ پر بھی لازم اور فرض ہے، جنرل صاحب تو اپنے دور اقتدار میں اس بلند رتبے کے مقام کو بہت رسوا کر چکے تھے ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا چلن نہیں بدلا تھا، پہلے تو انہیں پاکستان چھوڑنا ہی نہیں چاہیئے تھا، پھر بے وقت واپس نہ آتے وہ ایک دفعہ دوستوں کے صائب مشورے کے خلاف پاکستان آ کے دیکھ چکے ہیں کہ ان کی سوشل میڈیا پے لاکھوں کی فالونگ سے کتنے لوگ ان کے استقبال کو آئے تھے، وہ گرفتار ہوئے تو کون سے تحریک ان کے حق میں چلی تھی ؟

جرنیل صاحب ایک کھلنڈرے افسر تھے محفل کے شوقین اور اچھے خاصے گائیک اور فنکار ، دو بار فوج چھوڑنے کی نوبت آئ مقدر میں جنرل بننا لکھا تھا حادثاتی طور پے میجر جنرل بنے ، لیفٹینینٹ جنرل پروموٹ ہوئے کور کمانڈر تھے کہ جنرل جہانگیر کرامت کے جبری استعفی کے سبب آرمی چیف کا قرعہ ان کے نام نکل آیا، نواز شریف نے ان سے سینگ پھنسائے تو اسے معزول کر کے انہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا، سپریم کورٹ نے انہیں تین سال کے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا، اسے ان کی قسمت پہ یا حادثے پہ معمور کیا جا سکتا ہے، لیکن آسانی سے حکمران بننے والے نہ حکومت کرنا سیکھتے ہیں اور نہ اس کی قدر کرتے ہیں جنرل مشرف نے پے در پے تزویراتی غلطیاں کیں یہ ان پر قدرت کی مہربانی تھی یا مقدر کا لکھا کہ حالات ان کے موافق رہے۔

ان کو کسی شام اکیلے آئینے کے سامنے گلاس اور بوتل کے ساتھ بذات خود جنرل پرویز مشرف کا محاسبہ کرنا چاہیئے وہ اگر خود اپنے آپ سے چند سوال پوچھ کے ان کے جوابات کی روشنی میں اپنے مستقبل کے لئے لائحہ عمل طے کریں تو اس میں ان کی ذات کا انکے ادارے کا اور شائد ملک و قوم کا بھی فائدہ ہو گا۔

نواز شریف کو وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کس حد تک منتقم مزاج ہے اس سے اقتدار چھین کے ان پر لازم تھا کہ اس کا کڑا احتساب کرتے، مالیاتی کرپشن کے جو کیس اب زیر سماعت ہیں تب بھی موجود تھے، بے رحم انصاف کیا جاتا تو ان جرائم کی قرار واقعی سزا دی جا سکتی تھی، طیارہ سازش ایک کمزور کیس تھا، ملک کے مفاد میں مالی بد عنوانی کا تدارک اور خاتمہ تھا جنرل صاحب کو کسی مدافعت کا سامنا بھی نہی تھا لیکن انہوں نے سعودی بادشاہ سے بقول ان کے اپنے ، سفارش اور گفٹ قبول کئے، جو ان کے سیاسی کردار کی بہت بڑی خامی ثابت ہوئی۔

نائن الیون کے بعد امریکہ سے معاونت ناگزیر تھی لیکن اجتماعی قومی اتفاق رائے پیدا کر کے بہتر شرائط طے کی جا سکتی تھیں اور ملک اس قدر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا دست نگر نہ بنتا۔

سن دو ہزار دو میں علما و مشائخ کانفرنس میں جنرل صاحب کی کنونشن سینٹر اسلام آباد میں تقریر بہت سخت لیکن مبنی بر حقیقت تھی، اور تعجب خیز امر یہ تھا کہ اس کا کوئ ردعمل ہی نہی ہوا تھا، یہ موقعہ تھا کہ ملک سے مزہبی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے آپریشن کیا جاتا، جو اس وقت شائد آسان تھا لیکن جنرل صاحب نے اس دباؤ سے ایم ایم اے کی تشکیل اور دو صوبوں کی حکومت مذہبی جماعتوں کے اس اتحاد کے حوالے کر دی جس کا نتیجہ لال مسجد کے آپریشن کی شکل میں نکلا جو اب تک جنرل صاحب کے گلے پڑا ہوا ہے۔

ملکی مفاد اور محب الوطنی کا تقاضا تو یہ تھا کہ دو ہزار دو کے الیکشن کرانے اور آئینی ترامیم میں جنرل صاحب کے سارے اقدامات کو تحفظ ملنے کے بعد نیا آرمی چیف لگایا جاتا، لیکن ریفرینڈم اور دوسرے طریقے سے اقتدار کو طوالت دی گئ، افواج پاکستان کی سیاست میں شمولیت سے انکی انتظامی اہلیت متاثر ہوتی رہی۔

پھر افتخار چوہدری کی معزولی کا ڈرامہ بہت بھونڈے طریقے سے رچایا گیا، عقل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جو چیف جسٹس اپنے خلاف کسی ماتحت جج کی شکایت کے بارے میں ایک ڈی جی کے ذریعے ملاقات کا وقت لے کے حاضری دینے گئے تھے وہ مکمل بغاوت پے کیسے اور کیوں مصر ہو گئے۔

پیپلز پارٹی سے این آر او جو درحقیقت ایم کیو ایم کے ہزاروں کیسز ختم کرنے پے منتج ہوا، ایک بہت بڑی سیاسی غلطی تھی ہی، اسی این آر او میں نواز شریف کی معائدے کی طے شدہ مدت سے پہلے واپسی کی اجازت سیاسی بلنڈر تھا

پھر بینظیر کی واپسی پر اسے مکمل سیکیورٹی نہ دیا جانا اور نتیجے میں بی بی کی شہادت، اور اس سے جڑے سوالات جنرل صاحب کی سیاسی کار گزاری پر انمٹ سوالیہ نشان ہے اور رہے گا۔

اقتدار سے علیحدگی کے بعد جنرل صاحب کے لئے بہترین عمل سیاست سے مکمل کنارہ کشی تھا، نواز حکومت کے کیسز فائل کرنے کی بنیادی وجہ تو انتقام تھی لیکن جرنیل صاحب نے اپنے رویئے اور سیاسی بیان بازی سے ان کو مجبور کیا کہ آ بیل مجھے مار۔

جب فوج کی مداخلت سے مشرف صاحب پہلے بیرون ملک چلے گئے تھے تو مصلحت اس میں تھی کہ واپس نہ آتے کیسز التوا میں پڑے رہتے، لیکن فوج کے ذمہ داروں کے مشورے کے برعکس وہ واپس آئے ، اور دوبارہ جنرل راحیل کی مداخلت سے وہ ملک سے نکل پائے، اس امر میں ادارے کی سبکی بھی ہوئ اور نُون لیگ کے ہاتھ فوج کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرنے کی ڈگڈگی بھی آ گئ، جنرل صاحب کو ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچنا چاہیئے کہ سیاست ان کے بس کا روگ تھا نہ ہے، اور کتنے ریٹائرڈ آرمی چیف اور جرنیل عزت سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں، مقرر لکھا جا رہا ہے کہ فوجی کے سابق سربراہ پر بھی اپنے عہدے کی تکریم کی حفاظت فرض ہوتی ہے، یہ ٹین ڈبہ پارٹیوں کے اتحاد کی سربراہی سید مشرف کے لئے لائق شرف ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔  جنرل مشرف کے لئے ہر گز نہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: