فیس بکی دانشور کا طعنہ: اسرار احمد بخاری

0

ویسے تعجُب کی بات ہے بعض لوگ سوشل میڈیا پر لکھنےوالوں کی بڑی تعداد دیکھ کر بجائے خوش ہونےکے اسے غلط رحجان سمجھتےہیں اور لکھنے والوں کی تضحیک وتحقیر فرض سمجھ کر کرنےلگتے ہیں ، آئے دن کسی نا کسی پوسٹ کےذیل میں اور بعض اوقات باقاعدہ تفصیلی پوسٹس کے ذریعے انہیں کبھی مفتیانِ فیس بک اور فیس بکی دانشور جیسے القابات سے نوازکر ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے.

میری رائے میں یہ ایک نامناسب بات ہے، جو لوگ لکھ رہے ہیں چاہے اُن کی تحریر میں کیسے ہی سُقم کیوں نا موجود ہوں ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرنی چاہیے .

یہ بات روز اول سے طے ہے کہ لکھنےکےلیے صاحب مطالعہ ہونا پہلی شرط ہے ، چنانچہ جب بھی کوئی قلمکار لکھنےکےلیے قلم اٹھائےگا تو آپ سے آپ اس میں مطالعے کا زوق بھی اسی شدت سے پیدا ہوگا،

اور جب ایک بار پڑھنےلکھنےسے ربط قائم ہوگیا تو رویوں میں اصلاح بھی بتدریج آتی رہے گی، دوستو!! کتب بینی بےاندازہ قیمتی اور نتائج کے اعتبار سے انتہائی انقلابی عادت ہے جو اگر کسی قوم میں پیدا ہوگئی تو شعور و آگہی کے اسفار طے کرنا خواب نہیں حقیقت بن جاتا ہے.

اس لیے عزیزو، لکھو لکھو لکھو اور لکھتے رہو، یہاں تک کہ تمہارا لکھا تمہارے سینے کا نور بن جائے, لیکن یاد رکھو لکھنا امانت ہے، اور ہر بارِ امانت کےبارے میں روزِ قیامت پوچھ ہوگی.

آپ یقین مانئیے اس بات نے مجھے بری طرح جھنجھوڑ کررکھ دیا تھا, غور کیجے تو یہ بات لکھنے والوں کو انتہائی آخری درجے کی سنجیدگی اور احتیاط اختیار کرنےکےلیے کہی گئی ہے کیونکہ لکھنا یا بولنا کوئی بےروح اور خشک قسم کا رٹا رٹایا ٹیپ ریکارڈ بجانا نہیں بلکہ اپنی حقیقت میں اپنے اندرون کو انڈیلنے کےہم معنی ہے.

جو شخص لکھنےسے پہلے گہرےمطالعے اور اپنے نفس کےتزکیے کو اہم نہیں جانے گا اس کا لکھنا خود اُس کےلیے بھی اور پڑھنےوالوں کےلیے بھی فتنہ بنے گا!!!

اس لیے قلم اٹھاتے ہوئے ڈرو، اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ جو بات لکھنے جارہے ہو وہ قارئین تک پنہنچے سے پہلے اللہ تک پنہنچ رہی ہے، آپ کی ہرتحریر پر جہاں لوگوں کے لائکس کمنٹس اور شئیرز ہوتے ہیں، اور بعض لوگ آپ کی کسی بات سے ناراض ہوکر آپ کو انفرینڈ یا بلاک بھی کردیتے ہیں.

بالکل ویسے ہی اللہ بھی آپ کی تحریروں پر اپنا لائک دیتا، کبھی حوصلہ افزائی کا کمنٹ آپ کے وجدان میں اُتار دیتا ہے اور کبھی اچھی تحریروں کو فرشتوں میں ‘شئیر’ بھی کرتا ہے کہ دیکھو میرے بندے نے کیسی اچھی بات کہی ہے.

لوگ آپ کو غلطیوں پر متنبہ کریں تو انا کا مسئلہ مت بنائیے، وہ اللہ ہی کا کوئی فرستادہ ہے جو آپ کو غلطی پر متوجہ کررہا ہے تو بغیر برامانے شکریے کےساتھ تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کیجئے.

کیونکہ بعض اوقات جس طرح آپ ہٹ دھرمی دکھاتےہوئے اپنی غلطی نہیں مانتے اور لوگ آپ کو بلاک یا انفرینڈ کردیتےہیں، بالکل ویسے ہی آپ کےاس منفی رویے پر اللہ بھی آپ کو ” انفرینڈ” یا ” بلاک” کردیتا ہے.

اس لیے لکھنے سے پہلے سوشل میڈیا پر لوگوں کے لائکس کے ہجوم کو بعد میں دیکھو، پہلے نگاہ اٹھاؤ آسمان پر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دیکھو اللہ بھی دیکھ رہا ہے!!۔۔!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: